Maulana Wahiduddin Khan
31 min left
0:00

← Diary 1983-1984
Diary 1983-1984

September 1984

English · 31 min read

یکم ستمبر 1984

بمبئی کے قریب ٹرامبے کے مقام پر 10 کروڑ روپئے کی لاگت اور کناڈا کے تعاون سے ہندستان کا پہلا ایٹمی ری ایکٹر قائم ہوا۔ سابق وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے اس کا افتتاح 16 جنوری 1961 کو کیا تھا۔ واپس آکر دہلی میں انھوں نے 17 جنوری کو ایک تقریر کے دوران اس کا ذکر کیا اور کہا :

” ہمارا یہ ایٹمی ری ایکٹر اجنتا کے غاروں کے سامنے ہے ۔ ان میں سے ایک ایٹمی طاقت کا مظہر ہے ، اور دوسرا روحانی طاقت کا مظہر، اور دنیا کا دارومدار انہیں دو چیزوں کی ترقی پر ہے۔ ہم سائنس اور روحانیت دونوں کو ساتھ لئے بغیر ترقی کی دوڑ میں آگے نہیں بڑھ سکتے۔"

اس طرح کی باتیں ہمارے لیڈر اکثر کسی نہ کسی شکل میں دہراتے رہتے ہیں۔ مگر وہ محض تقریر براۓ تقریر ہوتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ لمبی مدت گزرے کے باوجود اب تک اس کی طرف کوئی حقیقی پیش رفت نہ ہوسکی ۔

2 ستمبر 1984

امام مالک مدینہ کی مسجد نبوی میں حدیث کا درس دیتے تھے ۔ آپ اکثر یہ کہتے کہ ہر آدمی کی کوئی بات لینے کی ہوتی ہے اور کوئی بات رد کر دینے کی ، سواۓ اس قبر والے کے۔ یہ کہتے ہوئے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبرکی طرف اشارہ کرتے ( کل احـديـوخـذعنهويردعليهالاصاحبهذاالقبر،ويشيرالىقبرالنبيصلاللهعليهوسلم)

اسلام میں علم کا اصل ماخذ اللہ تعالی ہے اور اللہ کے مستند نمائندہ کی حیثیت سے پیغمبر تعلیم کس قدر آفاقی ہے اور اس سے ذہن میں کتنی زیادہ وسعت پیدا ہوتی ہے۔ مگر بعد کے زمانہ میں اسلام میں جو بگاڑ آیا اس میں سے ایک یہ تعلیم بھی تھی جس کو مسلمان بھول گئے۔ آج مسلمانوں کے اندر بہت بڑے پیمانہ پر وہی شخصیت پرستی آگئی ہے جو دوسرے ادیان میں تحریف کے نتیجہ میں آئی تھی۔

آج مسلمانوں کے لئے سب سے زیادہ مبغوض چیزیہ ہے کہ ان کی محبوب شخصیتوں پر تنقید کی جائے ۔ حالاں کہ یہ سراسر غیر اسلامی ہے۔ مسلمانوں کے اندر سے جب تک شخصیت پرستی کو ختم نہ کیا جائے ، دوبارہ اسلام کا احیاء نہیں ہوسکتا۔

3 ستمبر 1984

اسلامی دعوت کا اصل نشانہ فکر انسانی میں انقلاب ہے ۔ انسان ہمیشہ کسی تفکیر پر جیتا ہے اس کے سوچنے کا کوئی بنیادی طریقہ ہوتا ہے جس پر اس کے تمام اعمال کی تشکیل ہوتی ہے۔

قدیم زمانہ میں انسانی تفکیر کی بنیاد شرک تھی ۔ انسان کی فکر مشرکانہ فکر تھی ۔ اسی کے مطابق اس کے تمام اعمال بنتے تھے۔ پیغمبروں نے اس مشرکانہ فکر کو بدلنے کی کوشش کی ۔ معلوم تاریخ کے مطابق پچھلے پیغمبروں کے زمانہ میں افراد کے اندر فکری انقلاب آیا مگر عالم انسانی میں عمومی فکری انقلاب نہ آسکا۔ پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب کے ذریعہ جو کام ہوا اس میں یہ ہوا کہ نہ صرف افراد کے اندرفکری انقلاب آیا ۔ بلکہ وہ اتنا پھیلا کہ عمومی فکری انقلاب بن گیا۔

اب تاریخ دوبارہ پیچھے کی طرف لوٹ گئی ہے۔ جدید دور میں دوبارہ انسانی فکر بدل گیا ہے۔ اسی میں مشرکانہ فکر غائب تھا ، آج ملحدانہ فکر غالب ہے۔ موجودہ زمانہ میں اسلامی دعوت کا کام یہ ہے کہ اعلی سطح پر جدوجہد کر کے نیا فکری انقلاب لایا جائے ۔ انسان کی فکر و انجماد کے راستہ پر چل پڑی ہے اس کو دوبارہ توحید کے راستہ پر گامزن کیا جائے ۔

4 ستمبر 1984

قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : المومن مرأة المومن اذ رأى فيه عيبا اصلحہ یعنی مومن مومن کا آئینہ ہے۔ جب وہ اس کے اندر کوئی عیب دیکھتا ہے تو وہ اس کی اصلاح کر دیتا ہے ۔ (صحیح بخاری)

quoted sourceQuoted from another author or source

کسی کا عیب بتانا گویا اس کے اوپرتنقید کرنا ہے ۔ موجودہ زمانہ میں اس قسم کی تنقید کو انتہائی برا سمجھا جاتا ہے ۔ حالاں کہ مذکورہ حدیث میں اس کو ایمان کی علامت اور ایک مومن کا دوسرے مومن پر حق بتایا گیا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

تنقید دراصل خیرخواہانہ نصیحت کا دوسرا نام ہے۔ سچی تنقید سے زیادہ قیمتی کوئی چیز نہیں۔ مگر قومیں جب زوال کا شکار ہوتی ہیں تو وہ تنقید کے لئے الرجک ہوجاتی ہیں۔ دور زوال میں قوموں کو صرف چھوٹی باتیں اچھی لگتی ہیں۔ ایسے لوگ خوش نما جھوٹ پر جیتے ہیں ، وہ سچائی کا مقابلہ کرنے سے گھبرانے لگے ہیں۔

5 ستمبر 1984

حضرت معاویہ نے حضرت علی کے ساتھ جو لڑائیاں کیں، اگرچہ ان سے اسلام کو نقصان پہنچا۔ تاہم حضرت معاویہ سیاست دانی کے ماہر تھے۔ وہ جانتے تھے کہ حکومت کس طرح کی جاتی ہے اور لوگوں کے کسی طرح نپٹا جاتا ہے۔ ان کا ایک قول یہ ہے:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قال معاوية رضي الله عنه : انى لا أضع سيفي حيث يكفيني سوطى ولا اضع سوطى حيث يكفيني لساني ۔ ولو ان بيني وبين الناس شعرة ماانقطعت ابدا ۔

hadithQuotes a hadith

جہاں میرا کوڑا کافی ہو وہاں میں اپنی تلوار استعمال نہیں کرتا۔ اور جہاں میری زبان کافی ہو وہاں میں اپنا کوڑا استعمال نہیں کرتا ۔ اور اگر میرے اور لوگوں کے درمیان ایک بال بھی ہو تو میں کبھی اس کو نہیں کاٹتا۔

بہترین حکمراں وہ ہے جو طاقت کا کم سے کم استعمال کرے اور صرف اتنا ہی استعمال کرے جتنا بالکل ناگزیر ہو۔

6 ستمبر 1984

فوج آدمیوں کی ایک جماعت ہے جو اس لئے اکھٹا کی جاتی ہے کہ وہ سیاست دانوں کی غلطی کو درست کرے :

Army is a body of men assembled to rectify the mistakes of the diplomats. Josephus Daniels

other sourceWords of another person or source

یہ ایک نہایت با معنی قول ہے ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ لڑائیاں اگر چہ فوجیں لڑتی ہیں مگر وہ سیاست دانوں کی نا اہلی کی قیمت ادا کرتی ہیں۔ ہند و پاک کی 1965 کی جنگ پاکستانی وزیر خارجہ بھٹو کی حماقت کی وجہ سے لڑی گئی ۔ عراق اور ایران کی موجودہ پلنگ عراقی حکمراں صدام حسین کی حماقت سے شروع ہوئی اور ایرانی حکمراں آیات اللہ خمینی کی حماقت سے جاری ہے۔ وغیرہ

یہی بات نچلی سطح کے جھگڑوں اور لڑائیوں کے بارہ میں بھی صحیح ہے۔ ہندستان کے فرقہ وارنہ فسادات سب کے سب ہندو اور مسلم لیڈروں کی حماقت سے پیش آتے ہیں۔ ہندو قیادت اور مسلم قیادت اگر دانش مندی کا ثبوت دیتی تو یہاں کبھی فرقہ وارانہ فسادات نہ ہوتے جنھوں نے دونوں فرقوں کی ترقی کو روک رکھا ہے ۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ تمام لڑائیاں رہنماؤں کی نادانی کے نتیجہ میں پیش آتی ہیں خواہ وہ حکومتی رہنما ہوں یا غیرحکومتی رہنما ۔ اور خواہ یہ لڑائی مسلح افواج کی سطح پر ہو یا غیرمسلح عوام کی سطح پر ۔

7 ستمبر 1984

موجودہ زمانہ میں جن اسلامی مفکرین نے اسلام پر کتابیں لکھی ہیں ، ان کا عام طریقہ یہ ہے کہ وہ اسلام اور مغربی تہذیب کا تقابل کرتے ہیں۔ مگر یہ تقابل ہمیشہ غیر علمی ہوتا ہے ۔

اس تقابل میں واضح طور پر دو غلطیاں پائی جاتی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ آئیڈیل کا تقابل پریکٹس سے کرتے ہیں۔ یعنی اسلام کا نظریہ لے لیتے ہیں اور مغرب کا عمل اور پھر دونوں کا تقابل کرتے ہیں ۔ حالاں کہ صحیح تقابل یہ ہے کہ آئیڈیل کا تقا بل آئیڈیل سے اور پریکٹس کا تقابل پریکٹس سے کیا جاۓ ۔

دوسری عام غلطی تعمیم (generalisation) کی ہے۔ اس میں بھی وہ علمی انصاف نہیں کرتے وہ ایسا کرتے ہیں کہ اسلامی تاریخ کا ایک اچھا واقعہ لے کر وہاں اس کی تعمیم کر دیں گے۔ اور مغربی ممالک کا کوئی برا واقعہ نے لیں گے اور وہاں اس کی تعمیم کر دیں گے۔

حالاں کہ یہی کام جب ایک یہودی مصنف برعکس صورت میں کرتا ہے تو وہ ان کو بہت برا لگتا ہے۔ یعنی وہ اسلامی تاریخ کا ایک ناپسندیدہ واقعہ لے گا اور اسی کو اسلامی سماج کی عمومی حالت حالت بتائے گا۔

opposing viewA view stated in order to be argued against

اگر ہمیں اپنے بارے میں اس قسم کی تعمیم پسند نہیں تو دوسروں کے بارہ میں بھی ہمیں اس قسم کی تعمیم نہیں کرنا چاہئے۔

8 ستمبر 1984

سوره نساء( آیت 149 ) میں ہے ...... فان الله كان عفوا قديرا ۔ یہاں کلام کا رخ بظاہر اللہ کی طرف ہے مگر حقیقی معنی کے اعتبار سے اس کا رخ انسانوں کی طرف ہے۔ یہاں دراصل تخلقوا باخلاق الله ( اللہ کا اخلاق اختیار کرو) کی تعلیم دی گئی ہے۔ یعنی جس طرح خدا قادر ہے مگر وہ عفو و درگزر کرتا رہتا ہے۔ اسی طرح اے اہل ایمان ، تم بھی سزا دینے کی قدرت رکھتے ہوئے عفو کا طریقہ اختیار کرو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

9 ستمبر 1984

ٹالی رینڈ Tally Rand نے کہا ہے کہ ایک شخص تلوار کے ذریعہ سب کچھ کر سکتا ہے، سوا اس کےکہ وہ تلوار کے اوپر بیٹھ نہیں سکتا ۔

other sourceWords of another person or source

A man can do everything with a sword except sit on it.

اس کا مطلب یہ ہے کہ تلوار " تخریب" کا کام ضرور کر سکتی ہے مگر وہ تعمیر کے کام کے لئے سراسر بے فائدہ ہے ۔ جن لوگوں نے بھی تلوار ( بالفظ دیگر تشدد) کو اپنا وسیلہ بنایا انھوں نے اپنے پیچھے بربادی کی تاریخ تو ضرور چھوڑی ، مگر وہ اپنے پیچھے کوئی مثبت کارنامہ نہ چھوڑ سکے۔

10 ستمبر 1984

He that wrestles with us, strengthens our nerves, and sharpens our skills. Our antagonist is our helper.

(Edmund Berke)

جو شخص ہم سے لڑتا ہے وہ ہمارے اعصاب کو مضبوط کرتا ہے اور ہماری استعداد کوتیز تر بناتا ہے ۔ ہمارا مخالف ہمارا مدد گار ہے۔

سوچنے کے دو انداز ہیں۔ ایک یہ کہ جو شخص آپ پر تنقید کرے یا آپ کی مخالفت کرے آپ اس کو فوراً اپنا دشمن سمجھ لیں اور اس سے نفرت کرنے لگیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ تنقید اور مخالفت پیش آنے کے بعد آپ اپنے اوپر نظر ثانی کریں۔ آپ جھنجھلاہٹ کے بغیر اصل معاملہ پر ٹھنڈے طریقے سے غو کریں ۔

پہلی صورت میں تنقید اور مخالفت آپ کے لئے زہر ہے، دوسری صورت میں وہ آپ کے لئے آپ کی خوراک بن جاتی ہے ۔

11 ستمبر 1984

Difficulty is an excuse history never accepts. Samuel Grafton

other sourceWords of another person or source

سموئل گریفٹن نے کہا ہے کہ مشکل ایک ایسا عذر ہے جس کو تاریخ کبھی قبول نہیں کرتی ۔ مشکلات اس لئے ہیں کہ انھیں عبور کیا جائے ۔ نہ کہ انھیں عذر بنایا جائے۔ اگر آپ مشکلات کا مقابلہ کرنا نہ جانیں تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ آپ ناکام رہیں گے۔ اس کے بعد کوئی نہیں ہوگا جو آپ کے اعذار اور شکایات کوسنے ۔

other sourceWords of another person or source

ایک والد اپنے بیٹے کوکسی حد تک عذر کی رعایت دے سکتا ہے ، مگر یہ جزئی رعایت بھی صرف گھر کے اندر کی زندگی میں ممکن ہے۔ گھر کے باہر کی دنیا بس ڈکشنری پر قائم ہے اس میں عذر کا لفظ سرے سے موجود ہی نہیں۔

12 ستمبر 1984

ایک شخص نے اپنے احوال بتاتے ہوئے کہا : ارجوا الله واخاف ذنوبی ۔ یعنی میں اللہ سے امید رکھتا ہوں اور اپنے گناہوں سے ڈرتا ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا تو فرمایا :

quoted sourceQuoted from another author or source

ما اجتمعا في قلب عبد في مثل هذا الموطن الا اعطاه الله ما يرجوه وآمنه مما يخاف

کسی بندہ کے دل میں جب بھی یہ چیزیں جمع ہوتی ہیں تو وہ اس کو وہ چیز دے دیتا ہے جس کا وہ امید دار تھا اور اس سے محفوظ کردیا ہے جس کا وہ اندیشہ رکھتا تھا ۔

سچے مومن کے اندر بیک وقت دو کیفیتیں جمع ہوتی ہیں ۔ ایک امید اور دوسرے خوف۔ اس کو یقین ہوتا ہے کہ دینے والا صرف خدا ہے ، اس لئے اس کی امیدیں تمام تر ایک خدا سے وابستہ ہو جاتی ہیں ۔ اسی طرح اس کو یقین ہوتا ہے کہ چھیننے والا بھی صرف وہی ایک ہے۔ اس لئے وہ اندیشہ ناک رہتا ہے کہ اگر خدا کی رحمت و مغفرت اسے حاصل نہ ہوئی تو وہ تباہی سے بچ نہیں سکتا۔

جس شخص کے اندر یہ دونوں کیفیتیں جمع ہو جائیں تو وہ عین وہی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ کومطلوب ہے۔اس لئے ایسا شخص اللہ تعالی کی عنایات کا مستحق بن جاتا ہے ۔ سچا اندیشہ ہی اس دنیا کی یافت کی سب سے بڑی ضمانت ہے۔

13 ستمبر 1984

حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : انما اخاف على امتى الائمة المضلین (میں اپنی امت پر صرف گمراہ رہنماؤوں سے ڈرتا ہوں)

hadithQuotes a hadith

زیاد بن جدیر کہتے ہیں: قال لى عمر بن الخطاب هل تعرف ما يهدم الاسلام قلت لا۔ قال يهدمه زلة العالم ( خلیفہ ثاني عمر بن الخطاب نے مجھ سے کہا۔ کیا تم جانتے ہو کہ کیا چیز اسلام کو ڈھا دیتی ہے۔ میں نے کہا نہیں۔ فرمایا کہ عالم کی لغزش اسلام کو ڈھادیتی ہے ۔

other sourceWords of another person or source

وفى كلام معاذ بن جبل : واحـذروازيةالحكيمفانالشيطانقديقول با الضلالة على لسان الحكيم

hadithQuotes a hadith

حضرت معاذ بن جبل کا قول ہے کہ حکیم کی گمراہی سے بچو کیوں کہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ شیطان حکیم کی زبان سے گمراہی کی بات بولتا ہے ۔

hadithQuotes a hadith

اس کو دوسرے انداز سے یوں کہا جاسکتا ہے کہ سب سے بڑا فتنہ الفاظ کا فتنہ ہے الفاظ میں اتنی زیادہ گنجائش ہوتی ہے کہ باطل کو حق کے روپ میں پیش کیا جاسکے ۔ ایک خود ساختہ بات کو قرآن وحدیث کی بات بنا کر دکھایا جائے ۔ یہ کام عام لوگ نہیں کر سکتے۔ یہ کام عالم اور حکیم لوگ کرتے ہیں۔ عوام چونکہ خود تجزیہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے اس لئے وہ عالموں اور حکیموں کی بات سے متاثر ہوکر اس کو اختیار کر لیتے ہیں۔

اس دنیا میں ہدایت یاب وہی ہے جو الفاظ کے فتنہ سے بچ جائے۔

14 ستمبر 1984

تعصب ایک تدبیر ہے جو تم کو اس قابل بناتی ہے کہ تم حقائق کے بغیر رائیں بنا سکو :

Prejudice is a device that enables you to form opinions without the facts. (Robert Quillen)

other sourceWords of another person or source

مثلا الرسالہ کے مشن کو لیجئے ۔ الرسالہ کی مخالفت کی ایک صورت یہ ہے کہ کوئی شخص قرآن وسنت کی بنیاد پر اس کی تردید کرے۔ ایسا کرنے کے لئے دلائل و حقائق پیش کرنے کی ضرورت ہو گی ۔ ہمارے مخالفین جانتے ہیں کہ اس میدان میں وہ الرسالہ کو رد کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ وہ خوب جانتے ہیں کہ الرسالہ کے فکر کو دلائل سے رد کرنا ان کے بس سے باہر ہے ۔

چنانچہ وہ دوسرا طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ یعنی لوگوں کے اندر تعصب اور بدظنی کے جذبات ابھار کر انھیں الرسالہ کا مخالف بنا دینا۔ الرسالہ بزرگوں پر تنقید کرتا ہے ۔ الرسالہ اسلام دشمنوں کا ایجنٹ ہے۔ الرسالہ slow-poisoning کر رہا ہے ۔ الرسالہ جہاد کی اسپرٹ کو مسلمانوں سے ختم کر رہا ہے ۔ وغیرہ ۔ سب اسی قسم کی باتیں ہیں۔ وغیرہ ۔سب اسی قسم کی باتیں ہیں۔ یہ گویا لوگوں کیدبیر ہے جس کے ذریعہ کی وہ تدبیر ہے جس کے ذریعہ وہ چاہتے ہیں کہ دلائل وتقائق پیشی کے بغیر لوگوں کو الرسالہ کا مخالف بنادیں گرندا کا فیصل ہے کہ اس قسم کی جھولی تدبیریں صرف تی طور پر کامیاب ہوں ۔ وہ ابدی طور پر بھی کامیاب د ہوسکیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

15 ستمبر 1984

جاڑے کا موسم ہے ۔ ٹھنڈی ہوا چل رہی ہے۔ ایسی حالت میں دو آدمی باہر ٹہلنے کے لئے نکلتے ہیں ۔ دونوں واپس لوٹتے ہیں تو ان میں سے ایک شخص زکام لے کر واپس آتا ہے ۔ اس کو ٹمپریچر ہو جاتا ہے ، وہ بیمار ہو کر بستر پر پڑ جاتا ہے ۔ دوسرا آدمی بھی اس کے ساتھ ٹھنڈے موسم میں چل کر آتا ہے ۔ مگراس پر موسم کا کچھ اثر نہیں ہوتا۔ وہ نشاط سے بھرا ہوا واپس آتا ہے۔ باہرنکلنا اس کے لئے مزید صحت بخش ثابت ہوتا ہے۔ پہلا آدمی اگر کھوکر لوٹا تھا ، تو دوسرا آدمی پاکر لوٹتا ہے۔

ہم ایسا نہیں کرتے کہ جوشخص بیمار ہوگیا ہے اس کی بیماری کی ذمہ داری موسم پر ڈال دیں بلکہ ہم یقین کرتے ہیں کہ اس کا سبب خودآدمی کے اپنے اندر ہے ۔ ایک شخص کے اندر داخلی قوت تھی، اس لئے وہ موسم سے متاثر نہیں ہوا ، بلکہ موسم کو اپنی غذا بنا لیا ۔ دوسرا شخص داخلی طور پرکمزور تھا، اس لئے وہ موسم کی شدت سے متاثر ہوا۔ موسم نے اس کو اپنا شکار بنا لیا۔ یہی تشخیص ہے جس کی بنا پر ہم بیمار آدمی کا علاج کرتے ہیں اور اس کو طاقتور بنانے کی کوشش کرتے ہیں ، نہ یہ کہ موسم کے خلاف احتجاج اور مطالبہ کی مہم شروع کر دیں۔

موجودہ دنیا کا نظام اسی اصول پر قائم ہے۔ یہاں ہر شخص یا ہر گروہ اپنی کمزوری کو بھگتتا ہے۔ اس لئے جب کوئی مسئلہ پیدا ہو تو خود اپنی داخلی کمزوری کی اصلاح میں لگ جانا چاہئے، نہ کہ دوسروں کے خلاف چیخ وپکار میں۔

16 ستمبر 1984

فرانس میں جون 1983ء میں مضمون نگاری کا مقابلہ (essay contest ) ہوا۔ مقابلہ میں شرکت کرنے والوں کو کتاب دیکھے بغیر محدود وقت میں ایک مضمون لکھتا تھا ۔ اس مقابلہ میں جو شخص اول آیا اس کا نام جوسیلن بنوئی (Jocelyn Benoist) تھا۔ بوقت مقابلہ اس کی عمر صرف 14 سال تھی۔

نتیجہ سامنے آنے کے بعد اخبار کے نمائندے ان سے ملے ۔ ایک اخبار نویس نے پوچھا کہ آپ کی کامیابی کا راز کیا ہے ہے کہ آپ غیرمعمولی ذہین ہیں یا پراسرار صلاحیت کے مالک ہیں۔ نوجوان نے جواب دیا : دونوں میں سے کوئی بھی نہیں۔ بات صرف یہ ہے کہ میں بہت زیادہ پڑھتا ہوں :

I just read a lot

” پڑھنا " بڑی عجیب وغریب چیز ہے۔ یہ ایک انوکھی صلاحیت ہے جو انسان کے سوا کسی اور کو حاصل نہیں۔ آدمی اپنے کمرہ میں یا لائبریری میں بیٹھ کر ساری دنیا کی چیزیں پڑھ سکتا ہے۔ وہ مطالعہ کے ذریعہ انسائیکلوپیڈیائی معلومات اپنے ذہن میں جمع کر سکتا ہے ۔

17 ستمبر 1984

عن واثلة بن الاسقع قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا تظهرالشماتة لاخيك فيرحمه الله ويبتليك(رواه الترمذی)

hadithQuotes a hadith

اپنے بھائی کی مصیبت پرخوش نہ ہو ، پس اللہ اس پر رحم فرمائے اور تم کو مصیبت میں مبتلا کر دے ۔

hadithQuotes a hadith

موجودہ زمانہ میں 99 فی مسلمان اس مرض میں مبتلا ہیں۔ مگر جو لوگ دوسرے کی مصیبت پر خوش ہوں انہیں جاننا چاہئے کہ یہ خوشی ان سے بہت مہنگی قیمت وصول کرنے والی ہے ۔ وہ یہ کہ وہ خود عین اس مصیبت میں مبتلا کر دئے جائیں پس کو وہ اپنے مفروضہ حریف کے خانہ میں ڈال کر خوش ہو رہے تھے ۔

18 ستمبر 1984

علامہ شعرانی نے عہد محمودیہ کے دیباچہ میں لکھا ہے کہ :

اجـمـعاهـلالطريقعلىوجوبتخاذالانـانلـهشيخا (اہل تصوف کا اس پر اتفاق ہے کہ آدمی کے لئے واجب ہے کہ وہ اپنی اصلاح کے لئے اپنا ایک شیخ بنائے )

opposing viewA view stated in order to be argued against

اس” وجوب " کی دلیل کیا ہے۔ اس کی دلیل ان کے نزدیک یہ ہے کہ فقہ کا متفقہ اصول ہے کہ جس چیز کے بغیر واجب پوری طرح ادا نہ ہو سکے وہ بھی واجب ہو جاتا ہے (مالا يتم الواجب الابه فهو واجب ) چوں کہ امراض باطنی کا علاج واجب ہے اور اس واجب کا حصول شیخ کی مدد کے بغیر نہیں ہوسکتا ، اس لئے شیخ کا اتخاذ بھی واجب ہے۔

اس دلیل کے صحیح ہونے کے لئے ضروری ہے کہ پہلے یہ ثابت ہو کہ امراض باطنی کی اصلاح کے لئے اتخاذ شیخ ضروری ہے ۔ یہ کیوں کر ثابت ہوگا ۔ اس کے ثابت ہونے کی شکل یہ ہے کہ قرآن یاحدیث میں اس کی تائید میں واضح نص موجود ہو ۔ مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ قرآن و حدیث میں ایسی کوئی نص موجود نہیں جواتخاذ شیخ کی اہمیت اس اعتبار سے ثابت کرے ۔

اس کا جواب علامہ شعرانی نے یہ دیا ہے کہ حضرات سلف صالحین اور ائمہ کو ارتقائی نے امراض باطنی سے سلامتی عطا فرمائی تھی ۔ اس لئے ان کو شیخ کی ضرورت نہیں تھی مگر سوال یہ ہے کہ خود اس کا کیا ثبوت ہے " السلف الصالح والامة المجتهدين“ کو امراض باطنی سے سلامت حاصل تھی اس لئے وہ شیخ کے ضرورت مند نہ تھے۔ دوسری بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد کے زمانہ کے لیے بہت ہی چیزوں کی ہدایت فرمائی تھی۔ شلا آپ نے فرمایا کہ میرے بعد فتنے پیدا ہوں گے تو تم اپنے حکمراں کی اطاعت کرنا ،خواہ وہ تمہارے خیال میں براکیوں نہ ہو۔ اسی طرح ایسا کیوں ہوا کہ آپ فرماتے کہ میرے بعد تم ہر زمانہ میں اپنا ایک شیخ بناتے رہنا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

19 ستمبر 1984

ہندستان کے مسلمانوں کی تاریخ جھگڑوں کی تاریخ ہے۔ ہر لیڈر اور ہر رہنما کسی نہ کسی جھگڑے کولے کر کھڑا ہوا۔

انگریز کا جھگرا۔

حنفی اور اہل حدیث کا جھگڑا۔

شیعہ اورسنی کا جھگڑا

قادیانی اور غیر قادیانی کا جھگڑا

بند و مسلم کا جھگڑا

ایوب اور بھٹو کا جھگڑا

اس پوری مدت میں کوئی ایسا رہنما نظر نہیں آیا جوکسی مثبت پیغام کو لے کر اٹھے اور اس کے اوپر قوم کو کھڑا کرے ۔ یہی سب سے بڑی وجہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی تمام کوششیں حبط اعمال کا شکار ہو کر گئیں ۔ بے شمار جانی اور مالی قربانیوں کے باوجود ان کے حصہ میں کچھ نہ آیا۔

20 ستمبر 1984

قرآن میں مومن کی صفات میں سے ایک صفت یہ بتائی گئی ہے :

والذين صبروا ابتغاء وجه ربهم

اور جو لوگ صبرکرتے ہیں اللہ کی رضا چاہنے کے لئے

دوسرے لفظوں میں اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ اصولی بنیاد پر صبرکرتے ہیں۔جب آدمی کو ٹھیس لگے اور وہ اللہ کی رضا کی خاطر صبر کر لے تو گویا اس نے اصولی بنیاد پر صبر کیا۔ مجبوری کے تحت تو ہرآدمی صبر کر لیتا ہے، مگرمومن کا طریقہ یہ ہے کہ وہ سوچنے سمجھے فیصلہ کے تحت اس لئے صبر کرتا ہے کہ یہی اس کے اصول کا تقاضا ہے۔

حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

الصبر عند الصدمة الاولى

صبر وہ ہے جوابتداء صدمہ کے وقت کیا جائے۔

اس حدیث کو ہندستان کے موجودہ حالات کی روشنی میں بخوبی سمجھا جا سکتا ہے۔ ہندستان کے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ ہندووں کی طرف سے کوئی واقعہ ہو (مثلا مسجد کے سامنے سے ہندوؤں کا جلوس نکلے) تو اس وقت وہ اس کو برداشت نہیں کریں گے۔ وہ فورا نکل کر اس کو روکنے کے لئے کھڑے ہو جائیں گے۔ ہندو کا جلوس نکلتے ہی اسلام خطرہ میں پڑ جائے گا ۔ اس کے بعد ضد بڑھے گی اور فساد ہوگا۔ اور مسلمان مارے جائیں گے۔ ان کے گھر اور دکان لوٹے جائیں گے اور جلا دیے جائیں گے ۔ جب یہ ہوچکا ہوگا تو اس کے بعد مسلمان مکمل صبر کی تصویر بن کر اپنے اپنے گھروں میں بیٹھ رہیں گے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہی ایک واقعہ ہے جو ہندستان میں نصف صدی سے ہورہا ہے ۔ ابتداء صدمہ کے وقت بے صبری، اور پھر اس کے بعد صبر ۔ مسلمان ہمیشہ آخر میں صبر کرتے ہیں۔ مگر یہ صبر وہ ہے جس پر انھیں حدیث کے مطابق ، صبر کا کریڈٹ ملنے والا نہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

21 ستمبر 1984

جب آدمی لا یعنی بحثیں نکالے تو وہ بھول جاتا ہے کہ کیا چیز دلیل ہے اور کیا چیز دلیل نہیں ۔ مثلاً بریلوی حضرات کا عقیدہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہو جگہ موجود ہیں اور ہر چیز دیکھتے ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس عقیدہ کے دلائل میں سے ایک دلیل ان کے نزدیک یہ ہے کہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں یہ روایت ہے کہ آدمی جب مرکر قبر میں جاتا ہے تو فرشتے آتے ہیں اور اس سے کچھ سوالات کرتے ہیں ۔ ان میں سے ایک سوال سے ہے :

opposing viewA view stated in order to be argued against

ماكنت تقول في هذ االرجل

تم اس آدمی (رسول اللہ) کے بارہ میں کیا کہتے تھے۔

بریلوی حضرات کہتے ہیں کہ عربی میں ھٰذا کا لفظ قریب کے اشارہ کے لئے آتا ہے۔ فرشتوں کے سوال میں اشارہ قریب کا لفظ استعمال کیا جانا بتاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر میت کے پاس حاضر و ناظر ہوتے ہیں ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یر دلیل نہیں دلیل بازی ہے ۔ محض هذا کےاستعمال سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی ۔

حدیث وسیرت کی کتابوں میں آتا ہے کہ وفد عبد القیس 5ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدینہ میں آیا ۔ گفتگو کے دوران اس نے یہ جملہ کہا :

hadithQuotes a hadith

۔۔۔۔۔ بيننا وبينك هذا لحي من كفارمضر

ہمارے اور آپ کے درمیان یہ کفار مضر کا قبیلہ ہے ۔

ظاہر ہے کہ مضر کا قبیلہ اس وقت مدینہ میں موجود نہ تھا۔ یہ صرف کہنے کا ایک انداز تھا جووفد عبدالقیس نے استعمال کیا۔

22 ستمبر 1984

خوش نصیب ہے وہ شخص جس کی موت اس کے لئے جنت میں داخلہ کا دروازہ بن جائے۔ جو موجودہ دنیا سے اس حال میں جائے کہ اگلے مرحلہ میں خدا کے فرشتے اس کو مبارک باد دینے کے لئے کھڑے ہوئے ہوں ۔ جوان نعمتوں کو قریب سے پا لے جن کو موت سے پہلے کی دنیا میں اسےصرف دور سے دکھایا گیا تھا ۔ جو چیزیں آج کی زندگی میں اس کو نمونہ کے طور پر دکھائی گئی تھیں وہاں وہ ان کو پورے طور پر مل جائیں۔ جو چیزیں یہاں تعارف کے درجہ میں سامنے آئی تھیں۔ وہاں وہ چیزیں مکمل کر کے اسے ہمیشہ کے لئے دے دی جائیں۔

23ستمبر 1984

بریلوی فرقہ کا عقیدہ ہے کہ عارف کامل تمام امورغیب سے مطلع ہو جاتا ہے ۔ ان کے نزدیک یہ کمال نبوت و ولایت کی شرط ہے ۔ ایک بریلوی عالم نے لکھا ہے:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

(لا تستقرنطفة في فرج انثى الا ينظـرة الك الرجل ( الكامل) اليها

hadithQuotes a hadith

کسی عورت کی شرمگاہ میں کوئی نطفہ بھی ٹھہرتا ہے تو وہ کامل انسان (ولی) اسے ضرور دیکھ لیتا ہے۔

یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان کس قسم کی لا یعنی بحثوں میں مبتلا ہیں۔ یہ جھوٹی بحثیں صرف بریلوی حضرات کے یہاں نہیں ہیں بلکہ دوسرے حلقوں میں بھی وہ موجود ہیں ، بس فرق یہ ہے کہ ان کی شکلیں بدلی ہوئی ہیں ۔

کاش لوگ جانتے کہ اصل مسائل کچھ اور ہیں نہ کہ وہ جن میں یہ لوگ اپنی قابلیت کے جوہر دکھا رہے ہیں۔ ایسی باتیں ثابت ہونے کے بعد بھی اتنی ہی غیر ثابت شدہ رہتی ہیں جتنا کہ ثابت ہونے سے پہلے۔

24 ستمبر 1984

في الصحيحين عن أبي هريرة ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ان لله تسعة وتسعين اسما، مأة الأ واحدا ـ من احصاها دخل الجنة ۔ صحیحین ( بخاری ومسلم) میں حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے 99 نام ہیں ، سو میں ایک کم۔ جس شخص نے ان کا شمار کیا وہ جنت میں داخل ہوگا۔

hadithQuotes a hadith

اس حدیث میں احصاء سے مراد احصاء شعوری ہے کہ احصا لسانی۔ ان کے یہ نام دراصل اللہ کی صفات کے مختلف پہلو ہیں ۔ آدمی خدا پر اور اس کی تخلیقات پر غور کرتا ہے تو خدا کی خدائی کے مختلف پہلو اس کے سامنے آتے ہیں۔ انہیں پہلوؤں کا شعوری ادراک ہونا ان کا احصاء کرنا ہے۔ اور جو لوگ اس اعتبار سے خدا کی معرفت حاصل کریں وہ بلاشبہ جنت میں جائیں گے۔ کیوں کہ جنت در اصل معرفت خدا وندی کی قیمت ہے ۔

حدیث میں 99 کا لفظ محض اعتباری ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے بے شمار نام ہیں۔ امام رازی نے اپنی تفسیر میں بعض بزرگوں سے نقل کیا ہے کہ : إن الله خمسة آلاف اسم اللہ کے پانچ ہزار نام ہیں ۔ (تفسیر ابن کثیر، الجزء الاول ، صفحہ 19)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مگر حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے بے شمار نام ہیں ۔

میں بفضلہ تعالیٰ کہ سکتا ہوں کہ میں نے اللہ کے کئی ایسے "نام" دریافت کئے ہیں جو کتابوں میں لکھے ہوئے نہیں۔ اور میری یہ دریافت باری ہے ـــــــ فاحمد للہ علی ذالک۔

25 ستمبر 1984

ٹیرنس (Terence) کا قول ہے کہ لوگ اپنے معاملہ کے مقابلہ میں دوسروں کے معاملات کو زیادہ اچھی طرح دیکھتے ہیں اور زیادہ اچھا فیصلہ کرتے ہیں :

other sourceWords of another person or source

Men see and judge affairs of other men better than their own.

یہ بات صد فی صد درست ہے ۔ مگر دوسروں پر رائے زنی صرف اس وقت کار آمد ہے جب کہ مقصد گفتگو برائے گفتگو ہو۔ اگر بحث و گفتگو کا مقصد کسی نتیجہ تک پہنچنا ہو تو ایسا کلام بالکل بے فائدہ ہے۔ کیوں کہ اپنے اوپر جج بننے سے اپنی اصلاح ہوتی ہے جب کہ دوسروں کے اوپر جج بنتے سے بے فائدہ تکرار ۔

26 ستمبر 1984

آج محرم کے مہینہ کی دس تاریخ تھی۔ نظام الدین میں ہمارے مکان کے سامنے سے محرم کا جلوس نکلا۔ تعزیہ ، باجا، کھیل ، ہنگامہ اور یہ ساری خرافات اسلام کے نام پر ہورہی تھی۔ یہ لوگ سیکڑوں سال سے یہی دیکھتے آئے ہیں اس لئے اب وہ اس سے الگ ہو کر سوچ نہیں سکتے۔

اس منظر کو دیکھ کر میری آنکھوں میں بے اختیار آنسو آ گئے۔ میں نے سوچا کہ اب امت کی اصلاح کی ایک ہی صورت ہے ۔ وہ یہ کہ ایک ایسی نسل بنائی جائے جو ان تمام روایات سے منقطع ہو کر پرورش پاۓ ۔

کچھ افراد مسلمانوں میں سے بھی نکلیں گے مگر زیادہ کی امید نہیں ۔ کیوں کہ ہر مسلمان انھیں روایات کے درمیان پرورش پا رہا ہے ۔ ہرمسلمان اسلام کو ایک "تعزیہ“ بنائے ہوئے ہے۔ قرآن والا مومن بننے کے لئے تمام تاریخی روایات سے اپنے آپ کو کاٹنا پڑے گا۔ اور ایسے افراد شاذ و نادر ہی ہوتے ہیں ۔

آج کا مسلمان اب کے زمانہ میں بننے والی روایات میں جی رہا ہے۔ وہ قرآن وسنت میں نہیں جی رہا ہے ۔ اب ضرورت ہے کہ ایک ایسی نسل بنائی جائے جو قرآن میں جئے ، جو ابتدائی اسلام میں پرورش پا کر تیار ہو ۔ ہمیں وہ اعلٰی افراد در کار ہیں جو درمیانی وقفہ کو حذف کرکے آغاز اسلام سے اپنا ذہنی رشتہ جوڑ سکیں۔ یہ شعوری سفر بلاشبہ مشکل ترین کام ہے۔ مگر اسی مشکل سفر میں ہماری تمام سعادتوں کا راز چھپا ہوا ہے۔

27 ستمبر 1984

ایک شخص جل جائے تو اس کے جلے ہوئے حصہ پر چمڑے کی پیوند کاری کی جاتی ہے۔ جس کو (skin grafting) کہا جاتا ہے ۔ اس کا یہ فائدہ ہے کہ جلا ہوا حصہ دوبارہ پہلے کی طرح ہو جاتا ہے۔

پیوند کاری دوقسم کی ہوتی ہے۔ ایک یہ کہ دوسرے آدمی کی کھال لے کر جلے ہوئے آدمی کے جسم پر لگائی جائے ۔ اس کو (homograf) کہا جاتا ہے ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ جلے ہوئے آدمی کی اپنی کھال لگائی جائے ۔ یعنی غیر متاثر حصہ کی کھال لے کر متاثر حصہ پر لگائی جائے۔ اس کو autograft کہا جاتا ہے۔

اس قسم کے مفہوم کو ادا کرنے کے لئے اردو زبان میں اس طرح کے سادہ الفاظ بنانا انتہائی دشوار ہے۔ اردو کا نشو و نما شعروشاعری اور خطابت اور مناظرہ بازی جیسی چیزوں کے ماحول میں ہوا۔ چنانچہ ان چیزوں کے لئے اردو میں خوب الفاظ موجود ہیں۔ شاعرانہ اور خطیبانہ مفہوم کو ادا کرنے کے لئے اردو میں ترکیبیں وضع کرنا بہت آسان ہے ۔ مگر سائنٹفلک خیالات کو سادہ ترکیب میں بیان کرنا اردو میں سخت دشوار ہے۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دور جدید کے لحاظ سے اردو کس قدر پس ماندہ زبان ہے ۔

28 ستمبر 1984

قرآن میں ہے کہ آدم کو جب زمین پر بھیجا گیا تو اللہ تعالی نے فرمایا کہ جاؤ تم لوگ زمین پر آباد ہو ، وہاں تم لوگ ایک دوسرے کے دشمن ہوگے (قلنا اهبطوا لبعضكم لبعض عدو)

Qur'anQuotes the Qur'an

یہاں یہ سوال ہے کہ ایک دوسرے کا دشمن ہونے سے کون دو گروہ مراد ہیں ۔ انسان اور انسان یا انسان اور شیطان۔ اہل تاویل کی ایک جماعت نے اس سے مراد انسان اور انسان کو لیا ہے ۔ مولانا امین احسن اصلاحی نے اس کی پر زور تردید کی ہے اور ایسی بحث کر کے یہ ظاہر کیا ہے کہ اس سے مراد انسان اور شیطان ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مگریہ بات سراسر غیر ضروری ہے ۔ سوال یہ ہے کہ انسان اور شیطان کی دشمنی کی عملی صورت کیا ہے۔ کیا شیطان مجسم ہوکرمیدان مقابلہ میں آتا ہے اور انسان اس سے اس طرح لڑائی کرتے ہیں جیسے انسانوں سے باہمی لڑائی لڑی جاتی ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہوتا۔ شیطان وسوسہ کے راستے انسان کے پاس آتا ہے اور وسوسہ کی سطح پر ہی انسان کو اس کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔

پھر یہ وسوسہ کیا ہوتا ہے ۔ یہ وسوسہ ہوتا ہے ـــــ حسد ، کبر،خیانت، ظلم اور اس طرح کی دوسری برائیوں پر انسان کو آمادہ کرنا۔ ان تمام برے جذبات کانشانہ انسان ہی بنتے ہیں نہ کہ شیطان۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ شیطان ایک انسان کو دوسرے انسان سے ٹکراتا ہے۔ اور اسی مقام پر انسان کو یہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ دوسرے انسانوں سے نہ ٹکرائے۔

اگر عداوت کو شیطان اور انسان کی عداوت کے معنی میں لیا جائے تب بھی عمومی طور پر وہ انسان اور انسان ہی کی عداوت ہے۔ نتیجہ کے اعتبار سے دونوں تفسیروں میں کوئی فرق نہیں۔

29 ستمبر 1984

کون سا انڈا اچھا ہے اور کون سا خراب، اس کا اندازہ اوپر سے نہیں ہوتا۔ کیوں کہ اوپر سے دیکھنے میں سب انڈے ٹھیک ہی معلوم ہوتے ہیں ۔ انڈے کا اچھا یا خراب ہونا اس وقت معلوم ہوتا ہے جب کہ اس کو توڑا جاۓ۔ ایسا ہی کچھ معاملہ انسانوں کا بھی ہے ۔ کوئی انسان کیسا ہے ، اس کا اندازہ معمول کے حالات میں نہیں ہوتا بلکہ غیر معمولی حالات میں ہوتا ہے۔ اور وہی انسان انسان ہے جو غیرمعمولی حالات میں انسان ثابت ہو۔ جو ٹوٹنے کے بعد بھی ویسا ہی رہے جیسا کہ وہ ٹوٹنے سے پہلے دکھائی دے رہا تھا ۔

30 ستمبر 1984

انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا میں قرآن (Qur'an) پر مفصل مقالہ ہے۔ اس کے آخر میں قرآنی تراجم کی تفصیل ہے۔ عجیب بات ہے کہ فارسی ، ترکی اور اردو میں تو مسلمانوں نے قرآن کے ترجمے کئے۔ یہ زبانیں مسلمانوں کی زبانیں تھیں ۔ مگر دوسری قوموں کی زبان میں ترجمے ایک عرصہ دراز تک صرف غیرمسلم کرتے رہے۔

لاتینی زبان میں پہلا ترجمہ 1143 میں کیا گیا۔ یہ ترجمہ ایک عیسائی پادری نے کیا۔ اسی طرح اطالوی ، جرمن ، ڈچ ، فرانسیسی وغیرہ زبان میں بھی ابتدائی ترجمے عیسائیوں اور یہودیوں نے کئے۔ انگریزی میں بھی پہلا ترجیہ الگزینڈرر اس نے کیا ، وغیرہ ۔ عیسائیوں کے بعد انگریزی میں جس شخص نے پہلا ترجمہ کیا وہ ایک قادیانی تھا۔ بعد کو دوسرے کچھ مسلمانوں کے ترجمے شائع ہوئے ۔ زیادہ تر اس جذبہ کے تحت کر دوسروں نے غلط ترجمہ کیا ہے ، اس کو صیح کیا جائے ۔

اس کی وجہ مسلمانوں میں دعوتی ذہن نہ ہونا ہے ۔ ہمارے علماء ومفسرین زیادہ سے زیادہ یہ سوچ سکے کہ غیر عربی داں مسلمانوں کے لیے قرآن کا ترجمہ تیار کریں ۔ یہ بات ان کے ذہنی دائرہ سے باہر رہی کہ غیر مسلم اقوام کے لئے ان کی اپنی زبانوں میں قرآن کے ترجمے تیار کر کے شائع کئے جائیں تاکہ وہ اسلام سے واقف ہوں ۔

مسلمانوں میں اگر دعوتی ذہن ہوتا تو دور پریس آنے کے بعد وہ نہایت جوش اور وسعت کے ساتھ یہ کام کرتے مگر دعوتی ذہن نہ ہونے کی وجہ سے وہ یہ انتہائی ضروری کام نہ کر سکے۔ غیرمسلموں میں بطور خود تجسس پیدا ہوا۔ انھوں نے قرآن کو پڑھا اور اپنی زبانوں میں اس کے ترجمے کئے مگر مسلمانوں میں کبھی یہ جذبہ ہی نہیں ابھرا کہ قرآن کا ترجمہ دنیا کی دوسری زبانوں میں کریں تاکہ غیر مسلم حضرات قرآن کی تعلیمات سے واقف ہوسکیں۔

7 ستمبر 1984

تقریبا بیس برس پہلے کی بات ہے۔ میں ڈاکٹر محمد ایوب (بلریا گنج) کے مطب میں بیٹھا ہوا تھا۔ اتنے میں ایک مریض آیا جو ڈاکٹر صاحب کے زیرعلاج تھا ۔ میں نے دیکھا تو اس کا چہرہ اور اس کا جسم سوکھ کر بھوسہ کی طرح ہو رہا تھا ۔ معلوم ہوا کہ اس کو کوئی عارضہ ہو گیا ہے جس کی وجہ سے اس کا جسم پانی کوقبول نہیں کرتا۔ وہ پانی پینا چاہتا ہے تو پانی اس کے حلق کے نیچے نہیں اترتا ۔ اس کی یہ کیفیت عرصہ دراز سے ہے یہاں تک کہ اس کا جسم سوکھ کر ایسا ہو گیا جیسے بھوسہ۔

تربیت کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ تربیت کی افادیت اسی وقت ہے جب کہ زیرتربیت شخص میں اس کی قبولیت کا مادہ ہو۔ تربیت داخل کرنے کا نام نہیں ، بلکہ قبول کرنے کا نام ہے۔

تربیت میں ایک شخص لینے والا ہوتا ہے اور ایک شخص دینے والا ۔ تربیت کے عمل میں پچاس فی صد اگر دینے والے کا حصہ ہے ، تو پچاس فیصد لینے والے کا حصہ۔ تربیت اس شخص کے لئے ہے جو آدھا سفرطے کر چکا ہو ۔ جوشخص اپنی جگہ پر کھڑا رہے اس کے لئے کوئی تربیت کارگر نہیں ہوسکتی۔

بدن پانی کو قبول کرے تبھی پانی جسم کے اندر داخل ہوکرصحت و توانائی کا باعث ہوتا ہے اسی طرح آدمی کے اندر اصلاح کو قبول کرنے کا مادہ موجود ہو تبھی یہ ممکن ہوتا ہے کہ اس کو نصیحت کی جائے اور وہ اس کو قبول کرکے اس کو اپنی اصلاح کا ذریعہ بنائے۔

Highlights
Reading

The realization of God is the essence of religion. Without maarifah, religion is reduced to a spiritless form.

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content
quoted sourceQuoted from another author or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside ithadithQuotes a hadithother sourceWords of another person or sourceopposing viewA view stated in order to be argued againstoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceother sourceWords of another person or sourceother sourceWords of another person or sourcequoted sourceQuoted from another author or sourcehadithQuotes a hadithother sourceWords of another person or sourcehadithQuotes a hadithhadithQuotes a hadithother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside ithadithQuotes a hadithhadithQuotes a hadithopposing viewA view stated in order to be argued againstoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itopposing viewA view stated in order to be argued againstoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside ithadithQuotes a hadithoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside ithadithQuotes a hadithhadithQuotes a hadithoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceQur'anQuotes the Qur'anoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it