← Diary 1983-1984Diary 1983-1984
July 1984
English · 33 min read
یکم جولائی 1984
مغل حکمراں جہاں گیر کا واقعہ ہے۔ وہ اپنی بیوی (نور جہاں) سے بہت محبت کرتا تھا۔ ایک بار ملکہ نے بادشاہ سے محبوبانہ شکایت کی ۔ یہ معاملہ ایک اسلامی اور دینی معاملہ تھا۔ بادشاہ نے صفائی کے ساتھ کہا :
جاناں ، جہاں بتو دادم نہ کہ ایمان
(اے محبوب بیوی ، میں نے تم کو اپنی جان دی ہے نہ اپنا ایمان) پہلے زمانہ میں یہ دنیا دار بادشاہوں کا حال تھا۔ آج دین دارمسلمانوں کا حال بھی ایسا نہیں ۔ آج یہ حال ہے کہ آدمی باہر کی دنیا میں اسلام پر تقریر کرتا ہے ۔ اور جب وہ اپنے گھر کے اندر داخل ہوتا ہے تو بیوی بچوں کے تقاضے سے اتنا مغلوب ہوتا ہے کہ گھر کے اندر وہ اس کے بر عکس طریقہ پرعمل کرنے لگتا ہے جن کا اعلان اس نے گھر کے باہر کیا تھا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
2 جولائی 1984
مولانا شبیر احمد عثمانی نے ذی الحجہ 1350ھ میں اپنی تفسیر قرآن مکمل کی تو اس کے آخر میں انھوں نے لکھا " الٰہی ، تو اس کے نیک ثمرات سے دارین میں مجھ کو متمتع فرما“
other sourceWords of another person or source
مولانا ابوالاعلی مودودی نے ربیع الثانی1392 ھ میں اپنی تفسیر تفہیم القرآن مکمل کی تو اس کے آخر میں لکھا : " میں اللہ کے کرم سے امید رکھتا ہوں کہ وہ .... اس کو میری مغفرت کا ذریعہ بناۓ گا "۔
other sourceWords of another person or source
مولانا امین احسن اصلاحی نے رمضان 1400ھ میں اپنی تفسیر تدبر قرآن مکمل کی تو اس کے آخر میں لکھا: رب کریم ، اس نا چیز خدمت کو اپنے اس غلام کی نجات کا ذریعہ بنایئے۔"
other sourceWords of another person or source
اکثر مصنفین نے اپنی تصنیفات کے بارہ میں اس طرح کی باتیں لکھی ہیں۔ مگر مجھ کو اپنے ایمانی ذوق کے اعتبارسے یہ بات پسند نہیں آتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے بارہ میں اب تک مجھے ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ وہ اپنے کسی عمل کے بارہ میں یہ کہتے ہوں کہ خدایا تو میرے اس عمل کے ذریعہ مجھے جنت میں پہنچا دے۔ وہ لوگ اپنی دعاؤں میں ہمیشہ اپنے عجز کا اظہار کرتے تھے نہ کہ اپنے عمل کا۔
میں سمجھتا ہوں کہ یہ بعد کے دور کی بات ہے جب لوگوں کا ایمانی احساس کمزور ہو گیا تو لوگ اس طرح کی باتیں کرنے لگے۔ اگر یہ کوئی بھی اور اسلامی بات ہوتی تو ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر اور دوسرے صحابہ کے یہاں اس قسم کی دعائیں ملنی چاہئے تھیں۔ مگر ایسی دعا کسی کے یہاں نہیں ملتی ۔ مجھ کو تو ایسے الفاظ خدا کی خدائی کا کم تر اندازہ معلوم ہوتے ہیں۔
3 جولائی 1984
ڈاکٹراسراراحمد صاحب (لاہور) نے اپریل 1984 میں میں حیدرآباد (ہندستان) کا دورہ کیا۔ اس کی مفصل روداد ماہنامہ میثاق (لاہور) جون 1984 میں شائع ہوئی ہے ۔
اس موقع پر حیدر آباد میں ڈاکٹر صاحب کی بہت سی تقریریں ہوئیں۔ ان میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ شریک ہوئے ۔ انھوں نے اسلام کے مختلف پہلوؤں کی وضاحت کی۔ رپورٹ کے مطابق ایک اجتماع میں " قتال فی سبیل اللہ کا بیان بھی بھر پور انداز میں ہوا "۔ صفحہ 76 - 75
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قیام حیدر آباد کے آخر کی ایک تقریر کے بارہ میں رپورٹ کا ایک حصہ یہ ہے : دوران درس منتظمین میں سے ایک صاحب نے ڈاکٹر صاحب کو چٹ بھیجی کہ لوگوں سے قریب قریب ہونے کی درخواست کی جائے ۔ اس لئے کر سامعین کی تعداد بڑھ رہی ہے ۔ ڈاکٹر صاحب نے اس کام کے لئے دو تین منٹ کا وقفہ بھی دیا۔ لوگ قریب ہونے میں سستی کا مظاہرہ کر رہے تھے ۔ اس پر ڈاکٹر صاحب نے برجستہ کہا : حضرت داغ جہاں بیٹھ گئے بیٹھ گئے۔ میرے قریب حضرت داغ سے ملتے جلتے پرانے زمانے کے ایک بزرگ بیٹھے تھے ۔ ان کے آگے خالی جگہ موجود تھی۔ لیکن وہ ٹس سے مس نہیں ہو رہے تھے ۔ میں نے ان سے عرض کیا کہ ضور ، ڈاکٹر صاحب یہ آپ ہی کے بارہ میں ارشاد فرمارہے ہیں۔ انھوں نے خاص نظروں سے راقم کی جانب دیکھا اور سامنے موجود خالی جگہ پر کرلی ۔"
4 جولائی 1984
آجکل کے انسان کا معاملہ عجیب ہے ۔ ایک شخص مجھ سے ملنے آئے گا اور آدھہ گھنٹہ تک اپنی بات کہتا رہے گا۔ میں پورے صبر کے ساتھ اس کی بات کو سنوں گا ۔ مگر آدھہ گھنٹہ تک اس کی بات سننے کے بعد جب میں اپنی بات کہنا چاہوں گا تو وہ پانچ منٹ تک بھی توجہ کے ساتھ میری بات نہیں سنے گا اور بیچ میں بول پڑے گا۔
کیسے عجیب ہیں وہ لوگ جو نہ دوسرے کو جانتے اور نہ اپنے آپ کو ۔ اس کے باوجود وہ اس یقین سے سرشار ہیں کہ ان کو جو کچھ جانتا تھا وہ سب انھوں نے بیان کیا ۔ اب مزید انہیں کچھ جاننے کی ضرورت نہیں۔
لوگ اپنے جاننے کو جانتے ہیں ،کاش انھیں معلوم ہو تاکہ اس سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ وہ اپنے نہ جاننے کو نہ جانیں ، وہ اپنی بے خبری کے بارہ میں واقفیت حاصل کریں ۔
5 جولائی 1984
کیونزم کے داعی مارکس نے کہا تھا کہ مذہب افیون ہے:
Religion is the opiate of the people.
اس کے جواب میں آرتھراسٹین (Arthur C. Von Stein) نے کہا کہ کمیونزم گدھوں کی افیون ہے:
other sourceWords of another person or source
Communism is the opiate of the asses.
سیسل پالمر نے کہا کہ سوشلزم ایک ایسا نظام ہے جو صرف جنت میں قابل عمل ہے جہاں اس کی ضرورت نہیں ۔ یا جہنم میں جہاں وہ پہلے ہی اسے حاصل کر چکے ہیں:
other sourceWords of another person or source
Socialism is a system which is workable only in heaven, where it isn't needed, and in hell, where they have got it.
Cecil Palmer
6 جولائی 1984
قال على كرم الله وجـهـهالعـلـخـيرمنالماللانالمـاليحرمكوانتتحـرسالمـال - والمالتنقصـهالنفقـةوالعـلميـزكوعـلىالانفـاق
other sourceWords of another person or source
علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا کہ علم مال سے بہتر ہے ۔ کیوں کہ مال تمہاری حفاظت کرتا ہے، اور مال کی حفاظت تم کو خود کرنی پڑتی ہے۔ مال خرچ کرنے سے کم ہوتا ہے اور علم میں خرچ سے اضافہ ہوتا ہے۔ کیسی عجیب حکمت کی بات ہے جو صحابی رسول نے فرمائی ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
7 جولائی 1984
ڈاکٹر امبیڈکر کے سامنے کچھ مسلمانوں نے اسلام پیش کیا تھا ۔ اس کا جواب جو ڈاکٹر امبیڈ کر نے دیا وہ نواب ہوش یار جنگ بہادر (خیرت آباد ، حیدر آباد دکن) کی روایت کے مطابق یہ تھا :
بلاشبہ اسلام فی نفسہ بہترین مذہب ہے لیکن اگر میں اسلام کو اختیار کرنا چاہوں تو مجھے سب سے پہلے یہ عقدہ حل کرنا ہوگا کہ شیعہ بنوں یا سنی ۔ قبروں کو پوجوں یا خدا کو مسلمان مختلف فرقوں میں اس طرح تقسیم ہو گئے ہیں کہ ہرفرقہ دوسرے فرقہ کو کافر کہتا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ جس جوش سے تعزیوں اور قبروں کو پوجا جاتا ہے ، اگر میں وہ جوش ظاہرنہ کر سکا تو مجھے وہابی کہہ کر اسلام سے خارج کر دیا جائے گا۔ دوسروں کو مسلمان بنانے سے پہلے مسلمانوں کو چاہئے کہ خود مسلمان بن جائیں اور اپنی اندرونی تفریق کو دور کریں۔" ( ہماری بت پرستیاں، از ہوش بلگرامی، صفحہ 15 )
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ صحیح ہے کہ موجودہ مسلمانوں میں بے شمار بگاڑ پائے جاتے ہیں ۔ مگر جہاں تک ڈاکٹرامیڈکر کا سوال ہے ، ان کا مذکورہ تبصرہ سنجیدگی کی مثال نہیں کیونکہ ان کے سامنے اسلام کو اختیار کرنے کا مسئلہ تھا نہ کہ مسلمانوں کی قومی روش کو اختیار کرنے کا۔
8 جولائی 1984
" محمد علی کلے " کا نام لیجئے تو فورا باکسر (boxer) کا تصور سامنے آجائے گا۔ اسی کو حیثیت عرفی کہتے ہیں۔ ہر شخص یا ہر قوم کی ایک حیثیت عرفی ہوتی ہے ، یعنی اس کی معروف حیثیت ، اسی معروف حیثیت کے اعتبارے وہ شخص یا قوم دنیا میں جانا جاتا ہے ۔
آج مسلمانوں کی حیثیت عرفی کیا ہے ۔ ایک ایسی قوم جو حقوق کا مطالبہ کر رہی ہے۔ جو بات بات میں لڑ جاتی ہے ۔ جو شاعری اور خطابت کی دھوم مچاتی ہے ۔ وغیرہ ۔
مسلمان کی اصل معروف حیثیت یہ تھی کہ وہ توحید پرست ہے، وہ آخریت کو ماننے والا ہے ۔ وہ محفوظ دین کا حامل ہے۔ دوسروں کی نظر میں آج مسلمانوں کی جو معروف حیثیت ہے وہ یہ نہیں ۔ وہ اس سے بالکل مختلف ہے جو باعتبارحقیقت ہونا چاہئے ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ آج کے مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ ہے ۔ انہیں سب سے پہلے اپنی اس تصویر کی تصحیح کرنی چاہئے۔ ہر ممکن قیمت ادا کر کے انھیں اپنی معروف حیثیت وہ بنانا چاہئے جو قرآن و حدیث کے مطابق فی الواقع ان کی معروف حیثیت ہے۔
موجودہ زمانہ کے مسلم لیڈر اکثر مسلمانوں سے تشخص (identity ) کی بات کرتے ہیں۔ مگر تشخص سے ان کی مراد صرف کلچرل تشخص ہوتا ہے حالاں کہ مسلمان کا اصل شخص وہ ہے جو اس کی مومنانہ اور داعیانہ حیثیت کو بتائے نہ کہ ایک مخصوص کلچرل گروپ ہونے کو۔
9 جولائی 1984
موجودہ زمانہ کے مسلم رہنمائوں نے سب سے بڑی نادانی یہ کی ہے کہ پوری قوم کو سطحی فکر (superfluous thinking) کا شکار بنا دیا ہے۔ جو مسئلہ فکری چیلینج کا تھا اس کو کافراقوام کی سازش بنا کر پیش کیا۔ جومسئلہ مقابلہ ! (competition) کا تھا اس کو دوسری قوموں کا تعصب قرار دیا۔ جومسئلہ خود مسلمانوں کی اپنی کمزوریوں اور غفلتوں کی وجہ سے پیدا ہوا تھا اس کا ذمہ دار دوسروں کو ٹھہرایا۔
ایک حدیث میں مومن کی صفات میں سے ایک صفت بصیرا بزمانہ (اپنے زمانہ کودیکھنے والا) کہا گیا ہے۔ اس اعتبار سے جانچا جائے تو موجودہ زمانہ کے تقریبا تمام مسلم رہنما اس صفت سے بالکل عاری نظر آتے ہیں ۔ ان رہنماوں نے اپنی بے خبری سے پوری کی پوری قوم کو بے خبر بنا دیا۔ یہی آج مسلمانوں کا مسئلہ نمبر ایک ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
10 جولائی 1984
جب ایک شخص دلیل کی زبان میں کلام کرے ، اور اس کے مخالفین اس کے برعکس عیب جوئی کی زبان بول رہے ہوں، تو یہ فرق اس بات کا کھلا ہوا ثبوت ہے کہ شخص مذکور سراسر حق پر ہے اور اس کے مخالفین سراسر ناحق پر ۔ کیوں کہ قرآن کے مطابق دلیل کی زبان پیغمبروں کی زبان ہے اور عیب جوئی کی زبان ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
جس حق کو آپ دلیل سے رو نہ کرسکیں اس کو شبہات کی بنا پر رد کرنا ایسا گناہ ہے جو اللہ کے یہاں کسی طرح قابل معافی نہیں۔
11 جولائی 1984
ابن خلدون ( 1406 - 1332) نے بتایا ہے کہ قوم میں جب عصبیت زائل ہو جائے تو قوم میں زوال آ جاتا ہے ۔ ٹائن بی (1975- 1889 ) نے بتایا کہ اگرمعاشرے میں جواب (response) پیدا ہونا ختم ہوجائے تو اس کا زوال شروع ہو جاتا ہے۔
other sourceWords of another person or source
یہ دونوں باتیں ایک اعتبار سے درست ہیں مگر میں کہتا ہوں کہ زیادہ صیحح الفاظ میں یہ بات یوں کہی جاسکتی ہے کہ کسی قوم کے عروج و زوال کا فیصلہ اس کے افراد کی سطح پر ہو تا ہے نہ کہ کسی قسم کی اجتماعی حالت کی سطح پر ۔ کیوں کہ اجتماعی حالت بذات خود کوئی چیز نہیں۔ اجتماعی حالت در اصل افراد ہی کی حالت کا اجتماعی ظہور ہے ۔
کسی قوم کی زندگی کے لئے بنیادی چیزیہ ہے کہ اس کے افراد جاندار ہوں ۔ جا ندار افراد ہمیشہ فکری انقلاب کے ذریعہ پیدا ہوتے ہیں۔ تاہم فکری انقلاب کا معاملہ بھی فیض بقدر استعداد کے اصول پر قائم ہے۔ افراد کے اندر جتنی استعداد ہو گی اس کے اندر ان کا فکری انقلاب نتیجہ خیز ہوگا۔
حضرت مسیح کے "بارہ شاگرد" بھی فکری انقلاب سے بنے تھے۔ مگر وہ آخر میں حضرت مسیح کو چھوڑ کر بھاگ گئے ۔ اور پیغمبر عربی کے صحابہ بھی فکری انقلاب سے بنے تھے۔ مگر حال یہ تھا کہ غزوہ حنین میں جب ہرطرف سے آپ کے اوپر تیروں کی بارش ہونے لگی تو آپ کے صحابہ نے چاروں طرف سے آپ کے گرد زندہ انسانوں کی دیوار بنا دی۔
12 جولائی 1984
ایمرسن (Emerson) کا ایک قول نظر سے گزرا کہ دنیا میں سب سے زیادہ مشکل کام ہے سوچنا:
other sourceWords of another person or source
What is the hardest task in the world? To think.
یہ بات صد فیصد درست ہے ۔ دنیا میں سب سے زیادہ کم وہ لوگ ہیں جو سوچ کر کرتے ہیں بیشتر لوگ بغیر سوچے ہوئے کام کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سوچنا خود سب سے بڑاعمل ہے۔ سوچنا بہت بڑی قربانی مانگتا ہے ۔ آدمی وہ قربانی دینے کے لئے تیار نہیں ہوتا جوسوچنے کے لئے درکار ہے۔ اس لئے وہ سوچنے کا کام بھی نہیں کرتا۔
13 جولائی 1984
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی شرح پیدائش ہند و صاحبان سے زیادہ ہے یہ بات صرف ہندستان کی حد تک محدود نہیں ۔ واقعہ یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں تقریبآ ساری دنیا میں یہ صورت حال ہے کہ مسلمانوں کے یہاں شرح پیدائش دوسری قوموں سے زیادہ ہے۔
اس سلسلہ میں عام طور پر یہ کہا جا تا ہے کہ اس کی وجہ تعدد ازواج ہے ۔ مسلمان چوں کہ کئی بیویاں رکھتے ہیں اس لئے ان کے یہاں پیدائش کی شرح دوسری قوموں سے زیادہ ہے۔ مگر یہ توجیہہ صحیح نہیں ۔ تعدد ازواج کی اجازت بلاشبہ اسلام میں ہے ۔ مگرچند خاص علاقوں کے سوا عام مقامات یہ اس کا کوئی رواج نہیں ۔ مثلا میرے خاندان اور میرے رشتہ داروں کا حلقہ بہت بڑا ہے۔ مگر ان میں کوئی ایک شخص بھی نہیں جس نے ایک سے زیادہ نکاح کر رکھا ہو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
دوسری بات یہ کہ تعدد ازواج کا کوئی تعلق پیدائش کے مسئلہ سے نہیں ۔ ایک عورت اگرمسٹرالف کے نکاح میں نہ ہوتی تو وہ مسٹربی کے نکاح میں ہوتی۔ وہ بہر حال کسی نہ کسی کسی کی بیوی ہوتی۔ پھر اس کے جو بچے پیدا ہونے تھے وہ پھر بھی پیدا ہوتے ۔ اور ظاہر ہے کہ عورتوں کی تعداد لامحدود نہیں۔ اس لئے تعدد ازواج کا عمل بھی لامحدود نہیں ہوسکتا ۔
دوسری قوموں کے مقابلہ میں مسلمانوں کے یہاں شرح پیدائش زیادہ ہونے کی اصل وجہ دوسری ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دوسری قوموں کے لوگ مخصوص اسباب کی بنا پر بہت بڑے پیمانہ پر خاندانی منصوبہ بندی اور مانع حمل تدابیر پر عمل کرتے ہیں۔ جب کہ مسلمان ان چیزوں کو نا جائز سمجھتے ہیں اور ان کی بہت بڑی اکثریت اس پر عمل نہیں کرتی۔ یہ ہے اصل وجہ جس نے دونوں گروہوں کے درمیان شرح پیدائش میں فرق پیدا کر دیا ہے۔
12 جولائی 1984
1947 سے پہلے ہندستان میں دو قسم کے سیاسی خیالات تھے۔ ایک وہ لوگ جو تدریج کے قائل تھے، دوسرے وہ لوگ جو انقلاب کی باتیں کرتے تھے ۔ تدریج پسند گروہ کا کہنا تھا کہ پہلا کام ہندستانیوں کو تعلیم وترقی کی راہ پر آگے بڑھا تا ہے۔ اس کے بعد آہستہ آہستہ سیاسی آزادی حاصل کر نا۔ دوسرے گروہ کا کہنا تھا کہ پہلے سیاسی آزادی حاصل کرو، اس کے بعد تعمیر وترقی کا کام کرو ۔
جواہرلال نہرو "انقلاب پسند گروہ" میں تھے ۔ آزادی سے پہلے انھوں نے اول الذکر گروہ پرتنقید کرتے ہوئے لکھا تھا ، لبرل حضرات کے پیش نظر جو چیز ہے وہ " مرکز میں ذمہ داری کے پر اسرار لفظ سے ظاہر کی جاتی ہے۔ ایسے جوشیلے لفظ جیسے کہ طاقت ،خود مختاری ،حریت، آزادی انہیں نہیں بھاتے ۔ ان کی تو آواز سے معلوم ہوتا ہے کہ خطر ناک ہیں۔ قانون دانوں کی زبان اور بحث کا طریقہ انھیں بہت پسند ہے ، اگر چہ اس سے عوام کے دلوں میں گرمی پیدا نہیں ہوتی ۔ تاریخ میں ہمیں اس کی بے شمارمثالیں ملیں گی کہ افراد اور جماعتوں نے عقیدہ اور آزادی کے لئے خطروں کا سامنا کیا اور جان کو بھی داؤ پر لگا دیا۔ مگر اس میں شک ہے کہ " مرکز میں ذمہ داری " یا ایسی کسی قانونی اصطلاح کی خاطرکوئی شخص کبھی بھی جان بوجھ کر ایک وقت کا کھانا چھوڑ دے گا یا کسی کی گہری نیند ہلکی ہو جائے گی ۔
( میری کہانی حصہ دوم ، مترمہ ڈاکٹر عابد حسین صفحہ 241)
نہرو جیسے لوگوں کو بہت جلد عوام میں قیادت مل جاتی ہے۔ جب کہ دوسری قسم کے لوگوں کو عوامی مقبولیت حاصل نہیں ہوتی ۔ مگر تجربہ بتا تا ہے کہ حقیقی نتائج صرف تدریج پسند لوگوں کے ذریعہ ہی نکلتے ہیں۔ نہرو جیسے لوگ ہنگامی تاریخ تو بناتے ہیں ، مگر وہ تعمیری تاریخ بنانے میں کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔
15 جولائی 1984
میرے علم اور میرے تجربہ نے مجھے جو باتیں بتائی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ تمام بنیادی حقیقتیں لوگوں کو پہلے سے معلوم ہیں۔ وہ ہرآدمی کے شعور فطرت میں پیوست ہیں۔ البتہ بیشتر لوگ ” سلف “ میں اتنا گم رہتے ہیں کہ وہ شعوری طور پر صرف ان حقیقتوں کو پہچان پاتے ہیں جو ان کے اپنے موافق پڑتی ہوں۔ اور جو حقیقتیں اپنے خلاف پڑ رہی ہوں ان کو وہ صرف دوسروں کی حد تک دریافت کر پاتے ہیں، اپنی ذات کے اعتبارسے وہ ان سے بے خبر رہتے ہیں۔
اسی(obsession) سے اپنے آپ کو اوپر اٹھانے کا نام معرفت ہے ۔ جب آدمی کا یہ حال ہو جائے کہ وہ اپنی ذات سے الگ ہو کر حقیقت کو دیکھ سکے تو وہ گویا عارف بن گیا۔ یہ معرفت کا وہ درجہ ہے جب کہ آدمی چیزوں کو ویسا ہی دیکھنے لگتا ہے جیسا کہ وہ فی الواقع ہیں (اللهم ارنا الاشياء کماهي)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
16 جولائی 1984
کارڈیل ہل (Cordell Hull) کا قول ہے کہ مگرمچھ کی ہرگز توہین نہ کرو جب تک تم دریا کو پار نہ کرلو :
other sourceWords of another person or source
Never insult an alligator until you have crossed the river.
آدمی اگر ایک مگرمچھ کی پیٹھ پر بیٹھ کر دریا کو پار کر رہا ہو تو اس وقت اس کو کیا کرنا چاہئے۔ ایسے وقت میں اس کی بہترین عقلمندی یہ ہوگی کہ وہ دریا کے درمیان مگرمچھ کو نہ چھیڑے۔ وہ ہر ناخوشگواری کو اس وقت تک برداشت کرے جب تک دریا پار کر کے ساحل پر نہ پہنچ جائے۔ دریا کے بیچ میں مگرمچھ کو چھیڑنا یک طرفہ طور پر اپنی ہلاکت کو دعوت دینا ہے۔
مگرمچھ کا سوار ایسا نہیں کرے گا کہ وہ دریا کے بیچ میں مگر مچھ کو چھیڑنے لگے۔ مگر ایسے نادان لوگ دنیا میں بہت ہیں جو دریا کے باہر آکر اس سبق کو بھول جاتے ہیں۔ حالانکہ دریاکے باہر بھی مگرمچھ ہیں۔ اور دریا کے باہر والے مگر مچھ سے بچنے کا اصول بھی وہی ہے جو دریا کے اندر والے مگر مچھر سے بچنے کا ہے۔
17 جولائی 1984
ایک تاجر سے بات ہورہی تھی۔ میں نے کہا کہ ایک سچا دکاندار کبھی اپنے گاہک سے جھگڑا نہیں کرتا۔ اگر بالفرض کوئی جھگڑا پیدا ہو جائے تو دکا ندار اس کو ایک طرفہ طور پر ختم کر دیتا ہے جھوٹا دکاندار اپنے گاہک سے جھگڑا کرسکتا ہے مگرسچا دکاندار کبھی ایسا نہیں کرسکتا۔
مذکورہ تاجر نے اس سے اتفاق کیا۔
میں نے کہا کہ ایسا ہی معامہ داعی کا ہے۔ داعی اپنے مدعو سے کبھی جھگڑا نہیں کرتا۔ اور اگر جھگڑا پیدا ہو جائے تو وہ اس کو یک طرفہ طور پرختم کرتا ہے۔ فرق صرف یہ کہ دکاندار کی نظر آدمی کی جیب پر ہوتی ہے اور داعی کی نظر آدمی کے دل پر ۔ دکاندار آدمی کی جیب کو جیتنا چاہتا ہے اور داعی کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ آدمی کے دل کو جیت لے۔ دونوں کے نشانہ میں ضرور فرق ہے ، مگر دونوں کے طریق کار میں کوئی فرق نہیں ۔
18 جولائی 1984
میں ہمیشہ یہ کوشش کرتا ہوں کہ خطوط کا جواب اختصار کے ساتھ لکھوں۔ مجھے لمبا خط لکھنے سے بھی وحشت ہوتی ہے اور لمبا جواب دینے سے بھی۔ احمد آباد کے ایک ڈاکٹر صاحب نے میرا وہ مضمون پڑھا جو ظہور اسلام میں شائع ہوا ہے۔ اس کا عنوان ہے :
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
حسنین : تاریخ کے دو علامتی کردار ۔
ڈاکٹر صاحب کا خط بہت لمبا ، کئی صفحات کا تھا۔ انھوں نے مجھ کو بہت برا بھلا لکھا تھا اس کا خلاصہ یہ تھا کہ آپ کو یہ جرات کیسے ہوئی کہ آپ نواسہ رسول پر قلم اٹھائیں۔ میں نے طویل خط کا جواب صرف دو سطر میں لکھا۔ وہ جواب یہ تھا :
" میں نے اس مضمون میں اس کے سوا اور کچھ نہیں کیا ہے کہ حسین کے مقابلہ میں حسن کے کردار کو نمایاں کیا ہے، اور وہ بھی بہرحال نواسہ رسول تھے ۔"
19 جولائی 1984
ارس تپس (Aristippus) ایک یونانی فلسفی ہے جو سقراط کے شاگردوں میں سے تھا۔ وه 435 ق م میں پیدا ہوا اور 366 ق م میں اس کی وفات ہوئی ۔
ارس تیس کا مطالبہ تھا کہ فلسفہ کے معلمین کو تنخواہیں دی جائیں۔ اس کے زمانہ کے بادشاہ دایونی سیس (Dionysius) نے اس کے مطالبہ کو نہیں مانا۔ ارس تپس بادشاہ کے قدموں میں گرپڑا۔ اس کے بعد بادشاہ نے اس کے مطالبہ کو مان لیا۔
اس واقعہ کے بعد لوگوں نے ارس تپس کو برا بھلا کہا کہ تم ایک مالی منفعت کے لئے بادشاہ کے قدموں میں گر گئے۔ تمہارا یہ ڈعمل فلسفہ کو حقیر بنانے (Degrading philosophy) کے ہم معنی ہے۔ ارس تپس بہت ذہین آدمی تھا ، اس نے فورا جواب دیا۔ یہ جواب مجھے ایک انگریزی کتاب میں ان الفاظ میں لکھا ہوا ملا کہ یہ میری غلطی نہیں ، یہ بادشاہ کی غلطی ہے کہ اس کا کان اس کے پیروں میں ہے :
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
It was not my fault, but rather Dionysius's that his ears are in his feet
بعض اوقات منطقی انداز کا جواب مفید نہیں ہوتا۔ ارس تپس اگر اس کا منطقی جواب دیتا تو بحث جاری رہتی ۔ اس نے لطیفہ کے انداز میں جواب دے کر اصل سوال کو بحث کے بجائے تفریح کی طرف موڑ دیا ۔ اس کے اس جواب کو سن کر لوگ ہنس پڑے اور بات وہیں ختم ہوگئی ۔
20 جولائی 1984
موجودہ زمانہ میں مذہب ایک حقیر چیز بن کر رہ گیا ہے ۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ خود مذہب کوئی حقیر چیز ہے۔ اس کی ذمہ داری تمام تر مذہب کے نمائندوں پر ہے ۔ انھوں نے غیر ضروری طورپر مذہب کو ایسی چیزوں سے وابستہ کیا جو از روئے واقعہ اہمیت نہیں رکھتی تھیں۔ چنانچہ سائنسی دور میں جب یہ چیزیں غیراہم ثابت ہوئیں تو اسی کے ساتھ مذہب بھی لوگوں کی نظر میں غیراہم بن گیا۔
اس کی ایک مثال مسیحی حضرات کا کفارہ کا عقیدہ ہے۔ انھوں نے خود ساختہ طور پر یہ نظریہ قائم کیا کہ آدم کے شجر ممنوعہ کا پھل کھانے کے بعد تمام انسانی نسل گنہگار ہوگئی۔ انسانیت کو اس گناہ سے دھونے کے لئے ضروری تھا کہ خدا اپنے اکلوتے بیٹے کو زمین پر بھیجے اور وہ سولی پر چڑھ کر لوگوں کے پیدائشی گناه کا کفارہ بنے ۔ اس بے بنیاد نظریہ کی بناپر انھوں نے یہ فرض کر لیا کہ زمین پوری کائنات کا مرکز ہے کیوں کہ خداوند اس کے اوپر اترا ، جب انہیں معلوم ہوا کہ قدیم دور کا سب سے بڑا فلسفی ارسطو زمین کی مرکزیت (Goo-centric theory) کا قائل تھا تو فوراً انھوں نے اس کو اپنا کر اس کو اپنے علم کلام میں داخل کر لیا۔ حتی کہ اس عنوان پر بڑے بڑے معرکے ہوئے۔ جن علماء نے زمینی مرکزیت کے نظریہ کے خلاف نظریہ پیش کیا ان کو قتل کا حکم دے دیا گیا۔
موجودہ زمانہ کی تحقیقات نے بتایا کہ زمینی مرکزیت کا نظریہ بالکل غلط تھا ۔ صحیح بات یہ ہے کہ شمسی نظام کا مرکز سورج ہے اور زمین اور دوسرے سیارے اس کے گرد گھومتے ہیں۔ اس دریافت نے براہ راست طور پر مسیحیت اور بالواسطہ طور پر سارے مذاہب کو لوگوں کی نظر میں حقیربنا دیا۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (1984) کا مقالہ نگار مسیحیت(Christianity) کے ذیل میں لکھتا ہے:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
" جدید معلومات کے مطابق زمین وسیع سمندر میں محض ایک آباد گھونگھا ہے۔ اس حقیقت کی روشنی میں مسیح کی معنویت نے اپنا کچھ تاثر کھو دیا ہے ۔ اور نجات کا خدائی عمل دنیا کی تاریخ میں محض ایک معمولی کہانی سے زیادہ نہیں رہا" (41522-EB )
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ جدید دور کا سب سے بڑا المیہ ہے ۔ مسیحی حضرات کی نادانی سے اولا مسیحیت غیر اہم قرار پائی اور اس کے بالواسطہ نتیجہ کے طور پر سارے مذاہب۔
21 جولائی 1984
مولانا ابواللیث اصلاحی ( امیر جماعت اسلامی ہند) نے ایک بار جماعت کے افراد کا جائزہ لیتے ہوئے لکھا تھا :
other sourceWords of another person or source
"رفقائے جماعت کے جو حالات میرے علم میں ہیں، ان کے مطابق میرے احساسات ان کے بارہ میں مجملا یہ ہیں کہ بحمد اللہ ان کے طرز عمل کے بعض پہلو تو اس درجہ امید افزا ہیں کہ ان کے پیش نظر ہم ہندستان میں تحریک اسلامی کے مستقبل کے بارہ میں کسی مایوسی کے بجائے بہت کچھ توقعات کو اپنے دل میں جگہ دے سکتے ہیں ۔ لیکن اس کے ساتھ مجھے یہ کہنے میں بھی کوئی تکلف مانع نہیں ہے بلکہ اس کا اظہار میں از بس ضروری سمجھتا ہوں کہ بعض دوسرے پہلووں سے ان کا طرز عمل انتہائی قابل توجہ اور قابل اصلاح بھی ہے۔ یہاں تک کہ مجھے اندیشہ ہے کہ اگر ان پہلووں کی طرف جلد توجہ نہ کی گئی تو آگے چل کر یہ تحریک کی کامیابی کے لئے سخت رکاوٹ ثابت ہوں گے اور امیدوں کے مقابلہ میں مایوسیوں کا پلڑا یقینا بھاری ہو جائے گا " اشارات ، ، ماهنامہ زندگی ، دسمبر1955
سادہ لوح قسم کے لوگ اس انداز کلام کو "متوازن " انداز سمجھتے ہیں۔ مگر یہ سراسر بے فائدہ بلکہ غیر پیغمبرانہ انداز کلام ہے ۔ مذکورہ مضمون نصیحت کے مقصد سے لکھا گیا ہے، اورنصیحت کے لئے مذکورہ بالا قسم کا دو طرفہ کام بالکل غیر حکیمانہ ہے۔ نصیحت کے لئے ہمیشہ یک طرفہ کلام درکار ہوتا ہے تاکہ سامع کی ساری توجہ صرف قابل اصلاح پہلو پر پڑے ، اس کی توجہ دو طرف بھٹکنے نہ پائے۔
22 جولائی 1984
ہر بستی اور ہرمحلہ میں ایسا ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو پریشان کرتا ہے۔ مگر اس طرح کے معاملات میں ہمارے لیڈر اور رہنما کبھی نہیں اٹھتے ۔ وہ ہمیشہ ان معاملات میں اٹھتے ہیں جہاں معاملہ مسلم اور غیرمسلم کا ہو ۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ انفرادی واقعات پر بھی قومی نفسیات نہیں بھڑکتی ۔ کسی قوم کی اجتماعی نفسیات صرف اجتماعی واقعات پر بھڑکتی ہے۔ ہمارے لیڈر اگر ایک شخص کے واقعہ کو لے کر ٹھیں تو نہ بھیڑ جمع ہوگی اور نہ انہیں شہرت ملے گی ۔ مگر جب وہ ایک اجتماعی واقعہ ۔ خاص طور پر غیرمسلم کا ظلم لے کر اٹھتے ہیں تو تمام مسلمانوں کی اجتماعی نفسیات بھڑک اٹھتی ہے ۔ انہیں فورا لیڈری کا مقام مل جا تا ہے ۔
اس قسم کی تمام سرگرمیاں محض لیڈری ہیں۔ ان کا خدمت اسلام یا خدمت ملی سے کوئی تعلق نہیں۔ ایک لفظ میں سچے رہنما اور جھوٹے رہنما کی پہچان یہ ہے کہ سچا رہنما فرد کے مسئلہ کے لئے تڑپتا ہے اور جھوٹا رہنما صرف اس مسئلہ کے لئے جو قومی نوعیت اختیار کر لے۔
23 جولائی 1984
قرآن میں تخلیقی نشانی کے بارے میں یہ آیات آئی ہیں:اے انسان، تجھ کو کس چیز نے اپنے رب کریم کی طرف سے دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔ جس نے تجھ کو پیدا کیا، پھر تیرے اعضا کو درست کیا، پھر تجھ کو متناسب بنایا۔ اس نے جس صورت میں چاہا، تم کو ترتیب دے دیا(الانفطار) ۔ قرآن کی ان آیات پر غور کیجیے تو رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
انسان کے اعضا کی تخلیق اتنی زیادہ عجیب ہے کہ اس کو سوچ کر انسان حیرت میں پڑ جائے۔ اتنی زیادہ عجیب تخلیق گواہی دیتی ہے کہ انسان کا خالق ایک بے حد حکیم خالق ہے۔ وہ قادرِ مطلق ہے، اور جس طرح چاہے وہ انسان کو بناتا ہے۔ اتنی عجیب تخلیق بتاتی ہے کہ اس کا خالق بلاشبہ بہت زیادہ قوت والی ہستی ہے۔ انسان اگر سنجیدگی کے ساتھ اپنی تخلیق میں غور کرے تو وہ استعجاب کے سمندر میں غرق ہوجائے۔ قرآن میں کہا گیا ہے:وَفِي أَنْفُسِكُمْ أَفَلَا تُبْصِرُونَ(الذاريات ۲۱)۔انسان کی تخلیق بتاتی ہے کہ اس کا خالق بہت زیادہ قدرت والا ہے۔ انسان اگر سنجیدگی کے ساتھ غور کرے تو اعتراف کے جذبے کے ساتھ سجدے میں گر پڑے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ایک میڈیکل اسٹوڈنٹ کا واقعہ ہے۔ جب وہ اناٹومی کو مطالعہ کرتا تھا تو وہ بار بار تڑپ کر کہتا تھا کہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ایسا جسم خود بخود بن جائے، اس کا کوئی بنانے والا نہ ہو۔ ایک میڈیکل اسٹوڈنٹ کایہ احساس دراصل ایک صاحب معرفت انسان کا احساس ہے۔ ایسا انسان جب اپنے جسم کا مطالعہ کرے، اور بامعنی ترکیب پر غور کرے تو وہ تعجب میں پڑجائے گا۔ وہ چلا اٹھے گا کہ کیسے ممکن ہے کہ اتنی عجیب تخلیق کا کوئی خالق نہ ہو۔ بلاشبہ اس کا خالق ہے، اور وہ رب العالمین ہے۔ انسان جب نماز میں سجدہ کرتا ہے تو یہ گویا بے قراری کے انداز میں اسی حقیقت کا اعتراف ہوتا ہے۔
۲۴ جولائي۱۹۸۴
مجھے انسانوں سے بے حد تکلیفیں پہنچیں۔ یہ’’انسان‘‘سب کے سب مسلمان تھے ۔ اس بنا پر میں بہت غمگین رہتا تھا کہ یہ لوگ مسلمان ہو کر ایسا کیوں کر رہے ہیں ۔ جب کہ یہ لوگ اصاغر ہی نہیں بلکہ اکابر بھی تھے ۔ وقت کے اکثر اکابر مجھے ستانے میں اور تکلیف دینے میں یکساں طور پر شریک رہے ہیں۔ آخر کار ایک احساس نے مجھے مطمئن کر دیا۔ میں اس رائے پر پہنچا کہ ان لوگوں کے یہاں ہرقسم کا اسلام ہے، مگر ایک چیز ایسی ہے جو ان کے یہاں سرے سے موجود ہی نہیں ۔ اور وہ خدا کا خوف ہے۔
24 جولائی 1984
مجھے انسانوں سے بے حد تکلیفیں پہنچیں۔ یہ "انسان" سب کے سب مسلمان تھے ۔ اس بنا پر میں بہت غمگین رہتا تھا کہ یہ لوگ مسلمان ہو کر ایسا کیوں کر رہے ہیں ۔ جب کہ یہ لوگ اصاغر ہی نہیں بلکہ اکابر بھی تھے ۔ وقت کے اکثر اکابر مجھے ستانے میں اور تکلیف دینے میں یکساں طور پر شریک رہے ہیں۔
آخر کار ایک احساس نے مجھے مطمئن کر دیا۔ میں اس رائے پر پہنچا کہ ان لوگوں کے یہاں ہرقسم کا اسلام ہے ، مگر ایک چیز ایسی ہے جو ان کے یہاں سرے سے موجود ہی نہیں ۔ اور وہ خدا کا خوف ہے۔ اور جب آدمی خدا کے ڈرسے خالی ہو جائے تو اس سے کوئی بھی چیز بعید نہیں رہتی۔
اللہ کے ڈرسے خالی انسانوں کے درمیان رہنا ایسا ہی ہے جیسے آدمی ایک ایسے زو (چڑیا گھر) میں ہو جہاں تمام در ندے اپنے پنجروں سے باہر آگئے ہوں۔ ایسے زو کا تصور کیجئے جہاں ریچھ اور بھیڑیے آزادانہ پھر رہے ہوں۔ جانور پنجرے سے باہر ہوکر بے مہار ہو جاتا ہے اور انسان خدا کے خوف سے خالی ہوکر۔
25 جولائی 1984
ایک صاحب سے میں نے زور دیا کہ وہ الرسالہ کی ایجنسی لیں ۔ وہ الرسالہ پڑھتے ہیں ۔ الرسالہ کے مضامین سے اتفاق بھی رکھتے ہیں مگر وہ اس کی ایجنسی نہیں چلاتے۔ میں نے اصرار کیا تو انھوں نے ہنس کر کہا:
کیا الرسالہ کی ایجنسی چلانے سے جنت ملے گی۔
میں نے کہا کہ یوں نہ کہئے ، بلکہ اپنے سوال کو بدل دیئے ۔ اس طرح کہئے کیا لوگوں کو اللہ والا بنائے کی کوشش سے جنت ملے گی ۔ کیا لوگوں کو آخرت پسند بنانے کی کوشش سے جنت ملے گی ۔ کیا اس سے جنت ملے گی کہ لوگوں کے اندر دینی مزاج پیدا کرنے کی کوشش کی جائے ۔
میں نے پوچھا کہ کیا یہ صحیح نہیں ہے کہ الرسالہ اسی قسم کی ایک کوشش ہے ۔ انھوں نے کہا ہاں ۔ نے میں نے کہا کہ پھر آپ اس کو " ایجنسی " چلانا کیوں کہتے ہیں۔ اس کو دینی مہم چلانا کہئے ۔ ایجینسی تو ایک عملی تدبیر ہے۔ پریس کے دور نے ایجینسی کی تدبیر پیدا کی ہے ۔ یہ شرعی مسئلہ ہے کہ جب مقصود واجب ہو تو اس کی تدبیر بھی واجب ہو جاتی ہے ۔ پھر جب الرسالہ کی فکری مہم ایک ضروری مہم ہے تو وہ تدبیر بھی ضروری ہو جائے گی جو اس فکری مہم کو پھیلانے میں مددگار ہو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
پھر میں نے کہا کہ ایجینسی کا طریقہ ایک مسنون طریقہ ہے ۔ آپ کو معلوم ہے کہ قرآن تھوڑا تھوڑا کر کے 23 سال میں اترا۔ آجکل کی زبان میں قرآن گویا ایک قسم کا (Periodical) تھا۔ جب قرآن کا کوئی حصہ اترتا تو صحا بہ اس کو لے لیتے اور جاکر جگہ جگہ اسے سناتے۔ دوسرے لفظوں میں ہم کہ سکتے ہیں کہ قرآن ایک پریڈ یکل تھا اور ہر صحابی اس کی ایجینسی لئے ہوئے تھا۔ اسی طریقہ کو ہم نے موجودہ زمانہ کے اعتبار سے اختیار کیا ہے ۔
26 جولائی 1984
دور جدید کے مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ ان کا غلط مزاج ہے اور یہ غلط مزاج ان تمام تر ان مسلم رہنماؤں کا پیدا کردہ ہے جو اس دور میں اٹھے۔
اس دور کے مسلم رہنماؤں کا حال یہ ہے کہ ان میں سے کوئی بھی شاید خداکو دریافت نہ کرسکا۔ ہر ایک کی دریافت بس مسلم تاریخ تک محدود رہی کسی نے حال کی تاریخ کو دریافت کیا اورکسی نے ماضی کی تاریخ کو۔ جس رہنما نے حال کی تاریخ کو دریافت کیا اس نے مسلمانوں کو لڑائی کا سبق دیا۔ اور جسس رہنما نے ماضی کی تاریخ کو دریافت کیا اس نے مسلمانوں کو فخر کا سبق دیا۔ بس انھیں دو الفاظ میں مسلمانوں کی پوری جدید نسل کا خلاصہ چھپا ہوا ہے ۔
جدید رہنما اگر خدا کو دریافت کرتے تو وہ مسلمانوں کو عجز اور تواضع کا سبق دیتے۔ کوئی رہنما مجھے حقیقی معنوں میں عجز اور تواضع کا سبق دیتا ہوا نظر نہیں آیا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی نے خدا کو دریافت بھی نہیں کیا۔ ہمارے رہنما سب کے سب قومی تاریخ میں اٹکے رہے ۔ ان میں سے کوئی بھی خدا تک نہیں پہنچا۔
27 جولائی 1984
ایک صاحب کا خط آیا۔ انھوں نے اس پر سخت غصہ کا اظہار کیا ہے کہ تم ہمارے بڑوں پرتنقید کیوں کرتے ہو۔ میرا ارادہ ہے کہ میں انہیں جواب دوں کہ آپ نے غلط لفظ استعمال کیا ۔ آپ نے لکھا ہے کہ تم ہمارے بڑوں پر تنقید کیوں کرتے ہو ۔ آپ کولکھنا چاہئے کہ تم ہمارے نماؤں پرتنقید کیوں کرتے ہو ۔
جن شخصیتوں پر الرسالہ میں تنقید آئی ہے ، ان کو اگر آپ محض انسانی شخصیت سمجھتے تو آپ کبھی اس طرح برہم نہ ہوتے۔ اصل یہ ہے کہ آپ ان کو اپنا خدا کہتے ہیں۔ آپ ان کو معبود کا درجہ دیئے ہوۓ ہیں۔ انسان پر تنقید قابل برداشت ہے۔ مگر خدا پر تنقید قابل برداشت نہیں ہے۔ یہ اصل وجہ ہے آپ کی برہمی کی ۔
حقیقت یہ ہے کہ خدا کو ماننا بے حد مشکل کام ہے ۔ بیشتر لوگ جو خدا کو مانتے ہیں وہ خدا کو نہیں مانتے۔ خدا کو ماننا آسان کام نہیں۔ خدا کو ماننا کسی شخص کے لئے اس وقت ممکن ہوتا ہے جبکہ وہ خود اپنے اندر ایک عظیم الشان فکری انقلاب لا چکا ہو ۔ اس کے لئے آدمی کو محسوسات سے اوپر اٹھنا پڑتا ہے۔ اس کے لیے آدمی کو وہ انسان بنا پڑتا ہے جو نہ دکھائی دینے والی چیز کو دیکھے اور نہ سنائی دینے والی بات کو سنے ۔ جو ایک خدا کے سوا ہر دوسری چیز کی نفی کر چکا ہو ۔
عام لوگ اپنے آپ کو اس سطح تک اٹھا نہیں پاتے ، یہی وجہ ہے کہ وہ خدا کا ادراک کرنے والے بھی نہیں بنتے۔ وہ ایک ایسے انسان ہوتے ہیں جو صرف محسوسات کو جانتاہے۔ وہ نظر آنے والی ہستیوں کو دیکھ پاتا ہے ، نہ دکھائی دینے والی ہستی اسے نظر نہیں آتی ۔ ظاہر ہے کہ ایسے لوگ صرف بڑے انسانوں کو جانیں گے ، وہ بڑے خدا کو جاننے والے نہیں بن سکتے۔
28 جولائی 1984
ہندستان کے مسلمانوں میں جو بدعات رائج ہوئیں ان میں سے ایک ” بی بی کی صحنک“ تھی جو حضرت فاطمہ کے نام پر کی جاتی تھی۔ مولانا اسماعیل صاحب نے اپنے مواعظ میں اس کے خلاف بولنا شروع کیا۔ ایک روز ایک بڑھیا اپنے گھر سے غصہ کی حالت میں نکلی ۔ اس کو ایک مولوی صورت آدمی مل گئے۔ اس نے ان سے کہا : یہ موا اسماعیل کون ہے جو بی بی کی صحنک کو منع کرتا ہے۔
یہ بزرگ خود مولانا اسماعیل شہید تھے۔ انھوں نے برجستہ جواب دیا : اسماعیل نہیں منع کرتا، بی بی جی کے ابا منع کرتے ہیں۔ بڑھیا پر اس جواب کا بہت اثر ہوا۔ اس نے اس قسم کی بدعات سے توبہ کر لی ۔ (علماء ہند کی شاندار ماضی، حصہ سوم، صفحہ 27)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
بعض اوقات ہلکا پھلکا ایک جواب علمی اور منطقی جواب سے زیادہ موثر ثابت ہوتا ہے۔
29 جولائی 1984
راجر آشن (Roger Aschan) نے کہا ہے کہ وہ سمجھ بہت مہنگی ہے جو تجر بہ کے ذریعہ خریدی گئی ہو :
other sourceWords of another person or source
It is costly wisdom that is bought by experience.
اس میں شک نہیں کہ تجربہ کے بعد جو سمجھ آتی ہے وہ بہت زیادہ مہنگی ہوتی ہے۔ کیوں کہ وہ بہت زیادہ کھو کر حاصل کی جاتی ہے۔ مگر اس دنیا میں بہت کم لوگ ہیں جو اس مہنگی خریداری سے مستثنیٰ ہوں اس دنیا میں بیشتر لوگوں کا حال یہی ہے کہ وہ کھونے کے بعد پاتے ہیں۔ وہ نقصان اٹھانے کے بعد سمجھدار بنتے ہیں۔ دوسروں کے تجربہ سے اپنے لئے سبق لینا اتنا کم یاب ہے کہ ساری تاریخ میں ایسے لوگ بہت کم ملیں گے جو اس معیار پر پورے اتریں۔
30 جولائی 1984
مولانا ابوالاعلی مودودی (1979 – 1903) ترکی کے سلطان عبد الحمید ثانی پر تبصرہ کرتے ہوۓ لکھتے ہیں کہ :
other sourceWords of another person or source
" اس نے تعمیر کے بہترین زمانہ (1909-1876) کو جس کی ایک ایک ساعت بیش قمیت تھی ، تخریب میں کھو دیا۔ اس نے ترکی قوم کے بہترین دماغوں کو برباد کیا۔ جمال الدین افغانی جیسا بے نظیر آدمی اسے ملا اور اس کو بھی اس شخص نے ضائع کر دیا۔ " تنقیحات ، صفحہ 87
یہ بات جو مولانا ابوالاعلی مودودی نے ترکی کے سلطان کے بارہ میں کہی ، وہی اپنے دائرہ کے لحاظ سے خود مولانا مودودی پر بھی صادق آتی ہے ۔ سلطان ترکی نے 23 سال ضائع کئے تھے۔ ٹھیک اسی طرح سید ابو الاعلی مودودی کو بھی پاکستان میں ” 33 سال “ ملے اور اس کو انھوں نے تخریبی سرگرمیوں میں کھو دیا ۔
پاکستان 1947 میں بنا۔ عین اسی وقت مولانا مودودی پاکستان پہنچ گئے۔ ان کو وہاں کام کرنے کے بہترین مواقع ملے۔ مگر انہوں نے یہ ساری مدت حکمرانوں کے خلاف تحریکیں چلانے میں ضائع کر دیں ۔ کبھی لیاقت علی خان کے خلاف کبھی محمد ایوب خان کے خلاف کبھی ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف پاکستان کے پورے زمانہ قیام میں وہ حکمرانوں کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی منفی سرگرمیوں میں لگے رہے اور کوئی حقیقی مثبت کام نہ کیا۔ مواقع کی یہ بربادی اپنے دائرہ عمل کے لحاظ سے سلطان عبدالحمید ثانی سے کم درجہ کا جرم نہیں ہے۔
جمال الدین افغانی کا معاملہ یہ ہے کہ سلطان عبدالحمید نے اولا ان کی بہت قدر دانی کی اور انھیں زبردست مواقع کار دئے مگر جمال الدین افغانی انتہائی احمقانہ طور پر خود سلطان کے مخالف ہوگئے۔ یہ صحیح ہے کہ سلطان نے مخالفت کے بعد ان کی قدر دانی نہیں کی ۔ مگر مولانا ابو الاعلی مودودی کے حالات بتاتے ہیں کہ وہ خود بھی اپنے مخالفین کی قدر دانی نہ کرسکے۔ حتی کہ انھوں نے اپنے ان ساتھیوں کو ذلیل کرنے کی کوشس کی جنھوں نے ان سے اختلاف رائے کیا تھا۔ دوسروں سے اپنے مخالف کی قدر دانی کا مطالبہ صرف وہ شخص کرسکتا ہے جس نے خود بھی اپنے مخالفوں کی قدردانی کرنے کا ثبوت دیا ہو ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
31 جولائی 1984
جو سوچ کر نہ سمجھے وہ دیکھ کر بھی نہیں سمجھ سکتا جب شخص کی عقل اس کو نہ بتائے ، اس کی آنکھ بھی اس کو نہیں بتاسکتی۔ قرآن کے الفاظ میں آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں ، بلکہ وہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں کے اندر ہیں (الج 46)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it