Maulana Wahiduddin Khan
26 min left
0:00

← Diary 1983-1984
Diary 1983-1984

June 1984

English · 26 min read

یکم جون 1984

اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ اعلی انسان کی تعریف ایک لفظ میں کیا ہے ، تو میں کہوں گا کہ اعلیٰ انسان وہ ہے جو سچائی کے انکار کا تحمل نہ کرسکتا ہو ، جو خلافت حق روش اختیار کرنے کے بعد زندہ نہ رہ سکے۔

2 جون 1984

ابراہیم بلخی کا قول ہے : تعرف تقـوىالـرجـلفيثلاثةاشياء. فياخـذهوفىمنعهوفيكلامه ۔ یعنی تم کسی شخص کے تقویٰ کو پہچاننے کے لئے اس کی تین چیزوں کو دیکھو۔ وہ کس چیز کو اپناتا ہے۔ وہ کسی چیز سے بازرہتا ہے۔ اور یہ کہ وہ کیا بات کرتا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ تینوں چیزیں آدمی کے ذوق کو بتاتی ہیں ۔ اور کسی آدمی کا ذوق انتخاب بلاشبہ وہ اہم ترین معیار ہے جس کے ذریعہ اس کی حقیقی شخصیت کو جانا جاسکے ۔

3 جون 1984

شاہ یعقوب مجددی ( بھوپال) نے کسی شخص کو دیکھا کہ وہ ایک سنت ( غالباً داڑھی) کو چھوڑے ہوئے ہے۔ انھوں نے اس شخص سے کہا کہ تم کو اس سنت پر عمل کرنا چاہئے ۔ مذکورہ شخص بے پروائی کے ساتھ بولا :

جناب ، یہ سنت ہی تو ہے ۔

شاہ یعقوب مجددی نے فرمایا :

بے شک یہ عمل سنت ہے۔ لیکن تیرا لہجہ کفر ہے۔

بے عملی گناہ ہے ۔ مگر سرکشی اس سے بھی زیادہ بڑا گناہ ہے۔ بے عملی کے ساتھ اگر شرمندگی ہو تو شاید اللہ تعالی ایسے شخص کو معاف کر دے ۔ مگر جو شخص بے عملی کے ساتھ سرکشی دکھا رہا ہو وہ کسی طرح قابل معافی نہیں ۔

4 جون 1984

مصطفی ریاض پاشا ( 1834-1911 ) مصر کی حکومت میں وزیر تھا۔ وہ جمال الدین افغانی (1838-1897) سے متاثر تھا۔ جمال الدین افغانی جب مصر آۓ تو اس نے ان کو جامعہ ازہر میں استاد مقرر کرا دیا اور ان کو مصر میں دینی کام کے مواقع دیے۔

مگر جمال الدین افغانی کے نزدیک سب سے بڑا کام سیاست تھا۔ انھوں نے محسوس کیا کہ مصر کی موجودہ حکومت برطانیہ کے زیراثر ہے چنانچہ وہ مصری حکومت کے خلاف ہو گئے ، نتیجہ یہ ہوا کہ پھر سے نکال دئے گئے اور مصر میں کوئی خاص دینی اور تعمیری کام نہ کرسکے۔

موجودہ زمانہ کے تمام مسلم لیڈر اسی قسم کی جھوٹی سیاست میں مبتلا رہے ہیں۔ اس سیاست نے عملا تومسلمانوں کو کچھ نہیں دیا، البتہ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ملے ہوئے مواقع برباد ہوکر رہ گئے۔ وہ پہلے ہی مرحلہ میں " کل “ کی طرف دوڑے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ کل سے بھی محروم رہے اور جزء سے بھی۔

5 جون 1984

مولانا سعید احمد اکبرآبادی مرحوم 31 دسمبر 1971 کو ہمارے دفتر (جمعیتہ بلڈنگ) میں آئے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ مولانا شبیر احمد عثمانی حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کا ایک واقعہ بیان کیا کرتے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ حضرت عمر نے ایک بار ایک چادر لی اور اس کو اوڑھ کر اپنا منھ ڈھانپ کر بیٹھ گئے۔ کچھ دیر بعد چادر ہٹائی اور فرمایا :

ليس هذا من الاسلام بشئ ( اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں) اس کے بعد حضرت عمر نے چادر کو دونوں کندھوں پر ڈال لیا اور سینہ تان کر بیٹھ گئے اور فرمایا : هذا هو الاسلام (اسلام حقیقتیہ یہ ہے)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

6 جون 1984

شیخ مجیب الرحمن جنرل یحییٰ خاں کے زمانہ میں پاکستان میں قید کر لئے گئے تھے ۔ اس کے بعد بھٹو کے زور دینے پر وہ رہا کئے گئے۔ وہ پاکستان کی قید سے رہا ہو کر مخصوص ہوائی جہاز کے ذریعہ 8 جنوری 1971 کولندن پہنچے۔ اس وقت ہوٹل کلیرج میں ہندستانی ہائی کمشنر مسٹر آپا بی پنت نے مل کر ان کو مسز گاندھی کی مبارک باد پیش کی۔ شیخ مجیب نے ہندستانی وزیر اعظم کی مبارک باد سنی تو ان کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آ گئے۔ ان کی زبان سے نکلا کہ وہ ایک عظیم خاتون ہیں :

She is a great lady, a grand lady.

شیخ مجیب الرحمن اس کے بعد " بنگ پتا " کہے جانے لگے ۔ تاہم ان کے بعد کے واقعات نے بتایا کہ شیخ مجیب الرحمن کے آنسو حقیقتہ خوشی کے آنسو نہ تھے بلکہ وہ نادانی کے آنسو تھے ۔ اور اس نادانی کی سب سے زیادہ سنگین قیمت خود شیخ مجیب الرحمٰن کوبھگتنی پڑی۔

7 جون 1984

10 جولائی 1969 کو میں نے اپنی نوٹ بک میں یہ الفاظ لکھے تھے ۔

" ہر ایک نے بڑے بڑے واقعات کو اپنا عنوان قیادت بنا رکھا ہے ۔ حالانکہ زندگی کا راز چھوٹے چھوٹے واقعات کو پکڑنے میں ہے نہ کہ بڑے بڑے واقعات کے پیچھے دوڑنے میں " سر الحياة كائن في البداية المتواضعة

8 جون 1984

انسان ہماری معلوم دنیا میں ایک انتہائی مستثنی واقعہ ہے۔ اسی بنا پر کہا جاتا ہے کہ انسان ایک کائناتی حادثہ ہے:

Man is a cosmic accident.

ایک استثنائی واقعہ خصوصی منصوبہ بندی کو بتاتا ہے ۔ مگر " منصوبہ بندی“ کا لفظ چوں کے ذہن کو خدا کی طرف لے جاتا ہے، اس لئے اس کو حادثہ کہہ دیا گیا۔ حالاںکہ انسان اتنا عجیب واقعہ ہے کہ اس کو حادثہ کہنا کسی بھی طرح ممکن نہیں ۔

استثنا لازمی طور پر ارادہ کو ثابت کرتا ہے۔ زمین کا ایک مستثنیٰ کرہ ہونا ثابت کرتا ہے کہ یہاں کوئی بالاتر ہستی ہے جس نے قصد و ارادہ کے تحت عام کروں سے الگ ایک کرہ بالکل مختلف انداز میں بنایا ہے حقیقت یہ ہے کہ زمین جیسے ایک کرہ کا وجود خدا کے وجود کا ثبوت ہے ، اگر چہ بہت کم لوگ ہیں جو اس آئینہ میں خدا کو دیکھ پاتے ہوں۔

9 جون 1984

1954 میں میں نے اپنی نوٹ بک میں یہ فقرہ لکھا تھا :

" حقیقت کبھی اتنی سادہ نہیں ہوتی جتنا ایک مخلص آدمی اسے سمجھ لیتا ہے ۔"

جب میں نے یہ سطریں لکھیں اس وقت میری عمر 30 سال سے کم تھی۔ اب میں دیکھتا ہوں تو نظر آتا ہے کہ ہمارے قائدین 60 سال کی عمر کو پہنچ کر بھی اس راز سے بے خبر ہیں۔ وہ اپنی سادگی کے تحت بار بار ایسے اقدامات کرتے ہیں جو حقیقی صورتحال سے کوئی تعلق نہیں رکھتے ۔ اس سادگی کا انہیں خود تو کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ کیوں کہ وہ پھر بھی مقدس قائد بن کر عوام کے درمیان مقبولیت حاصل کرلیتے ہیں ۔ مگر عوام کو اس کا اتنا زیادہ نقصان اٹھانا پڑتا ہے میں کو لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔

10 جون 1984

چیکوسلواکیہ کی ایک مثال ہے کہ ایک نئی زبان سیکھو اور ایک نئی روح حاصل کرو:

Learn a new language and get a new soul.

یہ ایک حقیقت ہے کہ زبان کا بہت گہرا تعلق انسان کے ذہنی ارتقا سے ہے۔ اگر چہ زیادہ زبان جاننا بذات خود انسانی ارتقاء کے لئے کافی نہیں لیکن انسانی ارتقاء کا تجربہ وہی لوگ کرتے ہیں جو ایک سے زیادہ زبانیں جانتے ہوں۔

مصر کے مشہور ادیب ڈاکٹر احمد امین نے اپنی خودنوشت سوانح عمری (حیاتی) میں لکھا ہے کہ پہلے میں صرف اپنی مادری زبان (عربی) جانتا تھا۔ اس کے بعد میں نے انگریزی سیکھنا شروع کیا۔ غیرمعمولی محنت کے بعد میں نے یہ استعداد پیدا کر لی کہ میں انگریزی کتابیں پڑھ کر سمجھ سکوں۔ وہ لکھتے ہیں کہ جب میں انگریزی سیکھ چکا تو مجھے ایسا محسوس ہوا گویا پہلے میں صرف ایک آنکھ رکھتا تھا اور اب میں دو آنکھ والا ہوگیا۔

other sourceWords of another person or source

یہ اللہ کا فضل ہے کہ میں اپنی مادری زبان کے علاوہ دوسری زبانیں سیکھنے کا موقع پاسکا میں کم وبیش 5 زبانیں جانتا ہوں: اردو ، عربی فارسی ، انگریزی، ہندی۔ اگر میں صرف اپنی مادری زبان (اردو) جا نتا تو یقینا معرفت کے بہت سے دروازے مجھ پر بند رہے۔

11 جون 1984

پیٹرا ستینو (Peter Ustinov) کا قول ہے کہ غصہ کو جب عقل سے دبایا جائے تو اس کا نام برداشت ہے:

other sourceWords of another person or source

Tolerance is anger suppressed by reason.

سماجی زندگی میں غصہ اور تلخی کا پیدا ہونا ایک بالکل فطری بات ہے۔ کوئی آدمی اس سے بچ نہیں سکتا۔ مگر اس کے اظہار کے دو طریقے ہیں۔ ایک یہ کہ غصہ کو غصہ کی شکل میں ظاہر کیا جائے۔ دوسرے یہ کہ غصہ کو برداشت کی شکل میں ظاہر کیا جائے ۔

غصہ کو برداشت کی شکل میں ظاہر کرنا اپنے اندر زبردست فائدہ رکھتا ہے۔ مگر ایسا وہی شخص کر سکتا ہے جو اپنے اندر زبردست عقل رکھتا ہو۔ کم عقل آدمی غصہ کو برداشت کے روپ میں ظاہر کرنا نہیں جانتا۔

جو لوگ غصہ کو برداشت نہ کر سکیں ، انھیں اس سے بھی زیادہ بڑی چیز برداشت کرنی پڑتی ہے، اور وہ اپنا مفاد ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ غصہ کوغصہ کی شکل میں ظاہر کرنا صرف ان لوگوں کے لئے مفید ہے جنھیں اپنے نفع نقصان کا کوئی درد نہ ہو ۔ زاں پال سارترنے نے جو بات تشدد کے بارہ میں کہی ہے وہی غصہ کے بارہ میں بھی صحیح ہے۔ اس نے کہا کہ تشدد ان لوگوں کے لئے موزوں ہے جو اپنے پاس کھونے کے لئے کچھ نہ رکھتے ہوں:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

Violence suits those who have nothing to lose.

13 جون 1984

واٹر کولر میں ڈیل کرنے والی ایک دکان میں یہ سائن بورڈ لگا ہوا تھا :

Going in for cheap water coolers may land you in hot water.

یہ ایک دلچسپ جملہ ہے جس کا اردو میں ترجمہ کرنا بہت مشکل ہے ۔ مگر اس کا مفہوم تقریبا وہی ہے جس کو اردو زبان کی مثل میں اس طرح ادا کیا گیاہے :سستا روۓ روز روز مہنگا روے ایک روز۔

اکثر لوگ سستی چیز خریدنے کی طرف دوڑتے ہیں مگر سستی چیز خریدنے سے بہتر یہ ہے کہ سرے سے خریداری ہی نہ کی جائے ۔ کیوں کہ قیمت کی کمی خود چیز میں کسی کمی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ آدمی چیز خرید کر بھی بے چیز رہتا ہے ۔

تاہم ہندستان کے بارے میں یہ بات صرف جزئی طور پرصحیح ہے۔ ہندستان میں بدعنوانی کا راج ہے۔

یہاں کا تاجر زیادہ قیمت لے کر بھی اکثر اچھی چیز نہیں دیتا۔ دوسرے ملکوں میں آدمی زیادہ قیمت دیگر اچھی چیز پا لیتا ہے مگر ہندستان میں اچھی چیز پانے کے لئے ایک اور چیز در کار ہے اور وہ وہی ہے جس کو خوش قسمتی کہتے ہیں۔

13 جون 1984

کسی قوم کے لئے جو چیز سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے وہ مزاج ہے ۔ اسلام سب سے زیادہ خدا کی عظمت کا تصور دلاتا ہے ۔ اس سے افراد کے اندر تواضع کا مزاج پیدا ہوتا ہے ۔ جن لوگوں کے اندر خدا کے مقابلہ میں تواضع آجائے وہ انسانوں کے مقابلہ میں ہمیں متواضع بن کر رہتے ہیں ۔یہی اسلام کا اصل مزاج ہے اور یہی تمام انسانی خوبیوں کا خلاصہ ہے۔ اسی سے انسان کے لئے ہرقسم کی بھلائی کے دروازے

کھلتے ہیں۔

مگر موجودہ زمانہ کے مسلم مصلحین نے یہ غلطی کی کہ انہوں نے مسلمانوں کے اندر فخر کا مزاج بنایا۔ موجودہ زمانہ کے مسلم مسلمین کے افکار کا خلاصہ ایک لفظ میں یہ ہے میں مسلمان ہوں اور مجھے فخر ہے کہ میں مسلمان ہوں۔ اقبال اس ذہن کے بنانے میں سب سے آگے ہیں ۔ وہ اس معاملہ میں یہاں تک گئے کہ نہ صرف دیگر اقوام کے مقابلہ میں انھوں نے مسلمانوں کو فخر کا سبق دیا بلکہ عجیب وغریب طور پر خود خدا کے مقابلہ میں بھی فخر کرنا سکھایا :

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہرتقدیر سے پہلے

خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

سبق ملا ہے یہ معراج مصطفی سے مجھے

کہ عالم بشریت کی زد میں ہے گردوں

اقبال کے اس قسم کے اشعار جو ذہن بناتے ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ فخر کی حدود انسانوں سے گزر کر خدا تک پہنچ جاتی ہیں۔

اس قسم کی ذہن سازی جو ہمارے مصلحین نے کی اس کا نتیجہ انھیں یہ ملا کہ انہیں زبردست شہرت اور مقبولیت حاصل ہوئی ۔ مگر قوم بربادی کے آخری گڑھے میں پہنچ گئی۔ موجودہ زمانہ میں مسلمان جس طرح برباد ہورہے ہیں، اس کا واحد سب سے بڑا سبب ان کا جھوٹے فخر کامزاج ہے ۔

14 جون 1984

یقین سب سے بڑی طاقت ہے ۔ وہی عرب جو ابرہہ کے ہاتھیوں کو دیکھ کر بھاگ گئے تھے۔ انھیں عربوں نے بعد کو قادسیہ کی جنگ میں شہنشاہ ایران کی باتھیوں کی فوج کو پسپا کر دیا ۔

پہلے عرب اور بعد کے عرب میں یہ فرق کیوں ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یقین کی طاقت کا فرق ہے ۔ ابرہہ (اصحاب الفیل) کا واقعہ اس وقت ہوا جب کہ عرب بت پرستی میں مبتلا تھے۔ خدائی عقیدہ سے پیدا ہونے والا حوصلہ ان کے اندر پیدا نہیں ہوا تھا ۔

مگر قادسیہ کی جنگ میں جو عرب تھے وہ ایمان کی دولت پاچکے تھے۔ انہیں یقین کی وہ طاقت مل چکی تھی جو ابتدائی عربوں کو حاصل نہ تھی۔

15 جون 1984

سپر جین کا قول ہے کہ جولوگ تیزی سے وعدہ کر لیتے ہیں وہ عام طور پر اس کو پورا کرنے میں سست ہوتے ہیں:

other sourceWords of another person or source

Those who are quick to promise are generally slow to perform.

C.H. Supergeon

سنجیدہ آدمی جس کے اندر وعدہ پورا کرنے کا مزاج ہو وہ وعدہ کرنے سے پہلے سوچے گا ۔ وہ چاہے گا کہ میں وہی وعدہ کروں جس کو میں پورا کرسکوں اور وہ وعدہ کروں جس کو پورا کرنا میرے لئے مشکل ہو ۔ اس کا یہ ذہن اس کو وعدہ کرنے کے معاملہ میں محتاط بنا دے گا۔

اس کے برعکس جو لوگ وعدہ پورا کرنے کا مزاج نہ رکھتے ہوں ، جو اپنے الفاظ یہ سمجھ کر منھ سے نہ نکالیں کہ اس کو انہیں اپنا عمل بنانا ہے ۔ ایسے لوگ فورا وعدہ کر لیں گے ۔ جب انہیں وعدہ پورا کرنا ہی نہیں ہے تو وعدہ کے بارہ میں انھیں یہ سوچنے کی کیا ضرورت کہ وعدہ کرتے ہوئے کیا لفظ بولیں اور کیا لفظ نہ بولیں۔

16 جون 1984

ہندستان کے سابق وزیر غذا رفیع احمد قدوائی کا انتقال 24 اکتوبر 1954 کو ہوا تھا۔ لکھنو کے اخبار قومی آواز ( 28 اکتوبر 1954 ) کی رپورٹ کے مطابق شام کو جب ان کی میت دفن کے لئے قبرستان لے جائی گئی تو وہاں مسلمانوں اور ہندوؤں کا زبردست مجمع تھا۔ اس وقت میت کے قریب ایک گفتگو ہوئی وہاں کھڑے ہوئے ایک تعیلم یافتہ شخص نے اپنے ساتھی سے انگریزی میں کہا :

" دیکھو ، رفیوجیوں نے اگر رفیع صاحب سے کہا کہ شرنارتھیوں کا محکمہ وزارت آپ اپنے ہاتھ میں لے لیں ۔ رفیوجی اور ایک مسلمان پر اتنا بھروسہ کرے۔ کیا شخصیت تھی ان کی۔“

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

دنیا میں بلند مقام حاصل کرنے کا سب سے زیادہ یقینی راز یہی ہے۔ آدمی اپنے کردار اور اپنے عمل کے ذریعہ لوگوں کے اندر اتنا ااعتماد پیدا کر لے کہ غیر بھی اس سے یہ کہنے لگیں کہ آپ ہمارے معاملات کو سنبھال لیجئے۔ آپ سے زیادہ بہتر شخص ہماری نظر میں کوئی دوسرا نہیں۔

17 جون 1984

جو لوگ منصفانہ نظام قائم کرنے کے نام پر ہنگامہ کرتے ہیں۔ اور قائم شدہ حکومت کو توڑنے کی تحریک چلاتے ہیں وہ بلاشبہ غیر سنجیدہ لوگ ہیں۔ بلکہ تتیجہ کے اعتبار سے وہ ملک و قوم کے دشمن ہیں۔ کیوں کہ ایسی کوشش کا انجام ہمیشہ صرف یہ ہوتا ہے کہ ایک بری حکومت ختم ہو جائے ۔ اور اس کی جگہ اس سے زیادہ بری حکومت قائم ہو جائے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ انصاف لانے والے دراصل افراد ہیں نہ کوئی نام نہاد نظام۔ یہ صرف افراد ہیں جو کوئی نظام قائم کرتے ہیں۔ افراد اگر اچھے ہیں تو اچھا نظام قائم ہوگا اور افراد اگر برے ہیں تو برا نظام قائم ہوگا۔ جولوگ افراد نہ بنائیں اور حکومت کا تختہ الٹنے کے لئے جلسے جلوس اور ہنگامے کریں وہ کبھی کوئی نظام قائم نہیں کر سکتے۔

موجودہ حالت میں ہر ملک میں یہ حال ہے کہ افراد بگڑے ہوئے ہیں ۔ افراد کے سامنے اس کے سوا اور کوئی مقصد نہیں کہ وہ اپنے لئے زیادہ سے زیادہ حاصل کریں اور اس کے لئے ہرممکن طریقہ استعمال کریں۔ یہی وجہ ہے کہ انصاف آجکل ایک خرید وفروخت کی چیز بن گئی ہے۔ ہنری والڈ روف فرانس نے موجودہ سماج کے بارے میں بالکل صحیح کہا ہے کہ مجرم در اصل و شخص ہے جو مہنگے وکیلوں کو خریدنے کی طاقت نہ رکھتا ہو:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

A criminal is a person without sufficient means to employ expensive lawyers.

Henry Waldorf Francis

18 جون 1984

دو مصری عالم ملاقات کے لئے آئے ۔ ان میں سے ایک کا نام عبدالکریم البدوی اور دوسرے کا نام نمیرعلی النس ہے ۔ یہ لوگ تقریبا دوگھنٹہ تک رہے۔ ان سے کافی دلچسپ باتیں ہوئیں۔

انھوں نے ایک مصری عالم کا قصہ سنایا کسی سفر میں ان کی ملاقات ایک عیسائی پادری سے ہوئی ۔ پادری نے کہا، میں نے سنا ہے کہ آپ کے یہاں ایک خاتون گزری ہیں جن کو آپ لوگ مقدس مانتے ہیں ۔ حالاں کہ ان کے بارے میں لوگ کہتے ہیں کہ انھوں نے زنا کا ارتکاب کیا تھا۔

other sourceWords of another person or source

مصری عالم نے نہایت سنجیدگی سے کہا کہ جناب ، ہم دوعورتوں کو مقدس مانتے ہیں۔ ایک وہ خاتون (عائشہ) جن کا نکاح ہوا اور ان کے بارے میں کچھ مخالفین نے زنا کا الزام لگایا ۔ ہمارے عقیدہ کے مطابق ایک اور مقدس خاتون (مریم ) ہیں۔ جنھوں نے نکاح نہیں کیا اور ان پر بھی لوگوں زنا کا الزام لگایا ۔ پھر آپ کی مراد دونوں میں سے کس خاتون سے ہے۔ یہ سن کر پادری بالکل خاموش ہوگیا۔ اس کے بعد پھر وہ ایک لفظ نہیں بولا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

کسی اعتراض کا جواب دینے کے دو طریقے ہیں۔ ایک منطقی طریقہ ۔ دوسرے، وہ طریقہ جس کی ایک مثال اوپر کے واقعہ میں نظر آتی ہے۔ میرا مزاج علمی اور منطقی انداز کا ہے۔ میں ہر سوال کا جوابمنطقی انداز میں دینے کی کوشش کرتا ہوں۔ خالص علمی اعتبار سے منطقی جواب کی زیادہ اہمیت ہے۔ مگر بعض اوقات مذکورہ بالا قسم کا جواب ہی زیادہ مفید ہوتا ہے۔ کوئی علمی اور منطقی جواب مذکورہ پادری کے لئے اتنا موثر نہیں ہوسکتا تھا جتنا کہ مصری عالم کا جواب موثر ہوا ۔

19 جون 1984

حبیب بھائی (حیدر آباد ) نے تجارت سے متعلق بہت سے دلچسپ واقعات بتائے ۔ ان میں سے ایک واقعہ یہ تھا۔

مشہورصنعت کارمسٹر برلا کی جوٹ مل میں ایک افسر تھے ۔ ان کا نام مسٹرگپتا تھا۔ ایک روز مسٹر برلا نے ان کا معائنہ کیا اور ان کے کام کے بارے میں پوچھا ۔ انھوں نے اپنی محنت کی تفصیلات بتائیں اور کہا کہ میں نہایت محنت کے ساتھ اپنی ڈیوٹی انجام دیتا ہوں۔ مسٹر برلا نے کہا صاحب سے کہا کہ آپ استعفا دے دیں ۔ وہ حیران ہوئے کہ جب میں اتنا زیادہ کام کرتا ہوں تو مجھ سے استعفا کا مطالبہ کیوں کیا جا رہا ہے۔ مسٹر برلا نے جواب دیا : آپ کہتے ہیں کہ میں بہت محنت کرتا ہوں مگر مجھے تو وہ آدمی چاہئے جو عقل کو استعمال کرے۔

اس کے بعد حبیب بھائی نے کہا کہ بڑی ترقی کے لئے عقل اور منصوبہ بندی کی ضرورت ہے نہ کہ صرف محنت ومشقت کی ۔

other sourceWords of another person or source

محنت کرنا بلاشبہ قابل قدر چیز ہے ، مگر اس سے زیادہ قابل قدر چیز محنت کراتا ہے، محنت کرنے والا اکیلا محنت کرتا ہے، مگر محنت کرانے والا سینکڑوں اور ہزاروں آدمیوں سے محنت کر کے کام کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔

20 جون 1984

ایک بڑے تاجر سے ملاقات ہوئی۔ میں نے ان سے پوچھا کہ تجارت میں کامیابی کا راز کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ صرف قسمت۔ انھوں نے کہا کہ محنت سے آدمی دو وقت کی روٹی پاسکتا ہے، مگر دولت تو قسمت ہی سے ملتی ہے ۔ انھوں نے برناڈ شا کا ایک قول سنایا جس کا مطلب یہ تھا کہ ــــــــــ اس طرح کام کرو گویا کہ ہر چیز کا انحصارتمہارے اوپر ہے مگرجب دعا کرو تو اس طرح دعا کرو کہ ہر چیز کا انحصار خدا کے اوپر ہے:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

Work as if everything depends on you. Pray as if everything depends on God.

21 جون 1984

مولاناعبداللہ صاحب نے بعض جدید مصنفین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اعلی عقلی معیار پر دین کوثابت کر دیا ہے ۔ میں نے کہا کہ یہ محض خوش فہمی کی بات ہے ورنہ آپ جن مصنفین کا نام لے رہے ہیں انہیں شاید یہ بھی خبر نہیں کہ عقلی استدلال حقیقی معنوں میں ہے کیا ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

پھر میں نے ایک مشہور مصنف کی کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں اسلامی تہذیب اور مغربی تہذیب کا مقابلہ کیا گیا ہے۔ اس میں ایک مقام پر یہ کہا گیا ہے کہ اسلام انسانی مساوات کا مذہب ہے جب کہ دوسروں کے یہاں مساوات نہیں پائی جاتی ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

انھوں نے اس کا طریقہ یہ اختیار کیا ہے کہ خطبہ حجتہ الوداع سے اس قسم کے الفاظ نقل کئے ہیں: لافضل العربي علا عجمیی و لا بيض على اسود : کسی عربی کو کسی عجمی پر فضیلت نہیں ۔ کسی سفید فام کوکسی سیاہ فام پر فضیلت نہیں۔ اس کے بعد انھوں نے یہ کہا ہے کہ ساؤتھ افریقہ میں سیاہ فام اور سفید فام سے الگ الگ معاملہ کیا جا تا ہے۔ امریکہ میں کالے نیگروں کو وہاں کے سفید فام لوگوں کے برابر حقوق حاصل نہیں ، وغیرہ

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اب ایک شخص کہہ سکتا ہے کہ یہ استدلال غیر علمی اور غیر عقلی ہے۔ اس لئے کہ اس میں نظریہ کا تقابل عمل سے کیا گیا ہے۔ اسلام سے نظریہ لے لیا گیا اور مغرب سے عمل ۔ نظریے کا تقابل نظریہ سے ہونا چاہئے اور عمل کا تقابل عمل ہے۔ مذکور مسلمان مصنف کو یہ کرنا چاہئے تھا کہ وہ خطبہ حجۃ الوداع کے مقابلہ میں اقوام متحدہ کا حقوق انسانی کا چارٹر پیش کرتے اور دونوں کا تقابل کر کے اپنا نظریہ ثابت کرتے ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

22 جون 1984

ایک صاحب نے الرسالہ کے بارے میں کچھ مخالفانہ ریمارک دئے جب ان کا خط مجھ کو ملا تو میں نے فوراً انھیں لکھا کہ آپ نے الرسالہ کے بارے میں جو ریمارک دیتے ہیں اس کی کوئی مثال تحریر فرمائیں ، محض لفظی ریمارک سے کوئی بات ثابت نہیں ہوتی جب تک اس کو دلیل اور مثال سے واضح نہ کیا جائے ۔ جب ان کا کوئی جواب نہیں آیا تو میں نے پھر ان کو یاد دہانی کا خط لکھا۔ کئی مہینے تک میں ان کو یاد دہانی کے خطوط لکھتا رہا مگر انھوں نے الرسالہ کے زبان و بیان کے بارے میں کسی ایک غلطی کی نشاندہی نہیں کی۔ ہماری قوم کا یہ عجیب ذہن کہ وہ الزامی لفظ بولنے کو تنقید کرنا سمجھتے ہیں۔ حالاں کہ تنقید نام ہے تجزیہ (Analysis) کا۔

آخر چھ مہینے کے انتظار کے بعد میں نے ان کو ایک آخری خط لکھا۔ اس میں دوسری باتوں کے ساتھ یہ سطریں بھی تھیں :

غلطی کر نا صرف ایک وقتی فعل ہے۔ مگر غلطی نہ ماننا ایک ابدی جرم ہے ۔ یہ اپنی شخصیت کو خود اپنے ہاتھوں ہلاک کرنا ہے غلطی کرنے کے بعد اگر آدمی اپنی غلطی گومان لے تو وہ اسی وقت ہلکا ہوجاتا ہے۔ لیکن اگر آدمی اپنی غلطی کو نہ مانے تو یہ تمام غلطیوں میں سب سے بڑی غلطی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جو شخص دوسرے کو مجرم ظاہر کرنا چاہتا تھا وہ خود اپنی نظر میں ہمیشہ کے لئے مجرم بن جاتا ہے۔ اب آپ کے لئے واحد راستہ صرف یہ ہے کہ کھلے طور پر اپنی غلطی کا اعتراف کر لیں ۔ اگر آپ اپنی غلطی کا اعتراف نہ کریں تو یاد رکھئے ، آپ ساری عمر اپنے ضمیر کے سامنے غلط کاربنے رہیں گے۔

23 جون 1984

خؒروشچوف 1964ء تک روس کے وزیر اعظم تھے۔ ان کے بارہ میں ایک لطیفہ کسی اخبارمیں پڑھا تھا ۔ لینن گراڈ کے دورہ میں وہ ایک فیکٹری دیکھنے گئے۔ اور ایک روسی مزدور سے کارخانہ کے حالات پوچھے ۔ مزدور نے فوراً کارخانہ کی تعریف شروع کر دی ۔ اس نے کہا کہ یہاں کسی چیز کی کمی نہیں ہے ۔ پیداوار روز بروز ترقی کر رہی ہے ۔ وغیرہ وغیرہ ۔

"تم کسی کو دھوکا دینے کی کوشش کر رہے ہو " خروشچوف نے بگڑ کرمز دورسے کہا " تم جانتے نہیں کہ میں کون ہوں ۔" میں سوویت روس کا وزیراعظم خروشچوف ہوں ۔ مزدور فورا بولا : معاف کیجئے گا، میں سمجھا تھا کہ آپ کوئی غیرملکی سفیر ہیں "

other sourceWords of another person or source

24 جون 1984

ایک نوجوان تشریف لائے۔ انھوں نے اسی سال دارالعلوم دیوبند سے فراغت حاصل کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں مصنف بننا چاہتا ہوں ۔ مجھے بتائیے کہ میں کس طرح مصنف بنوں ۔

یہ بات انھوں نے لمبی تمہیدی گفتگو کے بعد کہی ۔ میں نے کہا کہ اگر آپ اس لئے میرے پاس آئے ہیں تو آپ نے اپنا وقت بھی ضائع کیا اور میرا وقت بھی ضائع کیا۔ میں نے کہا کہ مصنف کبھی مشورہ سے نہیں بنتا۔ مصنف کوئی شخص صرف اپنے عمل سے بنتا ہے ۔ اگر آپ مصنف بننا چاہتے ہیں تو آپ کو کسی سے مشورہ لینے کی ضرورت نہیں۔ آپ عربی اور انگریزی دونوں زبانوں میں مہارت پیدا کیجئے اور دونوں زبانوں کا ضروری لٹریچر پڑھ ڈالیے۔ اور پھر دس سال تک لکھنے کی مشق کیجئے ۔ اس کے بعد آپ خود بخود مصنف بن جائیں گے ۔

میں نے کہا کہ مصنف دو قسم کے ہوتے ہیں ، ایک وہ جوخود ہی لکھتے ہیں اور خود ہی پڑھتے ہیں۔ اور دوسرے وہ جن کی لکھی ہوئی چیز کو ساری دنیا پڑھتی ہے۔ پہلی قسم کا مصنف بننے کے لئے آپ کو کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہیں۔ اس قسم کے مصنف آپ ابھی اور اسی وقت ہیں ۔ لیکن اگر آپ دوسری قسم کا مصنف بننا چاہتے ہیں تو آپ کو غیرمعمولی جدوجہد کرنی پڑے گی ۔ حتی کہ از سرنو آپ کو دوسرا جنم لینا پڑے گا۔

میں نے کہا کہ یاد رکھئے ، لکھنا سب سے زیادہ مشکل آرٹ ہے۔ اس سے زیادہ مشکل آرٹ دنیا میں اور کوئی نہیں۔ مگر نادان لوگ اس سب سے زیادہ مشکل آرٹ کو سب سے زیادہ آسان آرٹ سمجھ لیتے ہیں۔

دیں اور جو لوگ یہاں کے تجربہ میں بے اصول ثابت ہوں وہ آخرت میں خدا کا پڑوس حاصل کرنے سے محروم رہیں گے۔

کوئی انسان با اصول ہے یا بے اصول ، اس کا پتہ اس کے کردار سے چلتا ہے۔ اول الذکر آدمی کی زندگی معلوم اصولوں کے تحت گزرتی ہے اور ثانی الذکر آدمی کی زندگی اغراض اور مفادات کے تحت۔

با اصول آدمی کی زندگی میں تضاد نہیں ہوتا ۔ وہ ایک شخص سے جو معاملہ کرتا ہے وہی معاملہ وہ دوسرے شخص سے بھی کرتا ہے۔ وہ وہاں خوش اخلاق ہوتا ہے جہاں اصولی طور پر اس کو خوش اخلاق ہونا چاہئے۔ وہ ہر حال میں انصاف کرتا ہے خواہ وہ اپنے موافق ہو یا اپنے خلاف۔

مفاد پرست آدمی کا معاملہ اس سے مختلف ہوتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی زندگی میں تضاد پیدا ہوجاتا ہے۔

27 جون 1984

ہرآدمی، قرآن کی زبان میں ، تکاثر میں مصروف ہے۔ وہ اندھا دھند بس سامان حیات کے اضافہ میں لگا ہوا ہے ۔ اس کی کوششوں کا مرکز و محور صرف یہ ہے کہ دنیا کی چیزیں اس کے پاس زیادہ سے زیادہ ہوجائیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ آدمی کی زبردست بھول ہے ۔ دنیا کی چیزوں میں اضافہ صرف آدمی کی اپنی ذمہ داریوں(liabilities) کو بڑھاتا ہے ،مگر آدمی اپنی نادانی سے یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنے اثاثہ (assets) کو بڑھا رہا ہے۔

28 جون 1984

لابی (lobby) ایک انگریزی لفظ ہے جس کے معنی ہیں برآمدہ ۔ یعنی وہ سائبان جس کی طرف ملحق کمروں کے دروازے کھلتے ہوں۔ مگر موجودہ زمانہ میں یہ لفظ ایک سیاسی اصطلاح بن گیا ہے۔ جس کا مفہوم ہے: پالیسی تبدیل کرانے کے لئے حکومت پر اثر انداز ہونا ۔ چوں کہ ابتدائی زمانہ میں اسمبلی کے ارکان سے ملاقات کرنے کے لئے اسمبلی کے برآمدے استعمال ہوتے تھے۔ اسی لئے لابی کا لفظ دھیرے دھیرے اس مفہوم کے لئے سیاسی اصطلاح بن گیا ۔

" لابی " کی سیاست کا آغاز ابتداا انگلینڈ میں ہوا۔ اس کے بعد یہ امریکہ پہنچا۔ امریکہ میں ہرچیزصنعت بن جاتی ہے۔ چنانچہ یہ بھی ایک صنعت بن گیا۔ امریکہ میں باقاعدہ رجسٹرڈ کمپنیاں ہیں جو حکومتوں سے فیس لے کر یہ کام کرتی ہیں ۔

لابی کی ضرورت چھوٹے ملکوں کو بھی ہوتی ہے اور بڑے مکوں کو بھی ۔ مثلا بنگلہ دیش ایک بہت چھوٹا ملک ہے مگر امریکہ میں اس کی لابی کرنے والی دوکمپنیاں موجود ہیں۔ ان کمپنیوں کا خاص مقصد بنگلہ دیشس کی چائے کے لئے امریکہ میں اپنا مارکیٹ قائم رکھنا ہے۔

جاپان اپنی برآمدی مصنوعات کا 37 فی صد حصہ امریکہ بھیجتا ہے۔ جنوبی کوریا40 فیصد اور تائیوان50 صد اگر امریکہ کی قانون ساز اسمبلی یہ قانون پاس کر دے کہ غیر ملکی مصنوعات امریکہ میں داخل نہیں ہوں گی تو ان ملکوں کی اقتصادیات نہایت گہرے طور پر متاثر ہوں گی۔ اس لئےیہ مالک اس معاملہ میں بہت حاسس رہتے ہیں ۔ ان ممالک کے نمائندے امریکہ کے حکومتی حلقوں میں گھوم کر پتہ کرتے رہتے ہیں کہ امریکی حکمران اپنی در آمدی پالیسی میں کسی تبدیلی کی بات تو نہیں سوچ رہے ہیں اور اگر ان کو اس قسم کا کوئی اشارہ ملتا ہے تو وہ فور لابی کا عمل شروع کر دیتے ہیں ۔ ایک اطلاع کے مطابق جاپان کے بجٹ میں لابی کے لئے پانچ کروڑ ڈالر رکھا گیا ہے۔ یعنی تقریبا ایک ارب روپیہ۔

موجودہ دنیا میں زندہ رہنے کے لئے آدمی کو کتنا زیادہ چوکنا رہنا پڑتا ہے ۔

29 جون 1984

"اسلام سائنس کے مطابق ہے۔" یہ جملہ صحیح نہیں۔ صحیح یہ ہے کہ اسلام حققیت کے مطابق ہے۔ قرآن میں اس طرح کی آیتیں ہیں:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

فاتقو الله يا أولي الألباب اللہ سے ڈرو اے عقل والو

المائدہ 100

انما یتذکر اولوا الباب نصیحت قبول کرتے ہیں صرف عقل والے۔

الرعد 19

اس سے معلوم ہواکہ ذکر اور تقویٰ کا سرچشمہ عقل ہے ۔ آدمی اپنے عقل و شعور کو کام میں لاکر ہی اس درجہ کو حاصل کرتا ہے جس کو شریعت میں ذکر اور تقوی کہا گیا ہے ۔ صاحب ذکر اور صاحب تقوی بننے کے لئے ضروری ہے کہ آدمی صاحب عقل بنے۔

30 جون 1984

تحریک خلافت کے ہنگامہ کے زمانہ میں موپلا مسلمانوں نے مظاہرہ کیا۔ اس کے نتیجہ میں ہندستان کی برطانی فوج نے ان پر گولی چلائی ۔ چارسو موپلا ہلاک ہو گئے ۔ انھوں نے تار دینا چاہا توان کا تارقبول نہیں کیا گیا۔ اس پر وہ مزید بپھر گئے ۔ انھوں نے تار کاٹ ڈالے۔ ریل کی پٹریاں اکھاڑ دیں ۔ افسروں کو قتل کیا ۔ وغیرہ وغیرہ ۔ اس کے بعد ان کے اوپر جو سختیاں ہوئیں، ان میں سے ایک واقعہ یہ تھا کہ گرمی کے موسم میں ایک سو موپلا قیدیوں کو مال گاڑی کے ڈبے میں بند کر کے بھیجا گیا۔ اس میں ستر آدمی دم گھٹ کر مر گئے۔ (بحوالہ جمعیت علما کیا ہے، حصہ دوم ، صفحہ 58، 69 – 168 )

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ ان بے شمار نقصانات میں سے صرف ایک ہے جو تحریک خلافت کے ہنگاموں کے زمانہ میں ہندستانی مسلمانوں کو پہنچا۔ ہمارے لکھنے اور بولنے والے اس کو انگریزوں کے ظلم کے خانہ میں ڈالے ہوئے ہیں ۔ میں اس کو خود مسلم لیڈروں کی نادانی کے خانہ میں ڈالتا ہوں میرے لئے ناقابل فہم ہے کہ جس خلافت کا سرا تمام تر اتا ترک کے ہاتھ میں تھا ، اس کے لئے ہمارے لیڈروں کے ہندستان میں کیوں لا یعنی ہنگامے کھڑے کئے۔

ميثاق ، جون 1984 ، صفحہ 81

مسلمانوں کے مقرر اور خطیب رہنما جلسوں میں مسلم عوام کی بھیر دیکھ کر اکثر اس خوش فہمی میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ ان کی تقریروں نے مسلمانوں کے اندر ایک انقلاب برپا کر دیا ہے۔ مگرمعمولی سا تجربہ بھی اس تخیل کو غلط ثابت کر دیتا ہے، خواہ وہ شاندار طور پر کامیاب ہونے والے جلسہ میں نظم اور سلیقہ کے ساتھ بیٹھنے کی درخواست ہی کیوں نہ ہو۔

Highlights
Reading

The realization of God is the essence of religion. Without maarifah, religion is reduced to a spiritless form.

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content