← Diary 1983-1984Diary 1983-1984
May 1984
English · 25 min read
2 مئی 1984
اے بی نوبیل (1833-1896 ) وہ شخص ہے جس کے نام پر مشہور نوبیل انعام دیا جاتا ہے۔ وہ نئی نئی چیز ایجاد کرنے کی خاص صلاحیت رکھتا تھا۔ وہ روانی کے ساتھ انگریزی ، فرنچ ،جرمن، رشن اور سوئیڈش زبانیں بول سکتا تھا۔ اس نے ڈائنا مائیٹ اور دوسری چیزیں ایجاد کیں۔ اس سلسلہ میں اس کی فیکٹری میں1864 میں ایک سخت دھماکہ ہوا جس میں اس کا بھائی مرگیا۔ وہ ہر وقت نئی چیزیں دریافت کرنے کی دھن میں لگا رہتا تھا ، یہاں تک کہ اس کو لوگ دیوانہ سائنس داں(mad scientist) سمجھنے گئے۔
سائنس کا میدان ہو یا مذہب کا میدان ، ہر میدان میں کوئی قابل ذکر چیز پانے کے لئے دیوانہ بننا پڑتا ہے۔ " میڈ سائنٹسٹ“ ہی کوئی نئی چیز دریافت کرتا ہے۔
نوبیل کی بعض دریافتوں کو اتفاقی دریافت(chance discovery) کہا جاتا ہے۔ یعنی وہ کسی اور چیز پرتحقیق کر رہا تھا اور اتفاقا کوئی اور چیزاس پر منکشف ہوگئی۔ مگر یہاں وہی الفاظ صادق آتے ہیں جو نوبیل انعام یافتہ ڈاکٹرمن نے کہے تھے: یہ دریافت اگرچہ ایک اتفاق تھی مگر ایسا اتفاق صرف سائنس داں کو پیش آتا ہے آتا ہے ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ ایک حقیقت ہے کہ کوئی نئی چیز دریافت کرنے کے لئے آدمی کو دیوانہ بننا پڑتا ہے خواہ وہ رومانیت کا میدان ہو یاطبیعیات کا میدان ۔ دیوانگی کی حد تک کسی راہ میں لگے بغیر کوئی بڑی چیز کسی کو حاصل نہیں ہوتی۔
3 مئی 1984
ایک حدیث قدسی ہے کہ اللہ تعالی نے فرمایا کہ میں اپنے کسی بندے کو مصیبت میں ڈالتا ہوں اور وہ اس پر صبر کرتا ہے تو میں اس کے گوشت کو زیادہ بہتر گوشت سے بدل دیتا ہوں اور اس کے خون کو زیادہ بہتر خون سے بدل دیتا ہوں (دمۃ من خيردم ولحمه من خيرلحم )
hadithQuotes a hadith
صبرکیا ہے صبر یہ ہے کہ آدمی اس سمائی (capacity) کا ثبوت دے کہ وہ مشکلات و مصائب کو برداشت کر سکتا ہے ۔ جو شخص رد عمل کی نفسیات میں مبتلا ہوئے بغیر مشکلات و مسائل کو برداشت کر لے تو اس کے اندر سے ایک نیا انسان ظہور (emerge) کرتا ہے ۔ وہ پہلے سے زیادہ اونچا انسان بن جاتا ہے ۔
موجودہ دنیا میں روحانی ارتقاء کا ذریعہ صبر ہے ۔ آدمی اگر نا خوشگواریوں پر صبر نہ کرے تو وہ نفسیاتی اعتبار سے پستی میں گر جاتا ہے۔ اور اگر وہ صبرکر لے تو وہ نفسیاتی اعتبار سے بلند ہو جاتا ہے ۔ صبر اس دنیا میں ہرقسم کی اعلی ترقیوں کا واحد زینہ ہے۔
4 مئی 1984
اپریل 1977 کے ہندستانی الکشن میں جنتا پارٹی کو زبردست کامیابی حاصل ہوئی ۔ جنتا پارٹی نے مسٹرمرار جی ڈیسائی کواپنا پارٹی لیڈر چنا۔ اس کے بعد رام لیلا گراؤنڈ میں جنتا پارٹی کا بہت بڑا جلسہ ہوا۔ میں بھی اس جلسہ میں شریک تھا۔ اس جلسہ میں تقریر کرتے ہوئے مسٹرمرارجی ڈیسائی نے کہا :
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
" میں کوئی غلطی کروں تو آپ میرا کان پکڑ سکتے ہیں ۔"
جنتا حکومت میں مسٹر چرن سنگھ وزیر داخلہ تھے ۔ بعد کو انھوں نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ مارچ 1978 میں انھوں نے وزیر اعظم مسٹر مرارجی ڈیسائی سے کہا کہ آپ کے لڑکے کا نتی ڈیسائی کے بارے میں کرپشن کی شکایات ہیں۔ اس کی باقاعدہ انکوائری کرائی جانی چاہئے اور اس کے لئے ایک کمیشن مقرر کیا جانا چاہئے ۔ (ٹائمس آف انڈیا 7 جولائی1978 )
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس کے جواب میں مسٹر مرار جی ڈیسائی خفا ہوگئے۔ باہمی اختلاف یہاں تک بڑھا کرجولائی1978 میں مسٹرڈیسائی نے مسٹر چرن سنگی سے استعفا کا مطالبہ کیا ۔ دونوں میں سخت رنجش پیدا ہوگئی۔ مسٹر اٹل بہاری واجپیئی کے بیان کے مطابق ڈیسائی ، چرن سنگھ ملاقات اس لئے نہ ہوسکی کہ مسٹر ڈیسائی کا اصرار تھا کہ چرن سنگھ میرے یہاں آکرملیں ۔ یہ کشمکش یہاں تک بڑھی کہ جنتا حکومت ختم ہوگئی۔ (ٹائمس آف انڈیا 8 جولائی 1978ء )
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
لفظوں میں کان پکڑوانا کتنا آسان ہے اور عمل میں کان پکڑوانا کتنا مشکل۔
5 مئی 1984
ایک انگریزی اخبار کے اڈیٹر کی بعض باتوں سے اس کے دوستوں کو شبہ ہوا کہ وہ صحافت کی زندگی سے الگ ہونے کا ارادہ کر رہے ہیں۔ انھوں نے پوچھا۔ کیا آپ صحافت سے ریٹائر ہونا چاہتے ہیں ۔ اڈیٹر نے جواب دیا :
No, I will only retire at Nigambodh Ghat or Chandanwadi.
نہیں میں صرف نگم بودھ گھاٹ یا چندن واڑی پر ریٹائر ہوں گا ( ہندستان ٹائمس 29 جنوری 1983 ) اسی طرح ایک اڈیٹر صاحب نے ایک بار لکھا تھا ، میں جہنم میں نہیں جاؤں گا ، کیوں کہ وہاں بھیڑ ہوگی اور مجھے جنت میں جانا پسند نہیں ، کیوں کہ وہاں سناٹا ہوگا ۔
other sourceWords of another person or source
اس طرح کی باتیں اکثر لوگ مختلف شکلوں میں کرتے رہتے ہیں ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ جنت اور جہنم کے بارہ میں سنجیدہ نہیں۔ اگر وہ جہنم کی آگ کے بارہ میں اسی طرح سنجیدہ ہوں جس طرح وہ دنیا میں ایک جلتے ہوئے الاو کے بارہ میں سنجیدہ ہوتے ہیں ۔ اور اگر وہ جنت کے عیش کو اسی طرح اہمیت دیں جس طرح وہ دنیا کے عیش کو اہمیت دیتے ہیں تو بھی ان کی زبان سے ایسے الفاظ نکلیں ۔
6 مئی 1984
کشمیر کے قانون کے مطابق کوئی باہر کا آدمی کشمیر میں زمین اور جائداد کا مالک نہیں ہوسکتا۔ یہ قانون وہاں مہاراجہ کے زمانہ سے چلا رہا ہے۔ یہی قانون ہے جس نے کشمیر میں بوٹ ہاؤس کو رواج دیا جو کشمیر کی خصوصیت سمجھی جاتی ہے ۔
1888 میں ایک انگریز سری نگر آیا۔ اس کو سرینگر بہت پسند آ گیا ۔ اس نے چاہا کہ وہاں مستقل قیام کرے جب اس کو معلوم ہوا کہ یہاں وہ ذاتی مکان نہیں بنا سکتا تو اس نے سرینگر میں قیام کے لئے یہ تد بیر نکالی کہ وہ کشتی میں مکان بنا کر اس کو پانی پر تیرا دے۔ اور پھر اس کے اندر رہے۔ یہی چیز بعد کو بوٹ ہاؤس کے نام سے مشہور ہوئی۔ مذکورہ انگریز کا نام کنارڈ (M.T.Kennard) تھا۔ اس نے اپنی اس کشتی کے مکان کا نام وکٹری رکھا۔ اور اس کو دریائے جہلم کے پانی میں تیرا دیا۔
انسان جب دل سے کسی چیز کو چاہتا ہے تو اس کے لئے وہ ہر حال میں کوئی راستہ نکال لیتا ہے خواہ بظاہر وہ کتنا ہی مشکل کیوں نہ معلوم ہوا ہے ۔
7 مئی 1984
17ویں صدی عیسوی میں تین بڑی مسلم حکومتیں تھیں ۔ ترکی کی عثمانی خلافت ، ہندستان کے مغل، فارس کی ایرانی حکومت ۔ اس کے بعد ان ملکوں میں مغربی قوموں کا تدخل شروع ہوا۔ 1850 ء تک مذکورہ تینوں مسلم طاقیتں یورپ کے زیراقتدار آچکی تھیں ۔ اسی طرح انڈونیشیا ڈچ کے قبضہ میں، ملیشیا انگریز کے قبضہ میں، الجیریا وغیرہ فرانس کے قبضہ میں چلا گیا۔
اس کے بعد تمام مسلم دنیا میں ردعمل شروع ہوا۔ ہر جگہ لوگ کسی کی شکل میں بیرونی حکمرانوں کے خلاف لڑنے کے لئے کھڑے ہوگئے۔ مگر یہ تمام لڑائیاں بس اس طرح پیش آئیں کہ مسلمان جس حال میں تھے اس حال میں وہ مغربی اقوام سے لڑنے لگے۔ اس پوری مدت میں کوئی ایک بھی قابل ذکر مثال نہیں ملتی کہ مسلم ذمہ داروں کا کوئی وفد یورپ جائے اور وہاں سنجید طور پر یہ جاننے کی کوشش کرے کہ یورپی قوموں کی اس طاقت کا راز کیا ہے کہ وہ اپنے ملکوں سے نکل کر ساری دنیا پر قابض ہوگئی ہیں۔
مسلمان محض جوش کے تحت لڑائی لڑتے رہے۔ انھوں نے اپنے ہوش کو استعمال کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی ۔ جدید تاریخ میں گا ندھی پہلے لیڈر ہیں جنھوں نے نو آبادیاتی طاقتوں کے مقابلہ میں ہوش کا ہتھیار استعمال کیا۔
8 مئی 1984
بائبل اور تلمود سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسی علیہ السلام کا نام” موسیٰ " فرعون کے گھر میں رکھا گیا تھا۔ فرعون اور اس کی بیوی جب حضرت موسیٰ کو دریا سے نکال کر اپنے عمل میں لائے تو انھوں نے آپ کا نام" موسیٰ “ تجویز کیا۔ آپ کا یہی نام مشہور ہوگیا ۔
other sourceWords of another person or source
حضرت موسیٰ بنی اسرائیل کے ایک فرد تھے ۔ آپ کی قومی اور مذہبی زبان عبرانی تھی۔ مگر موسیٰ عبرانی زبان کا لفظ نہیں۔ یہ قبطی زبان کا لفظ ہے جو فرعون اور اس کی قوم کی زبان تھی ۔ موسیٰ کے معنی قدیم قطبی زبان میں ہیں " پانی سے نکالا ہوا " یا " میں نے اسے پانی سے نکالا "
آجکل جس طرح الفاظ کے لئے جھگڑا کیا جاتا ہے ، اگر حضرت موسیٰ کا وہ ذہن ہوتا تو فرعون کے رکھے ہوئے نام کو آپ پسند نہ کرتے اور بعد کے زمانہ میں اس کو بدل دیتے ۔ مگرفرعون کا اور قبطی زبان کا ۔ یہی لفظ آپ کا مستقل نام بن گیا اور اللہ تعالی نے آپ کو "موسیٰ " ہی کے لفظ سے پکارا ، جیسا کہ قرآن سے معلوم ہوتا ہے ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس سے سچے دین کا مزاج معلوم ہوتا ہے۔ سچا دین حقیقتوں کو دیکھتا ہے اور جھوٹا دین لفظوں کی کی بحث کرتا ہے۔ سچا دین حقیقت کو اہمیت دیتا ہے اور جھوٹا دین الفاظ کو۔
9 مئی 1984
رابرٹ فراسٹ (1963 - 1874) امریکہ کا مشہور شاعر ہے۔ وہ امریکہ میں پیدا ہوا ۔ مگر امریکہ میں ابتدا اس کو مقبولیت حاصل نہ ہوسکی۔ یہاں تک کہ انگلستان میں اس کے قدر داں پیدا ہوئے ۔ اور انھوں نے اس کے اعتراف میں مضامین لکھے۔ انگلینڈ کی قدر دانی کے بعد امریکہ والوں نے بھی اس کو تسلیم کرلیا۔
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اپنے قریبی ماحول میں آدمی کا اعتراف نہیں کیا جاتا ۔ قریبی لوگوں کو وہ اپنی طرح کا ایک انسان دکھائی دیتا ہے ۔مگر دور والوں کو اس کے صرف افکار پہنچتے ہیں۔ وہ اس کے جوہر کی بنیاد پر اس کو جانچتے ہیں اور متاثر ہوتے ہیں۔ قریب کے لوگ نفسیاتی پیچیدگیوں میں مبتلا رہتے ہیں۔ جب کہ دور کے لوگ نفسیاتی پیچیدگیوں سے آزاد ہوکر سوچتے ہیں۔ اس لئے دور کے لوگ کسی آدمی کو پہلے پہچان لیتے ہیں اور قریب کے لوگ نسبتا دیر میں پہچاتے ہیں ۔
11 مئی 1984
مغربی جرمنی کے ایک پروفیسر ہیں جن کا نام دو بوئر ہے۔ انھوں نے اسلام کا گہرا مطالعہ کیا ہے اور اسلام سے کافی دل چسپی رکھتے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ جنوبی افریقہ کے عیسائی اپنی نسل پرستی کے لئے انجیل کا حوالہ دیتے ہیں مگر وہ انجیل کو باورچی خانہ کی کتاب کی طرح استعمال کرتے ہیں ۔ وہ اپنے مطلب کی سطر کو بطور حوالہ اخذ کرلیتے ہیں۔ وہ یہ دیکھنے کی زحمت نہیں کرتے کہ اس سفر کا سیاق و سباق کیا ہے ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
انھوں نے ایک انٹرویو میں کہا کہ جنوبی امریکہ میں اپنے قیام کے دوران میں نے وہاں کے لوگوں سے پوچھا کہ کیا تم ماسکو سے ڈرتے ہو ۔ ان لوگوں نے جواب دیا کہ نہیں۔ پھیرمیں نے پوچھا کہ کیا تم لوگ امریکہ سے ڈرتے ہو ۔ ان لوگوں نے دوبارہ کہا کہ نہیں۔ میں نے پوچھا کہ پھر تم لوگ کس چیز سے ڈرتے ہو۔انھوں نے جواب دیا : ہم جنوبی امریکہ میں واقع عالمی سطح کی200 امریکی کمپنیوں سے خوف زدہ ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قدیم زمانہ میں سیاسی خطرہ سب سے بڑے خطرہ کی حیثیت رکھتا تھا ، مگر آج اقتصادی خطرہ سب سے بڑا خطرہ ہے۔
12 مئی 1984
خدا کے دین میں لوگوں نے بے شمار قسم کے بگاڑ پیدا کئے ہیں۔ لیکن اگر تجزیہ کیا جائے تو بگاڑکی تمام قسموں کا خلاصہ صرف ایک ہے ۔ آخرت سے فرار ۔ ہر بگاڑ کی تہ میں یہ جذبہ کارفرما نظر آتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح آخرت کی ذمہ داری سے فرار حاصل کیا جائے۔
کسی نے خدا کو مانتے ہوئے اس کی تشریح اس طرح کی کہ خدا کو سمندر قرار دیا اور انسان کو اس کا ایک قطرہ ۔ موت کے بعد یہ قطرہ سمندر میں مل جاتا ہے ۔ بالفاظ دیگر خدا اور انسان کا کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔ اب ظاہر ہے کہ جب انسان کا الگ سے کوئی وجود ہی نہ رہ جائے تو کون کس کو پکڑے گا اور کون کسی کا حساب لے گا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
کسی نے سزا اور انعام کو اصولی طور پر مانتے ہوئے یہ کہا کہ زندگی ایک جبری چکر ہے۔ انسان زندگی کے لازمی قانون کے تحت بار بار ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف جاتا رہتا ہے جو یا تو اس کی پچھلی زندگی کے اچھے عمل کا نتیجہ ہوتی ہے، یا برے عمل کا ۔ اس فلسفہ میں بھی آخرت کا تصور حذف ہوگیا۔ کیوں کہ آخرت کا عقیدہ شعوری محاسبہ کا تقاضا کرتا ہے۔ جب کہ مذکورہ فلسفہ کے مطابق سب کچھ میکنیکل طور پر ہورہا ہے ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
کچھ لوگوں نے آخرت کو پوری طرح مانتے ہوۓ کفارہ کا عقیدہ گھڑ لیا ۔ یعنی یہ کہ کوئی دوسرا شخص ہماری طرف سے ہمارے گناہوں کا کفارہ ہو چکا ہے۔ اس نظریہ کے مطابق بھی آدمی کے اوپر سے آخرت کی ذمہ داری ساقط ہو جاتی ہے۔ کیونکہ جوکچھ ہمیں کرنا تھا وہ پہلے ہی دوسرا شخص انجام دے چکا ۔ وغیرہ ، وغیرہ
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
13 مئی 1984
تاتار اصلا ایک منگول قبیلہ تھا جو پانچویں صدی عیسوی کے بعد مشرقی منگولیا اور مغربی میچوریا میں آباد ہو گیا۔ اس قبیلہ کے ایک حصہ کولے کر چنگیز خان (1227- 1162ء ) نے اپنی فوج بنائی اور تیرہویں صدی عیسوی میں مشرقی یورپ پر حملہ آور ہوا۔ چنگیزخاں کی سلطنت کے خاتمہ کے بعد تاتاریوں کو ترک کہا جانے لگا ۔
تاریوں نے 1258ء میں بغداد کو برباد کیا۔
تاتاریوں نے جب خلافت عباسیہ کو تباہ کیا تومسلم شہروں سے وہ لاکھوں کی تعداد میں عورتوں کو پکڑ کرلے گئے اور ان کو باندی بنا کر اپنے گھروں میں رکھا۔ تاتاریوں کو مسلمان بنانے میں ان مسلم خواتین کا بہت بڑا حصہ ہے۔ یہ مسلم عورتیں ہر تاتاری کے گھر میں داخل ہوگئیں۔ وہ اگرچہ با ندی کے طور پر رکھی گئی تھیں ۔ مگر ان کے دینی جذ بہ نے انھیں ابھار کر وہ اپنے مالکوں پر اسلام کی تبلیغ کریں۔ چنانچہ انھوں نے خاموشی کے ساتھ اسلام کی تبلیغ شروع کر دی ۔ یہ کام بہت عرصہ تک جاری رہا۔ یہاں تک کہ بیشتر تاتاری مسلمان ہوگئے۔
تاتاری اسلام کے دائرہ میں داخل ہو کر اسلام کے خادم بن گئے ، وہ تقریباً پانچسو برس تک مسلم دنیا کے حکمراں رہے۔
14 مئی 1984
مسٹر خشونت سنگه ایک بار افریقہ کے سفر پر گئے تھے۔ اپنے اس سفرکی روداد انھوں نے السٹریڈ ویکلی آف انڈیا میں شائع کی تھی اس میں ایک بات یہ تھی :
On my last visit to Kenya and Uganda, I checked on the activities of Christian and Muslim missionaries working amongst the Negro tribes. Christians con ceded that despite the unpleasant memories of Muslim Arab slavers, Islam was claiming more converts amongst African blacks than Christianity. (Illustrated Weekly of India, July 7, 1974, p. 27)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
کینیا اور یوگنڈا کے اپنے آخری سفر میں میں نے عیسائیوں اور مسلمانوں کی ان تبلیغی کوششوں کا جائزہ لیا جو نیگرو قبائل کے درمیان جاری ہیں۔ عیسائیوں نے اعتراف کیا کہ مسلم عرب بردہ فروشوں کی ناخوشگوار یادوں کے باوجود افریقہ کے سیاہ فام باشندوں میں اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد عیسائیت قبول کرنے والوں سے زیادہ ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کہنا غلط ہے کہ مسلماں چوں کہ بے عمل ہیں اس لئے ان کی تبلیغ غیرمسلموں میں مفید نہیں ہوسکتی حقیقت یہ ہے کہ بے عملی تبلیغ میں کوئی رکاوٹ نہیں ۔ لوگ اسلام کے اصولوں کو دیکھ کر اسلام قبول کرتے ہیں نہ کہ مسلمانوں کے عمل کو دیکھ کر۔ اگر عمل کافی ہوتا تو کی پیغمبر کی قوم کافر نہ رہتی۔
15 مئی 1984
حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ اللہ اپنے جس بندہ سے محبت کرتا ہے اس پر وہ مصیبت
hadithQuotes a hadith
ڈال دیتا ہے۔
مصیبت میں مبتلا کرنا ، دوسرے لفظوں میں آدمی کو حقیقت کی سطح پر زندگی گزارنے کا موقع دینا ہے۔ آدمی کی اصلی اورحقیقی حیثیت یہ ہے کہ وہ عا جز ہے، اس کوکسی قسم کا ذاتی اختیار حاصل نہیں۔
مگر جوشخص آرام اور سکون میں ہو ، وہ زندگی کی اس حقیقت سے بے خبر ہوتا ہے۔ ایسے شخص کی زندگی مصنوعی سطح پرگزرنے لگتی ہے ۔ اس کے برعکس جوشخص غم میں ہو اس کا غم اسے حقیقت کی سطح پر لے جاتا ہے۔ وہ عین اسی سطح پر زندگی گزارنے لگتا ہے جو باعتبار واقعہ اس کی سطح ہے ۔
16مئی 1984
ڈاکٹر ایچ ڈی سنکالیا (H.D Sankalia) تاریخ اور علم الآثار کے مشہور ماہر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کی کوئی اثریاتی شہادت نہیں ہے کہ بھارت کی لڑائی کبھی سرے سے ہوئی ہو:
other sourceWords of another person or source
There is no archaeological evidence of Mahabharata war at all.
ڈاکٹر سٹکالیا پونہ میں یو این آئی کو ایک انٹرویو دے رہے تھے )اسٹیٹسمین، 25 ستمبر 1975ء)
other sourceWords of another person or source
17 مئی 1984
سابق وزیر اعظم ہند مسز اندرا گاندھی نے کہا تھا کہ لوگوں کو چاہئے کہ وہ خود اپنے اوپر ڈسپلن کو نافذ کریں نہ یہ کہ وہ ریاست کی طرف سے ان کے اوپر نافذ کیا جاۓ ۔
other sourceWords of another person or source
Discipline should be self-imposed, rather than state-imposed.
نظم اور ڈسپلن اوپر سے قائم کرنے کی چیز نہیں ۔ لوگوں کے اندر ڈسپلن کا مزاج ہو ، اسی وقت ڈسپلن قائم ہوتا ہے ۔ جو ڈسپلن حکومت کی طرف سے قائم کیا جائے وہ صرف جبر ہوتا ہے اور دوسری بدتر خرابیاں پیدا کرتا ہے۔
تاہم ہندستان میں جو عام بد نظمی ہے اس کے لئے حکومت کو معذور نہیں قرار دیا جاسکتا۔ حکومت کی مشنری کی بھی ایک ذمہ داری ہے ۔ اور اگر وہ اس کو ادا نہ کرے تو پھر اس مشنری کو قائم کرنے کی ضرورت ہی نہیں ۔
18 مئی 1984
سابق صدر مصرانور سادات نے اکتوبر 1983 کی مصر- اسرائیل جنگ کے واقعات کا انکشاف کیا۔ اس سلسلہ میں انھوں نے بتایا کہ مصری فوج نے 6 اکتوبر 1973 کو نہرسوئز پار کرنے کے لئے نیٹون پل استعمال کئے تھے۔ یہ پل روس سے حاصل کئے گئے تھے۔
other sourceWords of another person or source
انور سادات نے بتایا کہ روس نے ابتداء ان کو ایسے نپٹون پل مہیا کئے جو دوسری جنگ عظیم میں استعمال کئے گئے تھے۔ اس قدیم طرز کے نپٹون پل کو جوڑنے میں پانچ گھنٹے لگ جاتے ہیں ۔ حالانکہ جدید ترین نپٹون پل آدھ گھنٹے کے اندر اندر جوڑ دے جاسکتے ہیں۔ میں نے وزیر اعظم روس مسٹرکوسی گن سے جب سخت احتجاج کیا تو روس نے جنگ بندی سے کچھ دیر پہلے جدید نپٹون پل مہیا کئے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
دوسروں کے بل پر لڑنے والوں کا یہی انجام ہوتا ہے۔ وہ اپنے دشمن کے خلاف لڑائی چھیڑ دیتے ہیں اور جب مدد دینے والے ان کی مدد نہیں کرتے تو ان کے خلاف شکایت لے کر بیٹھ جاتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کی لڑائی بھی جھوٹی ہے اور ان کی شکایت بھی جھوٹی۔
19 مئی 1984
اسلام کی تاریخ عجیب و غریب واقعات سے بھری ہوئی ہے ۔ تاہم ایک واقعہ شاید ان میں سب سے زیادہ حیرت انگیز ہے ۔ تیرہویں صدی عیسوی کے نصف اول میں اسپین کی مسلم سلطنت مسیحی بادشاہ کے ہاتھوں ختم ہوگئی۔ اور اس کے ساتھ تاتاریوں کے عباس سلطنت کا خاتمہ کر دیا۔ مگر عین اسی وقت دو حیرت انگیز واقعات پیش آئے۔ ایک طرف اس زمانہ میں اسلام نے جنوبی ایشیا میں تجارت کے ذریعہ اپنا راستہ پالیا۔ دوسری طرف یہ واقعہ ہوا کہ قاتح تاتاریوں نے مفتوح مسلمانوں کے مذہب کو قبول کرلیا۔
اللہ تعالی نے اس طرح مثال قائم کر دی تھی کہ شکست کے بدترین حالات میں بھی اسلام کے لئے کامیاب پیش قدمی کے مواقع موجود رہتے ہیں ۔ مگر موجودہ زمانہ کے رہنماؤں کو اس سے کوئی سبق نہیں ملا۔ موجودہ مشکلات نے انھیں فریاد و احتجاج کے سوا اور کوئی تحفہ نہیں دیا۔
20 مئی 1984
دو مسلمانوں میں بحث ہورہی تھی ۔ ایک مسٹر جناح کے دو قومی نظریہ کا حامی تھا۔ دوسرا مسلمان مولانا حسین احمد مدنی کے متحدہ قومیت کی امید کر رہا تھا۔ اول الذکر مسلمان نے اپنے نقطہ نظر کے حق میں دلیل دیتے ہوۓ کہا :
" جناح کا دو قومی نظریہ بالکل صحیح تھا اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ ہم پائجامہ پہنتے ہیں اور اس کو آگے سے باندھتے ہیں۔ ہندو لوگ دھوتی پہنتے ہیں اور اس کو پیچھے سے باندھتے ہیں ۔"
opposing viewA view stated in order to be argued against
کیسے عجیب ہیں وہ لوگ جن کو یہ بھی نہیں معلوم کہ دلیل دوسری چیز ہے اورلطیفہ دوسری چیز۔
21 مئی 1984
بمبئی 21 ستمبر 1975 : بمبئی میں مہاراشٹر اسٹیٹ اینٹی فاشزم کانفرنس کا دو روزہ اجلاس ہوا۔ کانفرنس میں کانگریس اور کمیونسٹ لیڈروں نے تقریریں کیں۔ آخر میں متفقہ طور پر جو رزولیوشن (اعلان نامه) منظور کیا گیا۔ اس میں یہ درج تھا کہ اگر ملک میں ایمرجنسی لاگو نہ کی جاتی تو ہندستان میں بھی بنگلہ دیش کی کہانی دہرائی جاتی ۔
گویا بندستان کے لئے بنگلہ دیش نہایت بری چیز ہے۔ مگر یہی "بنگلہ دیش، پاکستان کے لئے اتنی اچھی چیز ہے کہ خود ہندستان بنگلہ دیشیوں کی مدد کر کے اسے بنواتا ہے اور فخر کرتا ہے کہ ہم نے بنگلہ دیش بنوایا ہے۔
22 مئی 1984
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مدینہ میں خلافت کی بحث شروع ہوئی۔ لوگ سقیفہ بنی ساعدہ میں جمع تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق نے اس موقع پر ایک تقریر کی۔ آپ نے قریش کے استحقاق خلافت کا ذکر کرتے ہوئے جو باتیں فرمائیں اس میں ایک جملہ یہ تھا ؛ هم اول من عبد الله في الارض (وہ پہلے لوگ ہیں جنھوں نے زمین میں اللہ کی عبادت کی) اس عبادت سے واضح طور پر وہ عمل مراد ہے جو انھوں نے مکہ میں کیا اور مکہ میں اس وقت عبادت کے معنی ذکر و نماز کے سوا اور کچھ نہ تھے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
خباب بن منذر انصاری نے جوابی تقریر میں انصار کا استحقاق خلافت ثابت کرتے ہوئے جو کچھ کہا اس میں ایک جملہ یہ تھا:
other sourceWords of another person or source
والله ما عبـدوالله عـلانية الا فى بلادكم ولاجمعت الصـلوة الا فی مسـاجـدکم (خدا کی قسم انھوں نے اللہ کی کھلی عبادت نہیں کی مگر صرف تمہاری سرزمین میں ۔ اور نماز باجماعت ادا نہیں کی گئی مگر صرف تمہاری مسجدوں میں (یعنی مدینہ میں)
other sourceWords of another person or source
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کے ذہن میں عبادت کا مفہوم کیا تھا۔ عبادت ان کے نزدیک پرستش کا نام تھی نہ کہ کسی اور چیز کا۔
23 مئی 1984
ابوالعباس احمد بن محمد بن کثیرالفرغانی (903 -832) خلیفہ مامون رشید کے زمانہ کا مسلم سائنس داں ہے۔ وہ ترکستان کے شہر فرغانہ میں پیدا ہوا ، اسی نسبت سے اس کو الفرغانی کہا جاتا ہے۔ مغربی مورخین اس کو الفریگانوس کہتے ہیں ۔
زمین کا محیط (گھیرا) ناپنےکی کوشش قدیم زمانہ سے جاری رہی ہے۔ یونانی ہیئت دانوں نے بھی زمین کا محیط نا پنے کی کوشش کی تھی۔ ان میں ارسطو اور بطلیموس کا نام خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ ارسطو نے اپنے بنائے ہوئے آلہ کے ذریعہ پیمائش کر کے بتایا تھا کہ زمین کا محیط 45964 میل ہے ۔
الفرغانی نے خلیفہ متوکل عباسی کے زمانہ میں زمین کا محیط معلوم کرنے کی کوشش کی ۔ الفرغانی اور اس کے ساتھیوں نے قدیم پیمانوں کے ذریعہ زمین کا جومحیط معلوم کیا وه 6802 فرسخ تھا۔ موجودہ پیمانہ کے لحاظ سے 25009 میل کے برابر ہوتا ہے ۔
قدیم زمانہ میں جب کہ جدید پیمائشی ذرائعہ حاصل نہ تھے۔ الفرغانی اور اس کے ساتھیوں کی یہ دریافت حیرت انگیز تھی۔ انھوں نے زمین کے محیط کی جو پیمائش بتائی وہ اصل سے بہت قریب تھی ۔ موجودہ زمانہ کی پیمائش کے مطابق زمین کا اصل محیط 24858 میل ہے ۔
24 مئی 1984
نیکی اور بدی کی دوقسمیں ہیں ۔ ایک وہ جن کا علم وحی کے ذریعہ ہوتا ہے۔ دوسری وہ جو ضمیر اور عقل کی سطح پر ہرانسان کو معلوم ہیں۔ نیکی اور بدی کی اسی دوسری قسم کو معروف اور منکر کہا جاتا ہے۔
موجودہ زمانہ کے لوگوں تک وحی کی ہدایت نہیں پہنچی ہے۔ مگر لوگوں کے اندر بڑھی ہوئی برائیوں کو دیکھئے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ لوگ اخلاقی سطح پر ہی ڈسکر یٹ ہورہے ہیں ۔ وحی کی باتیں اگر لوگوں کومعلوم نہیں ہیں تو یا انھیں عقل اورضمیر کی باتیں بھی نہیں معلوم ہیں۔ کیا وہ معروف اور منکر کو بھی نہیں جانتے۔ پھرمعروف اور منکر کر کے معاملہ میں لوگوں کی مجرمانہ غفلت کا ان کے پاس کیا جواز ہے ۔
26 مئی 1984
آج کل ہرطرف احتساب کی دھوم مچی ہوئی ہے ۔ مگر یہ نام نہاد احتساب زمانہ اور کائنات کے احتساب کے لیے ہے کہ اپنا احتساب کرنے کے لئے ۔ زمانہ کا احتساب اور کائنات کا احتساب، یہ سب محض الفاظ کے کھیل ہیں۔ یہ اپنی بے عملی کو بڑے بڑے الفاظ میں چھپانا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ احتساب کرنے والاصرف وہ ہے جو اپنا احتساب کرے۔ جو اپنے آپ کو پیاز کے چھلکے کی طرح چھیل کر دیکھے کہ وہ کیا ہے اور کیا نہیں ہے۔ جس نے دنیا میں اپنا احتساب کیا وہ آخرت کے حساب سے بچ جائے گا۔ اور جو شخصاحتساب عالم کے نعرے لگائے اس کو اس قسم کے لفظی شعبدے خدا کی پکڑ سے بچانے والے ثابت نہیں ہوسکتے ۔
27 مئی 1984
"مرد نے ہمیشہ عورت کو ستایا ہے"۔ ایک صاحب نے کہا۔ میں نے کہا کہ یوں نہ کہیئے بلکہ یوں کہئے کہ طاقتور ہمیشہ کمزور کوستاتا ہے۔ یہ مسئلہ مرد اور عورت کا نہیں بلکہ طاقت ور اور کمزور کا ہے عورت جب نکاح کے بعد مرد کے گھر میں آتی ہے تو اکثر حالات میں وہ کمزور حالت میں ہو تی ہے ۔ اس لئے مرد اپنے کو اس کے مقابلہ میں اپنے کو طاقت ور پاکر اس کو ستاتا ہے ۔ اس کے مقابلہ میں جب کبھی عورت کی پوزیشن زیادہ طاقتور ہوجاتی ہے تو وہ مرد کوستانے لگتی ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
بیشتر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ حالات سے کنٹرول ہوتے ہیں۔ ان کے جیسے حالات ہوں ویسے ہی وہ بن جاتے ہیں۔ آدمی طاقت ور ہو،پھر بھی وہ کمزور کو نہ ستائے ۔ آدمی برتر پوزیشن رکھتا ہو، پھر بھی وہ کمتر پوزیشن والے شخص کا احترام کرے ، اس کے لئے ذہنی ڈسپلن کی ضرورت ہوتی ہے اور دنیا میں ہمیشہ ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں جو ذہنی ڈسپلن کے ساتھ زندگی گزاریں۔ بیشتر لوگ وہ ہیں جو اپنے جذبات کے تابع ہو تے ہیں نہ کہ اپنی عقل کے تابع ۔
28 مئی 1984
میں باتھ روم میں بڑے شیشے کے سامنے کھڑا تھا کہ اچانک مجھ پر ایک لمحاتی تجربہ گزرا۔ سامنے کے شیشے میں میرا پور اوجود کامل صورت میں کھڑا ہوا موجود تھا۔ وہ ٹھیک دیا ہی دکھائی دے رہا تھا جیاکہ وپیشہ کے باہر فی الواقع تھا۔ اس وقت اچانک مجھے ایسا محسوس ہوا گویامیں انسان کے اخروی شنی کو دیکھ رہا ہوں۔ ہر آدمی جو موجودہ دنیا میں ہے وہ اپنی سوتے اور اپنے عمل کے اعتبار سے اپنا ایک جوڑا یا پانی خلیق کر رہا ہے۔ اس کا یہ شنی آخرت کی دنیا میں بن رہا ہے۔ موجودہ دنیا میں آدمی اپنے ظاہر کے مطابق ہوتا ہے۔ آخرت میں وہ اپنے باطن کے مطابق ہوگا۔ موجودہ دنیا میں آدمی کا ظاہری وجود نیاہے۔ آنت میں
آدی کا باطنی دیور بن رہا ہے ۔ موت کے بعد آدمی اپنے اس مٹی کو پائے گا۔ میں نے جب اپنے وجودکومین اس صورت میں بڑے شیشے میں دیکھا بھیا کہ وہ اس کے باہر تھا تو ایسا محسوس ہوا گویا میں آخرت کے معاملہ کو آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔ دوسری دنیا کا ای موجودہ دنیا میں تجربہ کر رہا ہوں۔
29 مئی 1984
قرآن میں سب سے زیادہ زور جس چیز پر دیا گیا ہے وہ یہ کہ انسان صرف ایک خدا کو اپنا الٰہ مانے اور صرف اس کی عبادت کرے۔
اس سے مراد یہ ہے کہ انسان صرف ایک خدا کو اپنی توجہات کا مرکز بنائے ۔ خدا کو ایک انسان سے اصلا جو چیز مطلوب ہے وہ نفسیاتی سرافگندگی (psychological surrender) ہے ۔ موجودہ زمانہ کے بعض مسلم مفکرین نے اس نفسیاتی سر افگندگی کو سیاسی سر افگندگی ( political surende )کے معنی میں لے لیا۔
یہ زبردست گمراہی ہے ۔ جو لوگ اس فکر سے متاثر ہوئے ان کے لئے اسلام کمیونسٹ نظام کی طرح بس ایک نظام بن گیا ۔ اسلام کا اصل نشانہ انسان کی اپنی نفسیات ہے مگر اس فکر نے اسلام کو ایک ایسی چیز بنا دیا جس کا نشانہ خارج میں ہو۔ چنانچہ اس فکر کے متاثرین خارجی سیاسی نظاموں سے ٹکرارہے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ اسلام کو قائم کرنے کا کام کر رہے ہیں۔
30 مئی 1984
قرآن کی سورہ نور کی آیت ہے : الله نور السماوات و الارض (اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے) اس آیت کی تفسیر میں ابن کثیر نے لکھا ہے:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
وقرأ بعضهم : الله منور السماوات والارض.
وعن الضحاك : الله نور السماوات والارض
( بعض نے اس آیت میں نور کو منور پڑھا، یعنی روشن کرنے والا ۔ ضحاک نے اس کو نور پڑھا ، یعنی اللہ نے روشن کیا ۔
other sourceWords of another person or source
قدیم تفسیروں میں اس طرح کے فقرے جگہ جگہ آتے ہیں۔ اس سے بعض لوگوں نے یہ نکالا ہے کہ قرآن میں اختلاف قرأت ہے ۔ یعنی ایک آیت کو ایک عالم نے ایک اندازسے پڑھا اور دوسرے عالم نے اس کو دوسرے انداز سے پڑھا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مگر یہ غلط فہمی ہے۔ اصل یہ ہے کہ یہ قرات کا اختلاف نہیں۔ یہ قرآت تفسیری ہے نہ کہ قرآت اختلافی ۔ عینی مذکورہ عالم نے " نور " کو منور یا نور پڑھ کر لفظ نورکی تفسیر کی نہ یہ کہ انھوں نے یہ بتایا کہ میرے نزدیک قرآن کی آیت اس طرح نہیں ہے، اس طرح ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
31 مئی 1984
انسان اس زمین کی سب سے زیادہ سرکش مخلوق ہے ۔ وہ شیر اور بھیڑئے سے بھی زیادہ سرکشی کرتا ہے۔ کوئی دلیل یا کوئی شرافت انسان کو نہیں جھکاتی ۔ وہ صرف اس وقت جھکتا ہے جب کہ اس کا سامنا ایسی طاقت سے ہو جس کے مقابلہ میں وہ اپنے آپ کو بالکل مجبور پائے ۔
انسان کی سرکشی کے بارے میں مجھے بے حد تلخ تجربات ہوئے ہیں ۔ ان کو سوچتے ہوئے میری زبان سے نکلا :
اللہ تعالی کی ذات میں اگروہ تمام صفتیں ہوتیں جو قرآن میں بتائی گئی ہیں مگراس کے پاس طاقت نہ ہوتی تو انسان اللہ کے آگے بھی جھکنے کے لئے تیارنہ ہوتا ۔