Maulana Wahiduddin Khan
1 min left
0:00

← Diary 1983-1984
Diary 1983-1984

April 1989

English · 1 min read

8 اپریل 1989

سورہ نساء کی آیت نمبر41 میں ہے : پس اس وقت کیا ہوگا جب ہم ہر ایک امت سے ایک گواہ لائیں گے اور تم کو ان لوگوں کے اوپر گواہ بنائیں گے۔ روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم جب اس آیت پر پہنچتے تو آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے (کان النبي صلى الله عليه وسلم اذا اتیٰ علیھا فاضت عيناه)

quoted sourceQuoted from another author or source

اس آیت کی تشریح میں مولانا عبدالماجد دریابادی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں : جن بے دردوں نے قرآن کو کلام محمدی ٹھہرایا ، وہ غورکریں کہ ہمیں اپنے گڑھے ہوئے کلام سے بھی انسان کے آنسو جاری ہوسکتے میں (تفسیر ماجدی جلد دوم صفحہ 7 )

other sourceWords of another person or source

یہ ایک صحیح مقدمہ کی غلط وکالت ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن اللہ کا کلام ہے۔ مگر مذکورہ دلیل خالص علمی اعتبار سے اس کو ثابت کرنے کے لئے کافی نہیں ۔

آنسو نکلنے کا تعلق اصلا قلب سے ہے نہ کہ کلام سے ۔ کوئی کلام خواہ وہ اپنا ہو یا دوسرے کا جب آدمی کو لطیف حقائق سے جوڑتا ہے تو اس کی آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں۔ آنسوحقیقتہ اس معرفت کا نتیجہ ہے حبس کا تجربہ مختلف صورتوں میں آدمی کے اوپر گزرتا ہے۔ یہ تجربہ خود اپنے کلام سے بھی ہوسکتا ہے اور دوسرے کے کلام سے بھی۔ میرے اوپر بار بار یہ تجربہ گزرا ہے کہ میں نے اپنی تحریر پڑھی اور میری آنکھوں سے بے اختیار آنسو جاری ہوگئے ۔

Highlights
Reading

The realization of God is the essence of religion. Without maarifah, religion is reduced to a spiritless form.

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content