← Diary 1983-1984Diary 1983-1984
April 1984
English · 29 min read
یکم اپریل 1984
قدیم لٹریچرتمثیلات سے بھرا ہوا ہے۔ قدیم زمانہ کے علماء اکثر مثالوں کے ذریعہ بات کہا کرتے تھے۔ مگر مثال بذات خود دلیل نہیں ۔ مثال پیش کرنے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک وضاحت، دوسرے استدلال پہلی صورت علمی طور پر جائز ہے اور دوسری صورت علمی طور پر جائز نہیں۔
ایک بات جو دوسرے دلائل سے ثابت ہو چکی ہو اس کی مزید وضاحت کے لئے کوئی مثال پیش کرنا درست ہے ۔ ایسی مثال اصلی دعوی کی دلیل نہیں ہوتی وہ اصل دعوی کی صرف مزید تشریح ہوتی ہے۔
دوسری صورت یہ ہے کہ ایک دعوی کیا جائے اور اس کی دلیل کے طور پر ایک مثال پیش کی جاۓ۔ مثال کے طور پر وحدت الوجود کا نظریہ۔اس نظریہ کے پیش کرنے والے ہمیشہ مثالوں کے ذریعہ اس کو ثابت کرتے ہیں ۔ ان میں سے ایک عام مثال سمندر اور قطرہ کی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سمندر سمندر ہے اور قطرہ قطرہ۔ مگر قطرہ بھی انتہائی چھوٹی سطح پرسمندر ہی کا ایک حصہ ہے۔
مگر یہ مثال وحدت الوجود کے نظریے کو ثابت نہیں کرتی ۔ یہ مثال صرف اس وقت اصل نظریہ کا ثبوت بنے گی جب کہ اس کے ساتھ یہ بھی ثابت کیا جائے کہ دونوں میں استدلالی ربط ہے مثلاً کوئی ایسی آیت یا حدیث پیش کی جائے جس میں صراحتہ یہ بتایا گیا ہو کہ خالق اور مخلوق کے درمیان وحدت الوجود کارشتہ ہے اور اس رشتہ کو نظریاتی طور پرقابل فہم بنانے کے لئے اللہ تعالی نے سمندر اور قطرہ کی تمثیل دنیا میں قائم کر دی ہے۔ تم سمندر اورقطرہ کو دیکھو اور اس سے وحدت الوجود کے مسئلہ کو سمجھ لو ۔ مثال ہمیشہ ایک علیحدہ چیز ہوتی ہے اس کو کسی بھی بات سے جوڑا جاسکتا ہے۔ اس لئے کہا گیا ہے کہ تمثيل استدلال کا سب سے کمزور طریقہ ہے :
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Analogy is the weakest from of argument.
2 اپریل 1984
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی بیویاں کیوں کیں، اس کی توجیہہ کرتے ہوئے مولانا شبیر احمد عثمانی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں :
other sourceWords of another person or source
"اکمل البشر نے خود اپنی نسبت فرمایا کہ مجھ کوجو جسمانی قوت عطا ہوئی ہے وہ اہل جنت میں سے چالیس مردوں کے برابر ہے جن میں سے ایک مرد کی قوت ایک سو مرد کے برابر ہوگی۔ گویا دنیا کے چار ہزار مردوں کے برابر قوت حضور کو عطا فرمائی گئی تھی۔ اس حساب سے اگر چار ہزار بیویاں آپ کے نکاح میں ہوتیں تو آپ کی قوت کے اعتبار سے اسی درجہ میں شمار کیا جاسکتا تھا جیسے ایک مرد ایک عورت کے ساتھ نکاح کرے لیکن اللہ اکبر، اس شدید ریاضت اور ضبط نفس کا کیا ٹھکانہ کہ 53 سال کی عمراس زہر کی حالت میں گزار دی۔ دنیا کا سب سے بڑا بے مثال انسان جو اپنے فطری قویٰ کے لحاظ سے کم از کم چار ہزار بیویوں کا مستحق ہو ، کیا نو کاعدد دیکھ کر کوئی انصاف پسند اس پر کثرت ازدواج کا الزام لگا سکتا ہے۔ صفحہ 550
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
رسول اللہ صلی علیہ وسلم کی مدافعت کا یہ کتنا سطحی انداز ہے ۔ یہ سطحی انداز کیوں پیدا ہوا۔ اس کی وجہ دعوتی ذہن کا ختم ہونا ہے۔ مسلمان اپنے جذبہ فخر کی تسکین کر کے مطمئن ہو جاتے ہیں۔ اس کے بعد انھیں اس کی فکر نہیں ہوتی کہ دوسروں پر ان کی باتوں کا کیا اثر پڑے گا۔
دعوتی ذہن دوسروں کی رعایت کر کے بولتا ہے، اور فخریہ ذہن اپنے سوا کسی اور کی رعایت کرنا نہیں جانتا۔
3 اپریل 1984
کسی کا قول ہے : من ابصر عيب نفسه شغل عن عيب غيرہ (جو شخص اپنےعیب کو دیکھے وہ دوسرے کے عیب کو دیکھنے سے دور رہے گا۔)
other sourceWords of another person or source
دنیا کے اکثر جھگڑے صرف اس لئے پیدا ہوتے ہیں کہ لوگ ہمیشہ دوسروں کے عیب کو دیکھنے میں لگے رہتے ہیں۔ اگر لوگوں میں اپنا عیب دیکھنے کا مزاج آجائے تو اکثر جھگڑے اپنے آپ ختم ہو جائیں۔
نیزیہ کہ اپنے عیب کو دیکھنا ہی آخر کار آدمی کے کام آتا ہے ۔ اس سے آدمی کی اصلاح ہوتی ہے اور دنیا و آخرت میں اسے کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ دوسرے کے عیب میں مشغول رہنا ہمیشہ اس قیمت پر ہوتا ہے کہ آدمی اپنے آپ سے بے خبر ہو جائے۔ وہ دوسروں کے پیچھے اپنے آپ کو کھو دے۔
4 اپریل 1984
قطر ( رءاسة الشئون الدينية ) سے ایک کتاب چھپی ہے جس کا نام ہے ؛
الحرمان والتخلف في ديار المسلمين
(مسلم ممالک کا پچھڑا پن) اس کتاب میں مختلف اعتبار سے مسلم ملکوں کو مختلف دکھایا گیا ہے۔ اس میں ایک بات یہ کہی گئی ہے :
تقول مصادر الامم المتحدة ان اكثر من نصف سكان بنجلاديش البالغ عـددهـم۹۲ مليونا من الـبـشـريـيشوندونمستوىالكفاف
other sourceWords of another person or source
اقوام متحدہ کےذرائع بتاتےہیں کہ بنگلہ دیش جہاں 92 ملین انسان بستے ہیں اس کی آدھی سے زیادہ آبادی ناگزیر ضروریات سے کم تر سطح پر زندگی گزار رہی ہے ۔
other sourceWords of another person or source
موجودہ صدی کے نصف اول میں ہندستان کے مسلم لیڈروں نے نعرہ لگایا کہ مسلمانوں کی بربادی کا سبب ہند و امتیاز ہے ، اس لئے ہم کو الگ ملک (پاکستان) چاہئے۔ پاکستان بن گیا تو شیخ مجیب الرحمن جیسے لوگ اٹھے۔ انھوں نے کہا کہ سونار بنگلہ (سونے کے بنگلہ ملک) کو پاکستان نے کنگال بنادیا ہے ، اس لئے ہم کوالگ کرو ۔ اس کے بعد بنگلہ دیش الگ ملک بن گیا ۔ اب حال یہ ہے کہ بنگلہ دیش دنیا کا سب سے برباد ملک ہے۔ سونے کا بنگلہ مٹی کا بنگلہ بن گیا۔
مذکورہ کتاب کے مطابق مجموعی اعتبار سے مسلمان دنیا کی سب سے زیادہ بھری ہوئی قوم میں اوران کے پچھڑے پن کا مزید نقصان یہ ہے کہ عیسائی مشنریاں ان میں اپنے لئے کام کا میدان پا رہی ہیں ۔ انڈونیشیا بھی انھیں پسماندہ مسلم ممالک میں سے ہے ۔ 1976 میں جمعیت الانجیل نے دعوی کیا تھا کہ انڈونیشا میں400 ہزار مسلم افراد عیسائی مذہب اختیار کر چکے ہیں۔
other sourceWords of another person or source
6 اپریل1984
فرانس میں ایک اصطلاح وضع ہوئی جس کو گال ازم (Degaullism) کہا جاتا تھا۔ یہ اصطلاح فرانس کے سابق حکمران پارلس ڈیگال(1970 - 1890 ) کے نام سے لی گئی ہے ۔
ڈیگال کو فرانس میں اقتدار ملا تو فرانس یورپ کا ایک کمزور ملک بنا ہوا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ افریقہ میں اس کے مقبوضات میں آزادی کی تحریک چل رہی تھی۔ اور فرانس کی تمام طاقت ان تحریکوں کو دبانے اور کچلنے میں استعمال ہو رہی تھی ۔ ڈیگال کی مثبت پالیسیوں (positive policies) کے لئے یہ صورتحال رکاوٹ بنی ہوئی تھی۔ فرانس نے اپنے (great power) ہونے کی حیثیت کھو دی تھی ۔ اس نے فیصلہ کیا کہ افریقہ کے فرانسیسی مقبوضات کو آزاد کر دے۔ انسائیکلو پیڈیا کے الفاظ میں:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
He settled the problem of Algeria when no one else could (7/965)
ڈیگال نے اس وقت الجیریا کے مسئلہ کو حل کر دیا جب کہ کوئی اس کو نہیں کر سکتا تھا۔
اس کے نتیجے میں ڈیگال پر سخت تنقیدیں ہوئیں ۔ اس کے اوپر قاتلانہ حملے کئے گئے۔ اگلے الکشن میں اس نے حکومت کھو دی ۔جب اس کا انتقال ہوا تو اس کے جنازہ میں چند رشتہ داروں کے سوا کوئی شامل نہ تھا۔ گال ازم اپنی قیادت کی قیمت پر ملک و قوم کو زندگی دینا ہے۔ برٹانیکا کے الفاظ یہاں قابل نفل ہیں :
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Courage to take the necessary decisions with all the political and personal risks (7/965).
ہرقسم کے سیاسی اور ذاتی خطرات کا اندیشہ مول لے کرضروری فیصلے کرنے کا حوصلہ ۔ ڈیگال نے یہ حوصلہ دکھایا۔ اس نے اپنی قیادت کو ختم کر کے فرانس کو طاقت ور بنا دیا۔
7 اپریل 1984
کم کی موجودگی زیادہ کی موجودگی کا ثبوت ہے ۔ اگر زیادہ نہ پایا جائے توکم کا پایا جانا بھی ممکن نہیں ۔
اگر دنیا میں صرف اتنا ہی پانی ہوجتنا پانی کسی بارش کے وقت اوپر سے برستا ہے تو زمین پر کبھی بارش نہ ہوسکے ۔ تھوڑا پانی اس وقت برستا ہے جب کہ یہاں زیادہ پانی موجود ہو ۔ بارش کے بقدر پانی برسنے کے لئے سمندر کے لیےسمندر کے بقدر پانی کا ذخیرہ ہونا ضروری ہے۔
یہ فطرت کا قانون ہے ۔ روشن سورج کو ظہور میں لانے کے لئے ایک روشن تر نور کامل کا وجود ضروری ہے ۔ پھول کی تخلیق اس وقت ممکن ہے جب کہ یہاں پھول سے زیادہ لطیف اور حسین ہستی موجود ہو۔
حقیقت یہ ہے کہ محدود دنیا کی موجودگی لامحدود خالق کی موجودگی کا کھلا ہوا ثبوت ہے۔ کائنات خود خدا نہیں ہوسکتی ۔ کائنات کا خالق وہی ہوسکتا ہے جو کائنات سے زیادہ عظیم ہو۔
9 اپریل 1984
پنڈت جواہرلال نہرو نے آزادی (1947) سے پہلے اپنی آٹوبیاگریفی لکھی۔ اس کا خاتمہ انہوں نے ان الفاظ پر کیا تھا مستقبل میں کیا ہوگا کچھ نہیں معلوم ، کتاب زندگی کے اگلے ورق سربمہر ہیں۔
other sourceWords of another person or source
اس کے بعد ہندستان آزاد ہوا اور جواہرلال نہر کو ملک کا اقتدار حاصل ہوگیا مگرسابق صورتحال بدستور باقی رہی ۔ 10 دسمبر 1960 کو مدراسی ایجوکیشن اسوسی ایشن اسکول کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے نہرو نے ملک کے سیاسی اور معاشی مسائل کا ذکر کیا۔ ٹائمس آف انڈیا (12 دسمبر 1960 ) کی رپورٹ کے مطابق انھوں نے کہا کہ ہمارے خوابوں کی دنیا جو ابھی قریب نہیں آئی ہے ، مگر وہ آکر رہے گی :
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
One world of our dream, which is still perhaps not nearer, must come.
27 مئی1964 کو نہرو کا انتقال وزارت عظمٰی کی کرسی پر ہوا تاہم اپنے خوابوں کی دنیا سے اب بھی وہ اتنا ہی دور تھے جتنا کہ وہ آزادی اور اقتدار پانے سے پہلے تھے۔
حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا امتحان کی جگہ ہے نہ کہ اپنے خوابوں کی تعبیر پانے کی جگہ ۔ بیشتر انسان اپنی ساری زندگی مایوسی کا شکار رہتے ہیں۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اس راز کوسمجھ نہ سکے۔
10 اپریل 1984
سورہ نساء آیت نمبر19 میں ارشاد ہوا ہے کہ اور جو شخص اللہ اور رسول کی اطاعت کرے تو ایسے لوگ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے اپنا انعام کیا، نبی اورصدیق اور شہید اور صالحین ۔ اس آیت کی تشریح میں ایک مفسر قرآن لکھتے ہیں ۔
quoted sourceQuoted from another author or source
” اس اطاعت کا تعلق فرائض و واجبات سے ہے ورنہ اگر فرائض و واجبات کے علاوہ مستحبات ، نوافل تطوعات کا بھی اسی قدر اہتمام ہو جائے تو پھر درجہ ولایت خود ہی حاصل ہو جائے گا (جلد دوم صفحہ 80)
مفسر کی زبان سے یہ جملہ تصوف کے زیراثر نکلا ہے جس نے ظواہر اعمال کو حقیقت اعمال کا بدل بنا دیا۔ یہ صحیح نہیں کہ کوئی شخص ان ظاہری اعمال کا اہتمام کرنے میں کو عام طور پر مستحبات و نوافل کہا جاتا ہے تو وہ خود بخود ولی ہوجائے گا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ولایت دراصل معرفت کا ایک درجہ ہے۔ وہ کسی آدمی کوشعوری سفر کے بعد حاصل ہوتا ہے ۔ مستحبات ونوافل کا کوئی کورس ایسا نہیں جس کو پورا کر کے آدمی خود بخود ولی بن جائے ۔
11 اپریل 1984
سورہ مائدہ کی آیت نمبر6 وضو کے بارے میں ہے ۔ ابن العربی نے لکھا ہے کہ بعض علماء نے کہا ہے کہ اس آیت کے اندر ایک ہزار مسئلے ہیں ۔ انھوں نے مزید لکھا ہے کہ کچھ فقہا مدینۃ السلام میں جمع ہوئے اور اس کا تتبع کیا تو وہ آٹھ سو مسائل تک پہنچے مگر وہ ایک ہزار مسائل معلوم نہ کر سکے. (ولقد قال بعض العلماء ان فيها الف مسئلة واجتمع اصحابنا بمدينة السلام فتتبعوها فبلغوها ثمان مسئلۃ ولم يقدروا ان يبلغوها الألف )
quoted sourceQuoted from another author or source
یہ بات میں نے ایک جدید تعلیم یافتہ آدمی کو سنائی تو اس نے ہنس کر کہا : جب وضو اتنی پیپیدہ چیز ہے تو نماز کتنی پیچیدہ چیز ہوگی ۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی آیت سے آٹھ سو اور ایک ہزار مسائل نکالنا یہودیت ہے، اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ اسلام مینیت کہ " کا نام ہے نہ کہ مسائل ظاہری کی کثرت کا ۔
12 اپریل 1984
حق کے داعی کا معاملہ کوئی سادہ معاملہ نہیں ۔ یہ تمام کاموں میں سب سے زیادہ مشکل کام ہے۔ یہ دنیا میں خدا کی نمائندگی ہے ۔ یہ روح کا اپنے آپ کو خدا کے حوالے کرنا ہے۔ یہ دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کا گواہ بننا ہے۔
13 اپریل 1984
ٹیگور نے کہا ہے کہ ـــــــ۔ ساری عمرتاروں کو ٹھیک کرنے میں بیت گئی جوانتم گیت مجھے گانا تھا وہ میں نہ گا سکا۔
other sourceWords of another person or source
ایسا ہی کچھ حال میرا بھی ہے۔ جب بھی میں کوئی کتاب تیار کرتا ہوں تو وہ مجھے ناکافی معلوم ہوتی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جو بات کہی تھی وہ کہنے سے رہ گئی۔ کوئی کتاب بھی جو میں نے لکھی ہے وہ مجھے اپنی نظر میں ایسی نہیں لگتی کہ مجھے جو کچھ کہنا تھا وہ میں نے کہ دیا۔
اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ حقیقت کے مقابلہ میں تمام الفاظ محدود ہیں۔ جس شخص کوحقیقت کا ادراک ہوتا ہے اس کو حقیقت کے مقابلہ میں اپنے تمام الفاظ محدود نظر آنے لگتے ہیں۔ وہ اپنے ذخیرہ کے تمام الفاظ کو استعمال کر کے بھی محسوس کرتا ہے کوحقیقیت بیان ہونے سے رہ گئی ۔
14 اپریل 1984
مولانا آزاد سبحانی (م 1957 ) کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کامشن یہ ہے کہ وہ دنیا میں خلافت الہیہ کا نظام قائم کریں ۔ اس کو وہ سب سے زیادہ اہم دینی فریضہ کہتے تھے۔ حتی کہ ان کا خیال تھا کہ جب بھی دو مسلمان آپس میں ملیں تو ان کو چاہئے کہ اس کی یاد تازہ کرنے کے لئے ایک دوسرے کو اس طرح سلام کریں : السلام علیکم ورحمتہ اللہ نحن خلیفۃ اللہ۔
other sourceWords of another person or source
مولانا آزاد سبحانی نے یہ نہیں سوچا کہ "سلام" ایک مسنون فعل ہے ۔ اس لئے اس کا وہی طریقہ صحیح ہوسکتا ہے جو سنت رسول اور سنت صحابہ سے ثابت ہو۔ـــ نظریہ سازی آدمی کو سادہ حقیقتوں کو سمجھنے سے بھی محروم کر دیتی ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
15 اپریل 1984
میں اکثر کہا کرتا ہوں کہ میری محبوب چیزیں تین ہیں گھڑی ، قلم ، اور مسواک۔
عجیب بات یہ ہے کہ آج تک مجھے اپنی پسند کا قلم نہیں ملا۔ میں نے بے شمار ملکی اور غیر ملکی قلموں کا تجربہ کیا۔ حال میں دبئی سے کراس (Cross) قلم منگوایا۔ مگر کوئی قلم میری پسند پر پورا نہیں اترتا۔
جان محمد صاحب (انگریز نومسلم ) قلم کے بارہ میں میری دل چسپی کا حال جانتے تھے، وہ لندن سے دہلی آئے تو میرے لئے ایک قلم لائے۔ انھوں نے بتایا کہ انھوں نے خاص طور پر تلاش کر کے آکسفرڈ کی ایک دکان سے اسے خریدا ہے ۔ مگر اس کو بھی جب میں نے استعمال کیا تو وہ بھی میری پسند کے مطابق نہ تھا۔
جان محمد صاحب کو معلوم ہوا تو انھوں نے کہا کہ آپ کو کوئی بھی قلم پسند نہیں آئے گا۔ میں نے کہا کیوں۔ انھوں نے کہا :
" اس لئے کہ آپ perfectionist ہیں۔
یہ واقعہ ہے کہ میرے مزاج میں perfection بہت زیادہ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی چیز میرے معیار پر پوری نہیں اترتی۔ کمالیتperfection بہت اچھی چیز ہے ۔ مگرموجودہ دنیا میں اس کا حصول ممکن نہیں ۔
16 اپریل 1984
سورہ مائدہ کی آیت نمبر 8 میں حکم دیا گیا ہے کہ کسی سے تمہاری دشمنی ہو جائے تب بھی اس کے ساتھ بے انصافی نہ کرو۔ اس آیت کی تشریح میں مفسر قرطبی لکھتے ہیں:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
دلت الآية على ان کفر الکافر لا یمنع من العدل علیہ اس آیت سے ثابت ہوا کہ کافر کا کفراس سے نہیں روکتا کہ اس کے ساتھ انصاف کا معاملہ کیا جائے ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
وہ اسلام جس کی تعلیم میتھی کہ کا فرد مشرک سے بھی بے انصافی کا معاملہ نہ کرو ، اس اسلام کو ماننے والے آج اپنے دینی بھائیوں سے بھی انصاف کرنا نہیں جانتے۔
17 اپریل 1984
غالبا 1966 کا واقعہ ہے۔ اس وقت میں ندوہ (لکھنو) میں تھا ۔ ایک مسلم نوجوان قاہرہ سے ڈاکٹریٹ کر کے آئے تھے۔ ندوہ کے لڑکوں نے مجھے بتایا کہ وہ اشتراکیت سے متاثر ہیں اور ہم لوگوں میں اشتراکیت کے حق میں تقریر کرتے رہتے ہیں مگر ہم لوگ ان کا توڑ نہیں کر پاتے۔ اجازت دیجئے تو ان کو آپ کے پاس لے آئیں ۔ میں نے کہا کہ ٹھیک ہے ، لے آئیے۔
اس کے بعد ایک روز رات کو ندوہ کے لڑکے مذکورہ "ڈاکٹر صاحب" کولے کر میرے پاس آئے۔ گفتگو شروع ہوئی۔ ابھی انھوں نے اشتراکیت کی تبلیغ میں کچھ نہیں کہا تھا۔ میں نے آغاز کرتے ہوئے کہا :
” میں نے اشتراکیت کو سمجھنے کے لئے دس ہزارصفحات پڑھے ہیں ۔" میرے اس جملہ کے بعد مذکورہ ڈاکٹر صاحب کاعجیب حال ہوا ۔ اس کے بعد انھوں نے اشتراکیت کے موضوع پر ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ وہ ادھر ادھر کی بات کرتے رہے اور اس کے بعد چلے گئے۔
بعد کو ندوہ کے لڑکوں نے کہا کہ یہ تو بڑا عجیب ماجرا ہوا۔ ہم لوگوں سے تو جب بھی وہ ملتے تھے صرف اشتراکیت ہی کے موضوع پر بات کرتے تھے۔ اور آپ سے ملے تو وہ اشتراکیت کے موضوع پر ایک لفظ بھی نہیں بولے ۔
other sourceWords of another person or source
18 اپریل 1984
ایک فرنیچر ساز کمپنی کی گاڑی سٹرک پر آ کر کھڑی ہوئی ۔ وہ اپنی کمپنی کا اشتہار کر رہی تھی ۔ گاڑی کے اوپر جلی حرفوں میں یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے۔
We treat your furniture like our own
ہم آپ کے فرنیچر کے ساتھ اپنے فرینچر جیسا معاملہ کرتے ہیں۔
تاجر کی کامیابی اس میں ہے کہ وہ گاہک کو یقین دلا دے کہ وہ اس کے معامہ کواپنا معاملہ سمجھتا ہے۔ وہ اس کو جو چیز دے گا گویا کہ وہ خود اپنے گھر کے لئے وہ چیز فراہم کر رہا ہے۔
تاجر اور گاہک کے درمیان اس قسم کا اعتماد قائم ہونا تجارت کی کامیابی کا سب سے بڑا راز ہے۔ یہی معاملہ دعوت کا بھی ہے ۔ دعوت کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ داعی اور مدعو کے درمیان گہرے اعتماد کی فضا قائم ہو جائے ۔
غالبا یہی وجہ ہے کہ قرآن میں پیغمبروں کی زبان سے اپنے مخاطبین کے لئے یہ کہلایا گیا ہے کہ : انی لکم ناصح امین (میں تمہارا خیر خواہ ہوں اور تمہارا امین ہوں ۔)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
19 اپریل 1984
ڈیل کارنیگی نے لکھا ہے :
we hate our enemies, we give them power over us - power over our Whe sleep, our appetites and our happiness. They would dance with joy, if they knew how much they were worrying us. Our hate is not hurting them at all, but it is turning our own days and nights into hellish turmoil.
جب ہم اپنے دشمنوں سے نفرت کرتے ہیں تو ہم ان کو اپنے اوپر غلبہ دے دیتے ہیں، غلبہ اپنی نیند پر، اپنی اشتہا اور اپنی خوشی پر۔ وہ خوشی سے ناچیں اگر وہ جان لیں کہ وہ ہم کو کتنا زیادہ پریشان کر رہے ہیں۔ ہماری نفرت ان کو کچھ بھی نقصان نہیں پہنچاتی۔ البتہ وہ ہمارے دنوں اور راتوں کو جہنمی عذاب میں تبدیل کر رہی ہے۔
دوسروں سے نفرت کرنا خود اپنے آپ سے نفرت کرنا ہے ۔ اور دوسروں سے محبت کرنا خود اپنے آپ سے محبت کرنا۔
20 اپریل 1984
میری پوری زندگی میں سب سے زیادہ نمایاں طور پر جو چیز چھائی رہی وہ ہے غیرمصالحانہ رویہ (uncompromising attitude) اپنے رشتہ داروں کے ساتھ ، اپنے دوستوں کے ساتھ جماعت اسلامی ، ندوه ، جمعیتہ علماء ، جس سے بھی میرا واسطہ پڑا ہر ایک کے ساتھ میرارویہ غیر مصالحانہ رہا۔
اس غیرمصالحانہ رویہ کی مجھے بہت بھاری قیمت دینی پڑی۔ میری ہڈیاں پگھل گئیں اور میں قبل از وقت بوڑھا ہو گیا۔ میری زندگی میں ایسے لمحات آئے ہیں کہ مجھے نہیں معلوم تھا کہ اگلے دن میں کیا کھاؤں گا اور اپنے بچوں کو کیا کھلاوں گا۔ مگرمیرا غیر مصالحانہ رویہ بدستور باقی رہا ۔
مگر عجیب بات ہے کہ میرے بے شمار جاننے والوں میں سے کوئی ایک شخص بھی نہیں ہے جو یہ کہہ سکے کہ میں نے اس کو غیر مصالحانہ رویہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہو۔ میں نے خود ہمیشہ غیر مصالحانہ رویہ اختیار کیا۔ مگر دوسروں کو میں نے ہمیشہ مشورہ دیا کہ تم مصالحت کا طریقہ اختیار کرو۔
اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ جس چیز کو میں اپنے لئے یہی کہتا تھا وہ میرے نزدیک دوسروں کے لئے غلط تھی ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ بے حد مشکل راستہ ہے ۔ غالبا اس دنیا میں غیرمصالحانہ رویہ سے زیادہ دشوار اور کوئی کام نہیں۔
21 اپریل 1984
تصوف کی تا ریخ لکھنے والے تصوف کی تاریخ کو دور تابعین سے شروع کرتے ہیں، ان کے نزدیک ابن سیرین تابعی (110- 330ھ ) پہلے صوفی تھے ۔ اسی طرح ابو حازم (م140ھ ) فضیل بن عیاض (م 187) بشرحافی (م227) وغیرہ ۔ مگر ان لوگوں کا ” تصوف“صرف یہ تھا کہ وہ زہد میں غلو کرتے تھے اور دنیوی چیزوں سے الگ رہنا پسند کرتے تھے۔
اس کے بعد تصوف کی فہرست میں جن لوگوں کا نام لیا جاتا ہے ان میں سے مثلا ذوالنون مصری (م 246 ) ہیں جنھوں نے قدم قرآن کا عقیدہ پیش کیا۔ بایزید بسطامی (م261ھ ) ہیں جن کی طرف وحدت الوجود کا نظریہ منسوب کیا جاتا ہے۔ ابوسعید الحزاز (م 279ھ ) ہیں جنھوں نے فنا اور بقا کے بارہ میں بعض خیالات پیش کئے۔ منصور الحلاج (م309ھ) ہیں جنھوں نے حلول کے نظریہ کی تبیلغ کی ۔ مگر اس قسم کے لوگوں کا تصوف بھی صرف یہ تھا کہ انھوں نے عقیدہ اور روحانیت کے سلسلے میں بعض نئی باتیں کہیں۔ یہ لوگ اپنے اپنے ذہن کے مطابق دین کی معنویت پر زور دے رہے تھے ۔ وہ اس معنویت کے حصول کے لئے متصوفانہ طریقے پیش نہیں کرتے تھے۔
تصوف کا آغاز کرنے والے حقیقتہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے روحانیت اور تعلق باللہ کے حصول کے لئے نئے طریقے وضع کئے ۔ یہ لوگ دور اول میں موجود نہ تھے متصوفین کو جو چیز دوسروں سے الگ کرتی ہے وہ صرف روحانیت کی باتیں نہیں ہیں ۔ بلکہ دراصل وہ طریقے اور تدبریں ہیں جو انھوں نے یہ کہہ کر وضع کئے کہ اس کے ذریعہ روحانی مقصد کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔ یا اس مقصد کو حاصل کرنے کا یہ زیادہ آسان اور قریبی طریقہ ہے۔
22 اپریل 1984
فریڈرک اعظم (Frederick the Great) کا قول ہے :
۔ A crown is merely a hat that lets the rain in.
تاج صرف ایک ایسا ہیٹ ہے جو بارش کو اندر آنے دیتا ہے۔
عام آدمی کی ٹوپی ہے اور تاج بادشاہ کی کوپی ۔ عام آدمی سے لوگوں کو کوئی جلن نہیں ہوتی۔ مگر جو شخص لوگوں کو اپنے سے بڑا دکھائی دے اس سے وہ جلنے لگتے ہیں ۔" ہیٹ" آدمی کو بارش سے بچاتا ہے۔ مگر "تاج" بارش کو دعوت دیتا ہے ۔
زندگی میں شاید سب سے بڑی برائی یہی جلن ہے ۔ آدمی کی انا کسی کو اپنے سے اونچا دیکھنا نہیں چاہتی۔ اس لئے آدمی ہر اس شخص کا دشمن بن جاتا ہے جو ماحول میں اس سے اونچا درجہ حاصل کرلے۔
مگر یہ نہایت بے فائدہ حرکت ہے ۔ جس شخص کو کوئی بڑائی ملتی ہے اس کو وہ خدا کے دئے سے ملتی ہے ۔ ایسی حالت میں کسی کی بڑائی پر جلنا گویا خدا کی تقسیم پر اعتراض کرنا ہے ۔ اور کسی کو اس کے مقام سے نیچے لانے کی کوشش کرنا گویا خدا کے کیے کی نفی کرنا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ــــــ خدا نے چاہا مگر انسان نے نہ چاہا ۔ ایسا چاہنا جرم بھی ہے اور ناقابل حصول بھی
23 اپریل 1984
ہندستان میں مراکش کے سابق سفیرعب رافق سعدانی نے ایک بار ایک بیان جاری کیا ۔ اس میں انھوں نے ایک بچے ہوئے ہاتھ (Hidden hand) نشاندہی کی تھی جو مبنارستان میں ہمارے مسلم بھائیوں کے خاتمہ (Exterminations of our brother Muslims in India) پرتلا ہوا ہے ۔ (ٹائمس آف انڈیا۲۷ مئی۱۹۷۹) یہ بیان دتی کے اخبارات میں تھا تو اس دن مراکشی سفیر کو ہندستان کے وزارت خارجہ کے دفتر میں لایا گیا۔ ان کتنبیہ کی گئی کہ آپ کا بیان بندیتان کے داخلی امور سے تعلقت ہے اور اس بنا پر سفارتی آداب کے بالکل خلاف ہے ۔ چنانچہ اگلے ہی دن ۲۸ مئی۱۹۷۹ء کے اخبار میں پہلے سر پریرنی تھی :
Moroccan envoy apologizes for statement. مراکشی سفیرعبدالحق سعدانی نے اپنے الفا تامین سنی معذرت (Sincere apology) کے
ساتھ دوسرا بیان شائع کیا جس میں سابقہ بیان کو واپس لے لیا گیا تھا۔ پہلے بیان میں مسٹر سدانی نے کہا تھا کہ عرب سفیروں کی اکثریت اس احساس میں ان کے ساتھ ہے مگر دوسرے بیان میں انھوں نے اقرار کیا کہ یہ بات میں نے ذاتی طور پر کہی تھی۔ ایسا اقدامیں کوفور اواپس لینا پڑے وہ صرف آدمی کی نادانی کا اشتہار ہے نہ کہ حقیقت کوئی التام- مزید ملاحظہ ہو ۔
24 اپریل 1984
جمعیتہ علماء ہند نے جولائی 1979 میں " ملک و ملت بچاؤ" کی مہم چلائی تھی ۔ اس کے تحت ہر روز 51 افراد نئی دہلی کے بوٹ کلب پر گرفتاریاں دیتے تھے مگر ملک وملت بچاو کی یہ مہم نہ صرف یہ کہ ملک وملت بچانے میں ناکام رہی بلکہ ملک اور ملت دونوں اس واقعہ سے بھی بے خبر ہے کہ کچھ لوگ " سرپر کفن باندھ کر" اس کو بچانے کے لئے نکل کھڑے ہوئے ہیں ۔
" آل انڈیا ریڈیونے اپنے نیوز بلیٹن میں اس واقعہ کی کوئی خبرنہ دی۔ اس پر روز نامہ الجمعیتہ نے اپنے ایڈیٹوریل میں لکھا :
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
" اس ملک میں تقریبا دس کروڑ مسلمان ہیں۔ کیا ایک کروڑ ریڈیوسٹ مسلمانوں کے یہاں نہ ہوں گے ۔ اگر ہوں گے اور امکان ہے کہ ہوں گے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ مسلمان 30 کروڑ روپیہ سرکارکو صرف ریڈیو لائسنس کی صورت میں سالانہ ادا کرتے ہیں۔ بجلی اور ریڈیوسیٹ کی بکری پرسیل ٹیکس اور دوسرے ٹیکسوں کی صورت میں جو رقم ان کی جیب سے نکلتی ہے وہ الگ رہی۔ الجمیعۃ 11جولائی1979
جمعیتہ علماء ہند نے "ملک وملت بچاؤ" کی مہم دوسری بار 21 فروری1983 سے شروع کرنے کا اعلان کیا۔ مگروہ عجیب و غریب طور پر اتنی کامیاب ثابت ہوئی کہ شروع ہوتے ہی ختم ہوگئی ۔
مذکورہ شکایت میں اس وقت وزن ہوسکتا تھا جب کہ مسلمان ریڈیو استعمال کرنے والوں کی طرف سے ایک کروڑ خط آل انڈیا ریڈیو کے دفتر میں پہنچ جاتے۔ موجودہ حالت میں اس شکایت کا مطلب یہ ہے کہ خود مسلمانوں کو بھی اس "تاریخ ساز" واقعہ کی اطلاع نہ ہو سکی کجا کہ ریڈیو اور دوسرے قومی شعبے اس کو جانیں۔
25 اپریل 1984
روس کے سابق ڈکٹیٹر مارشل اسٹالن (1953 -1879) کے آخری دنوں میں روسی اخبار پر اودا میں گنا گیا تو صرف ایک اشاعت میں اسٹالن کا نام 29 بار چھپا تھا۔ اسی طرح چینی ڈکٹیٹرماؤزے تنگ کی زندگی میں1966 میں ایک شخص نے ایک اور چینی اخبار (People's Daily ) میں گنا تو اس کی صرف ایک اشاعت میں مائوزے تنگ کا نام 280 بار چھپا ہوا موجود تھا۔
آج جب کہ اسٹائن اور ماؤ مر چکے ہیں ، ان کے ملکوں میں کوئی ان کا نام لینے والا نہیں۔ پر اودا اور پیپلز ڈیلی بدستور چھپ رہے ہیں ، مگر مہینوں گزر جاتے ہیں اور ان کے صفحات میں ایک بار بھی اسٹالن یا ماؤ کا نام نہیں آتا۔
یہی اس دنیا میں ہرڈکٹیٹر کا انجام ہوتا ہے۔ ڈکٹیٹر اپنی زندگی میں اپنے ملک میں سب کچھ نظر آتا ہے۔ مگرمرنے کے بعد وہ اس ملک میں بالکل بے کچھ ہو جاتا ہے۔
26 اپریل 1984
افریقہ میں اسلام کی تیز رفتار اشاعت کا سبب کیا ہے۔ اس سلسلہ میں لندن سے شائع ہونے والی ایک انسائیکلو پیڈیا میں حسب ذیل الفاظ لکھے گئے ہیں ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اسلام کی اشاعت زیادہ تر مسحیت کی قیمت پر حاصل ہوئی ہے ۔ اکثر افریقیوں کے نزدیک مسیحیت امپیرلیزم کے ہم منی ہے۔ اور وہ رنگ کی بنیاد پر امتیاز کی حامل ہے جس کو سفید اقوام نے قائم کر رکھا ہے:
Much of Islam's expansion has been won at the cost of Christianity which, for many Africans is too closely identified with the imperialism and colour prejudices of the white races who had imposed it. p. 404. Charles F. Adams, Man and his Gods, London 1974.
opposing viewA view stated in order to be argued against
جزئی طور پر یہ بھی ایک سبب ہوسکتا ہے۔ مگر یہی اصل سبب نہیں ہے۔ اصل سبب ہے ۔ توحید کے عقیدہ کا فطرت انسانی کے مطابق ہونا اور تمام انسانوں کو یکساں حیثیت ملنا۔
27 اپریل 1984
مولانا شبلی نعمانی (1914 - 1857) اپنی آخرعمر میں مسلمانوں کا گرو کل بنانا چاہتے تھے جس میں آریہ اپدیشکوں کی طرح مسلم نوجوانوں کو اسلام کی تبلیغ کے لئے تیار کیا جائے۔ انھوں نے ندوہ میں جب کہ وہ اس کے معتمد تعلیمات تھے ، خدام دین کے نام سے ایک مجلس بھی بنائی تھی۔ اس کے تحت کئی لڑکے ایسے تیار ہوگئے تھے جو ہندی اور سنسکرت میں تقریر کرنے لگے تھے۔ ندوہ کے ایک اجلاس میں ان تربیت یافتہ لڑکوں کے ہندی اور سنسکرت میں اسلام کی حمایت میں تقریریں کیں تو لوگوں کو کافی حیرت ہوئی۔
مگر مولانا شبلی کی یہ اسکیم کامیاب نہ ہوئی ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ محض وقتی دفاع کے جذبہ سے ابھری تھی نہ مستقل دعوتی جذبہ کے تحت ۔ مولانا شبلی کے زمانہ میں ہندستان کے بعض علاقوں میں آریہ مبلغین اپنا مذہب پھیلا رہے تھے اور یہ خطرہ پیدا ہو گیا تھا کہ بہت سے جاہل مسلمان ان کی باتوں سے متاثر ہوکر اپنا مذہب بدل دیں گے۔ اس صورت حال نے مولانا شبلی کے اندرحمیت کا جذبہ ابھارا۔ اور انھوں نے چاہا کہ متا ثر علاقوں میں تربیت یافتہ مبلغین کو بھیج کر آریہ سماجیوں کا توڑ کیا جائے ۔
داعی وہ ہے جو انذار و تبشیر کے جذبہ سے بے تاب ہوکر اٹھے۔ عیسائی مشنریوں اور آریہ مبلغوں کے توڑ کے لئے اٹھنا حقیقتہ قوم پرستی ہے نہ کہ دعوت الی اللہ۔
28 اپریل 1984
مدھو کشور (ایڈیٹر منشی) نے ٹائمس آف انڈیا میں ایک مضمون شائع کیا ہے جس میں وہ کہتی ہیں کہ آج تعدد ازواج ، زبانی طلاق اور پردہ یہ وہ چیزیں ہیں جن کو ہندویہ ثابت کرنے کے لئے پیش کرتے ہیں کہ مسلمان اور اسلام کس قدر پس ماندہ اور وحشی ہیں:
other sourceWords of another person or source
Today, polygamy, verbal divorce, and purdah are sighted by Hindus to prove how backward and barbaric Muslims and Islam are.
یہ اعتراضات سراسر بے بنیاد ہیں ۔ تعدد ازواج ایک فطری ضرورت ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ آج بھی وہ کسی نہ کسی شکل میں تمام دنیا میں پایا جاتا ہے۔ کہیں فری سیکس کی صورت میں اور کہیں کئی شادیوں کی صورت میں ۔ حتی کہ 1975 میں ہندستان میں ایک کمیٹی مقرر کی گئی تھی جس کا نام تھا:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Committee on the status of women in India.
اس کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق ہندووں میں تعدد ازواج کے واقعات 518 فیصد ہیں اور مسلمانوں میں 517 فیصد ۔ یعنی مسلمانوں کے مقابلہ میں ہندووں میں زیادہ۔ اسی طرح اسلام میں طلاق کا آسان ہونا انتہائی فطری ہے۔ ہندوسوسائٹی میں طلاق کو مشکل بنایا گیا ہے جس کی قیمت اس کو خواتین کی خود سوزی کی شکل میں دینی پڑتی ہے۔ اسی طرح پردہ بھی عیں فطری ہے ۔ پردہ کے معنی حقیقتہ عورتوں اور مردوں کے درمیان سرگرمیوں کے دائرہ کی تقسیم ہے اور دونوں صنفوں کے درمیانہ آزادانہ اختلاط کو روکنا ہے۔ علمی تحقیق اور تجربہ دونوں بہتر معاشرہ کے لئے اس کی اہمیت تسلیم کرتے ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
29 اپریل 1984
روزنامه الجمیعہ (10 فروری 1983) میں حکیم ظل الرحمن صاحب کا ایک مضمون چھپا تھا۔ اس مضمون میں انھوں نے ہندستانی مسلمانوں کے بارہ میں حسب ذیل پرجوش الفاظ لکھے تھے
other sourceWords of another person or source
" وہ کون عقلمند تھا جس نے کروڑوں انسانوں کی تعداد پر اقلیت کا اطلاق کیا۔ عربی کا ایک لفظ قلیل ہے جس کا صیغہ تفضیل اقل ہے۔ جس کے معنی بہت ہی تھوڑے کے ہوتے ہیں۔ ہمارے علماء کی خاموشی نے اس لفظ کا اطلاق مسلمانوں پر کر دیا جس کے نتیجے میں 12 کروڑ کی تعداد کا ایک طبقہ اس احساس کمتری میں مبتلا ہو گیا کہ ہم اقلیت میں ہیں اور ناقابل شمار چیز ہیں ۔ مگرمسلمان ملک کی ثانوی اکثریت ہیں۔ خدارا اقلیت کے لفظ کو امت مسلمہ کی تاریخ سے نکال دیئے ۔ اور اپنے آپ کو ملک کی ثانوی اکثریت کہنے کی عادت ڈالئے۔ بلاشبہ عیسائی ، سکھ اس ملک کی اقلیت شمار ہوسکتے ہیں لیکن مسلمان اس ملک کی اقلیت نہیں ہیں۔ ہم اس ملک کی ثانوی اکثریت میں “ (الجمیعتہ 10 فروری1983)
مسلمانوں کا اصل مرض ان کا جھوٹا فخر ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی شکست کو بھی فتح کے خانہ میں لکھنا چا ہتے ہیں اور اپنی کمی کو بھی زیادتی کے الفاظ میں بیان کر کے خوش ہوتے ہیں۔
” اقلیت “ ایک جمہوری اصطلاح ہے۔ اس سے مراد نسبتی تعداد ہے نہ کہ مطلق تعداد نسبتی تعداد کے اعتبار سے کبھی بارہ آدمی بھی اکثریت میں ہو جاتے ہیں اور کبھی 12 کروڑ آدمی اقلیت میں ۔ اس غیر حقیقت پسندانہ انداز فکر کا ہی نتیجہ ہے کہ مسلمان اپنی تعداد 12 کروڑ اور 20 کروڑ بتاتے ہیں ۔ حالانکہ اس کے لئے ان کے پاس کوئی واقعی دلیل نہیں ۔
30 اپریل 1984
ٹی ۔ ایس الیٹ نے کہا ہے ـــــــــــــ اگرتم کسی گول چھید میں جا پڑو تو تمھیں اپنے آپ کو گنبد بنا لینا چاہئے۔" یہ زندگی کا نہایت قیمتی گر ہے۔ آدمی اگر اس کو پکڑلے تو وہ موجودہ دنیا میں اس کی کا میابی کے لئے کافی ہو جائے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
تاہم موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں سب سے کم جوصفت پائی جاتی ہے وہ یہی ہے ۔ اس کی وجہ مسلمانوں کے وہ نادان لیڈر ہیں جو بے معنی الفاظ بول کر مسلمانوں کے ذہن کو بگاڑتے ہیں ۔ مسلم لیڈروں کی فوج کی فوج بے سمجھے اور بوجھے پر جوش انداز میں یہ الفاظ دہراتی ہے : زمانہ باتونماز وتر باز مان ستیز ۔ حالانکہ خود ان لیڈروں کا یہ حال ہے کہ انھوں نے اولا یہ نعرہ لگایا :
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
چین و عرب ہمارا ہندوستاں ہمارا مسلم ہیں ہم وطن ہیں سارا جہاں ہمارا
اس کے بعد جب انھوں نے دیکھا کہ سارے ملک پر وہ اپنا جھنڈا نہیں لہرا سکتے تو انھوں نے یہ تجویز کیا کہ ملک کا ایک حصہ (جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے) ہمیں بانٹ کر دے دیا جائے ۔ گویا "گول خانہ" کو اپنے لحاظ سے چوکھٹا کرنے کے حالات نہیں تھے تو انھوں نے خود اپنے آپ کو گول کر لیا۔