← Diary 1983-1984Diary 1983-1984
March 1984
English · 29 min read
یکم مارچ 1984
دومسلم نوجوان ملنے کے لئے آئے ۔ انھیں روزگار کی تلاش تھی ۔ میں نے کہا کہ روزگار حاصل کرنے کا راز صرف ایک ہے؛
آپ دوسروں کی ضرورت بن جائیں۔
آج ہر ادارہ اور ہر کاروبار میں کارکنوں کی ضرورت ہے ، ایسے کارکن جن میں محنت اور دیانت داری کی صفت ہو۔ اگر آپ فی الواقع یہ دونوں صفت اپنے اندر پیدا کرلیں تو آپ لوگوں کی ضرورت بن جائیں گے۔ پھر روزگار آپ کے پیچھے دوڑے گا، آپ کو روزگار کے پیچھے دوڑنے نے کی ضرورت نہ ہوگی۔
2 مارچ 1984
انسان اس پرقادر نہیں کہ وہ اپنے آپ کو موت سے بچا سکے۔ انسان اس پر قادر نہیں کہ وہ اپنے آپ کو خدا کے سامنے پیشی سے بچا سکے۔ انسان اس پر قادر نہیں کہ وہ اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچا سکے ۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کا اصلی عجز چھپا ہوا ہے ۔
انسان اگر اپنے اس عجز کو جانے تو وہ کبھی سرکشی نہ کرے ۔ کل کے دن عاجز ہونے والا آج ہی اپنے آپ کو عاجز محسوس کرنے لگے۔ وہ سرکشی کے بجائے حق پرستی کا طریقہ اختیار کرلے۔
3 مارچ 1984
ہندستان کے سابق وزیر داخلہ مسٹر گلزاری لال نندا نے 5 دسمبر 1963 کو احمد آباد میں ایک تقریر کی تھی ۔ اس میں انھوں نے کہا تھا کہ دو سال کے اندر میں بد دیانتی ، رشوت خوری اور بدعنوانی کو ختم کر دوں گا۔ اس عرصہ میں میں عوام کو ایسا ایڈمنسٹریشن دوں گا جو صاف ستھرا اور فعال ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ اگر میں اپنے دعوے میں کامیاب نہیں ہوا تو میں وزارت سے استعفا دے دوں گا۔ یہی بات دوبارہ انھوں نے 2 جنوری1964 کو دہلی کے ایک جلسہ میں دہرائی ۔
یہ وہ وقت ہے جب کہ جواہر لال نہرو اور دوسرے ابتدائی کانگریس لیڈر حکومت میں موجود تھے مگر واقعات بتاتے ہیں کہ گلزاری لال نندا اپنے منصوبہ میں ایک فیصد بھی کامیاب نہیں ہوئے ۔ بلکہ 1963 میں ہندستان میں جتنا کرپشن تھا ، اب 20 سال بعد اس میں بے شمارگنا زیادہ اضافہ ہوگیا ہے۔
اصل یہ ہے کہ سماجی بگاڑ کو صرف حکومت کی طاقت سے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے لئے ایک درجہ کی سماجی اصلاح بھی ناگزیر طور پر ضروری ہے ۔ اس حقیقت سے مسٹر گلزاری لال نندا جتنے ناواقف تھے، اتنا ہی نا واقف وہ مسلم لیڈر بھی ہیں جو موجودہ زمانہ میں اسلامی حکومت قائم کرنے کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہیں۔
4 مارچ 1984
کچھ برائیاں وہ ہیں جنہیں صرف دیکھنا پڑتا ہے ۔ اور کچھ برائیاں وہ ہیں جن کو بھگتنا پڑتا ہے۔ جو موجودہ دنیا کی کامیاب ہونا چاہتا ہے اس پر لازم ہے کہ وہ دونوں میں فرق کرے۔
جو برائیاں اس سے دور ہیں اور جن کو ووصرف دیکھ رہا ہے ان کو وہ نظرانداز کرے وہ صرف ان برائیوں کو اپنے لئے مسئلہ بنائے جن کو اسے بھگتنا بھی پڑرہا ہو ۔ آدمی اگر دونوں قسم کی برائیوں کو یکساں اہمیت دینے لگے تو وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔
5 مارچ 1984
مغرب کی نماز کے لئے وضو کر کے غسل خانہ سے نکلا توموت کو سوچ کو بدن کے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ زبان پر یہ دعا جاری ہوگئی :
خدایا زندگی بہرحال ایک روز ختم ہونے والی ہے۔ اور جو چیز ختم ہونے والی ہے وہ گویا آج ہی ختم ہوگئی۔ خدایا مجھے بخش دیجئے ، خدا یا مجھے بخش دیجئے ، خدایاہے بخش دیجئے۔
6 مارچ 1984
بلند شہر کے ایک صاحب ملنے کے لئے آئے ، انھوں نے بتایا کہ وہ بزنس کرتے ہیں اور اب وہ اکسپورٹ کے کام میں داخل ہونا چاہتے ہیں ۔
انھوں نے کہا کہ میں آپ سے ایک معاملہ میں مشورہ لینا چاہتا ہوں ۔ میرے یہاں ایک امام صاحب ہیں وہ جن بھوت اتارنے کا کام کرتے ہیں۔ اس کام کو انھوں نے باقاعدہ تجارت بنالیا ہے اور بہت منظم طریقہ پر لوگوں کا استحصال کر رہے ہیں ۔ میں اس کو غیراسلامی سمجھتا ہوں اور اس کو اپنے یہاں سے ختم کر دینا چاہتا ہوں۔ مگر امام صاحب کے ساتھ کئی دادا قسم کے لوگ جمع ہو گئے ہیں۔ امام صاحب کے خلاف کوئی کاروائی کرنے کا مطلب یہ ہے کہ دادا لوگوں سے لڑائی مول لی جائے ۔
other sourceWords of another person or source
میں نے کہا کہ ان حالات میں اگر آپ ان کے خلاف کوئی کارروائی کرتے ہیں تو اس سے صرف شر پھیلے گا اور کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ دوسری طرف آپ یقینی طور پر اپنا کاروباری نقصان کرلیں گے۔
میں نے کہا کہ زندگی میں ایک کام کو کرنے کے لئے دوسرے کام کو چھوڑنا پڑتا ہے۔ اگر آپ کو کلکتہ جاتا ہے تو آپ کو امرتسر کی گاڑی چھوڑنی پڑے گی۔ اسی طرح اگر آپ بزنس کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو جھگڑا لڑائی سے اپنے آپ کو الگ کرنا ہوگا ۔
آپ کو اگر امام صاحب کا درد ہے تو ان کو تنہائی میں سجھائیے۔ اور اگر وہ سمجھانے سے نہ مانیں تو ان کے حق میں خدا سے دعا کیجئے، بس یہ آپ کی آخری حد ہے۔ اس سے آگے آپ کو جانے کی ضرورت نہیں۔
7 مارچ 1984
ہندستان کی سابق وزیر اعظم مسز اندرا گاندھی نے 25 اکتوبر1975 کو ایک انٹرویو دیا تھا ۔ یہ انٹرویو آسٹریلیا کے براڈ کاسٹنگ کمیشن کے ٹیلی وژن پروگرام کے تحت تھا۔
انٹرویور نے ایک سوال یہ کیا تھا کہ کیا آپ پسند کریں گی کہ آپ مزید 9 سال تک حکومت میں رہیں جیسا کہ آپ1969 سے ہیں ۔ یہ سن کر مسز اندرا گاندھی نے کہا:
If anybody know: how hard my life is,
one should not even think of asking such question.
اگر کسی معلوم ہو کہ میری زندگی کتنی سخت ہے تو وہ مجھ سے اس قسم کا سوال کرنے کا خیال دل میں نہ لائے گا( ہندستان ٹائمس26 اکتوبر 1975 )
other sourceWords of another person or source
جن گدیوں کو لوگ رشک کی نظر سے دیکھتے ہیں وہ گدیاں خود بیٹھنے والوں کے لئے کانٹوں کا بستر ہوتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جاہ پسندی واحد چیز ہے جو لوگوں کو ان گدیوں پر بٹھائے رکھتی ہیں ۔اگر جاہ پسندی کا مزاج نہ ہو تو اونچی گدیوں پر بیٹھنے والے اپنی گدیوں کو چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوں۔
8 مارچ 1984
ایک عرب مفکر کا قول ہے : رجل ذوهمة يحيى الامة (ایک با ہمت آدمی پوری قوم کو زندہ کر دیتا ہے)
other sourceWords of another person or source
میرے نزدیک یہ بہت صحیح بات ہے۔ یہ دراصل افراد ہیں جو تاریخ بناتے ہیں۔ تاہم اس قول میں ایک بات چھوٹ گئی ہے ۔ وہ یہ کہ باہمت آدمی کی ہمیشہ کچھ باہمت ساتھی در کار ہوتے ہیں۔ کوئی ایک شخص خواہ وہ کتنا ہی زیادہ حوصلہ مند ہو اور کتنا ہی زیادہ لائق ہولیکن اگر اس کو اچھے ساتھی نہ ملیں تو وہ کوئی بڑا واقعہ رونما نہیں کرسکتا۔ پیغمبروں کی تاریخ اس کے ثبوت کے لئے کافی ہے۔
9 مارچ 1984
ایک نوجوان نے پوچھا کہ مضمون نگارنے کا طریقہ کیاہے ۔میں نے کہا کہ مضمون نگاری مشکل ترین آرٹ ہے۔ آدمی ایک عمر لکھنے اور پڑھنے میں لگا دیتا ہے تب اس کو مضمون لکھنا آتا ہے ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
بازار میں بہت سی کتابیں چھپی ہوئی ملتی ہیں جن کا ٹائٹل ہوتا ہے "مضمون کیسے لکھیں" مگر میرا خیال ہے کہ اس قسم کی کتابیں وہی لوگ لکھتے ہیں جو خود بھی مضمون لکھتا نہیں جانتے۔ کوئی بھی شخص جو حقیقی معنوں میں مضمون لکھنا جانے گا وہ اس قسم کی کتابیں ہی نہیں چھاپے گا۔
مضمون نگاری کا راز صرف مضمون نگاری ہے۔ آدمی پڑھے اور لکھے، پڑھے اور لکھے۔ اسی طرح وہ 20 سال تک کرتا رہے تو انشاء اللہ اسے مضمون لکھنا آجائے گا۔ بشرطیکہ اس کے اندر اس کی فطری صلاحیت بھی موجود ہو۔
10 مارچ 1984
"باپ دادا کا دھرم رائی سمان اور دوسرے کا دھرم پربت سمان ہو تب بھی باپ دادا کا دھرم نہ چھوڑو " ۔ یہ اصول بہت سے لوگوں کے نزدیک نہایت اہم ہے ۔ وہ دھرم کی جس لکیرکو پکڑے ہوۓ ہیں۔ اس پر بالکل غور کرنا نہیں چاہتے ۔ صرف اس لئے کہ یہ دھرم انھیں اپنے باپ دادا سے ملا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مگر یہ اصول صرف دھرم اور مذہب کے معاملہ میں اختیار کیا جاتا ہے نہ کہ تمام معاملات میں۔ مثلا اگر کسی شخص کو اپنے باپ دادا سے مفلسی اور محتاجی کی وراثت ملی ہو تو کبھی ایسا نہیں کرے گا کہ وہ باپ دادا کی معاشی حالت پر پڑا رہے اور نئے ذرائع حاصل کرنے کی کوشش نہ کرے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس نظریہ کے پیچھے کوئی منطق نہیں ، یہ صرف اس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی دنیا کے معاملات میں تو سنجیدہ ہے مگر خدا اور مذہب کے معاملہ میں وہ سنجیدہ نہیں ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
11 مارچ 1984
ایک صاحب نے کہا کہ آپ الرسالہ میں اپنی تعریف چھاپتے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ بات صرف وہ شخص کہتا ہے جس نے الرسالہ کو پڑھا نہ ہو اور نہ وہ مجھ سے واقف ہو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
میں نے کہا کہ یہ اللہ کا فضل ہے کہ سچائی میری اپنی دریافت ہے۔ میں سنی سنائی باتیں نہیں لکھتا بلکہ وہ باتیں لکھتا ہوں جو میری اپنی دریافت ہوتی ہیں ۔ اور جوشخص خود اپنی دریافت کردہ سچائی پر کھڑا ہوا ہو وہ کبھی کسی کی تعریف کا محتاج نہیں ہوتا۔
ایسا انسان اپنے آپ میں جیتا ہے ۔ اس کی دریافت ہی اس کی تسکین کے لئے کافی ہوتی ہے ۔ یہ اللہ کا فضل ہے کہ مجھے نہ کسی کی تعریف سے خوشی ہوتی ہے اور نہ کسی کی تنقید پر غم ۔ البتہ اگر کوئی شخص غیرحقیقت پسندانہ انداز اختیار کرتا ہے تو اس پر ضرور دکھ ہوتا ہے کہ یہ شخص حقیقیت کے خلاف انداز کیوں اختیار کر رہا ہے ، جب کہ ایسا انداز اس کے کچھ کام آنے والا نہیں۔
12 مارچ 1984
ایک صاحب سے ملاقات ہوئی ۔ انھوں نے الرسالہ کی کافی تعریف کی۔ میں نے کہا کہ الرسالہ کا معاملہ ایک ذمہ داری کا معاملہ ہے نہ کہ تعریف کا معاملہ ۔ آپ اگر الرسالہ سے متفق ہیں تو اس کی ایجینسی لیجئے اور اس کو پھیلائیے۔
میں نے کہا کہ اس وقت سب سے پہلا کام یہ ہے کہ قوم کو سمجھدار بنایا جائے ۔ اس کو قرآن میں "تزکیہ" کہا گیا ہے (ویزکیهم ) تزکیہ کا مطلب اسلامی اعتبار سے وہی ہے جس کو آجکل کی زبان میں ایجوکیٹ کرنا کہتے ہیں۔ یہی وہ کام ہے جس کو الرسالہ کے ذریعہ انجام دیا جا رہا ہے ۔ انھوں نے ایجینسی کی اہمیت سے اتفاق کیا۔ مگر کہا کہ گھر واپس جا کر خط لکھوں گا ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
میں نے کہا کہ اس قسم کے معاملات ملتوی نہیں کئے جاتے ۔ ان کو فورآ شروع کر دیا جاتا ہے۔ انگریزی کا ایک مثل مجھ کو بہت پسند ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں:
There is no better time to start than this very minute.
شروع کرنے کا سب سے اچھا وقت یہ ہے کہ اس کو ابھی شروع کر دیا جائے ۔
13 مارچ 1984
حضرت علی کا ایک قول پڑھا۔ الفاظ یہ تھے: العاقل هوالذى يضع الشئی بمواضعه (عقلمند وہ ہے جو چیز کو اس کی جگہ پر رکھ سکے )
hadithQuotes a hadith
یہ دانشمند آدمی کی نہایت صحیح اور جامع تعریف ہے ۔ باتیں یا معلومات ہر شخص کے پاس ہوتی ہیں۔ مگر باتوں کو ان کی اصل حیثیت میں رکھ کر ان کی حقیقت کو سمجھنا ، یہ بہت مشکل کام ہے اور گہری عقل والا آدمی ہی اس کو کر سکتا ہے۔ اسی لئے فارسی کا ایک مقولہ ہے کہ یک من علم را ده من عقل می باید( ایک من علم کے لیے دس من عقل چاہئے)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
14 مارچ 1984
حضرت عمر کا بایاں ہاتھ بھی دائیں ہاتھ کی طرح چلتا تھا۔ چنانچہ روایات میں آتا ہے کہ دونوں ہاتھوں سے کام کرتے تھے : (کان يعمل بكلتا يديه) حیاتیات کی رو سے دونوں ہاتھ کا یکساں طور پر چلنا اس بات کی علامت ہے کہ آدمی عام لوگوں سے زیادہ صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ حضرت عمر غیر معمولی صلاحیتوں کے آدمی تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے ان کی بابت فرمایا :
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
لم ار عبقریا یفرى فريه
میں نے عمر جیسا عبقری نہیں دیکھا جو ان کے جیسا کام کرسکے ۔
15 مارچ 1984
جنگ بدر 15 مارچ 624ء( 17 رمضان 2ھ ) کو ہوئی ، اور واٹر لو کی جنگ 18جون 1815 کو ہوئی ۔ پہلی جنگ کے قائد محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور دوسری جنگ کا قائد فرانس کا نپولین تھا۔ عجیب بات ہے کہ دونوں مواقع پر جنگ سے پہلے والی رات کو بارش ہوئی ۔ مگر بارش کا نتیجہ دونوں کے حق میں الگ الگ نکلا۔ رسول اللہ کے لئے بارش فتح کا سبب بنی اور نپولین کے لئے بارش شکست کا سبب۔
بدر کے موقع پر یہ ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی مسلمان وادی کے بالائی حصہ پر تھے۔ بارش ہوئی تو وہاں ریت جم گئی اور جس زمین میں پہلے خشک ریت کی وجہ سے پاؤں دھنس رہے تھے وہ اتنی مضبوط ہوگئی کہ پاؤں اچھی طرح جم سکیں۔ دوسری طرف دشمن کا لشکرنشیب کی طرف تھا۔ چنانچہ وہاں بارش کے نتیجہ میں کیچڑ اور دلدل ہوگئ اور چلنا اور حرکت کرنا دشوار ہوگیا۔ مسلمانوں کے ساتھ اس معاملہ کا ذکر قرآن میں ان لفظوں میں آیا ہے : ويثبت به الاقدام (الانفال 11 )
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
واٹرلو کا معاملہ اس کے برعکس ہوا۔ وہاں 17 اور 18 جون کی درمیانی شب میں بارش ہوئی یہ جنگ نپولین (فرانس) اور ولنگٹن (پرویشیا) کے درمیان تھی ۔ نپولین اس سے پہلے ولنگٹن کو کافی نقصان پہنچا چکا تھا۔ اور مورخین کے مطابق 18 جون کا مقابلہ فیصلہ کن طور پر نپولین کے حق میں ہوتا۔ مگر رات کی شدید بارش کی وجہ سے نپولین نے محسوس کیا کہ زمین جنگ کے قابل نہیں ہے۔ اس نے دوپہر تک انتظار کیا تاکہ زمین سوکھ جائے۔ یہ تاخیر نپولین کے لئے الٹی ثابت ہوئی۔ اس درمیان میں انگریزی جنرل بلوشر Blucher) ولنگٹن کی حمایت میں بڑی فوج لے کر آ گیا۔ اس کے بعد جب لڑائی ہوئی تو نپولین کمزور ثابت ہوا اور اس کو شکست ہوئی۔ (برٹانیکا جلد 7 صفحہ 732 )
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس دنیا میں اصل اہمیت اسباب کی نہیں بلکہ فیصلہ خداوندی کی ہے ۔ ایک ہی قسم کے اسباب ایک شخص کے لئے کامیابی کا ذریعہ بن سکتے ہیں اور اسی قسم کے اسباب دوسرے شخص کے لئے ناکامی کا قبرستان ۔
16 مارچ 1984
حضرت عمر کا ایک قول ہے ، وہ اکثر اپنے اس قول کو دہرایا کرتے تھے: اخوف مااخاف عليكم اعجاب المرء برايه (سب سے زیادہ میں جس چیز سے تمہارے بارہ میں ڈرتا ہوں، وہ ہے آدمی کا اپنی رائے کو پسند کرنا )
hadithQuotes a hadith
اپنی رائے کو رائے سمجھنے کا مزاج ہلاکت کی بدترین قسم ہے جس شخص کے اندر یہ مزاج پیدا ہوجائے وہ بس اپنے خیالات میں گم رہتا ہے ۔ اس کو اپنے سے باہر کی صداقت کا علم نہیں ہوتا۔ وہ سمجھتا ہے کہ میں حق کی پیروی کر رہا ہوں ، حالاں کہ وہ صرف اپنی خواہشات کی پیروی کر رہا ہوتا ہے ۔ وہ سمجھتا ہے کہ میں معاملہ کی سچائی تک پہنچ گیا ہوں حالانکہ وہ صرف اپنی ادھوری رائے میں بھٹک رہا ہوتا ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ اپنے ذہنی خول سے باہر نکلنا ہی نجات اور کامیابی کا آغاز ہے۔ جولوگ اپنے ذہنی خول سے نہ نکلیں ان کا ذہنی خول ان کے لئے قبرستان بن کر رہ جاتا ہے۔
17 مارچ 1984
کہا جاتا ہے کہ بایزید بسطامی (م 261ھ) پہلے صوفی ہیں جنھوں نے معراج کے واقعہ کو سالک کے لئے ایک نصب العین کی حیثیت سے پیش کیا۔ وہ خود بھی اسراء کی کیفیت سے بہرہ مند ہوئے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک مرتبہ ان کو آسمان پر پرواز کا روحانی تجربہ ہوا ہے جہاں انھوں نے جنت اور دوزخ کا نظارا کیا ہے۔ شجرہ توحید بہ چشم خود دیکھا ہے اور قرب الہی کی منزلیں طے کی ہیں ۔ بلکہ اس سے آگے بڑھ کر اللہ سے علم لینے کا شرف بھی انھیں حاصل ہوا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ہوسکتا ہے کہ بایزید بسطامی کی طرف یہ انتساب درست نہ ہو تاہم حقیقت ہے کہ تصوف کی ساری دھوم اسی قسم کے پر اسرار عقائد کی بنا پر ہے ۔ بعد کے دور میں امت میں جو سب سے بڑا انحراف پیش آیا وہ یہ تھا کہ کسی بات کو جانچنے کا معیار کتاب وسنت نہ رہا بلکہ بزرگوں کے واقعات اور ملفوظات اس کا معیار بن گئے۔ یہی وہ انحراف تھا جس نے بے شمارقسم کی خرافات کو مسلمانوں کے اندر داخل کر دیا۔
18 مارچ 1984
1971 میں میں احمدآباد گیا تھا۔ وہاں ایک مدرسہ نے اپنے سالانہ اجلاس میں مجھ کوصدر کی حیثیت سے بلایا تھا۔ جلسہ میں کافی لوگ آئے مگر تبلیغی جماعت کا حلقہ میری تقریر میں شریک نہیں ہوا۔
بعد کو خود تبلیغ والوں نے اپنی مسجد میں ایک پروگرام رکھا۔ وہاں انھوں نے اہتمام کے ساتھ کھانے کی دعوت کی اور میری تقریر کروائی جس میں احمد آباد کا پورا تبلیغی حلقہ شریک ہوا۔
اس وقت انھوں نے بتایا کہ تبلیغ والے کیوں آپ کے جلسے میں شریک نہیں ہوئے ۔ انھوں نے بتایا کہ ہم کو یہ خبر دی گئی کہ آپ داڑھی نہیں رکھتے ۔ ہم نے سوچا کہ جو مولوی داڑھی نہ رکھتا ہو اس کی بات سننے سے کیا فائدہ مگر بعد کو ہمارے کچھ آدمیوں نے آپ کو دیکھا اور یہاں آکر بتایا کہ ان کے چہرہ پرتوپوری داڑھی ہے۔ جب تحقیق ہوگئی کہ آپ واقعی داڑھی رکھتے ہیں تو ہم نے یہ پروگرام بنایا۔ تبلیغ کے ایک آدمی نے کھانے کے دسترخوان پر یہ واقعہ بیان کیا۔
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اکثر کتنی غلط باتیں مشہور ہوجاتی ہیں۔ اسی لئے قرآن میں یہ اصول بتایا گیا ہے کہ کسی کے بارہ میں اگر کوئی غلط خبر ملے تو اس وقت تک اس کو نہ مانو جب تک اس کی تحقیق نہ کر لو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
سنی ہوئی بات کی تحقیق ہرمسلمان پر لازم ہے ۔ اس سے مستثنٰی صرف وہ شخص ہو سکتا ہے جو بات کو سن کر بھول جائے اور اس کو دوبارہ کسی سے بیان نہ کرے ۔ مگر جو شخص سنی ہوئی بات کو بیان کرے اس پر فرض ہے کہ وہ بیان کرنے سے پہلے اس کی تحقیق کرے۔
19 مارچ 1984
ما اكل احد طعامأ قط خیر من ان يأكل من عمل يدہ (حديث)
سب سےبہترکھانا وہ ہے جو کوئی شخص اپنے ہاتھ کی محنت سے کھائے ۔
hadithQuotes a hadith
محنت کی روزی بلاشبہ سب سے بہتر روزی ہے۔ اس میں بے شمار فائدے ہیں جن کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ اس کی ایک صورت یہ ہے کہ آدمی عمل ید ( ہا تھ کے عمل) سے اپنی روزی پیدا کر رہا ہو۔ یعنی خود مزدوری کرے اور پھر اس سے اپنی ضروریات پوری کرے۔ یہ اس حدیث کا براہ راست لفظی مفہوم ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
تاہم دماغی محنت بھی بالواسطہ طور پر اس میں شامل ہے ۔ جس طرح حدیث میں " اکل سے مراد لفظی طور پرصرف کھانا نہیں ہے بلکہ عمل ید کے ذریعہ حاصل شدہ رقم سے وہ اپنی جو ضرورت بھی پوری کرے وہ سب اس میں شامل سمجھا جائے گا ۔ اسی طرح خود "عمل ید “ کا بھی ایک توسیعی مفہوم ہے اور اس کے اعتبارسے اس میں ہر وہ کوشش شامل ہے جو آدمی جائز طور پر کرتا ہے یا کر سکتا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
20 مارچ 1984
رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کا واقعہ ہے کہ ایک لڑائی میں ایک مسلمان کے سرپر زخم آ گیا اتفاق سے اس کوغسل کی حاجت پیش آئی ۔ ایسی حالت میں پانی سر پر استعمال کرنا مہلک تھا۔ اس نے اپنے ساتھیوں سے مشورہ کیا۔ ساتھیوں نے کہاکہ پانی کی موجودگی میں ہم تمہارے لئے کوئی گنجائش نہیں پاتے۔ چنانچہ اس مسلمان نے اسی زخم کی حالت میں پانی سے غسل کیا اور اس کے بعد اس کا انتقال ہوگیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کواس واقعہ کی اطلاع ہوئی تو آپ نے فرمایا : قتلوه قتلهم اللہ ۔ انھوں نے اس کو مار ڈ الا اللہ انھیں ہلاک کرے۔
hadithQuotes a hadith
اس واقعہ سے دین کی روح معلوم ہوتی ہے۔ دین کے جو احکام میں ان کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہر حال میں ان کی تعمیل کی جائے گی ، خواہ ان کی تعمیل ایک بے قصور انسان کی ہلاکت کا سبب بن رہی ہو حکم کی تعمیل اور انسانی جان میں اگر ٹکراؤ ہو جاۓ تو حسب حالات حدود شریعت کے اندر احکام میں تغیر کیا جائے گا تاکہ انسانی جان بچائی جاسکے۔
21 مارچ 1984
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار مسلمانوں کو انفاق کی رغبت دلائی۔ اس کے بعد حضرت عبدالرحمن بن عوف نے چار ہزار دینار پیش کیا۔ عاصم بن عدی نے ایک سووسق کھجوریں لاکر دیں۔ ایک غریب صحابی ابوعقیل جو محنت مزدوری کا کام کرتے تھے ، انھوں نے دن بھرمحنت کر کے دو صاع کھجور حاصل کی۔ اس میں سے ایک صاع کھجور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و پیش کی اور ایک صاع اپنے گھر والوں کو دی۔
مدینہ میں جو منافق تھے انہوں نے ان دونوں ہی قسم کے مسلمان کا مذاق اڑایا جنھوں نے زیادہ مال دیا تھا ان کے بارے میں کہا کہ انھوں نے نمود و نمائش کے لئے دیا ہے ۔ اور جو لوگ کم دے سکے تھے ان کے بارے میں کہا کہ جب اس شخص کے پاس دینے کے لئے نہیں تھا تو اس کو کیا ضرورت تھی کہ اپنا نام دینے والوں میں لکھوائے۔
اس قسم کے عیب نکالنا منافقت ہے۔ منافق کسی گزری ہوئی جماعت کا نام نہیں ۔ ہر وہ شخص منافق ہے جس کے اندر منافق والی صفات پائی جائیں ۔ اس واقعہ میں دوسرا سبق یہ ہے کہ مذاق اڑانے کی کوئی حد نہیں۔ ایک شخص اگر غیر سنجیدہ ہے تو وہ ہربات کا مذاق اڑا سکتا ہے، خواہ وہ بات بذات خودکتنی ہی درست کیوں نہ ہو۔ جوشخص کسی کو غلط ثابت کرنے کے لئے اس کا مذاق اڑائے وہ خود اپنے آپ کو غلط ثابت کر رہا ہے۔
22 مارچ 1984
عبد اللہ بن عباس کی ایک روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار مدینہ کی مسجد میں تھے اور جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے ۔ آپ نے منبر پر کھڑے ہو کر 36 آدمیوں کو نام لے کر پکارا اور فرمایا : اخرج فانك منافق (تم مسجد سےنکل جاؤ،کیوں کہ تم منافق ہو۔)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ واقعہ بتاتا ہے کہ منافقین کے بارہ میں جانے کی آخری حد کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منافقین کو ان کی منافقت کی بنا پر کوئی جسمانی سزا نہیں دی اور نہ ان کو قتل کرایا۔ آخری مرحلہ میں آپ نے صرف یہ کیا کہ ان کو نا مزد کر کے مخلص مسلمانوں سے جدا کر دیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
پیغمبرکو قطعیت کے ساتھ معلوم ہوچکا تھا کہ کون منافق ہے اور کون منافق نہیں ہے۔ اس کے باوجود آپ نے کوئی مزید کروائی ان کے خلاف نہیں کی ۔ پھر بعد کے لوگوں کو تو اور بھی زیادہ اس کا پابند رہنا ہے کہ وہ کسی کو منافق قرار دے کر اس کے خلاف جارحانہ عمل کو اپنے لئے جائز نہ کریں۔
23 مارچ 1984
سورہ حج کی آیت ..... والقائمين والركع السجود کے تحت شاہ عبدالقادر صاحب لکھتے ہیں : پہلی امتوں میں رکوع نہ تھا۔ یہ خاص اسی امت محمدیہ کی نماز میں ہے"
other sourceWords of another person or source
اپنی امت کو افضل اور اکمل ثابت کرنے کے لئے لوگوں نے عحبیب عحبیب نظرئے بنائے ہیں انھیں میں سے ایک یہ بھی ہے ۔ حالانکہ حدیث اور قرآن سے یہ ثابت نہیں کہ پچھلی امتوں کی نماز رکوع کے بغیر ہوتی تھی۔
یہ بحث میرے نزدیک سراسرعبث ہے کہ ایک امت کو دوسری امت سے افضل اور اکمل ثابت کرنے کی کوشش کی جائے ۔ اس قسم کی کوشش اپنی ساری کامیابی کے بعد بالآخر جو تحفہ دیتی ہے وہ ہے مسلمانوں میں اسلام پر بے جا فخر اور دوسری قوموں میں اسلام سے بے جا توحش۔
24 مارچ 1984
الکزنڈر ڈیوما(Alexander Dumas) 1824 میں پیرس میں پیدا ہوۓ اور 1895 میں ان کی وفات ہوئی ۔ وہ ایک کہانی نویس تھے۔ کہا جا تا ہے کہ الکزنڈر ڈیوما کا کوئی دوست اگر ان سے ملنے کے لئے آ جاتا جب کہ وہ اپنی تخلیق میں محو ہوں، تو وہ اس کو خوش آمدید کہنے کے لئے صرف اپنا بایاں ہاتھ بڑھا دیتے اور دائیں ہاتھ سے لکھنے کا کام بدستور جاری رکھتے۔
جب کسی آدمی کو ایک کام کی دھن ہو جائے تو اس کی مصروفیت کا عالم یہی ہو جاتا ہے ۔ اور جو لوگ اس طرح اپنے مقصد میں مصروف ہوں اور وہی کوئی بڑا کام کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں ۔
25 مارچ 1984
ایک حدیث ہے : ماعال من اقتصد یعنی جس شخص نے میانہ روی اختیار کی وہ محتاج نہیں ہوا ۔
hadithQuotes a hadith
یہ چھوٹا سا فقرہ معاشی زندگی کا اہم ترین راز بتا رہا ہے ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ محتاجی سے بچنے کا راز معتدل خرچ میں ہے نہ کہ زیادہ آمدنی میں۔
آدمی اپنے خرچ پر کنٹرول نہ رکھے تو ہر آمدنی اس کے لئے کم ہو جائے گی ۔ اور اگر وہ اپنے خرچ پر کنٹرول رکھے تو ہر آمدنی اس کی ضرورت کے لئے کافی ثابت ہوگی۔
26 مارچ 1984
قرآن میں پیغمبروں کے بارہ میں بتایا گیا ہے کہ انھوں نے اپنی قوم سے کہا کہ لا اسئلکم علیہ من أجر ۔ اس کی تفسیر کرتے ہوئے مولانا شبیراحمد عثمانی لکھتے ہیں :'
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
" یعنی تمہارے مال کی مجھے ضرورت نہیں۔ میرا پیدا کرنے والا ہی تمام دنیوی ضروریات اور اخروی اجر وثواب کا کفیل ہے ۔ یہ بات ہر ایک پیغمبر نے اپنی قوم سے کہی تاکہ نصیحت بے لوت بے لوث اور موثر ہو ۔ لوگ ان کی محنت کو دنیوی طمع پرمحمول نہ کریں" تفسیر القرآن، 294
مذکورہ عبارت میں " اخروی اجر وثواب ‘‘ کا لفظ محض تطبیق کے لئے شامل کیا گیا ہے ۔ اس غیر ضروری تطبیق کو نچوڑ کر اس عبارت میں نہایت صحیح بات کہی گئی ہے ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ داعی کو دنیوی اور مادی اعتبارے بے غرض ہونا پڑتا ہے۔ مدعو کی نظر میں بے غرض بننے کے لئے اس کو یک طرفہ قربانی دینی پڑتی ہے ۔ اس کے بغیرکسی کو داعی کا مقام ملنا ممکن نہیں۔
27 مارچ 1984
حضرت ابراہیم نے خواب دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے اسماعیل کو اپنے ہاتھ سے ذبح کر رہے ہیں۔ انھوں نے یہ خواب اپنے بیٹے اسماعیل سے بیان کیا۔ انھوں کہا کہ یا ابت افعل ما تومر ستجدني انشاء الله من الصابرين (الصافات) اے باپ،جوحکم آپ کو ملا ہےاسے کر ڈالئے انشاء اللہ آپ مجھے صبرکرنے والا پائیں گے ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
بظاہر یہ ایک قدیم واقعہ ہے۔ مگر یہ ایک مستقل حقیقت کو بتا رہا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کون لوگ ہوتے ہیں جو تاریخ بناتے ہیں۔ حضرت اسماعیل نے ایک تاریخ بنائی۔ اسی طرح آج بھی اسماعیل جیسے لوگوں کی ضرورت ہے تاکہ دوبارہ اسلام کی تاریخ بنائی جا سکے ۔
یہ کردار اسماعیل کیا ہے ۔ وہ ہے اپنی ذات کو ہمہ تن مقصد اعلیٰ کے حوالے کر دینا۔ مقصد جو کچھ کہے اس کو کرنے کے لئے تیار ہو جا نا ، خواہ اس راہ میں اپنی ذات کو ذبح کر دینا پڑے۔
28 مارچ 1984
مولانا شبیر احمد عثمانی سورہ احزاب کی تفسیر میں خاتم النبیین کی آیت کے تحت لکھتے ہیں :
other sourceWords of another person or source
" بعض محققین کے نزدیک انبیاء سابقین اپنے اپنے عہد میں بھی خاتم الانبیا صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت عظمیٰ ہی سے مستفید ہوئے تھے جیسے رات کو چاند اور ستارے سورج کے نور سے مستفید ہوتے ہیں ۔ حالا نکہ سورج اس وقت دکھائی نہیں دیتا۔ اور جس طرح روشنی کے تمام مراتب عالم اسباب میں آفتاب پرختم ہوجاتے ہیں اسی طرح نبوت ورسالت کے تمام مراتب و کمالات کا سلسلہ بھی روح محمدی صلعم پرختم ہوتا ہے۔ بدیں لحاظ کہ سکتے ہیں کہ آپ رتبی اور زمانی ہر حیثیت سے خاتم النبیین ہیں ۔ اور جن کو نبوت ملی ہے آپ ہی کی مہرلگ کر ملی ہے " تفسیر قرآن مولانا شبیر احمد عثمانی صفحہ 550۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
عجیب بات ہے کہ قدیم علماء بڑی بڑی باتوں کو اسی طرح مثالوں سے بیان کر دیتے ہیں ۔ حالانکہ مثالوں سے کچھ ثابت نہیں ہوتا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ علم کی حدود نہیں جانتے۔
مذکورہ عبارت میں خاتم الانبیاء کی جو تشریح کی گئی ہے ، اس کو ثابت کرنے کے لئے قرآن و حدیث کی کوئی واضح دلیل درکار ہے ۔ یہ دلیل میں عبادت النص سے نکلنی چاہئے ۔ اتنی بڑی بات کے لئے استنباطی نص میں ناکافی ہے ، کجا کہ اس کو قیاسی منطق یا مثالوں کے ذریعہ ثابت کرنے کی کوشش کی جائے۔
سورج کی وہ حیثیت عالم افلاک میں نہیں ہے جو "بعض محققین" نے بتائی ہے۔ تاہم اس سے قطع نظر،اس طرح کی مثال سے کوئی بات ثابت نہیں ہوتی۔ اس کے ثبوت بننے کے لئے ضروری ہے کہ دعوی اور مثال میں ربط ثابت ہو اور دونوں کے درمیان ربط کا کوئی ثبوت نہیں۔ مثال ایسی چیز ہوتی ہے کہ اس کو جہاں چاہے جوڑ دیا جائے۔
29 مارچ 1984
عرب کے ایک جاہلی شاعر نے کہا تھا :
الا لا يجهلن احد علینا
فنجھل فوق جھل الجاھلیہ
کوئی شخص ہرگز ہم پر جہالت نہ کرے، ورنہ ہم تمام جاہلوں سے بڑھکر اس کے اوپر جہالت کریں گے۔ برائی کی تقسم ہر دور میں پائی جاتی رہی ہے۔ بیشترلوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ ان کو چھیڑ دیجیے تو ان کے اندر کا شیطان جاگ اٹھتا ہے ۔ اگر آپ نے ان کے اوپر کنکری پھینکی ہے تو وہ چاہیں گے آپ کے اوپر پتھروں کی بارش کر کے آپ کو نیست نابود کر ڈالیں۔
ایسی دنیا میں زندہ رہنے کا راز صرف ایک ہے ۔ اور وہ اعراض ہے ۔ آپ صرف اعراض (اوائڈ) کر کے لوگوں کے شر اور جہالت سے بچ سکتے ہیں۔ اگر آپ اعراض نہ کریں تو کچھ لوگوں کے شر اور جہالت سے بچنا بھی آپ کے لئے ممکن نہیں۔
30 مارچ 1984
ایک نوجوان ملنے کے لئے آئے۔ انھیں کام کی تلاش تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ الرسالہ کے دفترمیں کام کریں ۔ میں نے پوچھا کہ آپ کی تعلیم کہاں تک ہوتی ہے تو انھوں نے بتایا "الونتھ تک" میں نے کہا کہ اپنے اس جملہ کو انگریزی میں کہئے کہ میں نے الونتھ تک پڑھا ہے ۔ انھوں نے کچھ دیر تک سوچا اس کے بعد بولے:
I was read eleventh.
میں نے کہا کہ یہ انگریزی نہیں،یہ اے بی سی ڈی ہے۔ انھوں نے کہا کہ پھراس کی انگریزی کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اس کو انگریزی میں کہنا ہو تو اس طرح کہیں گے:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
I have studied upto the eleventh standard.
آجکل کے مسلم نوجوانوں کے بارہ میں میرا تجربہ نہایت تلخ ہے۔ انگریزی تو درکنار اردو میں بھی ایک اچھا خط لکھنے کی توقع ان سے بہت کم کی جاسکتی ہے۔ الرسالہ کے دفتر کے لئے ہم عرصہ سے ایک ایسے نوجوان کی تلاش میں ہیں جو اردو میں خطوط کا عمدہ جواب لکھ سکتا ہو۔ مگر اب تک ہمیں اس میں کامیابی نہیں ہوئی ۔ یہی معاملہ ہنر کا ہے۔ الرسالہ کے دفتر کے لئے ایک انگریزی ٹائپسٹ عرصہ سے تلاش کیا جارہا ہے ۔ مگر حال یہ ہے کہ ہندو اور عیسائی ٹائپسٹ کو باآسانی مل جاتے ہیں۔ مگر کوئی اچھا مسلم ٹائپسٹ ابھی تک نہیں ملا۔
10 مارچ 1984
مجھے اپنی زندگی میں مسلمانوں کے بارے میں جو تجربات ہوئے ان کی بنا پر میں کہہ سکتا ہوں کہ لوگوں کوشاید خدا کا اتنا ڈر بھی نہیں ہے جتنا کسی کو چیونٹی کاٹنے کا ہوتا ہے ۔ خدا سے بے خوفی کے بغیر کوئی شخص ان افعال کی جرات نہیں کر سکتا جن کا مشاہدہ آج کل بار با ر ہو تا ہے ۔ کاش لوگ جانتے کہ بے خوفی کا یہ لمحہ بہت دیر تک ان کے لئے باقی رہنے والا نہیں ۔ لوگ جتنی زیادہ چاہیں کرلیں، بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے کہ ان کی تمام آزادیاں ان سے چھن جائیں گی۔ حتی کہ لوگوں کے پاس بے بسی کے سوا کوئی اور اثاثہ باقی نہیں رہے گا جس کو وہ اپنا سمجھیں۔
اس وقت لوگ بولنا چاہیں گے مگر ان کے پاس الفاظ نہ ہوں گے کہ وہ بولیں۔ وہ کرنا چاہیں گے مگر ان کے پاس طاقت نہ ہو گی کہ وہ کچھ کریں ۔ اس زلزلہ خیز وقت کے آنے میں کچھ بھی دیر نہیں جو وقت آنے والا ہے وہ آ کر رہے گا ، بلکہ جو وقت آنے والا ہے وہ آچکا۔ میں صرف اندھے اور بے حس لوگ ہیں جو آنے والے وقت کو اپنے سے دور سمجھ رہے ہیں ۔
لوگوں کے اوپر افسوس ہے ۔ اگر وہ اپنے جیسے ایک انسان سے بے خوف ہیں تو کیا وہ خدا سے بھی بے خوف ہوگئے ہیں۔ کاش لوگوں کے پاس آنکھ ہو کہ وہ دیکھیں اور ان کے پاس عقل ہو کہ وہ سمجھیں۔
آه انسان کے اوپر کتنا زیادہ بے بسی کا لمحہ آنے والا ہے، مگر وہ اپنے آپ کو کتنا زیادہ با اختیار سمجھ رہا ہے، آہ وہ انسان جو اسی بات کو نہیں جا نتا جس کو اسے سب سے زیادہ جاننا چاہئے، جو اس بات سے بے خبر ہے جیسے اسے سب سے زیادہ باخبر ہونا چاہئے۔
25 مارچ 1984
یہ ایک نفسیاتی حقیقت ہے کہ آدمی جس چیز کی تلاش میں ہو اسی کو وہ پاتا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آدمی جس چیز کی تلاش میں ہو۔ اس کے بارہ میں اس کا شعور جاگتا ہے۔ اس کے لئے اس کے اندر تڑپ پیدا ہوتی ہے۔ اس کے بارہ میں اس کی نظر اتنی تیز ہوجاتی ہے کہ جہاں وہ اس کو دیکھے فورا اسے پہچان لے۔
اب جس شخص کے اندر حق کی طلب جاگی ہو وہ حق کو دیکھے گا اور جس کے اندر باطل کی طلب جاگی ہو وہ باطل کو دیکھے گا۔
جو شخص اپنی بڑائی کا طالب ہو وہ دوسرے کی بڑائی کو دیکھنے میں ناکام رہے گا۔ جو شخص ناحق طریقہ پر فائدہ حاصل کرنا چاہتا ہو وہ ان تعلیمات کا راز سمجھنے سے محروم رہے گا جن میں حق کا طریقہ اختیار کرنے کی خوبیاں بتائی گئی ہوں۔ جوشخص قومی مفاد کو اپنا نشانہ بنائے ہوئے ہو وہ دعوتی مفاد کو سمجھنے سے قاصر رہے گا۔ وغیرہ ۔