Maulana Wahiduddin Khan
29 min left
0:00

← Diary 1983-1984
Diary 1983-1984

February 1984

English · 29 min read

یکم فروری 1984

ہر زبان کا اپنا اسلوب ہوتا ہے۔ اس اسلوب کو اہل زبان تو فورا سمجھ لیتے ہیں ۔ مگر غیر اہل زبان کو اس قابل بننے کے لئے بہت زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے کہ وہ اسلوب کے فرق کو سمجھ سکیں۔ مثلا " خیالات کہاں سے آتے ہیں" اس کو انگریزی زبان میں کہنے کی ایک صورت یہ ہے کہ یوں کہا جائے:

From where come ideas.

ایک شخص جو معمولی انگریزی جانتا ہو وہ اس جملہ کو سنے گا تو وہ یہی سمجھے گا کہ یہ انگریزی ہے ۔ مگر جو شخص اسلوب کی نزاکتوں سے واقف ہے وہ پہلی ہی نظر میں اس کو رد کر دے گا کیونکہ یہ وہ انگریزی نہیں جو اہل زبان بولتے ہیں۔ اس مفہوم کو ادا کرنے کے لئے صحیح انگریزی جملہ یہ ہے:

Where do ideas come from.

یہی معاملہ ہر زبان کا ہے ،خواہ وہ انگریزی زبان ہو یا اور کوئی زبان غیراہل زبان کی کتاب اہل زبان کے درمیان مقبول نہ ہونے کا خاص راز یہی ہے۔

2 فروری 1984

مدینہ کے ابتدائی ایام میں رسول اللہ صلی للہ علیہ وسلم نے صحابہ سے مشورہ کیا کہ نماز کے پکارنے کے لئے کیا طریقہ اختیار کیا جائے۔ اس وقت کسی نے ناقوس کی تجویز پیش کی ، کسی نے گھنٹہ کی ، وغیرہ ۔ مگر آپ نے اس طرح کی تحریروں کو پسند نہیں فرمایا ۔اذان اگر چہ نماز کے لئے بلانے کی ایک تدبیر ہے، مگر اسلام کی روح یہ ہے کہ تدبیر عمل میں بھی اصل عمل کی شان پائی جائے۔

آخر میں حضرت عبد اللہ بن زید بن ثعلبہ نے خواب میں نماز کے الفاظ دیکھے اور آکر آپ کو اپنا یہ خواب بیان کیا۔ آپ نے فرمایا : انها لرؤيا حق انشاء الله ( انشاء الله یہ سچا خواب ہے) پھر آپ نے ان سے کہا کہ تم بلال کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ ۔ ان کو اذان کے الفاظ بتاتے جاؤ اور وہ پکارتے جائیں ۔ کیوں کہ وہ تم سے زیادہ بلند آواز ہیں (فانہ اندیٰ صوتا منك، الرسول في المدينه ، صفحه 41)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حضرت عبد اللہ بھی صحابی تھے اور حضرت بلال بھی صحابی تھے۔ مگر اذان پکارنے کے لئے آپ نے حضرت بلال کا انتخاب فرمایا۔ اگرچہ ان کا حال یہ تھا کہ وہ شین کی آواز نکال نہیں پاتے تھے اور اشہد کو اسہد کہتے تھے۔

اس سے معلوم ہوا کہ جو کام پیش نظر ہو اسی کے لحاظ سے آدمی کا انتخاب کیا جاتا ہے ۔ اذان میں اصل اہمیت بلند آوازی کی ہے ۔ اس لئے آپ نے حضرت بلال کا انتخاب فرمایا ، جو بلند آواز تھے اگر چہ انھوں نے اذان کا خواب نہیں دیکھا تھا، اگر چہ بعض اعتبار سے ان میں کمی پائی جاتی تھی۔

3 فروری 1984

حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر چالیس سال کے لگ بھگ ہوئی تو آپ کا یہ حال ہوا کہ تنہائی آپ کو محبوب ہوگئی اور آپ غار حرا میں خلوت اختیار کرنے گئے ( حبب عليه الخلاء فكان يخلو بغار حراء ،بخاری)

hadithQuotes a hadith

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آپ غار حراء میں کیا کرتے تھے۔ اگر آپ عبادت کرتے تھے تو وہ کس قسم کی عبادت ہوتی تھی ۔ محدثین کا کہنا ہے کہ آپ کسی سابق امت میں سے نہ تھے اور نہ کسی پچھلے نبی کے پیرو تھے۔ اس لئے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ آپ فلاں پیغمبر (مثلا حضرت موسیٰ یا عیسیٰ) کے طریقہ پر عبادت کرتے تھے۔حضرت جبرئیل ابھی تک آپ کے پاس آۓ نہیں تھے کہ وہ اسلام کا طریق عبادت آپ کو بتائیں ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

پھریہ عبادت کیسی تھی۔ اس کا جواب حدیث کی شرح کرنے والوں نے یہ دیا ہے کہ غارحراء میں آپ کی عبادت کا طریقہ یہ تھا کہ آپ وہاں غور وفکر کرتے تھے اور عبرت حاصل کرتے تھے (كان صفة تعبدہ في غار حراء التفكر والاعتبار)

other sourceWords of another person or source

2 فروری 1984

زندہ قوم زندہ لوگوں کی قدر کرتی ہے اور مردہ قوم مردہ لوگوں کی۔ اس کی ایک مثال موجودہ زمانہ کے مسلمان ہیں۔

مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ زندہ لوگوں کو نظرانداز کرتے ہیں اور مردہ لوگوں کو پوجتے ہیں۔ ان کے نزدیک ساری اہمیت صرف ان لوگوں کی ہے جو مر چکے ہیں۔ جو لوگ ان کے سامنے زندہ موجود ہیں ان کی کوئی اہمیت ان کے نزدیک نہیں۔

یہاں ایک شخص کہے گا کہ آج ایسے بھی مسلمان ہیں جو زندہ ہیں۔ اس کے باوجود انھیں قوم کے اندر عزت اور مقبولیت حاصل ہے۔ اس کی وجہ بالکل سادہ ہے ۔ یہ زندہ لوگ وہ ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو کسی مردہ شخصیت سے جوڑ رکھا ہے ۔ وہ مرد ہ اسلاف کے نام پر کھڑے ہوئے ہیں ۔ ان میں سے کچھ لوگ وہ ہیں جنہیں مسلسل اسلاف کی کوئی گدی اتفاقا مل گئی ہے اور کچھ وہ ہیں جو اسلاف کی قصیدہ خوانی کر کے اپنے آپ کو ان کے سلسلہ سے ملاۓ ہوۓ ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اسلاف پرستی کا یہ مزاج بے عملی کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے ۔ لوگ جب کئے بغیر پانا چا ہیں تو وہ اپنے اسلاف کی مبالغہ آمیز شخصیتوں سے ایسا رشتہ جوڑ لیتے ہیں۔ وہ ان کی فرضی تصویر سے اپنے لئے فخر کی غذا لیتے ہیں۔ وہ سمجھنے لگتے ہیں کہ ان کی برکت سے سب کچھ ہو جائے گا۔

باعمل لوگ زندوں کی قدر کرتے ہیں اور مردہ لوگوں کو اس کے سوا کچھ معلوم نہیں کہ وہ مردہ اسلاف کی فرضی کہانیوں میں جیتے رہیں اور خود کچھ بھی نہ کریں۔

5 فروری 1984

فقہ کیا ہے ۔ ابن قیم نے مختصر لفظوں میں اس کی نہایت عمدہ تعریف کی ہے ۔ انھوں نے کہا :

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

هو معرفة الحق بدليله

وہ حق کو اس کی دلیل کے ساتھ معلوم کرنا ہے ۔

یہاں حق سے مراد اساسی حقیقتیں ہیں ۔ مگر بعد کو لوگوں نے فروعی مسائل میں افضل اور غیر افضل اور راجح اور مرجوح کی تلاش غیر ضروری طور پر شروع کر دی اور اس کو حق کا مسئلہ سمجھ کر اس کو فقہ قرار دیا۔ یہ ذہن اتنا بڑھا کہ جزئی اور فروعی مسائل کے بحث مباحث کو فقہ سمجھا جانے لگا۔

شریعت میں فقہ سے مراد حق کی معرفت ہے اور حق سے مراد اساسی چیزیں ہیں نہ کہ فروعی چیزیں۔ اساسی چیزیں ہمیشہ ایک ہوتی ہیں اور فروعی چیزوں میں ہمیشہ تنوع ہوتا ہے ۔ اس لئے فروعی چیزوں کو ایک بنانے کی کوشش ہمیشہ اختلاف پیدا کرتی ہے ۔ یہ ایسی چیزوں میں یکسانیت تلاش کرنا ہے جس میں یکسانیت ممکن نہیں ۔ فقہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے حکمت اسلام کا نام تھی مگر اس کو ظاہری تفصیلات کے ہم معنی بنادیا گیا۔

6 فروری 1984

صلح حدیبیہ 6ھ میں ہوئی۔ اس کی دفعات بظاہر یک طرفہ طور پر فریق ثانی کے حق میں تھیں۔ چنانچہ حضرت عمر نے کہا کہ یہ اہانت آمیز صلح کیوں، مگر قرآن نے اس کو کھلی فتح (فتح مبین ) قرار دیا ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس کی ایک وجہ وہ تھی جوشمس الائمہ سرخسی نے اپنی کتاب المبسوط اور شرح السیرالکبیر میں لکھی ہے. اور وہ یہ کہ اس کے ذریعہ قریش پابند ہو گئے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کسی کی حمایت نہ کریں گے ۔ صلح حدیبیہ کے فورا بعد آپ نے خیبر کی طرف اقدام کیا اور قریش اپنے معاہدہ کی بنا پر غیر جانب دار اور ناطرف دار رہے۔ اس طرح یہ مہم بآسانی کامیاب ہوگئی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

دوسرا اس سے زیادہ بڑا فائدہ دعوتی تھا۔ جنگ کے حالات ختم ہونے کے بعد دعوت کا کام بہت بڑھ گیا۔ اس میں یہ تھا کہ آپ نے صلح حدیبیہ کے بعد ہمسایہ بادشاہوں کے نام دعوتی خطوط روانہ کئے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد حکمرانوں کو اپنی دعوت کا مخاطب بنایا۔ آپ نے جن حکمرانوں کو دعوتی خطوط روانہ کئے ان میں رومی حکمراں ہرقل ، ایرانی حکمران کسریٰ، پرویز اور حبشی حکمراں نجاشی تھا۔ اس طرح آپ کی دعوت بیک وقت تینوں آباد براعظم (یورپ، ایشیا،افریقہ) میں پہنچ گئی ۔ صلح حدیبیہ بظاہرمیدان سے واپسی کے ہم معنیٰ تھی۔ مگر اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ زیادہ وسیع دائرہ میں عمل کے مواقع کھل گئے۔

7 فروری 1984

ہندستان میں مختلف مذاہب اور مختلف فرقے آباد ہیں۔ ان کے عقائد اور کلچر جدا جدا ہیں ان کے درمیان مسلسل کش مکش جاری رہتی ہے۔ اس کا حل کیا ہو۔

مولانا سید سلیمان ندوی نے اس کے حل کے لئے ایک ترکیب وضع کی جو ان کے الفاظ میں یہ تھی: "اقوام مختلفہ کی متحدہ جمہوریہ"

other sourceWords of another person or source

اسی طرح اس کے حل کے لئے مدنی فارمولا اور آزاد فارمولا پیش کیا گیا۔ جس کا خلاصہ یہ تھا کہ ریاستوں میں حسب آبادی سیٹوں کا تناسب قائم کیا جائے اور مرکز میں ہندو اور مسلم ممبران کی تعداد برابر برابر ہو۔ اقبال نے الہ آباد کے خطبہ میں تقسیم کا نظریہ پیش کیا۔

مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام عمل محض بے معنی الفاظ کے مجموعے تھے ، جیسا کہ فی الواقع وہ ثابت ہوئے۔ ہندستان میں مسلمانوں کے کرنے کا کام صرف ایک تھا اور وہ دعوت ہے ۔ مسلمانوں کو چاہئے تھا کہ وہ توحید خالص کی دعوت لے کر اٹھیں اور اس کے تمام ضروری تقاضوں کو پورا کر تے ہوئے اسے جاری رکھیں مگر موجودہ زمانہ کے اکابر امت میں سے کوئی ایک شخص بھی نہیں جس نے مسلمانوں کے سامنے یہ پیغام رکھا ہو۔

8 فروری 1984

" مکہ کی تیرہ سالہ زندگی میں مشرکین نے مسلمانوں پر دردناک مظالم کئے ۔ یہاں تک کہ مسلمان اپنا وطن چھوڑ کر مدینہ چلے گئے۔ مدینہ پہنچ کر ابتدا مکہ پر حملہ کا منصوبہ نہیں بنایا گیا۔ اگر چہ ہجرت کے پہلے سال ابواء ، بواط ، عشیرہ وغیرہ چھوٹے چھوٹے غزوات وسرایا وقوع پذیر ہوئے۔ ان کا مقصد مشرکین مکہ کے تجارتی سلسلوں کو جو شام و یمن وغیرہ سے قائم تھے شکست دیکر ظالموں کی اقتصادی حالت کمزور اور مسلمانوں کی ملی پوزیشن مضبوط کرنا تھا ۔"

یہ بتاتے ہوئے مولانا شبیراحمد عثمانی اپنی تفسیر قرآن میں لکھتے ہیں : ” مکہ کا ادب مانع تھا کہ مسلمان ابتدا وہاں چڑھ کر جائیں ۔ اس لئے ہجرت کے بعد تقریباً ڈیڑھ سال تک یہ لائحہ عمل رہا۔ صفحہ 228

other sourceWords of another person or source

مکہ کی طرف چڑھائی کرنے سے اگر مکہ کا ادب مانع تھا تو فتح مکہ کے موقع پر کیوں مکہ پر چڑھائی کی گئی۔ جب بھی کوئی غیر واقعی تشریح کی جائے گی تو وہ دوسرے معلوم حقائق سے ٹکرا جائے گی ۔

دوسری بات یہ کہ اس طرح کی تشریح سے غلط ذہن بنتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے " تیرہ سال" تک صبر کیا وہ سب ایک خاص شہر کے ” ادب" کے خانہ میں چلا گیا۔ اس سے بعد کے مسلمانوں کو طویق عمل کی بابت کوئی رہ نمائی نہیں ملی ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس طرح کی باتوں کا نتیجہ یہ ہوگا کہ لوگ ہر حال میں بس لڑ جانے کو سب سے بڑا کام کہیں گے۔ اور رسول اللہ ﷺجو ایک عرصہ تک مکہ والوں سے نہیں لڑے اس کو وہ ” ادب" کے خانہ میں ڈال دیں گے اور اپنے لئے اس سے کوئی نصیحت لے سکیں گے ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

9 فروری 1984

قرآن میں ہے کہ : اليوم احل لكم الطيبات وطعام الذين أوتوا الكتاب حل لكم وطعامكم حل لهم ( المائده5)

Qur'anQuotes the Qur'an

یعنی آج تمام پاکیزہ چیزیں تمہارے لئے حلال کر دی ہیں اور اہل کتاب کا کھانا تمہارے لئے حلال ہے اور تمہارا کھانا ان کے لئے حلال ہے۔

Qur'anQuotes the Qur'an

اس آیت سے کچھ لوگوں نے یہ نکال لیا کہ اس میں کہا گیا ہے کہ یہودی اور عیسائی لوگوں کا طعام تمہارے لئے حلال ہے۔ اب چونکہ یہودی اور عیسائی خنزیر کھاتے ہیں۔ خنزیر ان کا طعام ہے۔ اس لئے یہ مسلمانوں کے لئے بھی حلال ہوا۔

یہ استدلال بالکل جاہلانہ ہے ۔ یہاں عوام سے مراد محض طعام نہیں بلکہ اس سے مراد ذبیحہ ہے۔ یہاں طریق طعام کا ذکر ہے نہ کہ جنس طعام کا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئ یہودی یا عیسائی اگر ایک حلال جانور کو اپنے مذہبی طریقہ پر ذبح کرے تو اس کا کھانا مسلمانوں کے لئے جائز ہے ۔

تاهم جو شخص اسلام سے مرتد ہو کر یہودیی یا عیسائی بن جائے تو اس کے احکام الگ ہیں۔ کیوں کہ مرتد ہو کر یہودی یا عیسائی بننے والوں کا ذبیحہ از روئے فقہ جائز نہیں ۔

10 فروری 1984

السٹریٹڈ ویکلی آف انڈیا ( بمبئی ) انگریزی کا مشہور ہفت روزہ ہے ۔ وہ 1880 میں جاری ہوا۔ اس کی10 جون 1979 کی اشاعت کریکٹ نمبر تھی جس کا عنوان تھا" ورلڈ کپ کریکٹ اسپیشل“ یہ اشاعت 405000 کی تعداد میں چھپی ۔ یہ تعداد اس کی پچھلے سو برس کی تمام اشاعتوں میں سب سے زیادہ ہے ۔ آج کی دنیا میں لوگ کھیل تماشے کی باتوں کے سب سے زیادہ خریدار ہوتے ہیں ۔ سنجیدہ باتوں سے کسی کو دل چسپی نہیں۔ آدمی سطحی چیزوں میں اتنا زیادہ کھویا ہوا ہے کہ گہری باتوں میں دھیان دینے کا اسے خیال بھی نہیں آتا ۔

11 فروری 1984

میں جس زمانہ میں مدرسۃ الاصلاح میں پڑھتا تھا۔ اس زمانہ کا ایک لطیفہ ہے ۔ ہم لوگ مولانا امین احسن اصلاحی کے کلاس میں تھے ۔ وہ ہم لوگوں کو قرآن اور ادب پڑھاتے تھے ۔

ایک روز درس کے دوران کوئی عربی لفظ آیا۔ مولانا امین احسن اصلاحی صاحب نے لوگوں سے اس کا مطلب دریافت کیا۔ ایک بہاری طالب علم جس کا نام غالبا مطیع الرحمن تھا ، وہ بول پڑے اور انھوں نے کہا :

” باڑیک “

مولانا امین احسن اصلاحی صاحب نے اس کوسن کر کہا " آپ نے تو اس کو اور موٹا کر دیا" ۔ بہاری لوگ اکثر ر کو ڑ اور ڑ کو ر بولتے ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

12 فروری 1984

" کلمہ گو کے لئے جنت ہے" یہ مسلمانوں کا متفقہ عقیدہ بن گیا ہے۔ مجھے یہ بات قرآن وحدیث کی تعلیمات کے مطابق نظر نہیں آتی تھی ۔ اگر چہ میں تسلیم کرتا تھا کہ دین میں اصل اہمیت ایمان کی ہے سب کچھ ایمان پر منحصر ہے۔ مگر یہ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ " کلمہ گو کے لئے جنت ہے“ کا عقیدہ کیوں کر صحیح ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اچانک ذہن میں یہ بات آئی کہ اس جملہ میں ایک صحیح بات کو غلط شکل میں پیش کیا گیا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ـــــــــ "جنت صاحب ایمان کے لئے ہے۔"

دوسرے لفظوں میں یہ کہ جنت صاحب کلمہ کے لئے ہے نہ کہ محض کلمہ گو کے لئے ۔ صاحب کلمہ یا صاحب ایمان وہ ہے جو کلمہ اور ایمان کی حقیقت کو اپنے اندر اتارے ہوئے ہو۔

کلمہ کا زبان سے تلفظ کرنا دوسری چیز ہے اور کلمہ کی حقیقت کا دل میں اترنا روسری چیز ہے۔ اس فرق کو میں ان لفظوں میں ادا کررہا ہوں کہ ـــــــــ جنت صاحب کلمہ کے لئے ہے نہ کہ محض کلمہ گو کے لیے۔

13 فروری 1984

جب بھی اسلام کی بات کی جائے تو سننے والے کہتے ہیں کہ : موجودہ زمانہ کے مسلمان کہاں اس اسلام پر ہیں۔

یہ ایک غلط فہمی ہے " مسلمان" سے مراد کوئی نسلی گروہ نہیں ہے بلکہ وہ افراد ہیں جو ذ ہنی انقلاب کے ذریعہ مسلمان بنے ہوں ۔ اسلام آدمی کے شعور میں ایک انقلاب لاتا ہے۔ جن لوگوں کے اندر یہ شعوری انقلاب آئے وہی دراصل وہ لوگ ہیں جن کو مومن اور مسلم کہا گیا ہے۔

جب بھی اسلام سے پیدا ہونے والے اخلاق وکردار کی بات کی جاتی ہے تو اس سے مراد وہ اہل اسلام ہوتے ہیں جو ذہنی انقلاب کے ذریعہ مسلمان بنے ہوں محض اتفاقی پیدائش سے مسلمان بن جانے والوں کو اس معاملہ میں معیار نہیں بنایا جاسکتا ۔

14 فروری 1984

مسلمانوں کے جتنے قائد اور مفکر ہیں سب جہاد اور انقلاب کی باتیں کرتے ہیں۔ ہر ایک عالمی اور آفاقی الفاظ میں کلام کرتا ہے۔ ان میں کوئی نظر نہیں آتا جو احتساب خویش اور فکر آخرت کی باتیں کرے ۔

اس کی ایک وجہ غالباً یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا اصل دینی سرمایہ جھوٹا فخر ہے۔ جھوٹے فخر نے ہر ایک کو کبر کی نفسیات میں مبتلا کر رکھا ہے ۔ مذکورہ صورت حال کی وجہ غالبا یہی ہے۔

فخر اور کبر کی نفسیات رکھنے والے آدمی کو تواضع والا اسلام اپیل نہیں کرے گا۔ اس کو صرف انقلابی اسلام ہی اپیل کر سکتا ہے۔ ایسے لوگوں کو "احتساب کائنات" کی بات بڑی بات معلوم ہوگی۔ اس کے بر عکس جو شخص احتساب خویش کی بات کرے وہ انھیں حقیر دکھائی دے گا۔ خواہ احتساب کائنات کی بات باعتبار حقیقت کتنی ہی بے معنی کیوں نہ ہو ۔

15 فروری 1984

قرآن کو پڑھئے تو اس میں سب سے زیادہ ذکر پیغمبروں کا ہے ۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ دنیا میں بار بار خدا کے رسول آئے۔ انھوں نے لوگوں کو توحید کا پیغام دیا ۔ چند لوگوں نے مانا اور بیشتر لوگوں نے نہیں مانا ۔ پھر ماننے والوں کو بچا کر بقیہ تمام لوگ ہلاک کر دئے گئے ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن تاریخ کے اس پہلو کو اتنی کثرت سے بیان کرتا ہے گویا اس کے نزدیک سب سے زیادہ قابل تذکرہ تاریخی بات یہی ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ تاریخ انسانی کا یہ پہلو انسانوں کی مدون کی ہوئی تاریخ میں سرے سے مذکور ہی نہیں ۔ انسانوں کی لکھی ہوئی تاریخ کسی ایسے واقعہ کے ذکر سے بالکل خالی ہے۔ جو بات قرآن کے نزدیک سب سے زیادہ قابل ذکر تھی وہی تاریخ میں درج ہوئے سے رہ گئی۔

ہماں ورق کہ سیہ گشته مدعا این جا است

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ خدا نے انسان کو موجودہ دنیا میں کس قدر زیادہ آزادی دی ہے ۔ انسان کو یہ آزادی اگر چہ امتحان کے مقصد سے دی گئی ہے مگر وہ اتنی مکمل ہے کہ انسان خواہ جو بھی کرے اس کو کوئی روکنے والا نہیں ۔

اس سے دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ بے آمیز حق کی دعوت شیطان کو انتہائی حد تک نا پسند ہے ۔ وہ اس کو مٹانے کے لئے ساری قوت لگا دیتا ہے ۔ چنانچہ وہ پچھلے دور کی تمام تاریخوں کو مٹاتا رہا۔ پیغمبر آخرالزمان کی تاریخ کو وہ نہ مٹا سکا کیوں کہ آپ کے ساتھ خصوصی طور پر اللہ تعالیٰ کی نصرت حفاظت شامل تھی۔

16 فروری 1984

ہندستان میں آزادی کے بعد تقریبا دس ہزار فسادات ہو چکے ہیں۔ یہ فسادات زیادہ تراس طرح ہوتے ہیں کہ مسلمان کسی چھوٹے سے واقعہ پرمشتعل ہو جاتے ہیں اور پھر ملک کے حالات کی بنا پر بہت جلد وہ مسئلہ ہندو مسلم مسئلہ بن جاتا ہے۔ دونوں کے درمیان ٹکراؤ ہوتا ہے جس میں ہمیشہ صرف مسلمان مارے جاتے ہیں۔ میں شاید ملک میں تنہا ایک شخص ہوں جو مسلمانوں کو صبر کی تلقین کرتا ہے۔ اور اس قسم کے بے فائدہ ٹکراؤ سے روکتا ہے۔

مسلمانوں میں جتنے بھی قلم اور زبانیں ہیں سب کے سب متفقہ طور پرمقابلہ اور ٹکراؤ کی باتیں کرتے ہیں۔ اور اس کو جہاد قرار دیتے ہیں۔ مگر فسادات کی پوری تاریخ بتاتی ہے کہ اس میں مرنے والے ہمیشہ صرف عام مسلمان ہوتے ہیں ۔ ہمارے لیڈر اور ہمارا تعلیم یافتہ طبقہ کبھی ان فسادات میں مارا نہیں جاتا ۔ وہ لوگ جو اپنی زبان وقلم سے لوگوں کو جہاد پر ابھارتے ہیں وہ خود ہمیشہ جہاد کے میدان سے دور رہتے ہیں۔ شہادت کے فضائل پر تقریر کرنے والے خود کبھی لڑ کر شہید نہیں ہوتے۔

ہمارے قائدین صرف دوسروں کو للکارنے کے لئے بہادر ہیں ، وہ خود لڑنے کے لئے بہادر نہیں ۔

17 فروری 1984

کسی مفکر کا قول ہے کہ سزا کی شدت نہیں بلکہ سزا کی ناگزیریت وہ چیز ہے جو آدمی کو جرائم سے روکتی ہے :

other sourceWords of another person or source

It is not the severity of punishment that acts as a deterrent. It is its inevitability.

دنیا کا کوئی بھی نظام ایسا نہیں جس کی سزا میں ناگزیریت ہو، جس کے بارہ میں آدمی کویقین ہو کہ اس کو ضرور بھگتنا پڑے گا ، اس سے بچ کر نکلنا ممکن نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے نظام اگر چہ ہر جرم کی سزا مقرر کئے ہوئے ہیں۔ مگریہ سزائیں جرائم کا روک ثابت نہ ہوئیں۔

حقیقت یہ ہے کہ صرف ایک ہی نظام ہے جس کی سزا میں ناگزیریت ہے اور وہ خدائی نظام ہے۔ جس آدمی کو خدا کی پکڑ اور اس کی سزا کا واقعی شعور حاصل ہوجائے ، وہ لازما پرہیز گار بن جائے گا ۔ کیوں کہ اس کو یقین ہوگا کہ جرم کرنے کے بعد خدا کی سزا سے اپنے آپ کو بچانا کسی بھی طرح ممکن نہیں۔

18 فروری 1984

ایک مغربی مفکر کا قول ہے کہ لوگوں کا قائد بننا ہو تو لوگوں کے پیچھے چلو :

other sourceWords of another person or source

To lead the people, walk behind them.

یہ سستی اور سطحی قیادت کی نہایت صحیح تعبیر ہے ، لوگوں کے درمیان قائد بننے کا سب سے آسان نسخہ یہ ہے کہ آدمی وہ بات کہنے لگے جو لوگوں کو پسند ہے۔

موجودہ زمانہ کے تمام بڑے بڑے لیڈروں کا کیس یہی ہے ۔ انھوں نے عوام کی خواہشات کا ساتھ دیا۔ انھوں نے عوامی رجحانات کی ترجمانی کی۔ اس کی انھیں یہ قیمت ملی کہ عوام کی بھیڑ ان کے گرد جمع ہو گئی ۔ اگر وہ عوام کی خواہشات کے خلاف کوئی پروگرام لے کر اٹھتے تو انہیں ہرگز یہ مقبولیت حاصل نہ ہوتی۔

19 فروری 1984

فزیکل سائنس کے قوانین میں سے ایک قانون یہ ہے کہ ہر سال کا ایک لازمی رد عمل ہے جواسی کے برابر اور عین اس کی مخالف سمت میں ہوتاہے :

"To every action there is an equal and opposite reactio .

یہی اصول انسانی زندگی میں بھی کار فرما ہے ۔ ہمارا ہر عمل سماجی زندگی میں ایک رد عمل پیدا کرتا ہے۔ عقلمند وہ ہے جو اپنے عمل کے رد عمل کو جانے اور بے وقوف وہ ہے جو اپنے عمل کے رد عمل سے بے خبر رہے۔

اپنے عمل کے رد عمل کو جاننے والا اپنے رویے پر نظرثانی کرے گا ، وہ اپنی کمیوں کو جان کر زیادہ صحیح منصوبہ بندی کر کے آگے بڑھ جائے گا۔ مگر جوشخص اپنے عمل کے رد عمل کو نہ جانے وہ صرف دوسروں کی شکایت کرے گا ۔ وہ کبھی اپنے عمل کو نتیجہ خیز نہیں بنا سکتا ۔

20 فروری 1984

انگریزی کی ایک کتاب ہے جس کا نام ہے:

Outline of Modern Belief.

یہ کتاب موجودہ صدی کے آغاز میں چھپی تھی۔ اس کی پہلی جلد میں صفحہ 18 پر انسان کی قدیم ارتقائی شکلوں کی وضاحت کرتے ہوئے ایک تصویر ہے ۔ اس تصویر میں پلیٹ ڈاؤن مین (Piltdown man) کی دریافت کو دکھایا گیا ہے۔ اس نظریہ سے متعلق دو اہم شخصیتیں سسکس ( Sussex) کے متعلقہ علاقہ میں مزید ٹکڑے کی تلاش کررہی ہیں جن سے پلٹ داؤن مین کے ٹکڑوں کو جوڑ کر مکمل کیا جاسکے۔ تصویر کے نیچے لکھا ہوا ہے ؛

The Piltdown Discovery.

اس کے بعد تصویر کے نیچےیہ عبارت درج ہے :

Scene of the world famous discovery of the Piltdown Man of Sussex. The photograph shows Dr. A. Smith Woodward and Dr Charles Dawson screening and washing Piltdown gravel in search of more fragments of the skull and teeth. At the right a workman stands on the exact spot of the original discovery (p. 18).

یہ پلٹ ڈاؤن مین جس کو حقیقت سمجھ کر کتابوں میں درج کر دیا گیا تھا بعد کو محض فریب (Forgery) ثابت ہوا۔

opposing viewA view stated in order to be argued against

21 فروری 1984

1947 کا واقعہ ہے۔ ہندستان کے انگریز وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن ملک کی آزادی کے بارے میں ایک اہم اعلان کرنے والے تھے۔ بڑے بڑے سیاسی لیڈر برلا ہاؤس میں جمع تھے تاکہ وائسرائے کی تقریرسن سکیں جو رات کو دس بجے ریڈیو پر ہونے والی تھی ۔ مشہور صنعت کارمسٹر برلا بھی وہاں موجود تھے ۔ وہ اپنے اوقات کے بے حد پابند تھے۔ ان کی زندگی میں ہر چیز کا ایک وقت مقرر تھا۔ رات کو وہ ہمیشہ آٹھ بجے سوجایا کرتے تھے۔ چنانچہ جب آٹھ بجے کا وقت ہوا تومسٹر برلا لیڈروں کی مجلس سے اٹھ گئے اور یہ کہ کر اپنے سونے کے کمرہ میں چلے گئے :

وائسرائے کی تقریر میں کل صبح کے اخبار میں پڑھ لوں گا "۔

زندگی میں کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن کی حقیقی اہمیت ہوتی ہے ۔ اور کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن کی اہمیت اضافی ہوتی ہے ، آدمی اکثر اوقات دونوں کے فرق کو نہیں سمجھتا اور اضافی چیز کو وہ اہمیت دینے لگتا ہے جو صرف حقیقی چیزکو دینا چاہئے۔

وائسرائے کی تقریر رات کو سننا صرف تسکین شوق کا مسئلہ تھا۔ ورنہ جہاں تک ضرورت کا سوال تھا، اس کو صبح کے اخبار میں پڑھنا بھی ویساہی تھا جیسا چند گھنٹے پہلے رات کوسننا ۔

22 فروری 1984

1910 میں دارالعلوم دیوبند کا ایک جلسہ دیوبند میں ہوا ۔ اس جلسہ میں صاحبزادہ آفتاب احمد خان (سابق وائس چانسلر ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی) بھی شریک ہوئے تھے۔ اس وقت باہمی مشورہ سے یہ بات طے ہوئی تھی کہ دیوبند کے کچھ ہونہار طلبہ ہر سال جدید تعلیم کے لئے علی گڑھ بھیجےجائیں ۔ اسی طرح علی گڑھ کے کچھ منتخب طلبہ دینی تعلیم کے لئے دیوبند بھیجے جائیں ۔ مگراس تجویز پرکبھی عمل نہ ہوسکا۔

موجودہ زمانہ میں بار بار ایسا ہوا ہے کہ مسلم رہنماؤں نے ایک اچھی تجویز منظور کی مگر اس تجویز کو واقعہ بنانے کے لئے کچھ نہیں کیا جا سکا۔ اس کے بر عکس اسی مسلم قوم میں یہ منظر بار بار دکھائی دیتا ہے کہ مسلم رہنما کسی جذباتی اشو پر کوئی بات طے کرتے ہیں اور پھر خود بھی اس پر چل پڑتے ہیں اور ان کے ساتھ بے شمار عوام بھی ۔

اس کا راز یہ ہے کہ جذباتی اشو پر دوڑنا سب سے آسان کام ہے اور تعمیری مہم کو لے کر چلنا سب سے مشکل کام ۔ یہی وجہ ہے کہ تعمیری مہم کے حصہ میں صرف لوگوں کے الفاظ آتے ہیں اور جذباتی مہم کے حصہ میں لوگوں کا عمل۔

23 فروری 1984

انسان دولت پاکر سمجھتا ہے کہ اس نے وہ سب کچھ پا لیا جو اسے پانا چاہئے تھا۔ مگر بہت جلد موت آکر اس کے اس خیال کی تردید کر دیتی ہے ۔ جو دولت اتنے کم وقت تک انسان کا ساتھ دے وہ کبھی انسان کا "سب کچھ" نہیں ہوسکتی ۔ انسان کا سب کچھ وہی چیز ہوسکتی ہے جو ابدی طور پر اس کا ساتھ دے، اور ایسا ساتھ دینے والا خدا کے سوا کوئی اور نہیں۔

فرعون کی موت بیوی نے آخروقت میں دعا کی تھی : رب ابن لي عندك بيتا في الجنة (خدایا میرے لئے جنت میں اپنے پاس ایک گھر بنا دے۔)

فرعون کی بیوی (آسیہ) مصر کے شاہی محل میں تھیں ۔ مگر ان کو محسوس ہوا کہ یہ محل عارضی ہے ۔ آج یا کل بہرحال وہ چھن جائے گا ۔ مستقل محل وہی ہو سکتا ہے جو اللہ کے پڑوس میں بنے ۔ جو شخص اس حقیقت کا ادراک کرلے اس کی زبان سے وہی دعا نکلے گی جو مکہ مصر کی زبان سے نکلی ۔

24 فروری 1984

با جماعت نماز ہورہی ہو اور امام کوئی غلطی کر جائے تو مقتدیوں کے لئے لقمہ دینا عین جائز ہے۔ اگر لقمہ صحیح ہے تو امام کے اوپر لازم ہے کہ وہ اس کو قبول کرے لیکن اگر کوئی ایسا شخص لقمہ دے جو نماز میں شریک نہ ہو اور امام اس کو قبول کرلے تو نماز فاسد ہو جائے گی اور اکثر فقہاء کے نزدیک اس کا دہرانا ضروری ہوگا۔

یہ صرف ایک فقہی مسئلہ نہیں بلکہ یہ زندگی کا عام قانون ہے ۔۔۔ ایک شخص جس کی کمائی میں آپ شریک نہ ہوں اس کے خرچ کے بارہ میں بھی آپ اس کو کوئی مشورہ نہیں دے سکتے۔ ایک ادارہ جس کی تاریخ آپ نے نہ بنائی ہواس کی نیج میں تبدیلی لانا آپ کے لئے ممکن نہیں ہے۔ ایک تحریک جس کو آپ نے چلایا نہ ہو اس کے رخ کو بد لنا آپ کے بس میں0 نہیں ہے ۔ ایک ملک جس کی ترقی میں آپ کا خون اور پسینہ شامل نہ ہو اس کے مستقبل کے بارہ میں آپ کی خواہشیں قابل لحا ظ نہیں ہوسکتیں۔

ایک صاحب نے مذکورہ فقہی مسئلہ پر یہ عتراض کیا تھا کہ آخر اس شدت کی کیا ضرورت ہے ۔ باہر کا بھی ایک شخص اگر صحیح لقمہ دے تو اس کو قبول کر لینا چاہئے ۔ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے یہ بات کہی ۔

25 فروری 1984

مسلمانوں کی جدید تاریخ میں غالبا سر سید پہلے قابل ذکر شخص ہیں جنھوں نے تعلیم کی اہمیت پر زور دیا۔ انھوں نے کہا :

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

" سب ترقی کی جڑ یہی ہےکہ سب سے پہلے علم کے خزانوں کو اپنے قابو میں کرلو"

(لکچروں کا مجموعہ ، صفحہ 38 )

جس وقت سرسید نے یہ بات کہی اس وقت مسلمانوں کے تمام اکابر انگریزوں کے خلاف جنگ میں مشغول تھے۔ انگریز سے نفرت اسلام و ایمان کا معیار بنا ہوا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سرسید کی یہ بات لوگوں کی سمجھ میں نہ آسکی۔ سرسید کے بارہ میں کہا گیا کہ وہ انگریزوں کے ایجنٹ ہیں ۔ انگریز نے ان کو اس لئے کھڑا کیا ہے تاکہ قوم کی توجہ سیاسی محاذ سے ہٹا دیں ـــــــــ جب مزاج بگڑا ہوا ہو تو صحیح بات بھی آدمی کو غلط صورت میں دکھائی دینے لگتی ہے ۔

26 فروری 1984

ایک عالم نے ایک بارفتوی دیا :

المسح على الخفين واجب (خفین پر مسح کرنا واجب ہے) یہ ایک غیر معمولی فتوی تھا۔ کیوں کہ خفین پر مسح رخصت ہے نہ کہ واجب ۔ پھر انھوں نے ایسا کیوں کہا۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ مذکورہ عالم کے زمانہ میں لوگوں میں یہ ذہن پیدا ہوگیا تھا کہ خفین پر مسح خلاف اولیٰ ہے ، اس لئے انھوں نے مسح کرنا چھوڑ دیا تھا۔ یہ ذہن شرعی اعتبار سے درست نہیں۔اس لئے مذکورہ عالم نے اس ذہن کی تصحیح کے لئے رخصت کے حکم کو واجب کے الفاظ میں بیان کیا۔ یعنی جب لوگوں میں خدا کی دی ہوئی رخصت سے کراہت پیدا ہو جائے تو اس وقت رخصت پرعمل کرنا لازم ہو جاتا ہے تاکہ اس غلط ذہن کی اصلاح ہو۔

یہ حالات کے اعتبار سے کسی چیز پر زیادہ زور دینے کی مثال ہے ، اور مصلح کو ہمیشہ ایسا کرنا پڑتا ہے۔ فقیہہ مسئلہ کو صرف مسئلہ کے اعتبار سے بیان کرتا ہے۔ مگر جو شخص مصلح ہو وہ مسئلہ کے ساتھ حالات کو بھی دیکھتا ہے ۔ حالات کی رعایت سے کبھی وہ ایک چیز پر زیادہ زور دیتا ہے اور کبھی ایک چیز پرکم

27 فروری 1984

مولانا مفتی محمد شفیع صاحب کی ایک عربی کتاب ہے جس کا نام ہے :

كشف العناء عن وصف الغناء

اس کتاب کا اردو ترجمہ "اسلام اور موسیقی" کے نام سے شائع ہوا ہے۔ اس اردو ترجمہ پر اس کے مترجم مولانا محمد عبد المعز صاحب کا مفصل دیباچہ ہے۔ اس دیباچہ میں وہ لکھتے ہیں:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

” خدا کے حکم میں حکمتیں تلاش کرنا ضعف ایمانی کی دلیل ہے ۔ علم اسرار وحکم قرون اولی میں ناپید تھا ، صفحہ 56

قرون اولی میں مصنوعی با ریکیاں نکالنے کا بے شک رواج نہ تھا۔ مگر کلام الہی میں جوفطری حکمت چھپی ہوتی ہے اس کی تلاش روز نبوت سے لے کر بعد کے ہر زمانہ میں جاری رہی ہے۔ اور یہی وہ چیز ہے جس کے لئے قرآن میں تدبر کا حکم دیا گیا ہے ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

دین میں موشگافیاں کرنا اور مصنوعی قسم کی بے فائدہ باریکیاں نکالنا سب سے پہلے ایرانیوں کے شروع کیا ۔ چونکہ عباسی خلفاء نے سیاسی اسباب کے تحت ایرانیوں کی حوصلہ افزائی کی تھی اس لئے یہ انداز بہت بڑھ گیا۔

جولوگ خالص دینی مزاج رکھنے والے تھے ان کو اس قسم کے دماغی مشغلے فضول معلوم ہوئے ۔ انھوں نے اس کے خلاف نا پسندیدگی کا اظہار کیا۔ مگر یہ بہت بڑا ظلم ہوگا کہ فطری حکمت اور مصنوعی باریکیوں میں فرق نہ کیا جائے اور دونوں کو یکساں طور پر ناپسندیدہ قرار دیا جائے۔ فطری حکمت اضافہ ایمان کا ذریعہ ہے جبکہ مصنوعی باریکیاں صرف دماغی ورزش ہیں ۔

28 فروری 1984

ٹیپوسلطان (1799 - 1749) کے بارہ میں انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا (1984) میں یہ الفاظ

other sourceWords of another person or source

لکھے ہیں:

He was exceptional for having never allied himself with the English against any other Indian ruler. (IX/1025).

سلطان ٹیپو نے 1789 میں انگریزوں کے خلاف جنگ آزادی کا آغاز کیا۔ انھوں نے عرب ، کابل ، قسطنطنیہ ، فرانس، ماریشش اپنے سفیر بھیجے تاکہ انگریزوں کے خلاف ان کا تعاون حاصل کریں ۔ مگر کسی سے ان کو مدد نہیں ملی۔ انھوں نے ہندستانی راجاؤں اور نوابوں سے گفتگو کی مگر کوئی ان کا ساتھ نہ دے سکا۔ 4 مئی1799 کو وہ انگریزوں سے لڑتے ہوئے مارے گئے۔

عجیب بات ہے کہ یہی کہانی دوبارہ " ریشمی خطوط" کے قائدین نے دہرائی جس کے رہنما مولانا محمود حسن دیوبندی تھے ۔ انھوں نے بھی عرب، ترکی ، افغانستان اور دوسرے ملکوں میں اپنے نمائندے بھیجے اوران سے انگریز کے خلاف مدد کی ناکام درخواست کی۔

کیسے عجیب تھے وہ لوگ جن کی سمجھ میں یہ بات نہ آئی کہ جو بیرونی ممالک ایک ریاست کے حکمراں (سلطان ٹیپو) کو مدد دینے پر راضی نہ ہوئے وہ عین اسی معاملہ میں مدرسہ کے علماء کو مدد دینے کے لئے راضی ہو جائیں گے۔

بریں عقل و دانش بیاید گریست

ٹیپو سلطان نہایت بہادر اور با عزم انسان تھا۔ اس کا مشہور مقولہ اس کی سیرت کی مکمل تصویر ہے کہ " گیدڑ کی سو سال کی زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہے" ۔ ہندستان میں انگریزوں کی خاص سیاست یہ تھی کہ جہاں وہ دیکھتے کے دو ریاستوں میں کوئی اختلاف ہے تو وہ ایک کا ساتھ دے کر دونوں کو لڑا دیتے اور اس طرح اپنے لئے زمین ہموار کرتے ۔ مگر ٹیپو واحد حکمراں تھا جوکسی کے خلاف انگریزوں کا ساتھی نہ بن سکا۔

سخت دشواریوں کے باوجود ٹیپو انگریزوں سے لڑتار ہا۔ انگریزوں کا عام طور پر یہ احساس تھا کہ برصغیر میں ان کے راستہ کی اصل رکاوٹ ٹیپو ہے ۔ چنانچہ 4 مئی 1799 کو جب ٹیپو انگریزوں کے خلاف لڑتا ہوا مارا گیا تو جنرل ہیرس خوشی سے اچھل پڑا ۔ اس نے چلا کر کہا کہ آج ہندستان ہمارا ہے :

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

Today India is ours.

یکم فروری 1984

میرٹھ کے شاہ گھاٹ میں ایک چبوترے کا جھگڑا تھا۔ وہاں ایک قبر ہے اور ایک پیپل کا درخت - ہندوؤں نے پیپل کو بنیاد بنا کر اس کو مندر کی حیثیت دینے کی کوشش کی ۔ اور مسلمانوں نے قبر کو بنیاد بنا کر یہ دعوی کیا کہ یہ ہمارے بزرگ کا مزار ہے۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ وہ اس قبر پر چادر چڑھائیں گے اور رسوم ادا کریں گے۔

جھگڑا بڑھتا رہا۔ یہاں تک کہ 6 ستمبر اور 7 ستمبر 1982 کی درمیانی رات کو مسلمانوں نے وہاں کے ایک پجاری کو قتل کر دیا۔ 7 ستمبر 1982 کی صبح کو جب پجاری کے قتل کی خبرمشہور ہوئی تو شہر میں بندو مسلم فساد کی آگ بھڑک اٹھی اور سارا شہراس کی لپیٹ میں آگیا۔

اس فساد کا یک طرفہ نقصان صرف مسلمانوں کو ہوا۔ بیسیوں مسلمان مارے گئے۔ ہزاروں گھرلوٹے اور جلائے گئے ۔ کروروں روپیہ کا مالی نقصان ہوا۔ (الجمیعته21 اکتوبر 1982)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ہندستان کے تمام ہندو مسلم فسادات کم و بیش اسی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ ان کا خلاصہ صرف ایک ہے۔ چھوٹے نقصان کو برداشت نہ کرنا اور اس کے نتیجہ میں زیادہ بڑا نقصان سامنے آنا ۔

Highlights
Reading

The realization of God is the essence of religion. Without maarifah, religion is reduced to a spiritless form.

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside ithadithQuotes a hadithoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itQur'anQuotes the Qur'anQur'anQuotes the Qur'anoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceother sourceWords of another person or sourceopposing viewA view stated in order to be argued againstoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it