Maulana Wahiduddin Khan
30 min left
0:00

← Diary 1983-1984
Diary 1983-1984

January 1984

English · 30 min read

یکم جنوری 1984

پہلی جنگ عظیم کے دوران جرمنوں کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے برطانی فوجیوں کو مجبور کیا جاتا تھا کہ وہ اپنے متعلقین کے نام خط لکھیں اور اس میں یہ بتائیں کہ وہ جنگی قیدی ہونے کے با وجود جرمنی میں بہت اچھی زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ جرمن قید میں پوری طرح مطمئن ہیں۔ برطانی فوجیوں سے جو کچھ کہا جاتا اس کو وہ بے چون وچرا لکھ دیتے ۔ مگر خط کے آخر میں ہمیشہ یہ جملہ بڑھا دیتے ؛

Tell this to the marines.

اس انگریزی فقرہ کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ" یہ بحریہ والوں کو بھی بتا دیا جائے “ جرمنوں نے اس فقرہ کو اس کے ظاہری مفہوم میں لے کر سمجھا کہ اس اضافہ سے کوئی حرج نہیں۔ کیوں کہ یہ اضافہ ان کی مزید پبلسٹی کا ذریعہ ثابت ہوگا۔

لیکن اصل معاملہ اس کے بر عکس تھا۔ یہ جملہ پرانی انگریزی بول چال میں محاورہ کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جو کچھ کہا گیا ہے اس کو سنجیدگی سے نہ لیں ۔ مگر جرمن اس کے اس مفہوم سے نا واقف تھے۔ اس لئے بطور خود کو وہ سمجھتے رہے کہ برطانی قیدیوں کے بارہ میں وہ خیریت کی خبر ان کے وطن بھجوا رہے ہیں۔ حالانکہ حقیقت کے اعتبار سے وہ خیریت کی تردید بھجوا رہے تھے۔ جاننے اور نہ جاننے میں کتنا زیادہ فرق ہوتا ہے۔

2 جنوری 1984

طبعیات اور فلکیات دونوں مشترک طور پر کائنات کے بارے میں جو پیشین گوئی کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ کائنات بالآخر موت سے دو چار ہونے والی ہے۔ جیمس جینز کے الفاظ میں ۔۔۔۔۔۔۔ کائناتی موت کے سوا اس سفر کا کوئی دوسرا ممکن انجام نہیں:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

End of the journey cannot be other than universal death.

یہ کائناتی موت کچھ سائنس دانوں کے نزدیک حرارتی موت (Heat death) کی صورت میں پیش آئے گی۔ یعنی سورج اور دوسرے اجسام اپنی حرارت کھو دیں گے۔ ہماری دنیا میں ایک طویل برفانی دور (ice age ) شروع ہو گا جو انسان جیسی ہر زندگی کو ختم کر دے گا۔ موجودہ دنیا میں زندگی کا مظہر ایک عجیب وغریب مظہر ہے جس کی توجیہہ کرنے میں جدید علماء سخت حیرانی میں مبتلا ہیں۔ کریسی مارسین نے زندگی کے مسئلہ پر گفتگو کرتے ہوئے لکھا ہے کہ زندگی کہاں سے آئی ، زندگی کہاں جا رہی ہے ، سائنس کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

Whence life comes, where life goes, science answers no.

اس قسم کی باتیں جو ایک آدمی سائنس میں پڑھتا ہے وہ اس وقت تک صرف ذہنی الجھاوے ہیں جب تک ان کے ساتھ پیغمبر کی بات کو شامل نہ کیا جائے۔ پیغمبر کی بات کو شامل کرتے ہی یہ تمام باتیں ایک کل کا مجموعہ بن جاتی ہیں، وہ آدمی کوشک سے نکال کر یقین کے مقام تک پہنچا دیتی ہیں۔ اب کائنات کی موت ایک نئی وسیع تر زندگی کا آغاز بن جاتی ہے اور زندگی اس وسیع تر دنیا کی طرف بامعنی سفر۔

3 جنوری 1984

مصری لطیفہ بنانے کے ماہر ہیں ۔ فوجی حکومت کے بعد جب پولیس پر پابندیاں عائد ہو گئیں اور لوگوں کے لئے باقاعدہ مشکل میں اظہارخیال کا موقع نہیں رہا تو مصر کے لوگ لطیفوں میں اپنے خیالات کا اظہار کرنے لگے ۔

مصر کے ایک صاحب نے اس سلسلہ میں ایک لطیفہ بتایا جو 1965 کی جنگ کے بعد بنایا گیا تھا۔ 1965 کی جنگ میں اسرائیل کے مقابلہ میں مصر کو شکست ہوئی تھی۔ مصریوں نے لطیفہ بنایا کہ ایک بار مصر میں اسرائیل کی سلطنت قائم ہوگئی ۔ جمال عبدالناصراور جنرل عبد الحکیم کے لئے کوئی کام نہیں رہا چنانچہ دونوں نے مل کر ایک ہوٹل کھول دیا۔

ایک روز جنرل موشے دایان قاہرہ کی سڑکوں پر گھومتا ہوا مذکورہ ہوٹل میں آگیا۔اس نے ہوٹل میں داخل ہو کر مخ (بھیجہ کا سینڈوچ) مانگا۔ ناصر نے اس سے کہا :

ما عندنا شس مخ ،عندنا لسان بس.

ہمارے پاس بھیجہ ( کاسینڈوچ) نہیں، ہمارے پاس صرف زبان کا سینڈوچ ہے۔

یہ لطیفہ موجودہ زمانہ میں پوری مسلم دنیا پر صادق آتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلم ملک میں کثرت سے قائدین پیدا ہوئے ۔ مگر ہر ایک بس صاحب لسان تھا، صاحب فہم ان میں سے کوئی بھی نہیں۔ اور بلاشبہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی بربادی کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے۔

4 جنوری 1984

مسلمانوں نے دور اول میں جب فلسطین پرقبضہ کیا اس وقت فلسطین اور شام کے عیسائی اس مسئلہ پر بحث کر رہے تھے کہ مسیح کا فضلہ پاک تھا یا ناپاک۔ یہی بات بعد کے زمانہ میں خود مسلمانوں کے ساتھ پیش آئی ۔ عباسی دور کے آخر میں جب تاتاریوں نے بغداد پر حملہ کیا اس وقت بغداد کے علماء اس بحث میں مصروف تھے کہ علی افضل ہیں یا معاویہ کتنی مماثلت ہے دونوں واقعات میں ۔

قوم کے زندہ ہونے کی علامت یہ ہے کہ اس کے اہل علم نتیجہ خیز باتوں میں بحث کرتے ہوں۔ جب قوم کے اہل علم بے فائدہ باتوں میں بحث کرنے لگیں تو سمجھ لیجے کہ قوم مر چکی ہے۔ زندہ لوگ زندہ معاملات پر گفتگو کر تے ہیں اور مردہ لوگ مردہ معاملات پر ۔

ایک صاحب کے غیرضروری سوالات پر میں نے یہ باتیں ان سے کہیں۔ وہ خاموش ہو گئے۔

8 جنوری 1984

مجھے نیچر سے بے پناہ دل چسپی ہے۔ ایک پتی کو دیکھ کر میرے اندر تموج (thrill) پیدا ہوتا ہے۔ ایک پتی کے اندر جو کاریگری ہے وہ حقیقت یہ ہے کہ انسان کی تمام انجنیرنگ سے زیادہ عظیم ہے۔

ایک بار میں نے دہلی کی ایک لائبریری میں نیویارک سے نکلنے والا میگزین لائف (life) دیکھا۔ یہ جون 1980 کا شمارہ تھا۔ اس کے صفحہ 107 پر ایک اشتہار تھا۔ اس اشتہار میں انگور کے خوشہ کی تصویر بنی ہوئی تھی۔ یہ تصویر بالکل نیچرل رنگ میں تھی اور بے حد کامیاب تھی اس کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ کاغذ کے صفحہ پر سچ مچ انگور کا خوشہ رکھا ہوا ہے ۔

انگور کے خوشہ کی اس کامیاب تصویر کو میں لائبریری میں بہت دیر تک دیکھتا رہا۔ پھر بھی طبیعت سیر نہ ہوئی ۔ واپس آکر میں نے اپنے پڑوسی مسٹرحسن عسکری سے کہا کہ آپ لائف میگزین کاجون1980 کا شمارہ کہیں سے حاصل کر کے لے آئیے۔ وہ کناٹ پلیس میں کتاب کی دکانوں پر تلاش کرتے رہے۔ یہاں تک کہ ایک دکان دار کے یہاں ان کو وہ شمارہ مل گیا۔ انھوں نے مجھے رپورٹ دی کہ دکاندار اس شمارہ کے 25 روپیہ مانگتا ہے ۔ میں نے اسی وقت ان کو 25 روپیہ دئے اور کہا کہ اس کو دکان دار سے خرید لیجئے ۔ لائف کا یہ شمارہ میں بہت دن تک اپنی میز کی دراز میں رکھے رہا اور انگور کے خوشہ کی اس تصویر کو دیکھتا رہا۔

اس تصویر میں میں آرٹسٹ کا کمال نہیں دیکھتا تھا بلکہ مجھے اس کے اندر خدا کی تخلیق کا کمال دکھائی دیتا تھا۔ اس میں مجھے مخلوق کے روپ میں خالق نظر آتا تھا۔ اسی بات کوکسی شاعر نے ان لفظوں میں ادا کیا ہے : ہر ورقے دفتر یست معرفت کردگار۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

9 جنوری 1984

قدیم زمانہ میں پیغمبروں کی اتنی شدید مخالفت کیوں کی گئی ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ پیغمبر اور دعاة دور شرک میں پیدا ہوئے۔ اس وقت تاریخ میں شرک کا تسلسل قائم ہوگیا تھا۔ جب کوئی چیز تاریخ پر اتنا چھائے کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہو جائے تو اس کے خلاف آواز اٹھانا مشکل ترین کام ہوتا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب پہلے انسانی گروہ ہیں جنھوں نے تاریخ کے اس تسلسل کو توڑا ۔ انھوں نے شرک کا رشتہ انسانی تاریخ سے منقطع کیا۔ یہ ایک انتہائی مشکل کام تھا اور اسی مشکل کام کو انجام دینے کی وجہ سے وہ" خیرامت " کے مستحق قرار پائے ۔

ایک صاحب سے گفتگو کے دوران یہ تفصیلات پیش کرتے ہوئے میں نے کہا کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ موجودہ مسلمان بحیثیت قوم "خیرامت “ ہیں۔ مگر میں اس کو نہیں مانتا۔ میرے نزدیک صحابہ کرام (بنو اسماعیل) خیر امت تھے۔ ہم لوگ صرف ان کے متبع ہونے کا کریڈٹ پاسکتے ہیں، بشرطیکہ ہم ان کا اتباع کریں۔

خیرامت نسلی مسلمانوں کا لقب نہیں ہے ۔ خیرامت ان لوگوں کی صفت ہے جنھوں نے اپنے آپ کو فی الواقع اس کا مصداق ثابت کیا۔ صحابہ کرام اس کا مصداق اول تھے۔ اب اگر کوئی گروہ اس کا مصداق ثانی بننا چاہے تو وہ صحابہ کرام جیسا بننے کی کوشش کرے۔

10 جنوری 1984

الجمیعۃ ویکلی کی ادارت کے زمانہ میں ایک بار مجھے دارالعلوم دیو بند جانا پڑا ۔ وہاں مجھے النادی الادبی کے سالانہ جلسہ کی صدارت کے لئے بلایا گیا تھا۔

اس موقع پر دارالعلوم میں میری چند تقریریں ہوئیں۔ ایک تقریر میں میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں ہمارا اصل مسئلہ افراد کار کا مسئلہ ہے۔ دین کے احیا کے لئے آج زبردست مواقع کھل گئے ہیں۔ مگر وہ آدمی نہیں ملتے جن کو ان مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لئے استعمال کیا جائے۔ مجھے یاد ہے کہ ابھی میری تقریر جاری تھی کہ حاضرین میں سے ایک نوجوان اٹھ کر کھڑا ہوا۔ اس نے کہا:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

” میں آپ کے مشن کے لئے اپنے آپ کو پیش کرتا ہوں۔ آپ جس طرح چاہیں مجھے استعمال کریں "

میں نے نوجوان کی حوصلہ افزائی کی اور کہا کہ میں آپ کی اس پیش کش کی قدر کرتا ہوں۔ البتہ میں اس میں اتنی ترمیم کر رہا ہوں کہ آپ اپنے آپ کو آج پیش کرنے کے بجائے ایک مہینہ کے بعد پیش کریں۔ آپ ایک مہینہ کے بعد مجھے خط لکھیں اور اس میں وہ الفاظ تحریر فرمائیں جو اس وقت آپ نے اپنی زبان سے ادا کئے ہیں ۔

اس کے بعد میں دہلی واپس آ گیا۔ ایک مہینہ گزر گیا مگر مذکورہ طالب علم کا کوئی خط نہیں آیا۔ ایک کے بعد ایک مہینے گزرتے رہے یہاں تک کہ سال پورا ہوگیا مگر طالب علم کا کوئی خط مجھے نہیں ملا۔ اب اس واقعہ کو 15 سال سے زیادہ ہو چکے ہیں مگر میرے انتظار کی مدت ابھی تک ختم نہ ہوسکی۔

یہ چھوٹا سا واقعہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی تصویر ہے ۔ وقتی جوش کے تحت فوری طورپر وہ بڑی بڑی پیش کش کر سکتے ہیں ، مگرمستقل طور پرکسی سنجیدہ کام میں اپنے آپ کو لگانا ان کے بس کی چیز نہیں۔ اور بلاشبہ کسی قوم کے زوال یافتہ ہونے کی سب سے بڑی پہچان یہی ہے۔

11 جنوری 1984

ایک صاحب ہیں۔ ان کی اعلی تعلیم لندن میں ہوئی ۔ پھر انھیں ہندستان میں ایک اچھی ملازمت مل گئی۔ اب وہ یہاں کے ایک مرکزی شہر میں رہتے ہیں۔ مذکورہ بزرگ کو ایک شخص نے ایک انگریزی مضمون نظر ثانی کے لئے بھیجا۔ اس میں ہندستان ٹائمس کا ایک اقتباس بھی شامل تھا ۔ نظر ثانی کے بعد جب مضمون واپس آیا تو اس کے ساتھ ان کا حسب ذیل نوٹ شامل تھا:

The quotation from the HT is too badly worded to be used

intact. So I have re-phrased it, but not as a quotation.

یہ بات اردو میں کہتا ہو تو اس کو اس قدر سادہ اور بندھے ہوئے الفاظ میں نہیں کہا جا سکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زبان ہمیشہ استعمال سے بنتی ہے۔ اردو زبان کی بدقسمتی یہ ہے کہ اس کو شاعروں اور خطیبوں نے بنایا۔ اس لئے اس کے اوپر غیر حقیقی اسلوب چھا گیا۔ اس کے بر عکس انگریزی زبان موجودہ زمانہ میں سائنس کے ماحول میں بنی اور سائنس میں آدمی مجبور ہوتا ہے کہ وہ سادہ اور متعین زبان استعمال کرے ۔ سائنس میں مصنوعی زبان یا مبالغہ آمیز اسلوب میں کوئی بات کہنا ممکن نہیں۔

اردو زبان کی بد قسمتی شاعر لوگ ہیں اور انگریزی زبان کی خوش قسمتی سائنس داں لوگ۔

12 جنوری 1984

ایک صاحب سے بات ہورہی تھی میں نے کہا۔ آدمی جہاں مرے گا وہیں وہ اٹھے گا۔

انھوں نے کہا اس کا کیا مطلب۔ میں نے کہا کہ میری مراد جسم کے اٹھنے سے نہیں ہے۔ میرا مطلب یہ ہے کہ آدمی کا خاتمہ حبس شعوری حیثیت پر ہوگا اسی شعوری حیثیت پرو ہ آخرت میں اپنے آپ کو پائے گا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ایک آدمی دنیا میں کبر اور حسد اور تعصب کے جذبات میں جی رہا تھا اور اسی پر اس کا خاتمہ ہوا تو آخرت میں بھی وہ اپنے انہیں جذبات کے ساتھ اٹھے گا مگر وہاں چوں کہ وہ حالات نہ ہوں گے جو کسی آدمی کے لئے کبراور حسد اور تعصب کا سامان فراہم کرتے ہیں اس لئے وہاں ایسا آدمی اپنے آپ کو اس حال میں پائے گا جیسے کوئی مچھلی پانی سے نکال کرخشکی میں ڈال دی جائے۔ دنیا میں وہ جس غذا پر جی رہا تھا وہاں وہ غذا اس کے لئے موجود نہ ہو گی اس لئے وہاں کے ماحول میں وہ بے غذا ہوکر رہ جائے گا۔

اسی طرح ایک شخص نے اس میں کمال پیدا کیا کہ وہ حقیقت واقعہ کے خلاف بولے اوراس کی بنیاد پر بڑائی حاصل کرے۔ دنیا میں بنا بظاہر وہ کامیاب دکھائی دیتا ہے ۔ کیوں کہ یہاں اس کو اپنے موافق الفاظ مل جاتے ہیں۔ مگر آخرت میں اس کی یہ صلاحیت بالکل بے قیمت ہوجائے گی۔ آخرت ایک ایسا عالم ہے جہاں کوئی ایسی ہی بات الفاظ میں ڈھل سکے گی جو حقیقت واقعہ کے مطابق ہو ۔ اب جولوگ حقیقت واقعہ کے خلاف بولنے والے بن کر مریں وہ آخرت میں اس حال میں اٹھیں گے کہ وہ بولنا چاہیں گے مگر انھیں الفاظ نہ ملیں گے کہ وہ بولیں۔ وہاں وہ اسی طرح بے زبان ہو جائیں گے جیسے کوئی اردو داں روسی زبان بولنے والوں کے درمیان زبان رکھتے ہوئے بے زبان ہوجاتا ہے۔

13 جنوری 1984

موجودہ زمانہ میں طبیعی سائنس کا اثر تمام علوم پر پڑا ہے۔ حتی کہ اب انسانی معاملات کا مطالعہ بھی انھیں اصطلاحوں میں کیا جانے لگا ہے جو جامد سائنسوں کے لئے مستعمل ہیں۔ مثلا اکنامک تھیری موجودہ زمانہ میں دو بڑی شاخوں میں تقسیم کی جاتی ہے :

1۔ اکنامک اسٹیٹکس -۲

2: اکنامک ڈائینیمکس Economic dianamics –

اسٹیٹکس اور ڈائنیمکس دونوں غیر حیاتیاتی الفاظ ہیں۔ یہ مکنکس سے لئے گئے ہیں۔ آگست کانٹے نے سب سے پہلے یہ دونوں الفاظ سوشل سائنسز میں استعمال کئے ۔ اس کے بعد جان اسٹوراٹ مل نے ان کو اکنامکس میں استعمال کیا۔ 1928 سے یہ الفاظ زیادہ واضح طور پر استعمال ہونے لگے جب که راگنز فریش(Ragnar Frisch) نے ان کی سائنسی تشریح کی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اصطلاحات کا یہ استعمال اس مفروضہ پر ہے کہ سماجی اور معاشی علوم بھی اسی طرح متعین قوانین کے پابند ہیں جس طرح جامد مادی علوم ۔ مگر اس کی حقیقت ایک مفروضہ کے سوا اور کچھ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان ایک منفرد مخلوق ہے اور انسان کے معاملات پر منفرد انداز ہی میں غور کیا جا سکتا ہے۔

14 جنوری 1984

اچاریہ کرپلانی کے بڑے بھائی نے اسلام قبول کر لیا تھا۔ وہ شیخ عبدالرحیم سندھی کے نام سے مشہور ہوئے۔ انھوں نے انگریزوں کے خلاف تحریک مجاہدین میں کافی حصہ لیا ۔ اسی طرح مولانا عبید اللہ سندھی ایک سکھ خاندان میں پیدا ہوئے اور پھر اسلام قبول کر لیا۔ انھوں نے دیوبند میں تعلیم پائی۔ اس زمانہ میں دیوبند میں سیاست کا زور تھا چانچہ وہ شیخ الہند کی تحریک میں شامل ہو کر انگریزوں کے خلاف سیاسی جہاد میں زبردست کام کرتے رہے ۔

اس طرح کے بہت سے لوگ ہیں جنھوں نے موجودہ زمانہ میں اسلام قبول کیا۔ وہ غیر مسلموں میں دعوتی کام کے لئے بے حد موزوں ہوسکتے تھے ۔ مگر چوں کہ مسلمان خود غیرمسلموں میں دعوتی کام سے بہت دور تھے اس لئے یہ نومسلم بھی اسی سیاسی کام میں لگ گئے جس میں مسلم قائدین نے اپنے آپ کو مصروف کر رکھا تھا۔

موجودہ زمانہ میں مسلمانوں نے خود بھی دعوتی کام نہیں اور جو لوگ خود سے اسلام کے دائرہ میں آئے ان کو بھی وہ دعوتی کام میں استعمال نہ کر سکے ۔

15 جنوری 1984

19 اپریل1975 کو ہندستان نے اپنا پہلا سٹلائٹ (آریہ بھٹ) چھوڑا۔ اسپیس کمیشن کے چیرمین پروفیسر ایس دھون سے پوچھا گیا کہ کیا خلائی ٹکنالوجی ایک ایسا تعیش ہے جس کا ہم تحمل نہیں کرسکے۔

Is space technology a luxury we cant't afford?

پروفیسر دھون نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم خلا میں صرف اس لئے جاتے ہیں تاکہ ہم دوبارہ زمین پر واپس آسکیں :

other sourceWords of another person or source

We go into space only to come back to earth.

illustrated Weekly of India, May 4, 1975

انسان اپنے عمل کی تبریر(justification ) کے لئے ہمیشہ خوبصورت الفاظ پا لیتا ہے۔

16 جنوری 1984

ایک بڑے مسلمان عالم نے سیرت پر ایک مقالہ لکھا ہے، اس میں انھوں نے پیغمبر اسلام ( صل اللہ علیہ و سلم ) کی صفات کمال کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے :

other sourceWords of another person or source

کوئی لائے توایسا پیغمبر

کوئی دکھائے تو ایسارسول

مذکورہ عالم کے یہ الفاظ پڑھتے ہوئے مجھے فرزدق کا یہ شعریاد آگیا:

اولئك آبائى فجئني بمثلهم

(یہ میرے آباء ہیں پھر تم ان کے جیسا میرے پاس لے آؤ)

مسلمانوں نے پیغمبر اسلام کو اپنا قومی ہیرو بنا لیا ہے ۔ انھوں نے آپ کو قومی اکابر کا درجہ دے رکھا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبر کے معاملہ میں مسلمانوں کی بولی وہی ہوگئی ہے جو فرزدق کی اپنے قومی بڑوں کے بارہ میں تھی۔ اگر مسلمان یہ سمجھتے کہ پیغمبر خدا کی طرف سے آنے والا تمام انسانیت کا رہنما تھا تو ان کی زبان سے ہرگز ایسے الفاظ نہ نکلتے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

17 جنوری 1984

جدید دنیا میں آزادی کو خیراعلیٰ تسلیم کیا گیا ہے۔ جدید مذہب کے نزدیک کوئی ایسا اقدام سراسر ناجائز ہے جس سے انسان کی آزادی چھنتی ہو۔ سگرٹ کی صنعت اس کی ایک مثال ہے۔ تمام ڈاکٹراور علمائے صحت متفقہ طور پر سگرٹ کو صحت کے لئے سخت مضر بتاتے ہیں۔ اس کے باوجود اب تک سگرٹ کو بند نہ کیا جا سکا کیوں کہ ایسا کرنا انسانی آزادی کے خلاف ہوگا ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

امریکہ میں اس آزادی عمل کی ایک دلچسپ مثال یہ ہے کہ 1972 میں وہاں کی سگرٹ ساز فرموں سے ایک معاہد ہ لیا گیا ۔ یہ فرمیں امریکہ میں سگریٹ کا 99 فی صد حصہ بناتی ہیں۔ تحریری معائدہ جو لیا گیا وہ یہ تھا کہ کمپنیاں سگریٹ کے اشتہار میں نمایاں طور پر یہ الفاظ لکھیں گی :

Cigarette smoking is injurious to your health.

(سگریٹ پینا آپ کی صحت کے لئے خطرناک ہے) یعنی سگریٹ بھی جاری رہا اور اسی کے ساتھ یہ اعلان بھی۔ اب اسی قسم کے قوانین دوسرے ملکوں میں بھی بنائے گئے ہیں۔

آزادی بلاشبہ اچھی چیز ہے ، مگر جب آزادی بے قید چھوٹ کے ہم معنی بن جائے تو تو وہ اپنی افادیت کھو دیتی ہے۔

18 جنوری 1984

جس زمانہ میں میں جماعت اسلامی سے وابستہ تھا اور اس کی مرکزی مجلس شوریٰ کا رکن تھا، اکثر بڑے اجتماعات میں مجھے کوئی تربیتی مقالہ پڑھنے کے لئے کہا جاتا تھا۔ " مومن کی تصویر " قرآن کا مطلوب انسان“ وغیرہ ایسے ہی مقالات ہیں جو میں نے جماعت اسلامی کے اجتماعات میں پڑھے۔

ان مقالات میں سے ہر مقالہ میں نے اس طرح لکھا تھا کہ پہلے میں نے پورا قرآن بغور پڑھا۔ پورے قرآن کو پڑھ کر اپنا ذہن بنایا کہ اس مقالہ میں مجھے کیا بات کہنا چاہئے۔ اس طرح پورے قرآن کو پڑھ کر جو ذہن بنتا تھا اس کو میں دوسری معلومات سے مدلل کر کے اپنے مقالہ میں پیش کرتا تھا۔

یہ میرے مزاج کی وجہ سے تھا۔ جو پیدائشی طور پر میرے اندر موجود ہے ۔ مجھے کبھی کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاید میں پیدائشی سائنس داں (born scientist) ہوں ۔ سائنس داں کا خاص مزاج حقیقت واقعہ سے مطابقت کرنا ہوتا ہے اور یہ مزاج میرے اندر بچپن سے ہے۔ مذکورہ عمل بھی میرے اسی ذہن کی وجہ سے ہوا۔

حقیقت واقعہ سے مطابقت کا مزاج مجھ سے تقاضا کرتا ہے کہ میں وہی کہوں جو اصل حقیقت کے عین مطابق ہو۔ اب چوں کہ اصل حقیقت وہ ہے جو قرآن میں ہے۔ اس لئے میں دل سے چاہتا تھا کہ اپنے مقالہ یا تقریر میں جو بات پیش کروں وہ قرآن سے ٹکرانے والی نہ ہو ، وہ وہی ہو جو قرآن میں ہے۔ میرا یہ مزاج اتنا بڑھا ہوا تھا کہ میں مقالہ یا تقریر کے موقع پر از سر نو قرآن پڑھتا تھا ، حالاں کہ اس سے پہلے میں بار بار اس کو پڑھ چکا ہوتا تھا۔

19 جنوری 1984

کسی چیز کا کھونا وہی شخص برداشت کرتا ہے جس کے پاس اس کے بعد بھی اس سے بڑی چیز موجود ہو۔ جو آدمی کھونے کے بعد خالی ہو جائے وہ کبھی کھونے کو برداشت نہیں کر سکتا ۔

ایک شخص کی جیب میں پچاس ہزار روپے کے نوٹ بھرے ہوئے ہوں ، اس کا اگر ایک روپیہ کہیں گر جائے تو وہ اس کی پروا نہیں کرے گا۔ مگر جس شخص کا کل اثاثہ ایک روپیہ ہو اس کا ایک روپیہ اگر کھو جائے تو وہ اس کو برداشت نہیں کر سکتا۔

موجودہ زمانہ میں مسلمان چھوٹی چھوٹی چیزوں کے لئے لڑتے رہتے ہیں۔ اس طرح وہ صرف یہ ثابت کر رہے ہیں کہ ان کے پاس کوئی بڑی چیز نہیں۔ اگر وہ کوئی بڑی چیز پائے ہوئے ہوتے تو ہرگز وہ چھوٹی چھوٹی چینروں کے لئے لڑائی نہ کرتے۔

20 جنوری 1984

كتب رجل الى حكيم يقول : لم تبخل على الناس بالكلام. فقال الحكيم ان الخالق سبحانه قد خلق لنا أذنين و لسانا و احداً لنسمع اکثرمقالتکم، لا ان نتكلم اکثر مما نسمع(العربي دسمبر1985 صفحہ 55)

other sourceWords of another person or source

ایک شخص نے ایک دانش مند آدمی کو خط لکھا کہ آپ لوگوں سے بولنے میں بخل سے کام لیتے ہیں۔ دانش مند نے جواب دیا : خالق نے ہمارے لئے دوکان پیدا کئے اور ایک زبان پیدا کی ۔ تاکہ ہم اس سے زیادہ سنیں، جتنا کہ ہم بولتے ہیں۔ یہ نہ کہ ہم اس سے زیادہ بولیں جتنا کہ ہم سنتے ہیں۔

other sourceWords of another person or source

اگر لوگ اسی ایک بات کو پکڑ لیں تو دنیا کے آدھے جھگڑے ختم ہو جائیں۔

21 جنوری 1984

جاپانی صنعت کا مطالعہ کر نے والے ایک شخص نے لکھا ہے :

Their decisions are highly effective. Yet they violate every rule in the book.

جاپانیوں کے فیصلے انتہائی پر اثر ہوتے ہیں۔ مگر وہ کتاب میں لکھے ہوئے ہر قاعدہ کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔

زندگی اجتہاد کا امتحان ہے۔ زندگی میں ہمیش مجتہدانہ ذہن کامیاب ہوتے ہیں۔ تقلیدی ذہن رکھنے والوں کے لئے اس دنیا میں اس کے سوا کوئی اور انجام مقتدر نہیں کہ وہ تمام قوموں سے پیچھے چلے جائیں اور پھر دوسروں کی شکایت کرتے رہیں۔

مقلد کیوں تقلید کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے" بڑوں “ سے ملنے والی چیز کو سب سے اعلی سمجھ لیتا ہے۔ اب جب مقابلہ کی اس دنیا میں اسے شکست ہوتی ہے تو نفسیاتی طور پر وہ اپنے آپ کو غلط سمجھ نہیں پاتا۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی ناکامی کا الزام دوسروں کے سر ڈال دیتا ہے۔

مقلد آدمی ہمیشہ دوسروں پر الزام دے گا اور مجتہد آدمی خود الزام قبول کرے گا۔ یہی وجہ ہے کہ مجتہد آدمی غلطی کر کے بھی دوبارہ صحیح راہ پا لیتا ہے، جب کہ مقلد کو کبھی اس کی توفیق حاصل نہیں ہوتی ۔

22 جنوری 1984

لال کنواں (دہلی) میں ایک پرانا پیپل کا درخت ہے۔ یہاں ہندو تقسیم ہند کے پہلے سے پوجا کی رسمیں ادا کرتے رہے ہیں۔ اب پچھلے سال انھوں نے یہاں گھنٹہ لٹکا دیا اور اپنے پوجا کے اوقات میں گھنٹہ بجانے لگے۔

اس سے مسلمانوں کی نماز میں خلل پڑنے لگا۔ چنانچہ حسب معمول مسلمانوں نے شور وغل کیا۔ جلوس نکالا۔ حتی کہ پولیس نے گولی چلائی۔ اس کے بعد سے پیپل کے پاس ایک مستقل پولیس چوکی بنا دی گئی ۔ شور وغل کرنے والے مسلمان خاموش ہو کر گھروں میں بیٹھ گئے۔

اس پیپل کے قریب ایک مسجد ہے۔ یہی وہ قریبی مسجد ہے جس کے نمازیوں کی نماز "خراب“ ہوسکتی تھی۔ اسی زمانہ میں ایک روز میں نے اس مسجد میں فجر کی نماز پڑھی۔ مجھے یہ دیکھ کر تعجب ہوا کہ فجر کی جماعت میں صرف تین آدمی تھے۔ ایک امام اور دو مقتدی۔ یہ تینوں اتنے بوڑھے ہو چکے تھے کہ عجب نہیں کہ کبیر السن ہونے کی وجہ سے وہ کم سنتے ہوں ۔

نماز خراب ہونے پر جلوس نکالنے والے سب کے سب نوجوان تھے ۔ جلوس کے دن نوجوانوں سے سڑک بھرگئی تھی۔ مگرنماز پڑھنے کے لئے مسجد میں صرف تین بوڑھے موجود تھے۔ گویا نماز نہ پڑھنے والوں کی نماز خراب ہورہی تھی۔

کیسے عجیب ہوں گے وہ لوگ جن کی نمازیں خراب ہورہی ہوں حالانکہ وہ مسجد میں نماز کے لئے آتے ہی نہ ہوں ۔ یہی وہ سیاست ہے جس نے ہندستانی مسلمانوں کے سارے معاملہ کر برباد کر رکھا ہے۔

23 جنوری 1984

ایک صاحب تھے ۔ ان کا نام شفیع اللہ تھا۔ وہ تعلیم یافتہ نہ تھے۔ وہ اکثر منت ماننے کے لئے مزاروں پر جایا کرتے تھے۔ ایک بار وہ کچھوچھہ یا اجمیر سے واپس آئے تو بستی کی مسجد کے امام صاحب نے ان پر تنقید کی اور کہا کہ آپ غیر اللہ سے مدد مانگنے جاتے ہیں،یہ شرک ہے ،شفیع اللہ نے امام صاحب کی تنقید سنی تو بگڑ کر کہا : ہم کوفائدہ ہے ، ہم تو جائیں گے ۔

یہی حال موجودہ زمانہ میں ہمارے لیڈروں کا ہے۔ وہ جذباتی سیاست چلاتے ہیں ، وہ قومی نفرت اور تعصب کی بنیاد پر تحریکیں اٹھاتے ہیں ، آپ کتنا ہی اس کے خلاف دلیل دیجیئے۔ اس کو واقعات سے اور قرآن و حدیث سے بالکل باطل ثابت کر دیجئے ۔ مگر وہ اپنی جھوٹی سیاست پر قائم رہیں گے، وہ کسی حال میں اس کو چھوڑنے والے نہیں۔ اس کی وجہ وہی نفسیات ہے جو مذکورہ شفیع اللہ کے یہاں نظر آتی ہے ۔ یہ لیڈر اتنے جاہل نہیں کہ وہ مذکورہ الفاظ بولیں۔ مگر وہ زبان حال سے یہی کہہ رہے ہیں۔

ہم کو فائدہ ہے ، ہم تو اس کو کریں گے ۔

ہمارے لیڈر جو جھوٹی سیاست چلا رہے ہیں یہی ان کا کل سرمایہ ہے۔ وہ اسی کے اوپر کھڑے ہوئے ہیں۔ ان کی ساری مقبولیت اور ترقی اسی سے وابستہ ہے، اگر وہ اس کو چھوڑ دیں توان کا خاتمہ ہوجائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اوپر دلیل کام نہیں کرتی۔ بالکل بے دلیل ہوکربھی وہ اپنے طریقے کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں۔

24 جنوری 1984

کتا بیں صرف دو ہیں : قرآن اور کائنات " بظاہر یہ بات بڑی عجیب لگتی ہے لیکن اگر لفظ بدل دیا جائے تو ہر آدمی اس سے اتفاق کرے گا ۔ یعنی اگر اس کو یوں کہا جائے کہ علم صرف دو ہیں: الہامی علم اور سائنسی علم تو ہر آدمی کو یہ ایک سیدھی سی بات معلوم ہوگی ۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کسی بات کو سمجھنے کے لئے لفظ کو بدلنا پڑتا ہے۔ ایک شخص جس کی مادری زبان اردو ہو وہ اردو میں سوچتا ہو اور پھر تعلیم گاہ میں انگریزی زبان پڑھے تو اس کا ذہن انگریزی الفاظ کو ترجمہ کر کے سمجھے گا ۔ مثلا (occan) کا لفظ بولا جائے تو وہ اس کو صرف اسی وقت سمجھ پائے گا جب کہ وہ اس کو اپنے ذہن میں "سمندر" کے لفظ میں تبدیل کرلے۔

یہی حال معانی کا ہے ۔ معانی کا اظہار مختلف انداز میں کیا جاتا ہے مگر ہر آدمی کا ذہنی ڈھانچہ الگ الگ ہوتا ہے ۔ ایک معنوی حقیقت کسی آدمی کی ذہنی پکڑ میں صرف اس وقت آتی ہے جب کہ وہ اس کے اپنے ذہنی ڈھانچہ کے مطابق تبدیل کر دی گئی ہو ۔

اس سے یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ شرح اور تفسیر کا مطلب کیا ہے ۔ شرح اور تفسیر کوئی نئی بات کہنے کا نام نہیں ہے بلکہ وہ یہ ہے کہ لفظ کو بدل دیا جائے۔ کوئی بات جو ایک قسم کے لفظ میں کہی گئی ہے اس کو دوسرے قسم کے لفظ میں بیان کر دیا جائے ۔

25 جنوری 1984

میری میز پر ایک رجسٹر تھا۔ میں نے اس کو ہٹانا چاہا۔ ایک صورت یہ تھی کہ میں اپنی کرسی سے اٹھتا اور رجسٹر کو لے جا کر دوسری میز پر رکھ دیتا۔ مگر میں نے چاہا کہ میں اپنی کرسی پر بیٹھے بیٹھے رجسٹر کو دوسری میز پر پہنچا دوں ۔ چنانچہ میں نے رجسٹر کو ہاتھ میں لے کر اسے دوسری میز کی طرف پھینکا۔ یہ دوسری میز چھوٹی تھی رجسٹر صحیح رخ سے اس کے اوپر نہیں پہنچا۔ وہ پھسل کر زمین پر گر گیا۔

اچانک مجھے خیال آیا ” ہم ایک رجسٹر کو پھینک نہیں سکتے اور خدا ان گنت تاروں اور سیاروں کو خلا میں پھینکے ہوئے ہے" ہمارا پھینکا ہوا رجسٹرغیر متوازن ہوکر ادھر ادھر گر پڑتا ہے۔ مگر خدا کے پھینکے ہوئے اجسام نہایت صحت کے ساتھ اپنے اپنے مدار پر قائم ہیں۔ اربوں سال کے اندر بھی ان کے توازن میں کوئی فرق نہیں آیا۔

میری میز سے دوسری میز کا فاصلہ بمشکل تین میٹر ہے۔ مگر میرے لئے یہ ممکن نہ ہوا کہ میں رجسٹر کو اس طرح پھینکوں کہ وہ صحیح پوزیشن کے ساتھ دوسری میز پر گرے ۔ مگر خدا کی قدرت کس قدر عجیب ہے کہ وہ لاتعداد اجسام کو لامحدود خلا میں گردش دئے ہوئے ہے اور ہر ایک اپنی صحیح ترین پوزیشن پر قائم ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو بہت پہلے ساری کائنات کا نظام درہم برہم ہو جاتا اور یہ نوبت ہی نہ آتی کہ زمین پر انسان وجود میں آئے اور اپنی تہذیب یہاں بناسکے۔

26 جنوری 1984

سورہ ق آیت38 کی تشریح میں مولانا امین احسن اصلاحی لکھتے ہیں کہ : "اس میں ضمناً یہود کے اس خیال پر بھی تعریض ہے جو تورات میں ہے کہ اللہ تعالی نے کچھ دنوں میں آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور ساتویں دن آرام کیا " ۔ تدبر قرآن ، جلد ششم صفحہ 566

other sourceWords of another person or source

یہی بات مولانا سید ابو الاعلی مودودی نے اپنی تفسیر میں ان الفاظ میں لکھی ہے :"اس آیت میں ضمنا ایک لطیف طنز یہود و نصاری پر بھی ہے۔ جن کی بائبل میں یہ افسانہ گھڑا گیا ہے کہ خدا نے کچھ دنوں میں زمین و آسمان کو بنایا اور ساتویں دن آرام کیا۔ تفہیم القرآن ، حصہ پنجم صفحہ 125

other sourceWords of another person or source

موجودہ زمانہ میں ہمارے اکثر اہل اسلام کا یہ حال ہے کہ وہ ایک بات لکھتے ہوئے یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ کسی دوسرے پہلوسے ٹکرا رہی ہے ۔ سائنٹفک عبارت وہ ہے جس میں ہر پہلو کی رعایت شامل ہو۔ مگر موجودہ زمانہ کے مصنفین کے یہاں اس قسم کی سائنٹفک عبارت مشکل ہی سے کہیں تلاش کی جاسکتی ہے ۔

مذکورہ عبارت میں اس کے لکھنے والوں نے یہود کو دیکھا مگر وہ خدا کونہ دیکھ سکے۔ چنانچہ ان جملوں میں جو الفاظ ہیں وہ مخاطب کے اعتبار سے صحیح ہوسکتے ہیں مگر وہ متکلم کے اعتبار سے صحیح نہیں۔

مذکورہ دونوں مفسرین اس موقع پر نہایت آسانی سے تصحیح یا تردید کا لفظ استعمال کرسکتے تھے جو خدا کے شایان شان ہوتا۔ اس کے بجائے انھوں نے طنز اور تعریض کا لفظ استعمال کیا جو یقینی طور پر خدا کی عظمت وشان کے مطابق نہیں۔

28 جنوری 1984

تین خلائی ہیرو (space heroes) راکیش شرما ، پوری مالی شیو، گناڈی اسٹریکالوف، اپریل1984 کو اپنے آٹھ روزہ خلائی سفر سے زمین پر اترے تو وہ خلا میں پانچ ملین کلو میٹر کا سفر طے کر چکے تھے۔ مگر جب ان کو خلائی مشین سے باہر نکال کر دوبارہ زمین پر لایا گیا تو وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہونے سے معذور تھے ۔ اس دن ٹیلیوژن پر خلائی پروگرام کو دیکھنے والوں نے دیکھا کہ مسٹر شرما زمین پر ایک مفلوج کی طرح پڑے ہوئے ہیں۔ ان کے چہرہ پرسخت شرمندگی کے آثار ہیں اور لوگ ان کا بازو پکڑ کر ان کو کرسی پر بٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ایسا کیوں ہوا ۔ اس کی وجہ ان کا بے وزنی(weightlessnes) کی حالت میں آٹھ دن رہنا تھا۔ مسٹر شرما اور ان کے روسی ساتھی جب زمین سے تین سو کلو میٹر اوپر خلا میں اڑان کر رہے تھے تو ان کا جسم بالکل بے وزن ہو چکا تھا۔ وہ خلائی گاڑی (Soyuz) کے اندر اسی طرح تیرتے تھے جس طرح مچھلی پانی میں تیرتی ہے ۔ مسٹر شرما نے ایک خلائی انٹرویو کے درمیان کہا تھا کہ اس وقت میں اپنے ٹوتھ پیسٹ اور برش کو پکڑنے کی کوشش کر رہا ہوں جو میرے ہاتھ سے چھوٹ کر چھت پر جالگے ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

29 جنوری 1984

قرآن نے علم کی دوقسمیں بتائی ہیں۔ ایک تنزیلی، دوسرا عقلی۔ پہلا وہ ہے جو خدا نے اپنے پیغمبروں کے ذریعہ بھیجا ہے۔ اور دوسرا وہ جوانسان نے اپنے تجربے سے جانا ہو اور نسل در نسل ـتحقیقات کے بعد وہ لوگوں کے درمیان تیار شدہ بن جائے :

ایتونی بكتاب من قبل ہذا او اثارة من علم ان كنتم صادقين ( الاحقاف )

Qur'anQuotes the Qur'an

کہوکہ میرے پاس قرآن سے پہلے کی کوئی الہامی کتاب لاؤ یا کوئی علم جو چلا آتا ہو۔

Qur'anQuotes the Qur'an

آیت میں اثارۃ کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے لفظی معنی بقیہ (mnant ) کے ہیں۔ اردو میں اس کا صحیح مفہوم ہوگا یا کوئی اور علم جو تمہارے درمیان چلا آتا ہو۔ اس سے مراد یہ ہے کہ ایسا علم جس کو ایک کے بعد دوسرے اہل علم کی تحقیق رد نہ کرے، بلکہ وہ ان کے نزدیک مسلم چلا آرہا ہو۔ بالفاظ دیگر مصدقہ علم ۔ مفسر ابن کثیر نے اس سلسلہ میں مختلف علماء کے اقوال نقل کئے ہیں اور لکھا ہے کہ یہاں کتاب سے مراد دلیل نقلی ہے اور آثارۃ سے مراد دلیل عقلی (ای لا دليل لكم لانقليا ولا نقليا على ذالک) آجکل کی زبان میں ہم کہ سکتے ہیں کہ اول الذکر سے مراد الہامی علم (revealed knowledge) ہے اور دوسرے سے مراد سائنسی علم (Scientific knowledge) )

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

30 جنوری 1984

قال عليه الصلاة والسلام:

من أراد الٰخرة فعليه بالعلم، ومن اراد الدنيا فعليه بالعلم ومن اراد هما معا فعليه بالعلم (العربي،کویت ، دسمبر 980 ۰ صفحہ105 )

other sourceWords of another person or source

جو شخص آخرت چاہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ علم سیکھے۔ اور جو شخص دنیا چاہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ علم سیکھے۔ اور جو شخص دنیا و آخرت دونوں کو چاہے تو اس کے لئے بھی لازم ہے علم۔

علم کی ضرورت ہرشخص کو ہے،خواہ وہ دنیا کا طالب ہو یا آخرت کا۔ علم کے بغیرنہ صحیح طور پر دنیا مل سکتی ہے اور نہ صحیح طور پر آخرت۔

31 جنوری 1984

ایک ایسے شہر کا تصور کیجئے جہاں کوئی مسجد نہ ہو اور بہت سے لوگ مسجد بنانے کے لئے اٹھیں۔ مگر ہر آدمی گنبد کھڑا کرنے سے اپنی مسجد کی تعمیر کا آغاز کرے۔ ظاہر ہے کہ ایسے شہر میں ہزاروں آدمیوں کی کوششوں کے با وجود کبھی کوئی مسجد نہ بن سکے گی ۔ مسجد بننے کے لئے بہت سی اینٹوں کو اس پر راضی ہونا پڑتا ہے کہ وہ بنیاد میں دفن ہو جائیں۔ بہت سی اینٹوں کو چھت کا بوجھ سنبھالنے کے لئے نیچے کی دیوار میں کھڑا ہونا پڑتا ہے ۔ ان مراحل سے گزرنے کے بعد چھت بنتی ہے اور اس کے بعد یہ نوبت آتی ہے کہ اس کے اوپر وہ گنبد کھڑا ہو جو دیکھنے والوں کو دور سے نظر آئے۔ گنبد آخری مرحلہ کا کام ہے اور جب تک ابتدائی مرحلہ کا کام انجام نہ پائے آخری مرحلہ کا کام کیسے انجام دیا جاسکتا ہے۔

موجودہ زمانہ میں اسلام کے احیاء کے لئے بے شمار شخصیتیں اور تحریکیں اٹھیں ۔ مگر سب کی سب طوفان خیز کوششوں کے با وجود بے نتیجہ ہوکر رہ گئیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ان میں سے ہر ایک نے “گنبد “ سے اپنے کام کا آغاز کیا۔ کوئی بھی "بنیاد "سے اپنا سفر شروع کرنے کے لئے تیار نہ ہوا۔ ایسی حالت میں ان کی کوششیں نتیجہ خیز ہوتیں تو کیوں کر ہوتیں ۔

Highlights
Reading

The realization of God is the essence of religion. Without maarifah, religion is reduced to a spiritless form.

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content