← Diary 1983-1984Diary 1983-1984
December 1983
English · 27 min read
1 دسمبر 1983
ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ دنیا اس کو بھی دیتا ہے جس سے وہ محبت کرتا ہے اور اس کو بھی جس سے وہ محبت نہیں کرتا۔ مگر ایمان وہ اسی کو دیتا ہے جس سے وہ محبت کرے (ان اللہ یعطی الدنیا من یحب و من لا یحب ولا یعطی الایمان الا من یحب، رواہ الترمذی)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہاں ’’ایمان‘‘ سے مراد رسمی ایمان نہیں ہے، بلکہ کیفیت والا ایمان ہے۔ مطلب یہ ہے کہ دنیا کے سامان کی تقسیم تو عام ہے، اس میں سے ہر ایک کو حصہ ملتا ہے، حتیٰ کہ خدا کے دشمنوں کو بھی۔ مگر ایمان کے گہرے تجربات اور قربت خداوندی کے نازک لمحات صرف اس انسان پر گزرتے ہیں جو اس کا خصوصی استحقاق ثابت کرے۔
2 دسمبر 1983
ایک اردو شاعر کا شعر ہے:
اس نقش پا کے سجدہ نے کیا کیا کیا ذلیل میں کوچۂ رقیب میں بھی سر کے بل گیا
یہ شعر بظاہر عشق وعاشقی کی واردات کا بیان ہے۔ مگر ایک اردو تنقید نگار نے اس میں عارفانہ نکتہ نکال لیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس شعر میں دراصل تمثیل کی زبان میں یہ بات کہی گئی ہے کہ انسان کو چاہیے کہ خدا کے مقابلہ میں اپنی انا کو ختم کر دے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اردو اور فارسی شاعری میں اس طرح کے بے شمار عارفانہ نکتے دریافت کیے گئے ہیں۔ مگر اس قسم کے شاعرانہ نکتے صرف بعض طبیعتوں کو محظوظ کر سکتے ہیں۔ یہ نا ممکن ہے کہ ایسے نکتوں کے ذریعہ لوگوں میں معرفت ربانی کا شعور پیدا کیا جا سکے۔
موجودہ زمانہ کے مسلم رہنما اسی قسم کی نکتہ سنجی کی زبان میں اسلامی بیداری کا درس دیتے رہے ہیں۔ مثلاً ابو الکلام آزاد نے 1947ء کے بعد اپنی ایک تقریر میں کہا: ’’ ستارے ڈوب گئے تو ڈوب جائیں، سورج روشن ہے، اس سے کرنیں مانگ لو اور اپنے راستہ میں بچھا دو‘‘۔ اسی طرح اقبال کا شعر ہے:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
جس سے جگر لالہ میں ٹھنڈک ہو وہ شبنم دریاؤں کے دل جس سے دہل جائیں وہ طوفان
شارحین کے نزدیک مولانا آزاد کے مذکورہ فقرہ میں قرآنی اتباع کی دعوت ہے۔ اور ڈاکٹر اقبال کا شعر أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ (48:29) کی تفسیر۔ مگر یہ سب نکتے کی باتیں ہیں۔ یہ انداز کلام کسی ایک شخص کے اندر بھی اسلامی انقلاب پیدا نہیں کر سکتا۔ اس قسم کی نکتہ آفرینیاں ہمیشہ ذہنی تفریح کا سامان ہوتی ہیں، نہ کہ نصیحت اور اصلاح کا درس۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
3 دسمبر 1983
پاکستان کے صدر جنرل ضیاء الدین نے 26 اکتوبر 1982ء کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کو خطاب کیا۔ اگلے دن اس کی رپورٹ ہندستان کے اخبارات میں شائع ہوئی۔ پی ٹی آئی کی مرتب کردہ رپورٹ جو ٹائمس آف انڈیا (27 اکتوبر 1988ء) میں شائع ہوئی، اس کا ایک جملہ یہ تھا کہ ’’پاکستان کشمیر کے مسئلہ کا ایک پرامن حل چاہتا ہے، مگر کشمیر کے عوام کی رائے معلوم کئے بغیر اس کا کوئی حل ممکن نہیں‘‘۔ جنرل نے کہا ، جنہوں نے پانچ سال پہلے فوجی انقلاب (1977ء) کے ذریعہ اقتدار حاصل کرنے کے بعد پاکستان میں کسی قسم کا الیکشن کرانے سے انکار کر دیا ہے۔ ٹائمس آف انڈیا کے رپورٹر کے اصل مطبوعہ الفاظ یہ ہیں:
"Pakistan wanted a peaceful solution to the Kashmir problem, but there could be no solution without consulting the people of Kashmir," said the general, who has refused to hold any elections in Pakistan since he came 10 power in a coup more than five years ago.
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
The Times of India, October 27, 1982
پی ٹی آئی کے نامہ نگار کا مطلب یہ ہے کہ جب آپ اپنے لئے اس کو جائز سمجھتے ہیں کہ آپ پاکستان میں محض طاقت کے بل پر حکومت پر قبضہ کر لیں اور عوام کی آزادانہ رائے لینا ضروری نہ سمجھیں تو آپ کشمیر میں کیوں اس نظریہ کے وکیل بن سکتے ہیں کہ پہلے وہاں کے عوام کی رائے معلوم کرو ، اس کے بعد عوامی رائے کے مطابق وہ ہاں حکومت کا نظام قائم کرو ۔اسی کو کہتے ہیں : خود رافضیت دیگر ان رانصیحت۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
4 دسمبر 1983
دنیا میں بے شمار لوگوں پر آفتیں آتی ہیں۔ کتنے آدمی ہیں جن کی تمنائیں حسرت و یاس کے قبرستان میں دفن ہو جاتی ہیں۔ کتنے لوگ ہیں جن کی زندگیاں حوادث کی آگ میں جھلس کر رہ جاتی ہیں۔ مگریہ سب کچھ صرف ان کا ذاتی واقعہ ہو تا ہے ۔ وہ ان کے سینے میں کسک بن کر باقی رہتا ہے ۔ اور جب وہ دنیا سے رخصت ہوتے ہیں تو ان کے وجود کے ساتھ ان کے تلخ احساسات بھی اس دنیا سے چلے جاتے ہیں۔
مگر آرٹسٹ کی ہلاکت کا معاملہ اس سے مختلف ہے ۔ جب ایک آرٹسٹ ہلاک ہوتا ہے تو اس کی چیخ دوسروں کو بھی سننی پڑتی ہے۔ اس کے سینے میں دہکتی ہوئی محرومی کی آنچ دوسروں تک بھی پہنچ کر رہتی ہے۔ عام آدمی کی ہلاکت گونگے کی ہلاکت ہے ، اور آرٹسٹ کی ہلاکت زبان والے کی ہلاکت۔ یہی حقیقت ہے جس کو شاعرالم فانی بدایونی نے اپنے شعر میں اس طرح نظم کیا ہے :
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
زمانہ بر سر آزار تھا مگرفانی تڑپ کے ہم نے بھی تڑپا دیا زمانے کو
اسی بات کو شیلے نے ان لفظوں میں کہا ہے : شاعر دکھوں سے سیکھتے ہیں اور گیتوں سے سکھاتے ہیں۔
other sourceWords of another person or source
یہی معاملہ داعی حق کا بھی ہے۔ خدا ایک " زبان والے " کو چنتا ہے، اور پھر اس کو وطا شدید (المزمل) کے انتہائی سخت مراحل سے گزار کر حد درجہ حساس بناتا ہے تاکہ وہ خد اکے جلال اور میدان حشر کی قیامت خیزی کے بارہ میں سب سے زیادہ تڑپنے والا بن جائے ، اور پھر اس سے لوگوں کو باخبر کرے۔ دعوت محض بولنے اور لکھنے کا نام نہیں ، یہ ایک حساس انسان کے اندرونی طوفان کے باہر آنے کا نام ہے ، اور یہ چیز و طا شدید کے بغیر ممکن نہیں ۔
5 دسمبر 1983
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تم میں سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں۔ آپ ہر روز ستر بار استغفار کرتے تھے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
پیغمبر ایسا مصنوعی طور پر نہیں کرتا۔ یہ چیزحقیقی طور پر اس کے دل سے نکلتی ہے۔ خدا مختلف قسم کے شدید حالات سے گزار کر اس کو حد درجہ حساس بناتا ہے ۔ اس کی حساسیت اتنی بڑھی ہوئی ہوتی ہے کہ گناہ کرنا تو درکنار ، وہ اپنی بے گناہی پر تڑپنے لگتا ہے۔ وہ خدا کی عظمت سے اتنا زیادہ دبا ہوا ہوتا ہے کہ بظا ہر کوئی خلاف ورزی نہ ہو تب بھی وہ سہما ہوا رہتا ہے کہ خدا اسے پکڑ نہ لے، اس کی بڑھی ہوئی حساسیت اس کے احساس عجز کو اتنا زیادہ بڑھا دیتی ہے کہ خدا کی طرف سے رحمت و مغفرت کے وعدہ کے باوجود اس کی زبان سے نکل جاتا ہے :
و الله لا ادري والله لا ادري والله لاادری وانا رسول الله ، ما يفعل بي ولا بكم.
hadithQuotes a hadith
خدا کی قسم میں نہیں جانتا ، خدا کی قسم میں نہیں جانتا۔ خدا کی قسم میں نہیں جانتا، حالانکہ میں خدا کا رسول ہوں۔ کیا کیا جائے گا میرے ساتھ اور کیا کیا جائے گا تمہارے ساتھ۔
پیغمبر کے ساتھ ایسا اس لئے کیا جاتا ہے تاکہ اس کے تجربات حقیقی ہوں ، مصنوعی نہ ہوں ۔ اس کا کلام مشینی کلام کی مانند نہ ہو بلکہ حقیقی معنوں میں ایک متقی انسان کا کلام بن جائے۔
6 دسمبر 1983
دہلی کا ایک مسلم کارخانہ ہے ۔ اس کے بیشتر کارکن مسلمان ہیں ۔ کارخانہ کے مالک سے کارکنوں کے کچھ معاشی مطالبات چل رہے ہیں ۔ اس سلسلہ میں کارکن روزانہ مظاہرہ کرتے ہیں ۔ دن کے ایک بجے جب وقفہ ہوتا ہے تو تمام کارکن کارخانہ کے گیٹ پر جمع ہو جاتے ہیں اور سب مل کر نعرہ لگاتے ہیں پہلا نعرہ ہوتا ہے۔" نعرہ تکبیر" اللہ اکبر " اس کے بعد کے نعرے یہ ہیں : سرمایہ داری مردہ باد ، مزدور اتحاد زندہ باد ، ہماری مانگیں پوری کرو ۔
دین کو اپنے دنیوی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کا جو نمونہ اوپر کی مثال میں نظر آتا ہے۔ اس میں آج پوری امت مبتلا ہے۔ تمام مسلم قائدین کا آج یہ حال ہے کہ وہ اپنی تقریروں اور تحریروں میں اسلام کی دھوم مچاتے ہیں۔ مگر اس دھوم کے پیچھے جو اصل غرض ہوتی ہے ، وہ ہے ۔ــــــ قوم سے چندہ وصول کرنا ، اپنی قیادتی امیج بڑھانا ، اپنی مقبولیت میں اضافہ کرنا ، اپنے کو ملی رہنما یا عالمی قائد کی حیثیت سے نمایاں کرنا ۔ آج ہمارے تمام قائدین اپنی دنیوی سیاست کے لئے دین کا نعرہ استعمال کر رہے ہیں، کوئی بھونڈے طریقہ سے ایسا کر رہا ہے اور کوئی خوب صورت طریقہ سے ۔
قومی تحریکوں کو اسلامی اصطلاح میں بیان کرنا ،معاشی سرگرمیوں کو جہاد کا عنوان دینا ، قیادتی ہنگاموں کو پیغمبرانہ مشن قرار دینا، یہ آج کی دنیا میں عام ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو قرآن میں دین کے بدلے دنیا خریدنا کہا گیا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
7 دسمبر 1983
امیرشکیب ارسلان نے ایک بار کہا تھا کہ ہمارے زمانہ میں جو اسلامی دنیا ہے ، اس کی حالت فن عروض کی بحر کی طرح ہے ، کہ نام تو بحرکا ہے مگر پانی کا ایک قطرہ بھی اس میں نہیں۔
other sourceWords of another person or source
آج مسلمانوں میں دین کے نام پر بے شمار تحریکیں چل رہی ہیں ساری دنیا میں ایک ہنگامہ اسلام برپا ہے۔ لیکن گہرائی کے ساتھ دیکھئے توان کی حقیقت کچھ نہیں ۔ یہ تحریکیں ربانیت کی زمین پر نہیں اٹھیں ، بلکہ صرف قومیت کی زمین پراٹھی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ انتہائی بڑی بڑی تحریکیں بالکل بے انجامی پر ختم ہوجاتی ہیں۔
8 دسمبر 1983
ایک ہندو نوجوان کا واقعہ ہے ۔ وہ قانون کا طالب تھا کسی نے پوچھا کہ قانون پڑھ کر کیا کرو گے اس نے جواب دیا : چل گئی توموتی لال ، نہیں ملی تو جواہرلال۔
موتی لال نہرو نے بھی قانون کی تعلیم حاصل کی اور ان کے بیٹے جواہر لال نہرونے بھی ۔ موتی لال نے الہ آباد میں پریکٹس شروع کی اور اس میں کامیاب ہوگئے۔ چنانچہ وہ عمر بھر پریکٹس کرتے رہے ۔ جواہر لال نہرو نے بھی پریکٹس شروع کی مگر وہ اس میں کامیاب نہیں ہوئے ۔ انھوں نے وکالت چھوڑ کرسیاسی قیادت کا میدان اختیار کرلیا اور 1947 کے بعد ہندوستان کے وزیر اعظم بنے۔
آدمی کسی کام کو بطور مشن اختیار کرے تو وہ اس کو ہر حال میں جاری رکھتا ہے، خواہ وہ اس میں کامیاب ہو یا ناکام ۔ مگر جو کام بطور پروفیشن کیا جائے وہ اس وقت تک جاری رہتا ہے جبکہ اس میں کامیابی حاصل ہو رہی ہو ۔ کامیابی نہ ہونے کی صورت میں آدمی اس کام کو جاری نہیں رکھ پاتا۔
موجودہ زمانہ کے مسلم رہنمائوں کا معاملہ بھی اس سے مختلف نہیں۔ ان میں سے اکثر کے لئے ان کی ملی اور اسلامی مہم محض ایک پروفیشن ہے نہ کہ ایک مشن ۔ انھوں نے اسلام کے میدان کو بطور ایک باعزت کیریئر کے اختیار کیا ہے نہ کہ حقیقتہ اسلامی خدمت کے لئے۔
9 دسمبر 1983
ایک کشمیری مثل ہے ۔ــــ آکھ تہہ آکھ گو کہہ ۔ یعنی ایک اور ایک گیارہ "ایک " کی گنتی اگر الگ ہو تو وہ صرف ایک ہوتی ہے۔ لیکن اگر دو ایک اکھٹا ہو جائیں تو وہ مل کر گیارہ ہو جاتے ہیں۔ یہ کشمیری مثل اتحاد کی طاقت کو بتاتی ہے۔
10 دسمبر 1983
نیوٹن نے دیکھا کہ سیب کے درخت سے ایک پھل ٹوٹ کر گرا اور وہ زمین پر آگیا۔ " سیب نیچے کیوں گرا ، اوپر کیوں نہیں چلا گیا۔ اس نے سوچا۔ اس سوچ نے بالآخر اس کو اس توجیہہ تک پہنچایا کہ زمین میں قوت کشش ہے اور ہر چیز زمین کی طرف کھنچ رہی ہے، مگر یہی کل بات نہیں۔ کیوں کہ نیوٹن کے سامنے جو درخت تھا اس کے دو حصے تھے ۔ جڑ اور تنہ، درخت کی جڑ زمین کے نیچے جا رہی تھی اور اس کا تنہ اور شاخیں اوپر کی طرف اٹھ رہی تھیں۔ گویا سیب کے درخت سے پھل یا پتی کا ٹوٹ کر زمین پر گرنا اور اس کی جڑوں کا نیچے کی طرف جانا اگر اس بات کی طرف اشارہ کر رہا تھا کہ زمین میں قوت کشش ہے تو دوسری طرف درخت کے تنے کا اوپر کی طرف جا نا اس نظریہ کی تردید کر رہا تھا۔ مگر نیوٹن نے کچھ چیزوں کو لیا اور کچھ چیزوں کو حذف کیا۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوا کہ وہ ایک ایسی حقیقت کو دریافت کرے جس کے ذریعہ سے پورے نظام شمسی کی توجیہہ کرنا اس کے لئے ممکن ہو۔
یہ حذف (elimination) کا طریقہ موجودہ دنیا میں کسی قابل عمل نتیجہ تک پہنچنے کے لئے ضروری ہے۔ اگر آپ حذف کا طریقہ اختیار نہ کریں تو آپ ہمیشہ انتشار ذہنی کاشکار ہیں گے ، آپ کسی با معنیٰ نظریہ تک نہیں پہنچ سکتے۔
11 دسمبر 1983
بہت سے لوگ شعبان کی پندرہ تاریخ کو حلوا پکاتے ہیں۔ مشہور یہ ہے کہ اس روز رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا دانت شہید ہوا تھا اور اسی بنا پر کوئی سخت چیز کھانے کے بجائے آپ نے حلوا تناول فرمایا ۔
یہ بات تاریخ کے بالکل خلاف ہے ۔ کیوں کہ محدثین اور ارباب سیر کے اتفاق کے مطابق آپ کا دانت غزوہ احد میں شہید ہوا تھا اورغزوہ احد شوال(3ھ ) میں پیش آیا ہے نہ کہ شعبان میں۔ نیز اس کا کوئی ثبوت نہیں کہ اس دن آپ نے حلوا نوش فرمایا تھا۔
دانت شہید ہونے کے واقعہ سے حلوا کھانے کی سنت تو نکال لی گئی مگر کسی کو اس سے دلچسپی نہیں کہ یہ بھی معلوم کرے کہ وہ کونسا فرض تھا جس کی ادائگی کے لئے آپ نے اتنی سرگرمی دکھائی کہ آپ کے دانت تک شہید کر دیے گئے۔ یہ دین داری نہیں ، دین کے نام پرنفس پرستی ہے۔
12 دسمبر 1983
زندگی کا یہ المیہ کیسا عجیب ہے کہ ایک شخص کو صرف پچاس سال تک اس دنیا میں رہنے اور کام کرنے کا موقع ملتا ہے۔ وہ یہاں اپنی زندگی اس طرح بناتا ہے کہ اس کے ابتدائی تیس سال تعلیمی جد و جہد میں گزر جاتے ہیں ۔ اس کے بعد وہ اپنا عمل شروع کرتا ہے اور بیس سال کی زبردست محنت سے ترقی کی بلند ترین منزل پر پہنچتا ہے۔ عین اس وقت یہ حادثہ پیش آتا ہے کہ موت خاموشی کے ساتھ آتی ہے اور اس کو اس طرح اپنے قبضہ میں کر لیتی ہے کہ اس سے بچنے کے لئے وہ کچھ نہیں کرسکتا۔ شاندار امکانات والا آدمی اچانک ایک ایسی دنیا میں پہنچا دیا جاتا ہے جہاں نہ اس کے مکانات کی قیمت ہے اور نہ اس کی مکان سازی کی مہارت کی۔
انسان کی شخصیت کتنی زیادہ بامعنی ہے، مگر آخرت کو شامل کئے بغیر اس کی شخصیت کتنی زیادہ بے معنی ہو جاتی ہے۔
13 دسمبر 1983
آپ کے سامنے ایک کرسی ہے۔ یہاں دو امکانات ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ کرسی مضبوط ہو اور ہوسکتا ہے کہ آپ کے بیٹھتے ہی کرسی ٹوٹ جائے ۔ منطقی طور پر آپ کو حق ہے کہ آپ دونوں امکانات کو یکساں درجہ دیں اور کرسی پر نہ بیٹھیں۔ تاہم اب بھی بات ختم نہیں ہوتی۔ یہی شبہ آپ کو اس چھت کے بارے میں کرنا پڑے گا جس کے نیچےآپ کسی کو چھوڑ کر کھڑے ہوئے ہیں ۔ یہاں بھی اگر ایک طرف یہ امکان ہے کہ چھت قائم رہے تو دوسری طرف یہ امکان ہے کہ چھت گر پڑے۔ اب آپ شبہہ میں پڑ کر گھر کے باہر آ جاتے ہیں۔ مگر یہاں کبھی بدستور آپ کے لئے دوامکانات موجود ہیں۔ ایک یہ کہ زمین پرسکون رہے، دوسرے یہ کہ زمین میں بھونچال آ جائے۔ اب اگر آپ خشکی کو چھوڑ کر سمندر کے کنارے پہنچیں اور کشتی میں بیٹھنا چاہیں تو یہاں بھی دو امکانات کا مسئلہ آپ کا پیچھا نہیں چھوڑتا۔ کیوں کہ اگر ایک طرف یہ امکان ہے کہ سمندر آپ کے لئے موافق رہے تو دوسری طرف یہ امکان بھی ہے کہ خوفناک موجیں اٹھ کر کشتی کو غرق کر دیں ۔
تشکیک عملی طور پر ناممکن ہے، اس لئے ہر معاملہ میں ہم افادی نقطۂ نظر (pragmatism) کا طریقہ استعمال کرتے ہیں۔ یہی طریقہ ہم کو زندگی کے وسیع تر اور ابدی معاملہ میں بھی اختیارکرناچاہئے۔
14 دسمبر 1983
ہندستان کی مسلم صحافت اور مسلم قیادت کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ " انگریز دشمنی " یا " ہندو خطرہ" کی بنیاد پر ابھری۔ نتیجہ یہ ہے کہ اپنے آغاز ہی سے اس کا انداز منفی ہے۔ شروع سے اب تک تقریبا بلا استثناء مسلمانوں کی صحافت اور قیادت پر سطحی جذباتیت کا انداز غالب رہا ہے۔ ایک لفظ میں ہندستانی مسلمانوں کی صحافت زرد صحافت (Yellow Journalism) ہے اور ان کی سیاست زرد سیاست(Yellow Politics) ۔ اس قسم کی صحافت اور سیاست کسی قوم کوصرف مریض بناسکتی ہے، اور وہی اس نے عملا انجام دیا ہے۔
15 دسمبر 1983
خالق کائنات کا معاملہ بے حد عجیب ہے۔ وہ انتہائی حد تک ظاہر ہونے کے باوجود انتہائی حد تک مستور ہے۔ شدت احساس کے تحت کبھی کبھی مجھے خیال آنے لگتا ہے کہ آج کی دنیا میں شاید کوئی ایک شخص بھی نہ ہو جو واقعی معنوں میں خالق کی ہستی کا یقین رکھتا ہو ۔ خالق کے وجود میں روایتی عقیدہ رکھنے والے تو بے شمار نظر آتے ہیں ، مگر خالق کے وجود میں زندہ یقین رکھنے والا شاید کوئی نہیں ۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے انسان جیسی ایک مخلوق کو پیدا کر کے دنیا میں آباد کر دیا اور اس کو اس امتحان میں ڈالا کہ وہ ایک بظاہر ناقابل یقین حقیقت پریقین کرے ۔ تاکہ خدا اس کو آخرت میں وہ نعمتیں عطا کرے جو ناقابل یقین حد تک بامعنی اور لذیذ ہیں ۔
16 دسمبر 1983
محمد عثمان (پیدائش۱۳۳۳ھ ) گیا ( بہار) کے رہنے والے ہیں۔ انھوں نے ایک ملاقات میں بتایا کہ مولانا عبید اللہ سندھی آخر عمر میں کہا کرتے تھے کہ " جو تجربہ مجھ کو اس وقت ہے ، اگر جلا وطنی سے پہلے مجھ کو وہ تجربہ حاصل ہوتا تو میں انگریزوں سے لڑائی مول نہ لیتا۔ کیوں کہ مسلمانوں میں ابھی کرنے کے اتنے کام ہیں کہ وہ بغیر لڑائی کے کئے جاسکتے ہیں۔"
other sourceWords of another person or source
یہی موجودہ زمانہ میں تقریباً ان تمام لوگوں کا حال ہوتا ہے جن کو" اکابرملت" کہا جاتا ہے۔ ان میں سے ہر ایک اپنی آخر عمر میں مایوسی کا شکار ہوا ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ لوگ اپنی جوانی کی عمر میں محض رد عمل کے تحت اٹھ کھڑے ہوئے ۔ اگر وہ عمر کی پختگی کے بعد سوچ سمجھ کر اپنے عمل کا نقشہ بناتے تو وہ آغاز عمر میں وہی کرتے جو انھوں نے اختتام میں کرنا چاہا مگر کرنے سے معذور رہے۔
17 دسمبر 1983
ایک سیاسی مبصر کا قول ہے کہ بڑے لیڈر اکثر کسی بڑی مصیبت کی پیداوار ہوتے ہیں اور اپنے بعد کوئی بڑی مصیبت چھوڑ جاتے ہیں۔
other sourceWords of another person or source
Great leaders are often the products of
catastrophes and the architects of catastrophes.
یہ وہ لیڈر ہیں جو منفی نعروں پر کھڑے ہوتے ہیں۔ جب کوئی قوم کی مصیبت ، خاص طور پرکسی کے ظالمانہ سلوک سے دوچار ہوتی ہے تو منفی نعروں پر اٹھنے والے قائدین کے لئے یہ بہترین وقت ہوتا ہے۔ وہ پر جوش تقریریں کر کے فورا عوام کے اندر مقبولیت حاصل کر لیتے ہیں۔ مگرمنفی نعروں پر کھڑے ہونے والے لیڈر اس کے سوا کوئی اور کارنامہ انجام نہیں دیتے کہ وہ قوم کو ایک گڑھے سے بچانے کے نام پر دوسرے گڑھے میں گرا دیں۔
لیڈر کی ترقی اکثر حالات میں قوم کی بربادی کی قیمت پر ہوتی ہے۔
18 دسمبر 1983
اللہ کی قسم اتنی اچھی اڑ رہی ہے گڈی ... مسلمان لڑکے نے کہا۔ ہندو لڑکا بولا " بھگوان کی قسم ایسی اچھی اڑتی ہوئی گڈی میں نے نہیں دیکھی" ۔ عیسائی لڑکے نے کہا " او مائی گاڈ، کمال کی گڈی ہے یہ "
other sourceWords of another person or source
آجکل کے زمانہ میں مذہب کی حقیقت بس یہی ہے۔ آج ہر آدمی اصلا کوئی نہ کوئی "گڈی" اڑا رہا ہے ۔ البتہ اسی کے ساتھ وہ مذہبی قسم بھی کھا رہا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ قسم کھانے کے لئے کوئی شخص اللہ کا لفظ بولتا ہے ، کوئی بھگوان کا اور کوئی گاڈ کا۔
19 دسمبر 1983
اسلامی تربیت کے ایک اجتماع کے بعد میں نے آخری خطاب میں کہا : ہمارا تربیتی کیمپ ختم ہوگیا۔ اور اب ہم میں سے ہر شخص یہاں سے واپس روانہ ہوگا۔ مگر یاد رکھئے ، یہاں سے جانے والا وہ ہے جو یہ سمجھے کہ وہ اپنی قبر کی طرف واپس جارہا ہے۔ جوشخص یہ سمجھ کر یہاں سے روانہ ہو کہ وہ اپنے گھر کی طرف واپس جا رہا ہے ، وہ گویا کہیں نہیں جا رہا ہے ۔ کیوں کہ ہم میں سے ہرشخص کے کے آگے جو چیز ہے وہ گھر نہیں ہے بلکہ قبرستان ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہم اپنے گھروں کو نہیں بلکہ اپنی قبروں کو واپس جارہے ہیں ۔۔۔۔۔ اسی حقیقت کو جاننے کا نام علم ہے، اور اسی حقیقت کو نہ جاننے کا نام بے علمی .
موت کا سنگین ترین پہلو یہ ہے کہ اس کے بعد آدمی ان تمام امکانات سے کٹ جاتا ہے جو موجودہ امتحان کی دنیا میں اسے حاصل ہیں ، حتی کہ امکان توبہ سے بھی۔
20 دسمبر 1983
مولانا منت اللہ رحمانی ( امیرشریعت بہار) 23 دسمبر1973 کو دہلی میں تھے۔ جمعیتہ بلڈنگ میں " ادارة المباحث الفقہیہ" کے دفتر میں ان سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے ایک بات کہی جس کو میں نے انھیں کے قلم سے ایک کاغذ پر لکھوا لیا۔ اس کی نقل یہ ہے :
"مولانا ابو المحاسن محمد سجاد صاحب ( 1940 ۔1883 ) نے مجھ سے کہا کہ ایک دفعہ مولانا محمد علی مونگیری (م 1927) کی خدمت میں عرض کیا کہ خدا بہتر جانتا ہے کہ جہاں جاتا ہوں اخلاص کے ساتھ جاتا ہوں اخلاص کے ساتھ جاتا ہوں لیکن جب تک رہتا ہوں ، لوگ دین کی طرف مائل رہتے ہیں۔ اور وہاں سے ہٹنے کے بعد لوگ بھی دین کو چھوڑ دیتے ہیں۔ اخلاص کا تو اثر ہونا چاہئے۔ حضرت مونگیری نے جواب دیا کہ اللہ تعالی ہرعصر اور ہر زمانہ میں اپنی کسی نہ کسی صفت کے ساتھ جلوہ گر رہا ہے ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے اللہ تعالی خیر القرون میں اپنی صفت "الہادی" کے ساتھ جلوہ گر تھا۔ اور اس عہد میں اپنی صفت " المضل" کے ساتھ جلوہ گر ہے۔ اس لئے نہ ہدایت دیر پا ہوتی ہے اور نہ اخلاص موثر ۔ جس کا نتیجہ یہ بھی ہے کہ جن لوگوں کا منصب ہدایت تھا ، وہ گمراہ ہو رہے ہیں۔
مولانا مونگیری نے جو بات کہی ، وہ دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ اس دنیا میں فیض بقدراستعداد کا اصول کارفرما ہے۔ قرون اولی کے لوگوں نے استعداد کا ثبوت دیا اس لئے وہ خد اکے انعام سے سرفراز ہوئے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان استعداد کا ثبوت نہ دے سکے اس لئے وہ خدا کے انعامات کو پانے میں بھی ناکام رہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
21 دسمبر 1983
سقراط کا قول ہے کہ " آپ روح کا علاج کئے بغیر جسم کا علاج نہیں کر سکتے" ۔ سقراط کا یہ قول معروف بیماریوں کے بارہ میں بھی صحیح ہے اور دوسرے انسانی مسائل کے لئے بھی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ صحت مند ہونے کے لئے مریض کا اپنا ارادہ اور خواہش بھی انتہائی ضروری ہے ۔ مریض اگر مایوسی کا شکار رہے تو ڈاکٹر کی سخت کوششوں کے با وجود اس کی حالت میں سدھار نہیں آسکتا۔ علاج کی کامیابی کا انحصار اگر 50 فیصد ڈاکٹر پر ہے تو 50 فیصد مریض پر ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اسی طرح زندگی کے مسائل میں بھی آدمی کے ذہن کا بہت بڑا دخل ہے ۔ ایک سچے رہنما کو پہلے آدمی کی سوچ درست کرنی پڑتی ہے، اس کے بعد ہی وہ مسائل کے حل کے لئے کسی گہرے عملی منصوبہ کو زیر عمل لاسکتا ہے۔
22 دسمبر 1983
قرآن میں اسلام کو دین کامل کہاگیا ہے (الیوم اکملت دینکم ) اس کا مطلب فہرست احکام کی تکمیل نہیں بلکہ لوازم تاریخی کی تکمیل ہے۔ اس کا مطلب در اصل یہ ہے کہ اسلام دین مستحکم ہے۔ اسلام کا ظہور ، دین خداوندی کی تاریخ میں ایک دور کا خاتمہ اور دوسرے دور کا آغاز ہے۔ اسلام نے اس امکان کو ختم کر دیا کہ آئندہ کوئی شخص یا گروہ خدا کے دین کے ساتھ تعدی کر سکے۔ اسلام نے خدا کے دین کو تمام پہلوؤں سے کامل کر کے اس کو ایسا مستحکم بنا دیا کہ قیامت تک اس کی برتری باقی رہے، وہ اپنے پیروؤں کے لیے ابدی سرفرازی کی ضمانت بن جائے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
23 دسمبر 1983
ایک روایت کے مطابق ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نرم ہے اور نرمی کو پسند کرتا ہے۔ اور اللہ نرمی پر وہ دیتا ہے جو شدت پر نہیں دیتا (ان الله رفيق و يجب الرفق ويعطي على الرفق ما لا يطى على العنف ) موجودہ زمانہ کےمسلمانوں کا نظریہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ وہ سجھتے ہیں کہ کٹر بن کر رہو تاکہ لوگ تم سے دبیں۔ اگرتم نرم ہوگئے تو لوگ تمہارے اوپر زیادتی کرنے لگیں گے ۔ مسلمانوں کا یہ نظریہ سراسر قانون خداوندی کے خلاف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بے شمار کوششوں کے با وجود مسلمان موجودہ زمانہ میں کچھ حاصل نہ کر سکے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
24 دسمبر 1983
ایک حدیث میں ہے کہ قیامت ایسے شخص پر نہیں آۓ گی ، جو اللہ اللہ کہتا ہو (لا تقوم الساعة على أحد يقول اللہ اللہ) کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ اس کا مطلب زبان سے اللہ اللہ کہنا ہے۔ گویا جب کوئی شخص اللہ کا نام لینے والا نہ رہے گا ، اس وقت قیامت برپا ہوگی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مگریہ تشریح صحیح نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہاں " اللہ" با اعتبار معنیٰ ہے نہ کہ با اعتبار لفظ ۔ اس سے مراد اللہ کا تلفظ نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت لوگ اللہ کی حقیقت سے بیگانہ ہوچکے ہونگے۔ لفظ اللہ کو زبان سے دہرانے والے تو ہوں گے مگر اللہ کی معنویت ان کے دلوں میں اتری ہوئی نہ ہوگی۔
25 دسمبر 1983
اختر رائے پوری کی خود نوشت سوانح عمری چھپی ہے جس کا نام ہے : "گرد راہ" اس میں مصنف نے مشہور فرانسیسی مفکر سارترے کے ساتھ اپنی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ سارتر نے ان سے پوچھا کہ دوسری عالمی جنگ سے پہلے اور اس کے بعد کے پیرس میں انھیں کیا فرق محسوس ہوتا ہے۔
اختر رائے پوری نے جواب دیا کہ آج کی زندگی میں قدروں (values) کا نام ونشان نہیں ملتا ۔یہ سن کر سارتر نے کہا: نئے انسان کی نظر میں کپڑا دھونے کی مشین قدروں سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے"۔
other sourceWords of another person or source
26 دسمبر 1983
ایک عربی شاعر کا شعر ہے کہ جب حزام کوئی بات کہے تو اس کو مان لو ، کیوں کہ بات وہی ہے جو حزام کہے :
other sourceWords of another person or source
اذا قالت حزام فصد قوهانانالقولماتالتحسنامپ
بڑوں کی پرستش کا مزاج لوگوں میں پہلے بھی پایا جاتا تھا اور آج بھی پایا جاتا ہے۔ اپنے بڑے یا اپنے قبیلے کے لوگ جو کہیں اس کو صحیح سمجھ لینا ۔ خواہ اس کے حق میں دلیل موجود نہ ہو۔ مگر یہ سراسر جاہلیت ہے۔ صحیح یہ ہے کہ ہر بات کو دلائل پر جانچا جائے۔ ہراس بات کو رد کر دیا جائے جو دلیل کی کسوٹی پر پوری اترے۔ اور صرف اسی بات کو مانا جائے جو دین کی سطح پر ثابت ہورہی ہو۔
27 دسمبر 1983
ایک صاحب نے کہا کہ خدا نے پیغمبروں کو تمام حقیقتیں براہ راست دکھا دیں، اور ہم کو غیب میں رکھا۔ اگر ہم کو بھی تمام چیزیں دکھا دی گئی ہوتیں تو ہم دنیا میں زیادہ یقین کے ساتھ جی سکتے تھے۔
opposing viewA view stated in order to be argued against
میں نے کہا کہ یہ ہمارے ساتھ اللہ تعالی کی بہت بڑی رحمت ہے۔ کیوں کہ اس کی وجہ سے ہم گویا سیف سائڈ (safe side) میں ہیں۔ پیغمبر " مومن شاہد" ہوتا ہے، اس لئے اس کی ذمہ داری بہت بڑھ جاتی ہے۔ چنانچہ قرآن میں ہے کہ پیغمبر اگر ذرا بھی انحراف کرے تو اس کے لئے دگنا پکڑ ہے ۔ اس کے مقابلہ میں عام لوگوں کی حیثیت "مومن غائب" کی ہے اس بنا پر ان کے لئے معافی اور درگزر کا دروازہ بہت زیادہ وسیع ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
28 دسمبر 1983
امام حسین کے بارہ میں آج لوگوں کو صرف ایک بات معلوم ہے۔ یہ کہ وہ شہید اعظم تھے مگر قدیم زمانہ میں ایسا نہ تھا۔ علامہ ابن تیمیہ نے امام حسین کے حادثہ کی بابت تین رایوں کا ذکر کیا ہے۔ ایک جو امام موصوف کو امام معصوم کہتا ہے اور ان کو واجب الاطاعت ثابت کرتا ہے۔ دوسرا گروہ وہ ہے جو امام موصوف کے کیس کو بغاوت اور امت میں انتشار پیدا کرنے کا کیس سمجھتا ہے۔ اس بنا پر وہ ان کو مجرم ٹھہرا کر ان کے قتل کو جائز قرار دیتا ہے تیسرا گروہ ان دونوں رایوں کو غیر معتدل بتاتا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس کے نزدیک معتدل مسلک یہ ہے کہ ان کے معاملہ کو مجمل طور پرمظلوم شہادت کا معاملہ مانا جائے (منہاج السنتہ)
other sourceWords of another person or source
موجودہ زمانہ میں جو بے شمار گمراہیاں ہیں، اس کی وجہ زیادہ تر یہ ہے کہ متاخرین نے متقدمین کے مسلک کو چھوڑ دیا۔
29 دسمبر 1983
اسلامی انقلاب کے تین مرحلے ہیں ۔ (1) تبدیلی فرد –(2) تبدیل شاکلہ - (3) تبدیلی حکومت ۔
اسلامی تحریک اولا فرد کو اپنا نشانہ بناتی ہے ۔ یعنی فرد کو اللہ سے ڈرنے والا بنانا اور اس کے اندر یہ احساس ابھارنا کہ وہ اپنے اعمال کے لئے آخرت میں جواب دہ ہے۔
اس کے بعد دوسرا کام زمانی شاکلہ کو بدلنا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس کو فکری انقلاب کہا جاسکتا ہے۔ عمومی سطح پر غیراسلامی افکار کے مقابلہ میں اسلامی فکر کو وہی غلبہ حاصل ہو جائے جیسا کہ موجودہ زمانہ میں شہنشاہیت کے مقابلہ میں جمہوریت کو حاصل ہے۔
یہ دو کام جب قابل لحاظ مقدار میں ہو چکے ہوں ، اس کے بعد ہی انسانی معاشرہ میں اسلامی حکومت کا قیام عمل میں آسکتا ہے۔ مذکورہ دونوں کام کو انجام دئے بغیر اگرکسی ملک میں اسلامی حکومت قائم کرنے کی کوشش کی جائے تو وہ مضحکہ خیز ناکامی کے سوا کسی اور انجام تک نہیں پہنچ سکتی۔
30 دسمبر 1983
اسلام میں تلقین کی گئی ہے کہ جب موت کا وقت آئے تو آدمی اپنی زبان سے کلمہ توحید کا اقرار کرے ۔ یہ " کلمہ پڑھنا" اس قسم کی کوئی چیز نہیں ہے جیسے پنڈت لوگ منتر پڑھتے ہیں یا پڑھواتے ہیں۔ یہ دراصل آدمی کے آخری اندرونی احساسات کا ایک اظہار ہے۔
ایک مومن پر جب آخری وقت آتا ہے تو اس کوشدید احساس ہوتا ہے کہ اس کی زندگی اکارت چلی گئی۔ خدا کے سامنے پیش کرنے کے قابل کوئی کام وہ نہ کر سکا ۔ اس وقت اس کے دل کی بے قراری چا ہتی ہے کہ مرنے سے پہلے اپنے اعمال نامہ میں کوئی آخری چیز ریکارڈ کرا دے ۔ اس کے دل کی یہی بے قراری ہے جو کلمہ کی صورت میں نکل پڑتی ہے۔ کلمہ کے الفاظ بول کر گویا مرنے والا یہ کہہ رہا ہوتا ہے کہ خدایا ، میں کوئی عمل تو پیش نہ کرسکا۔ البتہ میں اپنا اعتراف تیری خدمت میں پیش کرتاہوں، تو اسی کو میری طرف سے قبول کرلے۔
31 دسمبر 1983
عبداللہ بن جعفر سے ایک مرسل روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں جو فتوی دینے میں سب سے زیادہ جری ہو وہ گویا جہنم میں کودنے کے لئے سب سے زیادہ جری ہے (أجروكم على الشيا الجـروكـمعـلىالنار)
hadithQuotes a hadith
فتوی دینا بے حد ذمہ داری کا کام ہے۔ یہ خدائی حکم کا انسان کی زبان سے ادا ہونا ہے۔ اس لئے ہر وہ شخص جو اللہ سے ڈرتا ہو اور جس کے اوپر اللہ کی عظمت چھائی ہوئی ہو ، وہ فتوی دینے سے آخری حد تک بچنا چاہے گا ۔ وہ مجبوری کی صورت پیش آئے بغیر کبھی فتویٰ دینے کی ہمت نہیں کرے گا۔