← Diary 1983-1984Diary 1983-1984
November 1983
English · 23 min read
یکم نومبر 1983
صحیح بخاری میں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے فرمایا : من احسن في الاسلام لم يوأخذ بما عمل في الجاهلية. ومن أساء في الاسلام أخذ بالاول والآخر ( جس نےاسلام میں داخل ہونے کے بعد اچھا عمل کیا تو اس سے زمانہ جاہلیت کے عمل کی پکڑ نہ ہوگی۔ اور جو شخص اسلام میں آنے کے بعد برا فعل کرے تو وه اول و آخرسب کے لئے پکڑا جائے گا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
2 نومبر 1983
ایک شاعر نے ہندستانی مسلمانوں کے بارہ میں کہا ہے:
شبنم ناتواں سہی لیکن اس گلستاں میں ہے نمو مجھ سے
اس شعر کا مطلب یہ ہے کہ ہندستان کے مسلمان اگر چہ قلیل اور کمزور ہیں ، مگر وہ ملک کا ایک مفید عنصر ہیں۔ وہ ملک کی "نمو" کا باعث ہیں۔ شاعرانہ کلام میں صرف ایک تشبیہہ اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہوگئی لیکن اگر اسی بات کو علمی طور پر ثابت کرنا ہو تو تشبیہی استدلال بالکل بے معنی ہوگا ۔ اب اس بات کوعلمی طور پر ثابت کرنے کے لئے حقیقی حوالے اور واقعی معلومات درکار ہوں گی۔ یعنی وہ چیز جس کوڈاٹا (data) کہا جاتاہے۔
3 نومبر 1983
ایک مولوی صاحب نے کہا کہ الرسالہ میں اکابر پر تنقید ہوتی ہے۔ یہ صحیح نہیں۔ آپ کو اکابر پر تنقید کئے بغیرا پنا نقطہ نظر پیش کرنا چاہئے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
میں نے کہا کہ میں کوئی نیا کام نہیں کر رہا ہوں ، میں وہی کر رہا ہوں جس پر تمام علماء کا آج بھی عمل ہے ـــــ بریلوی فرقہ مولانا اشرف علی تھانوی پر تنقید کرتا ہے ۔ دیو بندی لوگ امام ابن تیمیہ پرتنقید کرتے ہیں اہل حدیث حضرات امام ابوحنیفہ پر تنقید کرتے ہیں ۔ غرض ہرایک دوسروں پر تنقید کر کے اپنے نقطہ نظر کوصحیح ثابت کر رہا ہے ۔ پھر اگر اس عمومی مسلک پر میں بھی عمل کرتا ہوں تو اس میں آپ حضرات کو کیوں اعتراض ہے۔
4 نومبر 1983
اصحاب رسول نے جن ملکوں کو فتح کیا کسی بھی ملک میں انھوں نے ایسا نہیں کیا کہ وہاں انھوں نے مکمل ایمان اور مکمل شریعت کو اختیار کرنے کا مطالبہ کیا ہو۔ اور وہ اس وقت تک جنگ جاری رکھیں جب تک لوگ مکمل ایمان اور مکمل شریعت پر قائم نہ ہو جائیں ۔ انھوں نے شرک کا سیاسی زور توڑنے کے بعد فورا ہتھیار رکھ دئے ۔ ان کا مقصد حرب“ کوختم کرنا تھا نہ کہ نفس عقیدہ کو ختم کرنا (حتی تضع الحرب أوزارها)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی جنگ ختم فتنہ کے لئے تھی نہ کہ ختم عقیدہ کے لئے عقیدہ کا اختلاف تو دنیا کے دار الامتحان ہونے کا لازمی تقاضا ہے۔ پھر اس کو وہ کیسے ختم کر سکتے تھے۔ " ویکون الدین کلہ للہ " کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ حالت فطری قائم ہوجائے۔ اور لوگوں کو انتخاب (choice) کی وہ آزادی مل جائے جو خدا نے اپنے تخلیقی منصوبہ کے تحت انھیں دی ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
جس طرح سورج کا معاملہ خدا کا معاملہ ہے۔ اسی طرح دین بھی خدا کا معاملہ ہے۔ انسان اپنی مداخلت سے خدا کے تخلیقی نقشہ کو بگاڑتا ہے۔ چنانچہ صحابہ کوحکم دیا گیا کہ اس معاملہ میں انسان کی مداخلت کوختم کر کے اس حالت فطری کو قائم کر دیں جس پر خدا نے اپنی دنیا کو پیدا کیا ہے۔ یعنی آزادی انتخاب کی حالت ۔ صحابہ کرام کی جنگ بحالی آزادی کے لئے تھی نہ کہ ختم آزادی کے لئے ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
5 نومبر 1983
کہا جا تا ہے کہ مغل حکمراں شاہ جہاں کی زبان پر ایک بار ایک مصرعہ آ گیا۔ اس کا مطلب یہ تھا کر تعجب کی انگلی منھ میں ہے ، آدھی اندر آدھی با ہر:
انگشت حیرت در داں نیچے دروں نیمے بروں
اب دربار کے شاعر کو حکم ہوا کہ وہ اس کا دوسرا مصرعہ مکمل کرے۔ شاعر نے ایک مصرعہ وضع کر کے اس میں شامل کیا۔ اب پورا شعر بن گیا ۔
از بیت شاہجہاں لرزد زمین و آسمان انگشت حیرت دروہاں نیمے دروں نیمے بروں
ایک بادشاہ سے زمین و آسمان کولرزانے کی خاطر شاعر کے لئے صرف اتنی بات در کار ہے کہ وہ اپنے موافق ردیف و قافیہ پا لے لیکن اگرحقیقی طور پر ایک ایسا انسان درکار ہو جس سے زمین و و آسماں کانپیں تو اس کے لئے ضرورت ہوگی کہ خدائی طاقتوں والا ایک ایسا انسان پیدا کیا جاۓ ۔
کتنا فرق ہے حقیقت میں اور شاعری میں۔
6 نومبر 1983
" مضمون نگاری " پر بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں، مگر اس سلسلہ میں مجھے ایک چھوٹا سا فقرہ بہت پسند آیا ڈائنے ڈاوٹ فائر کی ایک کتاب ہے جو 1983 میں چھپی ہے. اس کا نام ہے (Creative Writing ) اس کتاب میں اس نے لکھا ہے کہ :
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
The best way to learn how to write is to write.
یعنی لکھنا سیکھنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ لکھا جائے . تاہم صرف لکھنا یا لکھنے کی مشق کرنا ہی لکھنے والا بننے کے لئے کافی نہیں۔ اس کے لئے فطری صلاحیت ہونا لازمی طور پر ضروری ہے۔ مصنف نے اس معاملہ میں فطری صلاحیت کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے اور ایولن واف (Hvelyn Waugh) کا یہ قول نقل کیا ہے کہ کامیابی کا انحصار فطری استعداد پر منحصر ہے جس کو سخت محنت کے ذریعہ ترقی دی گئی ہو :
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Success depends on natural talent developed by hard work.
7 نومبر 1983
مہاتما گاندھی نے ہندستان کی آزادی ( 1947) سے پہلے کہا تھا کہ میرامشن ہر آنکھ سے آنسو پوچھنا ہے:
Wiping off tears from every eye.
مگر جب گاندھی جی کی محبوب آزادی آئی تو اس نے صرف آنکھوں کے آنسوؤں میں اضافہ کیا۔ اجتماعی انقلاب کبھی لیڈر کی خواہش کے تحت نہیں آتا ، وہ ہمیشہ تاریخی حالات کے تحت آتا ہے ۔ حقیقی لیڈر وہ ہے جو اپنی خواہش کو جاننے کے ساتھ مستقبل کے ان تاریخی عوامل کو بھی جان سکے جو بالآخر اس کے انقلاب کی صورت گری کریں گے۔
8 نومبر 1983
ہنری ڈیوڈ تھورو( Henry David Thoreau) کا قول ہے کہ اگر الفاظ اس لئے ایجاد کئے گئے تھے کہ خیالات کو چھپایا جائے تو اخبارات اس بری ایجاد پر بہت بڑا اضافہ ہیں:
other sourceWords of another person or source
If words were invented to conceal thought, newspapers are a great improvement on a bad invention.
اخباریا نیوز بظاہر خبر نامہ ہے۔ مگر موجودہ اخبارات خبرنامہ سے زیادہ مفاد نامہ ہوتے ہیں۔ ہر اخبار اپنے مفاد کے مطابق کسی چیز کو چاہتا ہے اور کسی چیزکو نظرانداز کر دیتا ہے۔ اس بنا پر تمام اخبارات واقعی صورت حال پر پردہ ڈالنے کا آلہ بن گئے ہیں۔
9 نومبر 1983
موجودہ زمانہ میں غیر مسلموں میں اسلام کی دعوت پہنچانے کے لئے عام طور پر یہ عذر پیش کیا جاتا ہے کہ ابھی تو خود مسلمانوں کی اصلاح نہیں ہوئی۔ پھر غیرمسلموں میں اسلامی دعوت کا کام کیسے کیا جا سکتا ہے۔ یہ دلیل بالکل غلط ہے۔ اسلامی دعوت ایک ایسا فریضہ ہے جو امت سے کسی حال میں ساقط نہیں ہوتا۔ امام غزالی نے لکھا ہے: الامربالمعروف والنهي عن المنكر لا يسقط حتى عن الفاسق (احیاء علوم الدين )
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ایک عرب نے قصہ بیان کیا کہ ایک انگریز نے اسلام قبول کیا۔ اس کے بعد وہ مسلمانوں کے معاشرہ میں آیا تو مسلمانوں کی اخلاقی حالت کو دیکھ کر بے حد مایوس ہوگیا ، یہاں تک کہ اس نے اسلام کو ترک کر دیا (حتى ملهم ملالا تاما وترك الاسلام ) یہ دلیل صحیح نہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اور صحابہ کے زمانہ میں بھی بہت سے لوگ مرتد ہو گئے تو کیا اس بنا پر اسلامی دعوت کا کام ترک کر دیا گیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
10 نومبر 1983
سہارن پور کے ایک تاجر نے ایک سبق آموز واقعہ بتایا۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے یہاں ایک صاحب کے بینک اکاؤنٹ میں ڈیڑھ ہزار روپے کا سود جمع ہو گیا۔ اب وہ ہر مجلس میں کہتے پھرتے تھے کہ میرے پاس کچھ سود کی رقم ہے ۔ اس کو کہاں خرچ کروں ۔ خود اپنے خرچ کے لئے تو اس کو لے نہیں سکتا۔ آپ لوگ بتائے کہ اس کو کیا کیا جائے۔ اس کے بعد ان کا کاروبار بڑھا۔ اب ان کے اکاؤنٹ میں سود کی رقم تقریبا ڈیڑھ لاکھ ہوگئی ۔ اب وہ اس معاملہ میں بالکل خاموش ہو گئے۔ اب وہ کسی سے اس کا ذکر بھی نہیں کرتے تھے۔
موجودہ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ اعلان تقویٰ کے لئے تو بہت بے قرار رہتے ہیں مگر عمل تقویٰ سے کسی کو کوئی دلچسپی نہیں ۔
11 نومبر 1983
1981 میں آرچ بشپ آف کنٹریری (لندن) کے دفتر بی بی سی لندن کے نام اپنے مراسلہ میں اس بات پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا تھا کہ وہ پاکستان میں تیار ہونے والے بم کو "اسلامی بم" کا نام دیتا ہے۔ مراسلہ میں کہا گیا تھا کہ یہ مذہبی احساس کے لئے توہین کی بات ہے کہ ایک عمومی بربادی والے ہتھیار کو اسلامی کہا جائے:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
In 1981, the office of the Archbishop of Canterbury conveyed its displeasure to the BBC over the nomenclature, the Islamic Bomb, pointing out that it was insulting to religious sensitivity to call a weapon of mass human destruction Islamic.
other sourceWords of another person or source
یہ ایک بہت غیر معمولی واقعہ ہے ۔ میرے علم کے مطابق موجودہ زمانہ میں کسی ملک میں اس درجہ کی متوازی مثال موجود نہیں ۔
12 نومبر 1983
أخرج ابن أبي شيبة من حديث ابن عمرمرفوعاً : افضل الدعاء دعوة غائب لغائب اس حدیث کو ابن ماجہ ، ترمذی ،احمد بن حنبل نے بھی روایت کیا ہے۔ اس کے مطابق ، سب سے افضل دعا غائب کے لئے غائب کا دعا کرنا ہے ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ایک غائب شخص جب دوسرے غائب کے لئے دعا کرتا ہے تو اس کے پیچھے سچی انسانی خیر خواہی کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔ اور سچی انسانی خیرخواہی بلاشبہ ایمان کا اعلی ترین مظہر ہے۔
13 نومبر 1983
ہربرٹ پروشنو (Herbert B. Prochnow) کا قول ہے کہ دماغ کا واحد کامیاب بدل یہ ہے کہ آدمی خاموش رہے۔
other sourceWords of another person or source
The only successful substitute for brains is silence.
یہ تقریبا وہی بات ہے جس کو شیخ سعدی نے ان لفظوں میں بیان کیا ہے :
other sourceWords of another person or source
تامرد سخن نہ گفته باشد عیب و ہنرش نهفته باشد
14 نومبر 1983
ایک اردو شاعر نے اپنے شاعرانہ کمال کو بتاتے ہوئے کہا کہ میں ایک بات میں نئے نئے پہلو نکال کر اس کو ایک سو انداز سے بیان کر سکتا ہوں ۔
اک پھول کا مضمون ہو تو سور رنگ سے باندھوں
یہ شاعری کی نہایت صحیح تعریف ہے۔ شاعری میں اصل اہمیت" مضمون باندھنے ‘‘کی ہوتی ہے۔ شاعر کوحقیقت واقعہ سے غرض نہیں ہوتی ، اس کی ساری توجہ خیال آرائی اور الفاظ بندی پرلگی ہوئی ہوتی ہے۔ سائنس کامعاملہ اس سے یکسر مختلف ہے۔ شاعری اگر مضمون بندی کا نام ہے تو سائنس حقیقت رسی کا۔ سائنس داں کی ساری کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ اصل حقیقت تک پہنچے وہ چیزوں کو جیسا ہے ویسا ہی بیان کر سکے۔
موجودہ زمانہ کے اسلامی ادب اور اسلامی لٹریچر بدقسمتی سے سب سے زیادہ غلبہ شاعری کا رہا۔ حتی کہ اس دور میں مسلمانوں کے اور رہنما تھے ، وہ بھی شعر شاعری کے ماحول سے متاثر تھے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان خالص حقائق کی رعایت کرتے ہوئے اپنی ملی تعمیر کی منصوبہ بندی کرسکے۔
15 نومبر 1983
والٹرلپ من (Walter Lippmann) نے کہا ہے کہ جہاں سارے لوگ ایک ڈھنگ سے سوچتے ہوں، وہاں کوئی بھی شخص زیادہ سوچنے والا نہ ہوگا :
other sourceWords of another person or source
Where all think alike, no one thinks very much.
تمام لوگوں کا ایک انداز سے سوچنا دو میں سے کسی ایک سبب کی بنا پر ہوتا ہے ۔ یا تو اس لئے کہ وہاں ہرشخص کم عقل ہو ، یا اس لئے کہ سوچنے پر پابندی لگا دی گئی ہو ، اور دونوں ہی صورت کسی انسانی معاشرہ کے لئے تباہ کن ہے۔
16 نومبر 1983
حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ انصاف میں کشادگی ہے۔ اور جو شخص انصاف پر تنگی محسوس کرے تو بے انصافی اس کے لئے اس سے بھی زیادہ تنگ ہوگی (ان في العدل سعة، ومن ضاق عليه العدل فالجور عليه اضيق، (العبقريات،صفحہ737)
hadithQuotes a hadith
یہ ایک بےحد حکیمانہ بات ہے۔ جب بھی کوئی نزاع کی صورت پیش آئے تو اپنے واقعی حق پر راضی ہو جانا کامیابی کا راستہ کھولتا ہے۔ اوراگر حق سے زیادہ لینے کی کوشش کی جائے تو بالآخر محرومی کے سوا کچھ اور ہاتھ آنے والانہیں۔ عدل کا راستہ عافیت کا راستہ ہے اور ظلم کا راستہ مصیبت کا راستہ ۔ مگر عام طور پر آدمی انصاف اور عدل والے راستہ کو اختیار نہیں کرتا، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے بارہ میں بے لاگ رائے قائم نہیں کر پاتا۔
17 نومبر 1983
لاروشے فوکالڈ (la Rouchefoucauld ) نے کہا کہ ہم اپنی چھوٹی غلطیوں کو مان لیتے ہیں ، اس لئے تاکہ یہ ظاہر کرسکیں کہ ہم نے کوئی بڑی غلطی نہیں کی ہے :
other sourceWords of another person or source
We confess little faults in order to suggest that we have no big ones.
اس بات کو دوسرے لفظوں میں اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ جن باتوں کے اعتراف کے باوجود آدمی کی اصل شخصیت محفوظ رہتی ہے ، ان کا وہ اعتراف کر لیتا ہے ، اور جن باتوں کے اعتراف سے اس کو اندیشہ ہوتا ہے کہ اس کی اصل شخصیت مجروح ہو جائے گی ، ان کا اعتراف کرنے کے لئے وہ تیار نہیں ہوتا۔
18 نومبر 1983
مجاہد تابعی کا قول ہے کہ جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اس کے لئے جائز نہیں کہ وہ اللہ کی کتاب میں کلام کرے جب کہ وہ عربوں کی زبان کا علم نہ رکھتا ہو ( قال مجاهد : لايحل لاحد يؤمن بالله واليوم الآخر ان يتكلم في كتاب الله اذا لم يكن عالماً بلغات العرب )
other sourceWords of another person or source
قرآن عربی زبان میں ہے۔ اس لئے قرآن کو وہی شخص سمجھ سکتا ہے جو عربی زبان اچھی طرح جانتا ہو۔ عربی زبان پر بخوبی قدرت نہ ہو تو آدمی قرآن کو سمجھنے میں طرح طرح کی غلطیاں کرے گا۔
19 نومبر 1983
قال الحسن بن على:الناس ثلاثة فرجل رجل.ورجل نصف رجل ورجل لا رجل (حضرت حسن نے کہا کہ انسان تین قسم کے ہیں۔ ایک وہ انسان جو پورے معنوں میں انسان ہے۔ دوسرا وہ جو آدھا انسان ہے ۔ اور تیسرا وہ انسان جو انسان نہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
انسان حقیقتہ وہ ہے جس کے اندر مطلوبہ انسانی اوصاف ہوں۔ مگر دنیا میں ایسے انسان بہت کم ملتے ہیں جو پورے معنوں میں انسان ہوں۔ زیادہ تر وہ لوگ ہیں جو جزئی انسان ہیں نہ کہ کلی انسان۔
20 نومبر 1983
محمد حسنین ہیکل (سابق ایڈیٹر الاہرام ) نے اپنے ایک مضمون میں اس پر گفتگو کی ہے کہ پٹروڈالر کے ظہور نے عربوں کا کیا حال کیا ہے ۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ایک عرب جو پہلے خیموں میں زندگی گزارتے تھے ، ان کے پاس اچانک دولت آگئی۔ انھوں نے سوئٹزرلینڈ میں ایک بہت بڑا مکان خریدا جو جدید ترین سامان سے آراستہ تھا۔
other sourceWords of another person or source
انھیں دنوں محمد حسنین ہیکل کا سوئزرلینڈ جانا ہوا تو مذکورہ عرب نے اپنے نئے مکان میں ان کی دعوت کی۔ جب وہ وہاں پہنچے تو مذکورہ عرب کا عجیب حال تھا ۔ وہ گھر کی ایک ایک چیز کو تعجب خیز مسرت کے ساتھ انھیں دکھا رہا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے عرب کو یقین نہیں آرہا ہے کہ یہ گھر اور یہ سب چیزیں اسی کی ہیں۔
other sourceWords of another person or source
جی چاہتا ہے کہ آخرت میں میرا بھی یہی حال ہو اللہ تعالیٰ مجھے جنت کے ایک مکان میں داخل کرے جو میرے لئے قیاس و گمان سے بالاتر ہو ۔ میں حیرانی کے ساتھ اسے دیکھوں اور سوچوں کہ کیا یہ اسی حقیر اور کم تر انسان کے لئے ہے جو دنیا میں وحید الدین خان کے نام سے زندگی گزار رہا تھا۔
21 نومبر1983
ولیم میک فی (William McFee ) کا قول ہے کہ دنیا اس پر جوش شخص کے لئے
other sourceWords of another person or source
ہے جو اپنے آپ کو ٹھنڈا رکھے :
The world belongs to the enthusiast who keeps cool.
ہر آدمی کے اندر آگے بڑھنے کا حوصلہ ہوتا ہے۔ ہرآدمی زیادہ سے زیادہ ترقی کرنا چاہتا ہے مگر موجودہ دنیا میں آدمی اکیلا نہیں ہے۔ اور حالات پر اسے مکمل قابو ہے۔ اس لئے اس دنیا میں وہی شخص کامیاب ہوتا ہے جو اپنے جوش کو ہوش کے تابع رکھے ۔ جو اپنے شوق کی تکمیل میں سرگرم ہونے کے ساتھ دوسروں کے شوق کی رعایت کرین گے۔
22 نومبر 1983
ہربرٹ اسپنسر (Herbert Spencer) نے بجا طور پر کہا ہے کہ آدمی جو رائے بناتا ہے۔ بالآخر احساسات کے زیر اثر بنتی ہے نہ کہ عقل کے تحت :
other sourceWords of another person or source
Opinion is ultimately determined by the feelings, and not by intellect.
انسان کی یہی کمزوری اس کے لئے صحیح رائے تک پہنچنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔یہی خاص سبب ہے جس کی بنا پر اکثر اوقات لوگ انتہائی معقول بات کو بھی سمجھ نہیں پاتے ،خواہ اس کو کتنے ہی طاقت ور دلائل سے کیوں نہ ثابت کر دیا گیا ہو۔
23 نومبر 1983
روی بلال بن الحارث ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: وان الرجل ليتكلم بالكلمة من سخط الله عليه ما كان يظن ان تبلغ مابلغت فيكتب الله له بها سخطه الى يوم يلقاہ ( رواه ابن ماجہ الترمذي)
hadithQuotes a hadith
بلال بن حارث کہتے ہیں کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ آدمی اللہ کی ناراضگی کی ایک بات کہتا ہے، وہ اس کو زیادہ اہم نہیں سمجھتا ۔ مگر اللہ اس پر اس کے خلاف اپنی ناراضگی اس وقت تک کے لئے لکھ دیا ہے جب کہ وہ اس سے ملے گا۔
quoted sourceQuoted from another author or source
روایات میں آتا ہے کہ علقمہ تابعی نے کہا کہ بلال بن حارث کی حدیث نے مجھے بہت سی بات بولنے سے روک دیا ( قال علقمه : كم من حديث منعنيه حديث بلال بن الحارث) یہ دور اول میں مسلمانوں کا حال تھا۔ آج کے مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ ان کے سامنے کتنی ہی آیتیں اور حدیثیں سنائیے۔ ان کی زبان رکنے والی نہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
24 نومبر 1983
ایک صاحب نے کہا کہ نماز میں قرآن کو عربی میں پڑھنا ضروری نہیں۔ قرآن کا ترجمہ بھی پڑھا جاسکتا ہے۔ میں نے پوچھا کہ اس کا ثبوت کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ سلمان فارسی نے بعض قرآنی حصوں کا ترجمہ فارسی زبان میں کیا تھا اور ایران کے کچھ لوگ اپنی نمازوں میں اس ترجمہ کو پڑھا کرتے تھے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
میں نے کہا کہ آپ ایک واقعہ کو غلط صورت میں پیش کر رہے ہیں۔ حنفی عالم شمس الائمہ سرخسی کے بیان کے مطابق ، اصل واقعہ یہ ہے کہ چند نومسلم ایرانیوں نے سلمان فارسی سے کہا کہ نماز میں سورہ فاتحہ پڑھنا ضروری ہے۔ مگر ابھی ہم کو سورہ فاتحہ یاد نہیں۔ آپ سورہ فاتحہ کا ترجمہ ہماری مادری زبان (فارسی) میں کر کے ہمیں دے دیں ۔ سلمان فارسی نے سورہ فاتحہ کا فارسی ترجمہ کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی بابت پوچھا تو آپ نے ان کو منع نہ فرمایا ۔ چنانچہ سلمان فارسی نے وہ ترجمہ مذکورہ نو مسلم ایرانیوں کے پاس بھیج دیا۔ یہ لوگ کچھ عرصہ تک اس کو اپنی نمازوں میں پڑھتے اور اسی کے ساتھ سورۃ فاتحہ عربی کو یاد کرتے رہے۔ جب عربی متن انھیں یاد ہو گیا تو انھوں نے ترجمہ کو چھوڑ کر عربی پڑھنا شروع کر دیا۔ گویا سلمان فارسی کا ترجمہ ایک وقتی ضرورت تھا نہ کہ کوئی عمومی اصول۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
سلمان فارسی نے سورہ فاتحہ کا جو فارسی ترجمہ کیا ، اس کا پہلا فقرہ یہ تھا : بنام خداوند بخشایندہ مہربان۔
other sourceWords of another person or source
25 نومبر 1983
ترجمہ ایک بہت مشکل کام ہے ۔ اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ مترجم کو بیک وقت دو زبانوں کی رعایت کرنی پڑتی ہے۔ ایک وہ زبان جس سے ترجمہ کیا جا رہا ہے ، اور دوسری وہ زبان جس میں ترجمہ کرنا مقصود ہے۔ مثلا انگریزی کا ایک مقولہ ہے:
Politics is the art of possible
اس جملہ کا لفظی ترجمہ اردو میں یہ ہوگا کہ سیاست ممکن کا فن ہے۔ یہ ترجمہ انگریزی کے لحاظ سے صحیح ہے۔ مگر اردو اسلوب کے اعتبار سے اس میں وہ معنوی زور پیدا نہیں ہوتا جو انگریزی فقرہ میں موجود ہے۔ اردو میں معنوی اعتبار سے زیادہ بہتر ترجمہ یہ ہوگا :
سیاست ممکنات کا کھیل ہے۔
اس دوسرے ترجمہ میں بیک وقت دو تصرف کیا گیا ہے۔ ایک یہ کہ (possible) کا ترجمہ واحد کے بجائے جمع کیا گیا۔ دوسرے یہ کہ (art) کا لفظی ترجمہ نہ کرتے ہوئے اس کا معنوی ترجمہ کیا گیا۔ یہاں " صحیح“ ترجمہ باعتبار اسلوب کمزور ہے، اور "غلط ترجمہ" باعتبار اسلوب زیادہ جاندار ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایک زبان سے دوسری زبان میں ترجمہ کرنا کتنا مشکل کام ہے۔
26 نومبر 1983
مفتی محمد شفیع دیوبندی (مہاجر کراچی) نے لکھا ہے: جنگ عظیم اول کے موقع پر جب انگریز ترکی حکومت کے خلاف جنگ کر رہے تھے تو ہندستان کے تمام مشاہیر علماء، حضرت شیخ الہند، حضرت مولانا حسین احمد مدنی وغیرہ نے ترکی حکومت کی جنگ کو جہاد قرار دے کر اس کے لیے چندے کئے تھے، ار یہ کہا تھا کہ جو لوگ انگریزوں کی فوج میں شامل ہو کر ترکی کے خلاف لڑتے ہوئے مارے جائیں گے وہ کتے کی موت مریں گے ۔ (ماہنامہ بینات، کراچی، فروری 1966، صفحہ 25)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
میرے نزدیک اس قسم کے فتوے بالکل لغو تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اگرچہ اس کی پشت پر ’’مشاہیر ‘‘ اور ’’اکابر‘‘ کے نام تھے، وہ ہوا میں اڑ گئے اور ان کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔
27 نومبر 1983
ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے کہا کہ ہندستان میں مسلمانوں کے خلاف امتیاز (discrimination) ہوتا ہے۔ یہاں ان کے لیے ترقی کے مواقع نہیں۔
other sourceWords of another person or source
میں نے کہا کہ موجودہ صورت حال اصل مسئلہ نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ آپ اس صورت حال کو کس زاویہ نظر سے دیکھتے ہیں۔ اگر آپ اس کو امتیاز کہیں تو اس کے نتیجے میں مایوسی کا ذہن پیدا ہوتا ہے۔ اور اگر ان کو چیلنج قرار دیں تو اس کا سامنا کرنے کا ذہن ابھرے گا۔ جس چیز کو آپ ’’امتیاز‘‘ کہہ رہے ہیں، وہ زندگی کی ایک حقیقت ہے جو ہر جگہ رہے گی، خواہ وہ مسلم ملک ہو، یا غیر مسلم ملک۔ پھر جو چیز ہر حال میں باقی رہنے والی ہ اس کے خلاف شکایت اور فریاد کرنے سے کیا فائدہ۔
موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں نے امتیاز اور تعصب اور ظلم کی کہانی اتنی زیادہ بار دہرائی کہ انہوں نے مسلمانوں کو بے حوصلہ کر دیا۔ اگر وہ ان حالات کو چیلنج کہہ کر پیش کرتے تو مسلمانوں میں مقابلہ کا حوصلہ پیدا ہوتا۔ یہ بلاشبہ تمام ظلموں سے زیادہ بڑا ظلم ہے کہ کسی گروہ کو غلط رہنمائی کے ذریعہ بے حوصلہ بنا دیا جائے۔
28 نومبر 1983
صحیح مسلم کی ایک روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن جب وضو کرتا ہے اور اپنا چہرہ دھوتا ہے تو اس کے چہرے سے ہر وہ گناہ بہہ جاتا ہے جس کو اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔
hadithQuotes a hadith
پھر جب وہ اپنے دونوں ہاتھوں کو دھوتا ہے تو اس کے ہاتھ سے ہروہ گناہ بہہ جا تا ہے جس کو اس کے ہاتھوں نے پکڑا تھا۔ پھر جب وہ اپنے پیروں کو دھوتا ہے تو اس کا ہر وہ گناہ بہہ جاتا ہے جس پر اس کے پاؤں چلے تھے۔ یہاں تک کہ وہ گناہوں سے پاک ہو کر نکلتا ہے (حتى يخرج تقيا من الذنوب )
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس کی تشریح میں ایک عالم لکھتے ہیں ۔" وضو کی یہ کتنی بڑی فضیلت ہے کہ اس سے تمام صغیرہ گناہ خود بخود معاف ہوتے رہتے ہیں۔"
other sourceWords of another person or source
حدیث کی یہ تشریح صحیح نہیں۔ وضو سے گناہوں کا دھلنا دراصل احساس وضو کی بنا پر ہوتا ہے نہ کہ محض عمل وضو کی بنا پر ۔ بندہ مومن جب وضو کرتا ہے تو اس کا ایمانی شعور اس بدنی عمل کو روحانی عمل میں تبدیل کر دیتا ہے۔ وہ جب ایک عضو کو پانی سے دھوتا ہے تو اس کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ عضو رحمت خداوندی سے دھل رہا ہے ۔ وہ بے اختیار کہہ اٹھتا ہے کہ خدایا جس طرح پانی نے میرے اعضاء کو دھویا ہے ، اسی طرح تو اپنی رحمت سے میرے گناہوں کو دھو دے۔ یہی" نیت " آدمی کو گناہوں سے پاک کرتی ہے نہ کہ کوئی " خود بخود" عمل ۔
29 نومبر 1983
علماء اہل سنت علی بن ابی طالب کو خلیفہ راشد قرار دیتے ہیں، اور معاویہ بن ابی سفیان کو مسلم ملوک میں پہلا ملک (سلطان) کہتے ہیں۔ اس کے باوجود دونوں کے درمیان ایک عجیب فرق پایا جاتا ہے۔
حضرت علی نے خلیفہ بننے سے پہلے بڑے بڑے فاتحانہ کارنامے انجام دئے، مگرخلیفہ بننے کے بعد جو کچھ ہوا وه امام ابن تیمیہ کے الفاظ میں یہ تھا : " خلافت علی میں کفار سے کوئی جہاد نہیں ہوا۔ اور نہ کوئی نئے شہراور علاقے فتح کئے گئے۔ ان کی خلافت میں دین اسلام کو کوئی غلبہ حاصل نہیں ہوا" دوسری طرف امیر معاویہ کے زمانہ اقتدار کے بارہ میں ابن تیمیہ لکھتے ہیں : ” معاویہ کی حکومت کے زمانہ میں بر و بحر میں جہاد ہوا ۔ شہر پر شہرفتح ہوئے۔ اسلام کی قوت وشوکت میں اضافہ ہوا اور ہر طرح سے اسلامی مملکت میں ترقی ہوئی اور دین مبین کی ترویج واشاعت ہوئی :
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس فرق کی وجہ کیا ہے۔ اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ حضرت علی کے زمانہ اقتدار میں مسلمانوں کے اندر باہمی اختلاف پیدا ہو گیا۔ مسلمان دو گروہوں میں بٹ کر آپس میں لڑتے رہے۔ جب کہ حضرت معاویہ کے زمانہ اقتدار میں ابتدائی خلافت کے بعد اتحاد کی حالت قائم ہو گئی۔ اور پھر حضرت معاویہ کے آخر وقت تک باقی رہی۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اختلاف کتنی بڑی برائی ہے اور اتحاد کتنی بڑی خوبی۔
30 نومبر 1983
ایک عربی شاعر نے کہا ہے کہ اور جب محبوب سے کوئی ایک برائی ظاہر ہوتی ہے تو اس کی خوبیاں ہزار سفارشی بن کر سامنے آ جاتی ہیں:
other sourceWords of another person or source
واذا لحبیب اتی بذنب واحد جاءت محاسنہ بالف شفیع
ہر انسان میں خوبیاں اور خرابیاں دونوں موجود ہوتی ہیں۔ آدمی کو کسی سے محبت ہو تو اس کی خرابیوں پر اس کی خوبیاں غالب رہتی ہیں۔ اس کے برعکس، اگر کسی سے نفرت ہو جائے تو اس کی خوبیوں پر اس کی خرابیاں غالب آ جاتی ہیں۔ بہت کم لوگ ہیں جو اپنی محبت اور اپنی نفرت سے اوپر اٹھ کر کسی شخص کے بارے میں رائے قائم کر سکتے ہوں۔
24 نومبر 1983
شیخ سعدی نے گلستان میں ایک کہانی کے تحت یہ شعر لکھا ہے :
نہ بیٹی کہ چوں گر پا بر شور برآرد بچگان پیشم پلنگ
( تم نہیں دیکھتے کہ بلی جب عاجز ہو جاتی ہے تو وہ چنگل مار کر شیر کی آنکھ نکال لیتی) شیخ سعدی کا یہ سادہ سا شعراس عظیم حقیقت کو بتا رہا ہے کہ آدمی کو جب کسی چیلینج کا سامنا پیش آتا ہے تو اس کے اندر کی سوئی ہوئی صلاحیتیں جاگ اٹھتی ہیں۔اس کے بعد وہ ایسے بڑے بڑے کام کرگزرتا ہے جس کو وہ معتدل حالات میں نہیں کرسکتا تھا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it