← Diary 1983-1984Diary 1983-1984
October 1983
English · 24 min read
یکم اکتوبر 1983
دہلی کے ایک انگریزی اخبار میں ہر ہفتہ ایک کالم ہوتا ہے جس کا عنوان ہوتا ہے ۔۔ آخری ہفتہ پاکستان میں(Last weck in Pakistan) اس کالم میں اس کے کالم نگار نے لکھا ہے کہ پاکستان کی حکومت نے اسلام کے نام پر کئی احکام جاری کئے مگر عملا وہ چل نہ سکے ۔ اس سلسلہ میں وہ لکھتے ہیں کہ پاکستان کے حکمراں یہ سوچ رہے ہیں کہ دفتروں میں سگرٹ نوشی کو بند کر دیا جائے۔ اس کے بعد یہ الفاظ ہیں :
This scheme will also probably end in smoke.
یہ اسکیم بھی غالباً دھوئیں میں اڑ جائے گی (ہندستان ٹائمس 11 فروری1983 )
موجودہ زمانہ کے مسلم لیڈروں نے اسلام کی کوئی واقعی خدمت تو نہیں کی البتہ اس کو دنیا والوں کے لئے مذاق کا موضوع بنادیا۔
2 اکتوبر 1983
یہ واقعہ جولائی 1983 کا ہے۔ پھاٹک حبش خاں ( دہلی) کی ایک مسجد کے ذمہ داروں کو خیال آیا کہ مسجد کی توسیع کریں۔ انھوں نے مسجد سے متصل زمین کو ملا کر تین منزلہ تعمیرکا نقشہ بنایا۔ سابقہ تعمیر کے اوپر دیواریں کھڑی کر کے اس کے اوپر بیم بنائی گئی اور ابتدائی مسجد کے اوپر پہلی اور دوسری منزل تعمیر کر دی گئی ۔ یہ سب کچھ اتنی تیزی سے کیا گیا کہ ایک مہینے کے اندر پوری عمارت کھڑی ہوئی تھی۔
مگر اس کے بعد ایک حادثہ ہوا۔ جس بیم پہ اوپر کی منزل کھڑی ہوئی تھی وہ ٹوٹ گئی اور اس کے بعد ساری عمارت دھڑام سے گر پڑی اس کے گرنے سے قدیم مسجد بھی ڈھ پڑی. یہ مزید تعمیرتقریبا ڈیڑھ لاکھ روپیہ میں تعمیر کرائی گئی تھی۔ اب اندازہ ہے کہ اس کو بنانے کے لئے دوبارہ تین لاکھ کی رقم درکارہوگی۔ شکستہ عمارت کا صرف ملبہ اٹھانے میں ہزاروں روپے خرچ ہو جائیں گے۔
اس حادثہ کی وجہ کیا تھی۔ اس کی وجہ “ عجلت " تھی۔ بیم کا یہ قاعدہ ہے کہ اس کو بنانے کے بعد سوکھنے کے لئے معقول مدت تک چھوڑ دیا جاتا ہے۔ مثلا 23 انچ کی بیم ہے تو 22 دن اس کو سوکھنے کے لئے چاہئے۔ مگر یہاں یہ ہوا کہ بیم بناتے ہی فورا اس کے اوپر اگلی منزلیں تعمیرکر دی گئیں۔ اس کو سوکھنے اور پختہ ہونے کا وقت نہیں دیا گیا ۔۔۔ اس مثال کے آئینہ میں موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی کی تعمیر کے معاملہ کو دیکھا جاسکتا ہے۔
3 اکتوبر 1983
مولانا حمید الدین فراہی (1930- 1863 ) کچھ دنوں تک علی گڑھ کالج میں فارسی کے استاد رہے ہیں۔ یہ سرسید احمد خاں (1898- 1817 ) کا زمانہ تھا۔ سرسید نے متجددانہ انداز میں قرآن کی تفسیر اردوزبان میں لکھی تھی۔ انھوں نے بالواسطہ طور پر اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ مولا نا فراہی ان کی اردو تفسیر کا عربی زبان میں ترجمہ کر دیں۔ مولانا فراہی نے جواب دیا کہ میں اس معصیت کے کام میں شریک ہوں۔ مجھ سے اس بات کی کسی توقع نہیں رکھنی چاہئے۔"
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مولانا فراہی نے سرسید کی متجددانہ تفسیر کا ترجمہ کرنے کو معصیت سمجھا تھا۔ مگر عجیب بات ہے کہ خود مولانا حمید الدین فراہی نے سورۃ الفیل کی جوتفسیر لکھی ہے وہ عین اسی قسم کی متجددانہ تفسیر ہے جس کے لئے سرسید بد نام ہیں اور جس کی وجہ سے مو لا نا فراہی نے ان کی تفسیرکا ترجمہ کرنے کومعصیت سمجھا تھا۔
مولانا فراہی بلاشبہ مخلص تھے۔ مگر روایات کو نظر انداز کر کے تفسیر کرنے کا مزاج ان پر اتنا زیادہ چھایا ہوا تھا کہ وہ سورۃ فیل کی اس انوکھی تفسیر تک پہنچ گئے جو تمام علماء اور مفسرین کے خلاف ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مخلص ہوکر بھی آدمی بڑی بڑی غلطیاں کرسکتا ہے۔
4 اکتوبر 1983
جرمن فلسفی کانٹ (1724-1804ء) یورپ کا مشہور ترین مفکر ہے۔ وہ ایک غریب گھر میں پیدا ہوا۔ اس کے سرپرست اس کا تعلیمی خرچ اٹھانے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے۔ چنانچہ 1746ء سے 1755ء تک اس کو فیملی ٹیوٹر کے طور پر کام کرنا پڑا۔ اس طرح ذاتی محنت سے اس نے اپنی تعلیم جاری رکھی۔ تعلیم کی تکمیل کے بعد بھی اس کو صرف ایک معمولی ٹیچر کی جگہ ملی۔
1760ء کے بعد کے زمانہ میں اس کی تحریریں لوگوں کی توجہ کا مرکز بنیں۔ اس وقت جرمن یونیورسٹیوں میں لینبنر (G.W. Leinbniz) کے افکار چھائے ہوئے تھے۔ کانٹ نے لیبنز پر سخت تنقیدیں کیں۔ یہ تنقیدیں چونکہ دلائل کے اعتبار سے بہت طاقت ور تھیں، کانٹ بہت جلد لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گیا۔ اور پھر اس کے لیے اعلیٰ ترقیات کے دروازے کھل گئے۔
5 اکتوبر 1983
چین کے ایک ارب باشندے چینی زبان بولتے ہیں۔ جب کہ انگریزی زبان بولنے والوں کی تعداد ساری دنیا میں 70 کرور ہے۔ اس لحاظ سے بظاہر چینی زبان بولنے والے زیادہ ہیں اور انگریزی بولنے والے کم۔ مگر دو زبانوں کی اہمیت سمجھنے کے لیے یہ تقابل صحیح نہیں۔ کیوں کہ چینی زبان صرف چین میں بولی جاتی ہے۔جب کہ انگریزی زبان کے بولنے اور جاننے والے ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ انگریزی زبان حقیقی معنوں میں ایک بین الاقوامی زبان ہے اور چینی صرف ایک ملکی زبان۔
6 اکتوبر 1983
موجودہ زمانہ میں شہید کا لفظ قتیل کے معنیٰ میں رواج پا گیا ہے۔ حالانکہ یہ اسلامی تعلیمات کے مطابق نہیں۔ قرآن میں ہے کہ : اور جو لوگ اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے،وہی اپنے رب کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں۔ (الحدید 19) اس آیت میں ایسے لوگوں کو شہید کہا گیا ہےجنہوں نے اللہ اور رسول کا مومن ہونے کا ثبوت دیا۔ یہاں لڑ کر جان دینے کا کوئی ذکر نہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مزید یہ کہ کسی قتل ہونے والے کو شہید کہنا بذات خود بھی اسلام میں منع ہے۔ متعدد حدیثوں میں اس کی صراحت آئی ہے۔ امام بخاری نے اپنی کتاب جامع صحیح میں ایک باب قائم کیا ہے جس کے الفاظ یہ ہیں : لا يقول فلان شهید (یہ نہ کہے کہ فلاں شہید ہے) اس ترجمہ باب کی تشریح حافظ ابن حجر نے اس طرح کی ہے : (الا يقول من شهيد) اى على سبيل القطع الا ان كان بالوحی ۔ یعنی قطعیت کے ساتھ کسی کو نہ کہے کہ وہ شہید ہے ، الا یہ کہ وہ وحی کی بنیاد پر ہو ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
امام بخاری نے اس باب کے تحت کئی روایتیں پیش کی ہیں۔ حافظ ابن حجر نے اس میں مزید اضافہ کیا ہے۔ ان احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ شہید کا لفظ آدمی کے اخروی انجام کو بتاتا ہے جس کا علم صرف اللہ تعالی کو ہے ، پھر کسی انسان کے لئے کیسے درست ہو سکتا ہے کہ کسی شخص کو یہ کہنا شروع کر دے کر فلاں آدمی شہید ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماضی میں کسی کے نام کے ساتھ لفظ شہید نہیں لگایا گیا۔ یہ صرف موجودہ زمانہ کی بدعت ہے کہ لوگ حسن البنا شہید اورسیدقطب جیسے الفاظ بولتے ہیں۔
7 اکتوبر 1983
والٹير (Voltaire) کا قول ہے کہ آدمی کو اس کے سوالات سے سمجھو نہ کہ اس کے جوابات سے:
other sourceWords of another person or source
Judge a man by his questions rather than his answers.
یہ بہت با معنی قول ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جواب دینے کے مقابلہ میں سوال کرنا زیادہ مشکل کام ہے۔ آدمی کا سوال اس کی پوری شخصیت کو بتا دیتا ہے۔ کم از کم میرا تجربہ ہی ہے کہ بہت کم لوگ ہیں جو واقعی کوئی گہرا سوال کریں۔ بیشتر لوگ محض سطحی قسم کے سوال کرنا جانتے ہیں۔
8 اکتوبر 1983
ایک شخص نے کامیابی کا راز سادہ طور پر ان چند لفظوں میں بیان کیا اگر تم کامیاب ہونا چاہتے ہو تو تم زیادہ کام کرو :
If you want to succeed, work harder.
میرا خیال ہے کہ کامیابی کا اس سے مختصر نسخہ اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ موجودہ دنیا مقابلہ کی دنیا ہے۔ یہاں پرکامیابی دوسروں کے مقابلہ میں کامیابی کا نام ہے۔ اس لئے ایک شخص اسی وقت کوئی قابل ذکر کامیابی حاصل کر سکتا ہے جب کہ وہ زیادہ محنت کر کے مقابلتہ اس کا استحقاق پیدا کرے۔
9 اکتوبر 1983
مکھن گویا چھاچ اور گھی کا مجموعہ ہے۔ لیکن مکھن سے براہ راست گھی نکالنا چاہیں تو وہ چھاچ سے الگ ہو کر آپ کو نہیں مل سکتا۔ البتہ جب مکھن کو آگ پر پکائیں تو پکتے پکتے ایک وقت آتا ہے جب کہ چھاچ الگ ہو جاتا ہے اور مکھن الگ۔
یہ ایک قدرتی تمثیل ہے جو انسان کے معاملہ کو بتا رہی ہے ۔ انسان کی شخصیت میں دو چیزیں ملی جلی ہیں ۔ روح اور مادہ ۔ عام حالت میں وہ مکھن کی طرح ایک دوسرے میں شامل رہتی ہیں۔ خداکی طرف سے انسان پر مصیبتیں اور آزمائشیں اس لئے ڈالی جاتی ہیں کہ اس کی شخصیت کا روحانی عنصر جو بمنزلہ گھی کے ہے ، اس کی شخصیت کے مادی عنصر سے الگ ہو جائے جو بمنزلہ چھاچ کے ہے۔ اسی کا نام قرآن کی زبان میں تزکیہ ہے۔
انسان کا موجودہ مادی وجود جنت میں بسائے جانے کے قابل نہیں۔ جو شخص اپنے مادی وجود کو لے کر آخرت میں پہنچے وہ خدا کی جنت میں داخلہ کے لئے نااہل ٹھہرے گا ۔ البتہ جو شخص اپنے موجودہ مادی وجود سے اس دنیا میں اپنے آپ کو الگ کر لے اور اپنے روحانی وجود کے ساتھ آخرت میں پہنچے ، اس کو نیا زیادہ بہترجسم دے کرجنت میں داخل کر دیا جائے گا۔
10 اکتوبر 1983
ایک مقولہ ہے کہ مایوس آدمی کو ہر موقع کے اندر مشکل نظر آتی ہے، اور پر امید آدمی کو ہر مشکل اندر موقع دکھائی دیتا ہے:
other sourceWords of another person or source
The pessimist sees the difficulty in every opportunity, and the optimist sees the opportunity in every difficulty.
ہر صورت حال میں کچھ روشن پہلو ہوتے ہیں اور کچھ تاریک پہلو کوئی بھی صورت حال اس سے خالی نہیں۔ کامیابی صرف اس انسان کے لئے مقدر ہے جو تاریک پہلو کو نظرانداز کر دے، اور روشن پہلو کی طرف اپنا قدم بڑھادے۔ اس دنیا میں کامیابی حاصل کرنے کا دوسرا کوئی طریقہ نہیں
11 اکتوبر 1983
عوام میں ایک حدیث مشہور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے بیت اللہ کا حج کیا اور اس نے (مدینہ آکر ) میری زیارت نہیں کی تو اس نے میرے اوپر زیادتی کی (من حج البيت ولم يزرني فقد جفانی )
hadithQuotes a hadith
مگرحقیقت یہ ہے کہ یہ حدیث گھڑی ہوئی ہے۔ حافظ ذہبی ، امام صنعانی ، زرکشی اور ابن الجوزی وغیرہ نے اس کو موضوعات میں شمار کیا ہے۔ اس حدیث کی سند میں ایک راوی محمد بن محمد ہیں جو اپنے دادا نعمان بن شبل الباہلی سے روایت کرتے ہیں ۔ ابن حبان نے ان کی بابت لکھا ہے کہ یاتی بالطامات یعنی وہ حیرت انگیز اور سنسنی خیز باتیں بیان کرتے ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قدیم زمانہ میں حدیثیں وضع کرنے کا ایک محرک یہ بھی رہا ہے کہ عوام ہمیشہ عجیب وغریب قسم کی مبالغہ آمیز باتوں کو بہت دھیان سے سنتے ہیں اور بہت جلد ایسے لوگوں کے گرد جمع ہو جاتے ہیں۔ قدیم زمانہ میں اس قسم کے لوگ سنسنی خیز حدیثیں گھڑ کر سنایا کرتے تھے۔ موجودہ زمانہ میں بھی اس قسم کے لوگ موجود ہیں۔ اور یہ وہی ہیں جن کو زرد صحافی (Yellow journalists) کہا جاتاہے۔
12 اکتوبر 1983
تنقید کرنا غلط نہیں ، تنقید کو برا ماننا غلط ہے ۔ واحد پابندی جو تنقید کے اوپر لگائی جاسکتی ہے وہ یہ کہ تنقید کو تنقید ہونا چاہیئے کہ تعییب یعنی عیب جوئی اور الزام تراشی کرنے کے بجائے واضح دلائل کی بنیاد پراظہارخیال کیا جائے جس کوموجودہ زمانہ میں تجزیہ کہاجاتا ہے۔
13 اکتوبر 1983
پنڈت جواہرلال نہرو نے کہا تھا کہ مجھے اس دنیا سے دلچسپی ہے ، اس زندگی سے، نہ کہ کسی اور دنیا یا مستقبل کی زندگی سے :
other sourceWords of another person or source
1 am interested in this world, in this life, not some other world or future life.
جواہرلال نہراور ان کے جیسے دوسرے لوگوں کو یہ کہنے کی تو آزادی ہے کہ انھیں صرف حال کی زندگی سے دل چسپی ہے۔ مگر ان کی مشکل یہ ہے کہ انھیں یہ آزادی نہیں کہ وہ اپنی مستقبل کی زندگی کا خاتمہ کر سکیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جب تک یہ ثابت نہ ہو جائے کہ موت کے بعد کوئی زندگی نہیں، اس وقت تک کسی عقلمند آدمی کا یہ کام نہیں ہو سکتا کہ وہ موت سے پہلے والی زندگی سے تو دلچسپی رکھے اور موت کے بعد والی زندگی کو بھلا دے۔
14 اکتوبر 1983
ایک ہندو نوجوان سے ملاقات ہوئی جو آر ایس ایس سے تعلق رکھتے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ آر ایس ایس کےلوگ مسلمانوں سے کیا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارا احساس یہ ہے کہ مسلمان دیش کے وفادار نہیں۔ان کی وفاداریاں دیش کے باہر ہیں۔ اگر وہ ہماری طرح دیش کے وفادار بن جائیں تو پھر ہمیں ان سے کوئی شکایت نہیں ہوگی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
میں نے کہا کہ ہندستان میں آزادی کے بعد سے کئی بار ایسی سازشیں پکڑی گئی ہیں جن میں لوگ ہندستان کا فوجی راز پاکستان کے ہاتھ بیچنے میں ملوث تھے۔ مگر یہ سب کے سب ہندو یا سکھ تھے۔ ان میں سے کوئی ایک بھی مسلمان نہ تھا۔ کیا اس سے مسلمانوں کے بارے میں آپ کا الزام غلط ثابت نہیں ہوتا۔
میں نے کہا کہ آپ یہ کہتے ہیں کہ ہم بھارت کو ایک ایسا ملک بنانا چاہتے ہیں جو ساری دنیا کو رہنمائی دے سکے۔ پھر کیا آپ یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ساری دنیا وطن کے خانوں میں بٹ جائے۔ آج کی دنیا بین اقوامیت کو پسند کرتی ہے۔ ایسی حالت میں آپ کی محدود وطنیت میں اس کے لیے کیا کشش ہو سکتی ہے۔ پھر میں نے ان کو فرانسس فینلون (Francis Fenelon) کا قول سنایا کہ میں اپنے ملک کو اپنے خاندان سے زیادہ عزیز رکھتا ہوں۔ مگر انسانیت مجھے اپنےملک سے بھی زیادہ عزیز ہے:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
I love my country better than my family.but I love humanity better than my country.
میں نے کہا کہ ایک ایسی دنیا جہاں لوگ عالمی سفر کے لیے انٹرنیشنل سواری کے طالب ہوں، وہاں آپ لوگوں ک ایک ایسی سواری پر بیٹھنے کے لیے راضی نہیں کر سکتے جو صرف مقامی سفروں کے لیے کارآمد ہو۔
15 اکتوبر 1983
مسائل ہر ملک میں ہیں اور ہندستان میں بھی ہیں۔ ہمیں حق ہے کہ ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں۔ مگر مسائل کو حل کرنے کے لیے ہمیں لازمی طور پر خاموش اور پرامن انداز اختیار رکرنا چاہیے، نہ کہ احتجاجی انداز(agitational approach) ۔ احتجاجی انداز مسلمانوں کی داعیانہ حیثیت کے مطابق نہیں۔ نیز یہ کہ موجودہ حالت میں احتجاجی انداز ملک کی شدت کو مزید بڑھاتا ہے وہ کسی درجہ میں بھی اس کو کم نہیں کرتا ۔
16 اکتوبر 1983
تبلیغی جماعت کے ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ میں نے کہا کہ کام کرنے کے دو انداز ہیں۔ ایک خارجی انداز (outward approach) اور دوسرا داخلی انداز (inward approach) اس وقت مسلمانوں میں بے شمار تحریکیں چل رہی ہیں ، مگرسب کم یا زیادہ ، خارجی انداز کارپر چل رہی ہیں۔ میرے نزدیک صرف دو قابل ذکر تحریکیں ہیں جو داخلی انداز کار پر چل رہی ہیں ، ایک تبلیغی جماعت اور دوسرے الرسالہ کامشن ۔
میں نے کہا کہ مجھے تبلیغی جماعت سے کئی معاملوں میں اختلاف ہے ۔ مثلا وہ لوگ پوری تحریک فضائل کی بنیاد پر چلا رہے ہیں جو میرے نزدیک صحیح نہیں۔ تاہم میں تبلیغی جماعت کی اس لئے قدر کرتا ہوں کہ وہ امت میں داخلی طرز فکر پیدا کر رہے ہیں جو صحیح طرزفکر ہے۔ دوسرے لوگ پوری ملت کو خارجی طرز فکر پر ڈال رہے ہیں جو ان کو کہیں پہنچانے والا نہیں۔
17 اکتوبر 1983
1971 میں ہندستانی فوجوں نے شیخ مجیب الرحمن کی عوامی لیگ اور مکتی باہنی کے ساتھ مل کر مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش میں تبدیل کیا۔ اس آپریشن کے وقت ہندوستانی فوجیوں کے جنرل فیلڈ مارشل مانکشا تھے۔ بنگلہ دیش بننے کے بعد مانکشا کو ہندستان میں زبردست استقبال ملا ۔ جگہ جگہ ان کے اعزاز میں جلسے کئے گئے۔ دہلی کے ایک اسکول میں اس قسم کے ایک جلسہ کو خطاب کرتے ہوئے مانکشا نے کہا:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Had I been on the other side, history would have been different today.
اگر میں دوسری طرف ہوتا تو آج تاریخ بالکل مختلف ہوتی۔ یعنی مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے کے بجاۓ انڈیا پاکستان بن جاتا ۔ اسی کو" برخود غلط " کہتے ہیں ، اور برخود غلط ہونا بلاشبہ سب سے بڑا ذہنی مرض ہے۔
18 اکتوبر 1983
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ألا أخبركم بالمؤمن. من أمـهالـنـاسعـلىأ موالهمو انفسهمو المسلممنسلما لناسمنلسـانـهويـدهـوالمحبـاهـدمنجـاهـدنفــهفيطاعةاللهعـزوجـل،والمهاجـرمـنهـجرالطايـاوالذنوب ( رواهالسنده )
hadithQuotes a hadith
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ کیا میں تم کومومن کے بارہ میں نہ بتاؤں ۔ مومن وہ ہے جس سے لوگ اپنے مال اور اپنی جان کے بارہ میں امن میں رہیں مسلم وہ ہے جس کی زبان اور جس کے ہاتھ سے لوگ محفوظ رہیں۔ مجاہد وہ ہے جو اللہ کی اطاعت میں اپنے آپ سے جہاد کرے ۔ مہاجر وہ ہے جو خطاؤں اور گناہوں کو چھوڑ دے۔
hadithQuotes a hadith
19 اکتوبر 1983
عربی زبان الہامی کلام کے لئے موزوں ترین زبان ہے ۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اس کے اندر ایجاز کی حیرت انگیز صلاحیت ہے۔ زیادہ معانی کو کم لفظوں میں سمیٹنا اس کی بہت خاص صفت ہے۔ مثلا ایک مقولہ اردو زبان میں اس طرح ہے : جیسا بونا ویسا کاٹنا۔ یہی مقولہ انگریزی زبان میں اس طرح ہے :
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
As you sow, you will reap
اسی کو عربی زبان میں اس طرح کہا جائے گا : کما تزرع تحصد۔ اردو مقولہ چارلفظوں میں ہے۔ انگریزی مقولہ چھ لفظوں میں ۔ اس کے مقابلہ میں عربی زبان میں یہی مفہوم صرف تین لفظ میں پوری طرح ادا ہو جاتا ہے۔
20 اکتوبر 1983
قال على بن ابى طالب ينصح ابنه الحسن رضى الله عنهما : يابني احبـلنفسكميزاناًفيما بينكوبينغيركـ فـاحـبغـيـركمـ اتحبلنفسكوأكـرلـهماتكرةلها(حضرت علی ابن ابی طالب نے اپنے صاحبزادہ حضرت حسن سے کہا کہ اے میرے بیٹے ، اپنے اور دوسروں سے تعلق کے معاملہ میں خود اپنے آپ کو میزان بنا لو۔ پس دوسروں کے لئے وہی چیز پسند کرو جو تم اپنے لئے پسند کرتے ہو اور دوسرے کے لئے وہی چیز نا پسند کرو جو تم اپنے لئے ناپسند کرتے ہو۔ معاشرتی اخلاقیات کے لئے اس سے زیادہ سادہ اور اس سے زیادہ صحیح اصول کوئی اور نہیں ہوسکتا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
21 اکتوبر 1983
میں کبھی سوچتا ہوں کہ انسان کس قدر سرکش مخلوق ہے ۔ اور شاید اس کی سب سے بڑی سرکشی یہ ہے کہ وہ خدا کے کلام میں اپنا کلام ملاتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ خدا کا کلام ہے۔ پہلی امتوں نے اس سرکشی کی بنا پر اپنی آسمانی کتابوں کو محرف اور غیرمعتبربنا دیا ۔
مسلمان اس معاملہ میں کم مجرم نہیں ہیں۔ قرآن کی حفاظت کے لئے خدا کے فرشتے مقرر تھے اس لئے وہ قرآن میں اپنا کلام نہ ملا سکے۔ مگر حدیث میں انھوں نے انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ اپنا کلام ملایا حتی کہ موضوع حدیثوں کی تعداد لاکھوں تک پہنچ گئی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مثال کے طور پر شیعہ حضرات نے حضرت علی کی مطلق فضیلت ثابت کرنے کے لئے بے شمار عجیب وغریب قسم کی حدیثیں گھڑیں۔ اس کے جواب میں سنی حضرات نے ابو بکر و عمر کی فضیلت میں حدیثیں گھڑنا شروع کر دیا۔ مثلا رازی نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ جب ابو بکر صدیق کا جنازہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کے پاس لایا گیا تو آواز دینے والے نے آواز دی کہ اے رسول اللہ آپ پر سلام ، یہ ابوبکر دروازہ پر حاضر ہیں (السلام عليكم يارسول الله ، هذا ابوبکر بالباب ) اسی وقت دروازہ کھل گیا اور قبر کے اندر سے یہ آواز آئی :
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ادخلوا الحبيب الى الحبيب روست کو دوست کے پاس لے آؤ
اس قسم کی روایتیں گھڑنا بلاشبہ سطحیت بھی ہے اور سرکشی بھی۔
22 اکتوبر 1983
مرزاغلام احمد قادیانی کے ایک شعر کا ایک مصرعہ یہ ہے :
دیں کے لئے حرام ہے اے دوستو قتال
غلام احمد قادیانی کے اس شعر پر مسلمانوں نے بہت شور وغل کیا ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس شعر میں ایک صحیح بات کو غلط لفظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اس شعر میں دین کے لفظ کو اگر "دعوت دین" کے معاملہ میں لیا جائے تو بات بالکل بدل جائے گی۔ یعنی لفظ بدل کر اس کو یوں کہا جائے کہ ۔ ۔ دعوت کا کام مدعو کے ساتھ جنگ چھیڑ کر نہیں کیا جا سکتا ۔
قتال دفاع کے مقصد کے لئے دین میں عین جائز بلکہ ضروری ہے۔ اس کے حرام ہونے کا کوئی سوال نہیں ۔ مگر دعوت کا عمل ایک نصیحت کا عمل ہے۔ اور نصیحت کے لئے ضروری ہے کہ سننے والے اور سنانے والے کے درمیان خوشگوار فضا ہو۔ اس فضا کو باقی رکھنے کے لئے داعی کو یکطرفہ طور پر ٹکراؤ سے احتراز کرنا پڑتا ہے۔
23 اکتوبر 1983
ایک مقولہ ہے کہ" کمال کا خاصہ ظہور ہوتا ہے " ۔ پھول جب تکمیل کے مرحلہ کو پہنچتا ہے تو خوشبو دینے لگتا ہے۔ بخارات اٹھنے کا عمل تکمیل کو پہنچتا ہے تو بارش ہونے لگتی ہے۔چاند جب مکمل ہو جاتا ہے تو پوری طرح روشنی دینے لگتا ہے۔ وغیرہ ۔
یہی معاملہ دین کا ہے۔ قرآن میں اعلان کیا گیا ہے کہ خدا کا دین اب کامل ہو چکا ہے۔ یعنی وہ آخری حد تک مسلم اور مستحکم ہو چکا ہے۔ جب دین اس طرح مکمل ہو جائے تو اس کے اندر وہ طاقت آجاتی ہے کہ اپنے آپ پھیلنے لگے ۔ چنانچہ اسلام اب یہ طاقت رکھتا ہے کہ اپنے آپ پھیلے۔ آج اسلام جو اپنے آپ نہیں پھیل رہا ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں نے اپنی قومی سیاست سے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان نفرت اور کشیدگی کی فضا پیدا کر رکھی ہے ۔ مسلمان اگر اس قسم کی سیاست ترک کر دیں اور مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان نارمل فضا پیدا ہو جائے تو اس کے بعد خدا کا دین اپنے آپ پھیلنا شروع ہو جائے گا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
24 اکتوبر 1983
فرانس بیکن (Francis Bacon) کا قول ہے کہ جب تم اقدام کرو تو اس سے پہلے یہ سوچ لو کہ تم کیا کچھ کر سکتے ہو :
other sourceWords of another person or source
Before you attempt consider what you can perform.
اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کو قابل عمل دائرہ میں اقدام کرنا چاہئے ۔ نا قابل عمل دائرہ میں اقدام کرنا ناکامی کے خندق میں چھلانگ لگانا ہے۔ جو لوگ نا قابل عمل دائرہ میں اقدام کریں ، اور جب ناکام ہوں تو حالات کی شکایت لیکر بیٹھ جائیں۔ وہ در حقیقت دوسروں کی شکایت نہیں کرتے۔ بلکہ خود اپنی نادانی کا اعلان کر رہے ہیں۔
25 اکتوبر 1983
قرآن خدا کا کلام ہے۔ مگر قرآن براہ راست ہم کو خدا سے نہیں ملا ہے، بلکہ پیغمبر کے واسطہ سے ملا ہے۔ اسی طرح بہت سی حدیثیں ہیں جن کو حدیث قدسی کہا جاتا ہے۔ ان حدیثنوں میں بھی متکلم خدا ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف اس کے راوی ہیں۔ مگر یہ احادیث قدسی کبھی مصحف (قرآن ) میں داخل نہیں کی گئیں۔ قرآن کی تلاوت کرنا عبادت ہے۔ قرآن کو نماز میں پڑھا جاتا ہے۔ مگر حدیث قدسی کی نہ اس طرح تلاوت کی جاتی اور نہ اس کو نماز میں پڑھنا جائز ہے (ان القرآن متعبد بتلاوتہ فھو الذی تتعین القرأۃ بہ فی الصلاۃ و قرأتہ عبادۃ یثاب علیھا۔ والحدیث القدسی لیس متعبداً بتلاوتہ ولا تجزی القرأۃ بہ فی الصلاۃ)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام میں قرآن کی حفاظت کا کتنا زیادہ اہتمام کیا گیا ہے۔
26 اکتوبر 1983
خلیفہ ہارون رشید ایک روز باہر نکلے۔ انہوں نے سعید بن سلم کو دیکھا۔خلیفہ نے پوچھا کہ کون۔ انہوں نے کہا کہ سعید، اللہ آپ کو سعادت بخشے۔ خلیفہ نے دوبارہ پوچھا کس کا لڑکا۔ انہوں نے سلم کا لڑکا، اللہ آپ کو سلامت رکھے۔خلیفہ نے پھر پوچھا کہ کس کا باپ۔ انہوں نے کہا کہ عمرو کا باپ، اللہ آپ کی عمر دراز کرے۔ ہارون رشید نے کہا، اللہ تمہیں برکت دے۔ اور پھر اس نے ان کا اکرام کیا (خرج ھارون الرشید یوماً فرایٔ سعید بن سلم فقال من۔ قال سعید، اسعد لک اللہ۔ قال ابن من۔ قال ابن سلم، سلمک اللہ۔ قال ابو من۔ قال ابو عمرو، عمرک اللہ۔ فقال الرشید بارک اللہ علیک و اکرمہ)
بڑوں سے بات کرنے کا یہ بھی ایک طریقہ ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ مجھے اس قسم کی بات کرنا بالکل نہیں آتا۔ حتیٰ کہ بناوٹی طور پر بھی نہیں۔
27 اکتوبر 1983
دکتور مصطفیٰ السباعی کی ایک کتاب ہے جس کا نام ہے: عظماؤنا فی التاریخ( تاریخ میں ہمارے بڑے لوگ) اسی طرح اردو میں ایک کتاب چھپی تھی جس کا نام تھا : ناموران اسلام ۔ اس طرح کی اور بھی بہت سی کتابیں موجو دہ زمانہ میں مسلمانوں نے لکھی ہیں۔ مثلا العبقريات الاسلامية.وغيره .
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مگر مجھے اس قسم کے نام اور اس طرح کے ذہن کے تحت کتاب لکھنا بالکل پسند نہیں "بڑوں " سے مراد اگرصحابہ کرام اور صلحاء امت ہیں تو وہ ہمارے لئے نمونہ ہیں ۔ اگر انہیں "عظماء " کہا جائے تو اس سے ہیرو پرستی کا ذہن پیدا ہوتا ہے۔ اور اگر انھیں " قدوۃ " کہا جاۓ تو اس سے اتباع کا ذہن پیدا ہوگا۔ اول الذکر سے فخر کی نفسیات پیدا ہوتی ہے اور ثانی الذکر سے تواضع کی نفسیات۔
28 اکتوبر 1983
قدیم طرز کی توپ کو چلانے کا کام جو شخص کرتا تھا، اس کو " میر آتش" کہا جاتا تھا۔ اس زمانہ میں یہ کام زیادہ تر مسلمان کرتے تھے۔ مثلا چھترپتی شیواجی کے توپ خانہ کا میر آتش ابراہیم گردی تھا۔ رانی جھانسی لکشمی بائی کے میر آتش کا نام میرغوث تھا، وغیرہ ۔
روایتی دور میں مسلمان ہر میدان میں آگے تھے سائنسی دور میں وہ ہر میدان میں پیچھے ہو گئے۔
29 اکتوبر 1983
چارلس ڈکنس (Charles Dickens) کا قول ہے کہ ۔۔۔۔۔۔ خاموشی ایک ناقابل برداشت قسم کا پر زور جواب ہے :
other sourceWords of another person or source
Silence is the unbreakable repartee.
اگر کوئی آدمی آپ کے خلاف لغو باتیں کرے اور آپ جواب دینے کے بجائے خاموش ہو جائیں تو آپ خود اس آدمی کے ضمیر کو اس کا جواب دینے والا بنا دیتے ہیں ۔ اس کا ضمیر جاگ کر اس کو بتاتا ہے کہ تم ایک کمینہ صفت انسان ہو۔ یہ اندرونی جواب بلاشبہ تمام جوابوں سے زیادہ طاقت ور ہے ۔ انسان ہر دوسرے حملہ کے مقابلہ میں ٹھہرسکتا ہے، مگر اپنے ضمیر کے حملہ کے مقابلہ میں ٹھہرنے کی طاقت کسی کے اندر نہیں۔
30 اکتوبر 1983
سورہ ہود میں حضرت شعیب علیہ السلام کا تذکرہ ہے۔ بتایا گیا ہے کہ انھوں نے جب قوم کو توحید کی دعوت دی تو لوگ آپ کے سخت مخالف ہو گئے ۔ اس سلسلہ میں ان کا ایک قول ان الفاظ میں نقل کیا گیا ہے : وانا لنراك فينا ضعيفا (هود 91 ) یعنی ہم دیکھتے ہیں کہ تم ہمارے درمیان صرف ایک کمزور شخص ہو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس سلسلہ میں تفسیروں میں بعض سلف کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ حضرت شعیب نابینا تھے (کان شعیب ضرير البصر ، تفسیرابن کثیر) یہ تفسیرصحیح نہیں۔ اصل یہ ہے کہ پیغمبروں کی دعوت قوم کے مزاج کے خلاف ہوتی تھی۔ اس لئے پیغمبر اپنی قوم سے کٹ جاتا تھا ، وہ قوم کے درمیان اجنبی بن جاتا تھا۔ قوم کے درمیان ان کی کمزوری کا اصل سبب یہی تھا۔ یہ صورت حال ہر پیغمبر کے ساتھ پیش آئی ۔ حتی کہ خود پیغمبر اسلام کے ساتھ بھی مکہ میں ایسا ہی ہوا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
31 اکتوبر 1983
قدیم یونان کا ایک مشہور فلسفی ہے جس کا دیو جانس (Diogenes) ہے۔ اس کا زمانہ 333 – 412 ق م ہے۔ کہا جا تا ہے کہ سردی کے موسم میں وہ دھوپ میں زمین پر لیٹا ہوا تھا۔ شاہ الیگزینڈرخود اس کے پاس آیا۔ اس نے کہا کہ آپ کو جو مانگنا ہے مانگیں، اس کو پورا کیا جائے گا۔ دیو جانس نے شاہ کی طرف رحم بھری ہوئی نظروں سے دیکھا اور کہا: میں تم سے کیا مانگوں تمہارے پاس مجھے دینے کے لائق کوئی بھی چیز نہیں۔ جو کچھ تم دے سکتے ہو وہ مجھے چاہئے نہیں۔ بس تم میرے اتنی مہربانی کرو کے سامنے سے ہٹ جاؤ ، میری دھوپ نہ روکو۔
یافت آدمی کو بلند کرتی ہے ۔ دیو جانس کا احساس تھا کہ اس کی فکری یافت بادشاہ کے خزانوں سے زیادہ بڑی ہے۔ اسی احساس نے اس کے اندر وہ استغناء پیدا کیا جس کا ایک نمونہ اوپر کے واقعہ میں نظر آتاہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it