Maulana Wahiduddin Khan
28 min left
0:00

← Diary 1983-1984
Diary 1983-1984

September 1983

English · 28 min read

یکم ستمبر 1983

حدیث کی کتابوں میں بہت سی روایتیں بدعت کے خلاف آئی ہیں۔ ان کے مطابق ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دین میں نئی بات نکالنے کو شر اور ضلالت قرار دیا ہے اور اس سے اپنی برات کا اظہار فرمایا ہے۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں :من عمل عملا ليس عليه أمرنا فھو رد( جو شخص ایسا عمل کرے جو ہمارے عمل کے مطابق نہ ہو تو وہ قابل رد (rejected) ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

بدعت کے موضوع پر علماء نے بے شمار کتابیں اور مضامین شائع کئے ہیں۔ اور بدعت والی چیزوں پر سخت نکیر کی ہے ۔ مگر عام طور پر لوگ " بدعت “ کے نام سے صرف کچھ خاص چیزوں کو جانتے ہیں اور انھیں کے خلاف لکھتے اور بولتے رہتے ہیں ۔ مثلا قبروں پرگنبد بنانا ، جماعت کی صورت میں بیک آواز ذکر کرنا، یہ عقیدہ رکھنا کہ دنیا اپنی وفات کے بعد امور دنیا میں تصرف کرتے ہیں، یا یہ کہ ولی ، نبی سے افضل ہوتا ہے ۔ صرف اللہ کا لفظ پکارکر اللہ کا ذکر کرنا ، با جماعت نماز کے بعد خود اپنے دائیں بائیں ہاتھوں سے مصافحہ کرنا، وغیرہ ۔

مگر حقیقت یہ ہے کہ بدعت کی بہت سی اس سے بھی زیادہ بڑی بڑی قسمیں ہیں جن میں موجودہ مسلمان مبتلا ہیں۔ حتی کہ خود مجاہدین بدعت بھی ان میں ملوث ہیں ، مثلا گمراہ فرقوں یا غیر مسلموں سے سنجیدہ دعوت رسانی کے بجائے مناظرہ بازی کرنا، مدعو قوم سے اعراض کے بجائے جھگڑا کرنا ، مسلم حکمرانوں کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی مہم چلانا غیرہ ۔

اس قسم کے کام موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں بہت بڑے پیمانہ پر رائج ہیں ۔ حالاں کہ ان کاموں پر حدیث کے مذکورہ الفاظ صادق آتے ہیں ۔ یہ سب کام وہ ہیں جو رسول اوراصحاب رسول کے عمل کے مطابق نہیں۔ اس لئے وہ بدعت ہیں اور حدیث کے مطابق ہر بدعت قابل رد ہے۔

2 ستمبر 1983

تالمود میں ہے کہ سب سے بڑا ہیرو وہ ہے جو اپنے دشمن کو اپنا دوست بنا لے:

other sourceWords of another person or source

The greatest hero is he who makes his enemy his friend.

یہ وہی بات ہے جو قرآن میں ان لفظوں میں کہی گئی ہے کہ اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں ، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو ، پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی وہ ایسا ہوگیا جیسے کوئی قریبی دوست (حم السجده 34)

Qur'anQuotes the Qur'an

3 ستمبر 1983

قاضی محمد عدیل عباسی اپنی کتاب تحریک خلافت (مطبوعہ 1978) میں لکھتے ہیں کہ (1912 میں ترکوں نے صلیب احمر کے جواب میں ہلال احمرکمیٹی بنائی تھی۔ اس کی تقلید میں ہندستان کے ہرشہر میں بلال احمر کمیٹیاں قائم ہوگئیں۔ مولانا محمد علی جوہر نے کامریڈ میں جب وفد انصاری کے لئے چندہ کی اپیل کی تو مسلمانوں نے کس طرح لبیک کہا ، اسے میر محفوظ علی کی زبان میں سنیے جو مولانا محمد علی کے ساتھی اور کا مریڈ کے منیجرتھے ، وہ فرماتے ہیں : ” اپیل نے کامریڈ کے دفتر میں روپیوں کی بارش شروع کر دی ۔ کامریڈ کے فائل گواہ ہیں کہ ایک ایک دن میں دس دس ، پندرہ پندرہ ہزار روپے موصول ہوئے ہیں ۔ اور میں گواہ ہوں کہ منی آرڈر اور پارسلوں پر دستخط کرتے کرتے میرا ہاتھ شل ہوگیا ہے۔" صفحہ 34

quoted sourceQuoted from another author or source

مسلمانوں نے روپیہ کی بارش کر دی ، مگر خدا کی رحمت کی بارش نہیں ہوئی ۔ کیسی عجیب بات ہے یہ ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ خدا کا مطلوب کام نہ تھا۔ اگر کوئی قوم خدا کی مرضی کے لئے روپیوں کی بارش کرے تو ناممکن ہے کہ اس قوم پر خدا کی بارش نہ پھٹ پڑے۔

4 ستمبر 1983

مولانا عبید اللہ سندھی ، مولانا محمود حسن صاحب کے شاگرد خاص تھے ۔ وہ کل قرآن کو جہاد کی تشریح میں تبدیل کئے ہوئے تھے (صفحہ 45 ) قاضی محمد عدیل عباسی نے لکھا ہے کہ ” مورخ نجیب آبادی نے مجھ سے کہا کہ مولانا سندھی نے ان سے پوچھا کہ ایک لفظ میں بتاؤ کہ قرآن کی تعلیم کا منشا کیا ہے ۔ پھر خود ہی کہا کہ حکومت "تحریک خلافت (مطبوعہ 1978 ) صفحه 46

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہی اس زمانہ میں علماء دیوبند کا عام ذہن تھا۔ وہ سارے دین کو حکومت اور سیاسی جہاد کے ہم معنی سمجھے ہوئے تھے۔ مگر اس نظریہ کا ماخذ یقینی طور پر قرآن نہ تھا ، بلکہ وہ مخصوص سیاسی حالات تھے جن کے درمیان یہ علماء اپنے آپ کو پارہے تھے ۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ عربی زبان جاننا ، مدرسہ دینی کا سند یافتہ ہونا ، حتی کہ مخلص ہونا بھی قرآن فہمی کے لئے کافی نہیں ۔ قرآن فہمی کے لئے شرط لازم یہ ہے کہ آدمی حالات سے اوپرا ٹھ کر سوچ سکے ۔ اس کو خدا کی توفیق سے ارنا الاشیاء كما هی والی نگاه حاصل ہوگئی ہو ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

5 ستمبر 1983

” اونٹوں نے راگ چھیڑا ، گدھوں نے رقص کیا " یہ ایک مثل ہے جو پرانے زمانے کے ایک قصہ پرمبنی ہے ۔ یہ مثل موجودہ زمانہ کے مسلمانوں پر پورے طور پر صادق آتی ہے ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلم قائدین اونٹوں کی طرح بے معنی راگ چھیٹرتے رہے اور مسلم عوام اس کے اوپر گدھوں کی طرح بے معنی رقص کرتے رہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جان و مال کی بے حساب قربانیوں کے باوجود مسلمانوں کے حصہ میں کچھ نہ آیا۔ یہ الفاظ بلاشبہ بے حد سخت ہیں ۔ مگر میں کیا کروں کہ میرا مطالعہ مجھے جس نتیجہ پر پہنچاتا ہے وہ ہی ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

6 ستمبر 1983

ایک عربی مقولہ ہے: الاستقامة فوق الكرامة (استقامت کرامت سےبھی اوپر ہے) یعنی آدمی اگر استقلال کے ساتھ کام کرے تو وہ اس سے بھی زیادہ بڑی کامیابی حاصل کرے گا جو کوئی صاحب کرامت آدمی کرامت کے ذریہ حاصل کرسکتا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

7 ستمبر 1983

اموی خلیفہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے ایک بار حج ادا کیا۔ انھوں نے دیکھا کہ کچھ لوگ اپنی سواری تیز دوڑانے کی کوشش کر رہے ہیں اور ایک دوسرے سے آگے نکل جانا چاہتے ہیں۔ انھوں نے عرفہ کے خطبہ میں فرمایا :

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ليس السابق من سبق بعيرہ وفرسہ و لٰکن السابق من غفر لہ( جامع الاصول،الجزءالثالث،صفر249 )

hadithQuotes a hadith

آگے بڑھنے والاوہ نہیں جس کا اونٹ اور گھوڑے آگے بڑھ جائے۔ آگے بڑھنے والا وہ ہے جس کو بخش دیا جائے۔

یہی بات ہر عبادتی فعل پر صادق آتی ہے۔ مثلا مسجدوں میں لوگ نماز پڑھنے کے لئے آتے ہیں تو پچھلی صف کے نمازیوں کی گردنیں پھاندتے ہوئے اگلی صف میں پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالاںکہ اگلی صف کا ثواب اس شخص کے لئے ہے جو نماز کو اپنی زندگی میں سب سے آگے جگہ دے ، نہ کہ اس کے لئے جو کسی نہ کی طرح گھس کر اگلی صف میں اپنا مصلی بچھادے ۔

8 ستمبر 1983

مشہور جرمن فلسفی اسپینوزا ( 1677 - 1632) یہودی خاندان میں پیدا ہوا تاہم وہ بائیل بلکہ خود مذہب کا زبردست ناقد تھا۔ اس کو عام طور پر ملحد سمجھا جاتا ہے۔ مگر اس کی زندگی بتاتی ہے کہ دولت کی حرص اس کے اندر بالکل نہیں تھی۔ اس نے دولت حاصل کرنے کے کئی اعلی مواقع بے نیازانہ طور پر ٹھکرا دئے۔

وہ جرمن کے علاوہ لاتینی ، یونانی اور انگریزی زبان جانتا تھا۔ ایک یونیورسٹی میں اس کو فلسفہ کے استاد کی جگہ کی پیشکش کی گئی۔ اس نے یہ کہہ کر اس کو قبول کرنے سے انکار کر دیا کہ فلسفہ کوئی بیچنے کی چیز نہیں :

Philosophy is not for sale.

حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کی بے نیازی کا تعلق لازمی طور پر "تقویٰ" سے نہیں ہے۔ وہ ایسے افراد میں بھی پائی جا سکتی ہے جن کا تعلق نہ تقویٰ سے ہو اور نہ خدا پرستی سے۔

9 ستمبر 1983

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ پہنچے تو آپ نے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ گنتی کرکے مجھے بتاؤ کہ کلمہ اسلام کا اقرار کرنے والے لوگ یہاں کتنے ہیں ۔ چنانچہ گنتی کی گئی تو کل ایک ہزار پانچ سو افراد تھے (قال صلى الله عليه وسلم بعد الهجرة : أحصوالى عدد من يلفظ بالاسلام فاحصواله. فكانواالفأ وخمس ماة،رواه البخاری ومسلم)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا۔ مگرموجودہ زمانہ کے مسلمان جو رسول کے نام پر اپنی تحریکیں چلاتے ہیں ، ان کے یہاں اس قسم کی کوئی کوشش نہیں پائی جاتی ۔ حتی کہ اگر کوئی شخص اس قسم کی معلومات جمع کرے تو اس کو دنیا دارانہ عمل سمجھا جائے گا ۔ مثلا ہندستان کے علماء نے کبھی نہیں کیا کہ وہ ملک کے مدرسوں اور مسجدوں کی تعداد کا پتہ لگائیں۔ ہندستان کا ہرمسلمان فساد کے مسئلہ پر بولتا ہے ، مگر پچھلی نصف صدی میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ فسادات کی باقاعدہ فہرست بنائی جائے۔ مسلمانوں کی دینی ، تعلیمی ، اقتصادی اور معاشرتی حالت پر ہر آدمی رائے زنی کر رہا ہے ۔ مگر کسی نے بھی باقاعدہ جائزہ لے کر اس سلسلہ کے اعداد و شمار جمع نہیں کئے ، وغیرہ ۔

10 ستمبر 1983

حدیث میں لایعنی (بے فائدہ) کلام سے روکا گیا ہے۔ بے فائدہ کلام کیا ہے، مختلف لوگوں نے اپنے اپنے الفاظ میں اس کی تشریح کی ہے ۔ امام غزالی کا قول ہے کہ بے فائدہ کلام وہ ہے کہ اگر تم چپ رہو تو تمہیں اس کی وجہ سے کوئی گناہ نہ ہو (وحد الكلام فيما لا يعنيك ان تتكلم بكلام لوسكت عنه لم تاثم)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

11 ستمبر 1983

ایک اہل حدیث عالم کا مضمون پڑھا۔ انھوں نے لکھا ہے کہ " احا دیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ نماز خواہ سری ہو یا جہری ۔ امام ہو یا مقتدی ، ہر ایک کے لئے رکوع سے قبل قیام میں سورہ فاتحہ پڑھنا فرض ہے ۔ اس کے بغیر نماز نہیں ہوگی۔ انھوں نے اختلاف کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا ہے کہ انہیں چاہئے کہ اپنی نمازیں صحیح کر لیں۔ ایسا نہ ہو کہ حشر کے دن ان کے نامہ اعمال نماز سے خالی ہوں ۔ جو زندگی بھر حق ظاہر ہو جانے کے بعد جہری نمازوں میں امام کے پیچھے سورہ فاتحہ کی فرضیت سے انکار کرکے اس کو ترک کرتے رہے۔"

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

انھوں نے اپنی دلیل میں وہ احادیث پیش کی ہے جو امام بخاری نے عبادہ بن صامت سے نقل کیا ہے : لا صلوة لمن لم يقرأ بفاتحة الكتاب. مگرقرین قیاس یہ ہے کہ اس طرح کی روایتوں کا تعلق عموم سے ہے نہ کہ استثناء سے۔ قرآن میں ہے کہ جب قرآن پڑھا جائے تو سنو اور چپ رہو۔ حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ من کان لہ امام فقرة الامام قراۃ لہ( جس شخص نے امام کے پیچھے نماز پڑھی تو امام کی قرات اس کے لئے کافی ہے) اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جہری نماز یا سری نماز میں فاتحہ پڑھنا ضروری ہے ، مگر جب امام آواز سے قرات کر رہا ہو تو اس کی قرات مقتدی کے لئے کافی ہو جائے گی۔ البتہ عشاء کی نماز میں ابتدائی دو رکعتوں میں امام کی قرات مقتدی کے لئے کافی ہے۔ اور بعد کی دو رکعتوں میں مقتدی کو فاتحہ پڑھنا چاہئے ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

امام مسلم نے ابو ہریرہ سے روایت کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے نماز ادا کی اور اس میں سورہ فاتحہ کی قرات کی تو اس کی نماز ناقص ہے ، پوری نہیں۔ آپ نے تین بار فرمایا۔ ابو ہریرہ سے پوچھا گیا کہ جب ہم امام کے پیچھےہوں۔ ابو ہریرہ نے کہا : اقرا بھا فی نفسك ۔ مذکورہ اہل حدیث عالم نے اس کا ترجمہ کیا ہے کہ آہستہ آواز سے پڑھ لیا کرو۔

quoted sourceQuoted from another author or source

یہ ترجمہ صحیح نہیں ۔ ان الفاظ کا صحیح ترجمہ یہ ہوگا اسے جی میں پڑھ لو۔ غالبا اقرا بها في نفسك سے مراد معنوی قرات ہے ۔ امام کی قرات کے وقت اگر مقتدی اس کی پوری طرح سماعت کرے تو عملا یہ ہوگا کہ جس وقت امام لفظی قرات کر رہا ہو گا ، مقتدی اس کی معنوی ادائگی کر رہا ہوگا۔ اور غالبا اس فقرہ سے یہی مراد ہے۔

12 ستمبر 1983

اسلامی فقہ میں پانی کی طہارت کے بارہ میں جومسائل ہیں ، ان میں سے ایک مسئلہ یہ ہے کہ آدمی کا جھوٹا پاک ہے( سور الآدمی طاھر)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ نہیں کہا گیا کہ سور المومن طاھر( مومن کا جھوٹا پاک ہے) بلکہ یہ کہا گیا کہ آدمی کا جھوٹا پاک ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام کی تعلیمات میں کس قدر وسعت اور آفاقیت ہے۔ اس فقہی مسئلہ کے مطابق، اگر کسی مسلم شخص نے پانی جھوٹا کر دیا ہے تو اس کا جھوٹا پانی ناپاک نہیں ہوا۔ اس کو پیا جا سکتا ہے اور اس سے وضو کیا جا سکتا ہے۔ اس معاملہ میں صرف ایک شرط ہے۔ وہ یہ کہ مذکورہ غیر مسلم نے پانی پینے سے فورا پہلے کوئی حرام چیز نہ کھائی ہو۔ تاہم اس شرط کا تعلق صرف غیر مسلم سے نہیں، اس کا تعلق خود مسلمان سے بھی ہے۔

اب اس سے معلوم ہوا کہ مذکورہ مسئلہ میں پانی کو دیکھا جائے گا نہ کہ پانی پینے والے کو۔ اسلام کی تمام تعلیمات اسی طرح حقیقت پسندی پر مبنی ہے۔

13 ستمبر 1983

بیسویں صدی مسلم تحریکوں کی صدی ہے، اسی کے ساتھ مسلم ناکامی کی صدی بھی۔ بے شمار ہنگامہ آرائی کے باوجود، اس صدی میں مسلمانوں کا کوئی ایک مسئلہ بھی حل نہیں ہوا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے صحیح ڈھنگ پر کوئی کام ہی نہیں کیا۔ اس مدت میں مسلم رہنماؤں نے جو کچھ کیا، اس کو چند قسموں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

شاعرانہ خیال آرائی

خطیبانہ اشتعال انگیزی

سیاسی دادا گیری

مگر یہ سب مسائل کو بڑھانے والی چیزیں ہیں، نہ کہ مسائل کو حل کرنے والی چیزیں۔ مسائل ہمیشہ حکیمانہ تدبیر سے حل ہوتے ہیں، نہ کہ مذکورہ قسم کی ہنگامہ آرائی سے۔

14 ستمبر 1983

علامہ السیوطی (849-911ھ) اور علامہ السخاوی (813-902ھ) دونوں علماء امت میں اونچا مقام رکھتے ہیں۔ علامہ سیوطی کی تصنیفات ہر موضوع پر ہیں۔ ان کی تعداد بعض لوگوں نے تقریباً چھ سو تک بتائی ہے۔ انہوں نے طالب علم کے لیے مصر کے علاوہ شام، حجاز، یمن، ہندستان، مغرب اور دوسرے ملکوں کا سفر کیا۔ ان کے اساتذہ کی تعداد 151 تک شمار کی گئی ہے۔

علامہ سخاوی نے علامہ سیوطی کی بابت لکھا ہے کہ ان کی مؤلفات کی تعداد اتنی زیادہ اس لیے ہے کہ وہ دوسروں کی کتابوں کو اپنے نام کے ساتھ منسوب کر لیتے تھے۔ان کی مؤلفات میں بہت سی کتابیں ان کے شیوخ (اساتذہ) کی ہیں جن پر انہوں نے بحیثیت مولٔف اپنا نام لکھ دیا۔ اسی طرح انہوں نے کتب خانوں سے کتابیں لیں۔ ان میں معمولی تبدیلی کی۔ مثلاً آگے کی بحث کو پیچھے اور پیچھے کی بحث کو آگے کر دیا اور اس کو اپنے نام کے ساتھ منسوب کر لیا (السخاوی، الضوء اللامع)۔

other sourceWords of another person or source

ضروری نہیں کہ علامہ سخاوی کی یہ بات صحیح ہو۔ مگر اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جن شخصیتوں کو لوگ آج انتہائی احترام کے ساتھ ذکر کرتے ہیں، ان کے بارے میں کہنے والے کیاکیا باتیں کہتے رہے ہیں۔ اس قسم کے الزامات سے شاید تاریخ اسلام کی کوئی شخصیت بری نہیں۔

15 ستمبر 1983

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تین عمل آدمی کے اوپر بہت سخت ہے۔ ہر حال میں اللہ کا ذکر کرنا، بھائیوں کی اپنے مال سے مدد کرنا، اور اپنے معاملے میں لوگوں کے ساتھ انصاف کرنا (قال علی کرم اللہ وجھہ اشد الاعمال ثلاثۃ:ذکر اللہ علی کل حال، و مواساۃ الاخوان بالمال، و انصاف الناس من نفسک)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

16 ستمبر 1983

فقہاء نے مصلحت شرعی کی دو قسمیں قرار دی ہیں —مصالح معتبرہ، اور مصالح ملغاۃ۔ مصالح معتبرہ سے مراد وہ مصلحت ہے جس کا شریعت نے اعتبار کیا ہو۔ اور مصالح ملغاۃ سے مراد وہ مصلحت ہے جس کو شریعت نے لغو قرار دیا ہو۔

جان کی حفاظت کے لیے شریعت نے قصاص کا حکم دیا ہے۔ اسی طرح مال کی حفاظت کے لیے سرقہ کی حد مقرر کی ہے۔ یہ مصالح معتبرہ کی مثالیں ہیں۔ حضرت عمر نے تقسیم وظائف کے لیے رجسٹر بنانے کا حکم دیا جو پہلے نہ تھا۔ یہ استنباطی طور پر مصالح معتبرہ میں شمار کیا جائے گا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میراث میں قرآن نے یہ قاعدہ مقرر کیا ہے کہ مرد کو عورت سے دگنا حصہ دیا جائے (النساء 11)۔ اب اگر کوئی شخص بطور خود کوئی وجہ بتا کر یہ کہے کہ مرد اور عورت دونوں کو برابر کا حصہ ملنا چاہیے تو یہ ایک لغو مصلحت ہوگی، جس کا اعتبار کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ مصالح ملغاۃ کی مثال ہے۔ اسی طرح ہر معاملہ میں کوئی مصلحت قابل اعتبار ہوتی ہے اور کوئی مصلحت ناقابل اعتبار۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

17 ستمبر 1983

علماء اور بزرگوں کے بارہ میں بہت سے ایسے قصے کتابوں میں لکھے ہوئے ہیں جو مجھے فرضی اور بناوٹی معلوم ہوتے ہیں ، کیوں کہ وہ فطرت کے خلاف ہیں مثلا کہا جاتا ہے کہ سلطان غوری نے ایک بار علامہ سیوطی کے پاس ایک ہزار دینار کی تھیلی بھیجی۔ انھوں نے اس کو لوٹا دیا اور بادشاہ کے فرستادہ سے کہا کہ ہمارے پاس پھر کبھی کوئی ہدیہ مت لانا ۔ کیوں کہ اللہ نے ہم کو اس قسم کی چیزوں سے بے نیاز کر دیاہے (فرد الدنانير وقال لرسول السلطان لاتعد تأثينا قط بهدية فان الله أغنانا عن مثل ذالك)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ واقعہ علامہ سیوطی کے زہد و تقوی کے ثبوت میں پیش کیا جاتا ہے ۔ مگر زہد تقویٰ آدمی کے اندر تواضع پیدا کرتا ہے ، جب کہ اس واقعہ میں مجھے کبر کا شائبہ دکھائی دیتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہدایا آتے تھے، مگر کبھی آپ نے کسی صاحب ہدیہ سے مذکورہ قسم کا معاملہ نہیں فرمایا۔ زہد و تقویٰ وہی ہے جس کا نمونہ سنت رسول میں موجود ہو ، جو نمونہ سنت رسول میں موجود نہ ہو ، وہ کچھ اور تو ہوسکتا ہے مگر وہ زہد و تقوی نہیں ہو سکتا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

18 ستمبر 1983

خوارج کے فرقہ ضالہ ہونے پر تمام علماء کا اتفاق ہے، مگر عجیب بات ہے کہ وہ اپنی تمام تر گمراہی کے با وجود نہایت صاحب کردار لوگ تھے۔ امام ابن تیمیہ نے ان کے بارہ میں لکھا ہے کہ خوارج دین سے نکل جانے کے باوجود لوگوں میں سب سے زیادہ سچے ہیں ، یہاں تک کہ کہا گیا ہے کہ ان کی حدیثیں سب سے زیادہ صحیح حدیثیں ہیں (الخوارج مع مروقهم من الدين فهم اصدق الناس حتى قيل ان حـديثهم أصح الحديث، منهاج الاعتدال )

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قدیم زمانہ میں تمام گمراہ افراد اور گمراہ فرقوں نے اپنی اپنی تائید میں حدیثیں گھڑیں۔ مگر خوارج سے غالبا کوئی بھی موضوع حدیث ثابت نہیں ۔ علماء میں سے کسی نے ان پر وضع حدیث کا الزام نہیں لگایا ہے۔ البتہ بعض افراد مثلا ابن ا ہہیعہ نے ان کو حدیث وضع کرنے والوں میں شمار کیا ہے۔اس سلسلہ میں ان کی دلیل یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک خارجی عالم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ یہ حدیثیں دین ہیں۔ پس تم خوب دیکھ لیا کرو کہ تم کس سے اپنا دین لے رہے ہو ۔ کیوں کہ ہم جب کسی چیز کے خواہشمند ہوتے ہیں تو اس کو حدیث کی صورت دے دیتے ہیں ( ان هذه الاحاديث دين فانظروا عمن تأخذون دينكم فانا كنا اذا هوينا امرا صبرناہ حديثاً )

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

تاہم محض اس واقعہ سے ابن اہیعہ کا دعوی ثابت نہیں ہوتا ۔ کیوں کرخارجی عالم کے اس قول میں " ہم " سے مراد عام مسلمان ہیں نہ کہ خارجی فرقہ ۔

19 ستمبر 1983

ایک حدیث ہے کہ الايمان قول وعمل يزيد وينقص ومن قال غيرذالك فھو مبتدع (ایمان قول اور عمل ہے۔ وہ بڑھتا ہے اور گھٹتا ہے اور جو شخص اس کے علاوہ کہے تو وہ بدعتی ہے) ، دوسری حدیث ہے کہ من زعم الایمان يزيد وينقص فزيادته نفاق ونقصانه کفرفان قالوا فاضربوا أعناقهم بالسيف (جس شخص نے یہ خیال کیا کہ ایمان بڑھتا ہے اور گھٹتاہے تو اس کا زیادہ ہونا نفاق ہے اور اس کا کم ہونا کفر ہے ۔ ایسا شخص توبہ کرے تو ٹھیک ہے ورنہ تلوار سے اس کی گردن ماردو )

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ایک عام آدمی ان دونوں اقوال کو پڑھے تو وہ حیرانی میں پڑ جائے گا ۔ کیوں کہ دونوں میں تضاد ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ موضوع فقرے ہیں، وہ حدیث رسول نہیں ہیں۔ عباسی دور میں مسلمانوں کے اندر جو بحثیں پیدا ہوئیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ ایمان یکساں حالت میں رہتا ہے یا زیادہ اور کم ہوتا ہے۔ اس بحث میں دو فریق بن گئے اور دونوں نے اپنے اپنے حق میں فرضی حدیثیں گھڑیں۔ مذکورہ دونوں حدیثوں میں اول الذکر احمد بن محمد بن حرب کی گھڑی ہوئی ہے اور ثانی الذکر محمد بن قاسم الطایکنی کی گھڑی ہوئی ۔

20 ستمبر 1983

شعور کی مختلف سطحیں ہیں۔ اگر ایک شخص شعور کے اعتبار سے مادی سطح پر ہو تو وہ غیر مادی (روحانی) حقیقتوں کا ادراک نہیں کرسکتا۔ مثلا ایک مستشرق نے پیغمبر اسلام کے بارہ میں ایک کتاب لکھی ہے۔ غار حرا کا تذکرہ کرتے ہوئے اس نے لکھا ہے کہ محمد جو دعوئے نبوت سے پہلے غار حرا میں جاتے تھے، اس کا مقصد تحنث (عبادت) نہیں ہوتا تھا، جیسا کہ مسلمان عام طور پر سمجھتے ہیں۔ اس کا مقصد گرمیاں گزارنا ہوتا تھا۔ مکہ کے دولت مند مکہ کی گرمی سے بچنے کے لیے موسم گرما میں طائف جایا کرتے تھے۔ محمد اپنے افلاس کی وجہ سے ایسا نہیں کر سکتے تھے، اس لیے وہ حرا کے غار میں چلے جاتے تھے، تاکہ وہاں گرمیاں گزار سکیں (ان اغنیاء مکۃ کانوا یذھبون الی الطائف حربا من حرھا اما ھو فلم یکن فی وسعۃ مجاراتھم لفقرہ۔ ولذالک کان یذھب الی غار حراء لیصطاف)۔ میں نے اصل کتاب نہیں دیکھی ہے۔ البتہ عربی ترجمہ میں اس کے الفاظ یہی ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

آدمی کے شعور کا ارتقاء جس سطح کا ہوگا، اسی سطح کے حقائق اس کی گرفت میں آئیں گے۔

21 ستمبر 1983

حج کے ارکان حنابلہ کے نزدیک چار ہیں: الاحرام، والوقوف بعرفۃ، وطواف الافاضۃ، و السعی بین الصفا و المروۃ۔ شافعیہ کے نزدیک حج کے ارکان پانچ ہیں۔ چار مندرجہ بالا اور پانچواں : الحلق التقصیر۔ احناف کے نزدیک حج کے ارکان صرف دو ہیں: الوقوف بعرفۃ، و معظم طواف الافاضۃ۔

other sourceWords of another person or source

یہ تو صرف بڑے اختلاف کی مثال ہے۔ ورنہ حج کی تفصیلات ( اور اسی طرح دوسری عبادتوں کی تفصیلات) میں بے شمار اختلافات ہیں جن کی گنتی کرنا بھی مشکل ہے۔ میرے نزدیک یہ سب غیر ضروری ہے۔ مثلاً مذکورہ فرق کو لیجیے۔ فقہاء کے درمیان اگرچہ ارکان حج کی تعداد مقرر کرنے میں اختلاف ہے۔ تاہم اس میں سب متفق ہیں مذکورہ ارکان میں سے کسی ایک رکن کا ترک بھی مذکورہ باطل کر دیتاہے ( کلھم متفقون علی ان ترک رکن من ارکان الحج یبطل الحج)۔ جب حج کی صحیح ادائیگی کے لیے مذکورہ تمام ارکان پر عمل ضروری ہو تو پھر غیر ضروری فنی بحثیں نکال کر ان کی تعداد میں فرق کرنے کی کیا ضرورت۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

22 ستمبر 1983

جمہور فقہاء کی رائے ہے کہ جو شخص مر جائے اور اس پر حج فرض رہا ہو تو اس کے وارث پر واجب ہے کہ میت کی طرف سے حج کرے،خواہ مرے ہوئے شخص نے حج کی وصیت کی ہو یا وصیت نہ کی ہو۔ امام مالک کا قول ہے کہ میت کی طرف سے حج اس وقت ضروری ہے جب کہ اس نے وصیت کی ہو، ورنہ نہیں ۔ کیوں کہ حج ان کے نزدیک بدنی عبادت ہے۔ اس میں نیابت نہیں۔ (جمهور الفقهاء يرى ان من مات وعليه حجة الاسلام وجب على وليه ان يحج عنه وينهزمن يحج عنه مـنمـاله،سواءاوصىالميتبالحجاملميوص. وقالالامـاممـالكبحبالحـجعنالميتانكانتداوضىبـذالك. امااذالميومبـالجنـلايجبالحـجعنه.لانالحـجعـنـدهعبادةبـدنـيـة لاتقبل النيابة)

opposing viewA view stated in order to be argued against

اس مسئلہ کی بنیاد بخاری کی ایک روایت پر ہے جس میں ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تھا کہ میری ماں نے حج کی نذر کی تھی ۔ مگر وہ حج کے بغیر مر گئی۔ کیا میں اس کی طرف سے حج کروں۔ آپ نے فرمایا ہاں ۔ اس حدیث میں اس آدمی کا ذکر ہے جس نے حج کی نیت کر رکھی تھی ، مگر ادائگی سے پہلے اس کی وفات ہوگئی ۔ دوسری ایسی کوئی روایت نہیں جس میں میت کی طرف سے عمومی طور پر حج کی ادائگی کی ہدایت کی گئی ہو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میرے نزدیک اس معاملہ میں امام مالک کا مسلک صحیح ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ صرف مالی قرض ایک ایسی چیز ہے جس میں استثنائی طور پر یہ حکم ہے کہ میت کی طرف سے ہر حال میں اس کو ادا کیا جائے۔ عبادتی امور میں صرف نیت کا اعتبار کیا جائے گا ۔ ( بخاری کی مذکورہ روایت میں دین (قرض) کالفظ ہے مگر وہ مجازی معنی میں ہے نہ کہ حقیقی معنوں میں ۔ اس سے انسانی قرض پر قیاس نہیں کیا جاسکتا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

23 ستمبر 1983

عام طور پر تفسیر قرآن کی دو قسمیں سمجھی جاتی ہیں ۔ تفسیر بالماثور ، اور تفسیر بالرای۔ یعنی حدیث اور اثر سے قرآن کی تفسیر کرنا ، اور اپنی رائے سے تفسیر کرنا ، مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک غیر واضح تقسیم ہے۔ میرے نزدیک صحیح تقسیم دوسری ہے ، اور وہ مخلص اور غیر مخلص کی ہے ۔

آدمی اگر غیر مخلص ہو تو ایسا ہوسکتا ہے کہ بظاہر وہ تفسیر بالماثور پرعمل کرے مگر حقیقتہ وہ اپنی خواہش کی پیروی کر رہا ہو ۔ اس کے بر عکس ایک شخص اگر مخلص ہے ، وہ اللہ سے ڈرنے والا ہے۔ وہ قرآن پر اور اس کے سارے متعلقہ پہلوؤں پر غور کرتا ہے جن میں احادیث و آثاربھی لازما شامل ہیں ۔ اس کے بعد وہ دیانت دارانہ طور پر ایک رائے پر پہنچتا ہے۔ کسی شخص کو اس کی تفسیر بظاہر تفسیر بالرای نظر آسکتی ہے۔ مگرحقیقتہ وہ عین وہی چیز ہوگی جس کے لئے تفسیر بالماثور کی اصطلاح وضع کی گئی ہے۔

جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے ، میں عملا تفسیر بالماثور ہی پر عمل کرتا ہوں کسی آیت کی جو تفسیر سلف سے منقول ہے ، میں اسی کو اختیار کرتا ہوں ، تذکیر القرآن میں میں نے یہی کیا ہے۔ اس میں علماء سلف کی تفسیر کو اپنی زبان اور اسلوب میں بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

24 ستمبر 1983

عن ابي موسى الاشعری رضی الله عنه قال کنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فكنااذاأشـرفـاعـلىواجهتنا وكبرنا وارتفعت أصواتنا. فقال النبي صلى الله عليه وسـلم : باآنهاالنّاس،البعواعلىانفسكمنالكملاتدعونأمماوغائبانسكرانهســمتـرب

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حضرت ابو موسی اشعری کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے۔ جب ہم کسی وادی پر پہنچتے تو ہم لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر کہتے ، اور ہماری آوازیں بلند ہوگئیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے لوگو، اپنی جانوں کو آرام دو ۔ کیوں کہ تم کسی بہرے یا کسی غائب کو نہیں پکار رہے ہو ۔ وہ تو تمہارے ساتھ ہے ، وہ سننے والا ہے ، قریب ہے۔

quoted sourceQuoted from another author or source

موجودہ زمانہ کے مسلمان جس طرح لاؤڈ اسپیکر پر پرشور انداز میں اپنی مذہبی تقریبات کرتے ہیں ، اس کو سن کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے خدا کو واقعتہ وہی سمجھ لیا ہے جو پیغمبر اسلام نے فرمایا تھا۔

25 ستمبر 1983

قالوا: إذا اردت مصاحبة رجل فاغضبه فان ملك نفسه فصاحبه وإلا فلا تصاحبہ (کھاگیا ہے کہ اگر تم کسی کو اپنا ساتھی بنانا چا ہو تو اس کو غصہ دلاؤ ۔ اگر وہ اپنے آپ پر قابو رکھے تو اس کو ساتھی بناؤ ورنہ اس کو اپنا ساتھی نہ بناؤ)

other sourceWords of another person or source

کوئی شخص معمول کے حالات میں اچھا نظر آئے تو یہ اس کے اچھا ہونے کا کافی ثبوت نہیں ۔ اچھا آدمی حقیقتہ وہ ہے جو غصہ اور اشتعال کے وقت بھی اچھا آدمی ثابت ہو۔

26 ستمبر 1983

قرآن میں ہے کہ جنات اور انسان کو میں نے صرف اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں (الذاریات 56 )مجاہد کا قول ہے کہ میں نے ان کو صرف اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری معرفت حاصل کریں۔ ثعلبی نے کہا کہ یہ قول عمدہ ہے۔ کیوں کہ اگر وہ ان کو پیدا نہ کرتا تو اس کا وجود اور اس کی توحید پہچانی نہ جاتی (تـالمـعـاهـدومـاخـلقتهـمالاليعـرفـوني. قالالثعلبي : هذاقولحسن لانه لولم يخلقهم لمـاعـرفوجـودةوتـوحـيـده )

quoted sourceQuoted from another author or source

آیت کی یہ نہایت صحیح تشریح ہے ۔ جہاں تک میں نے سمجھا ہے، بندوں سے اصلا جو چیز مطلوب ہے وہ معرفت رب ہے۔ یعنی اللہ کے وجود کا زندہ ادراک، اس کو دیکھے بغیردیکھ لینا۔ اپنے آس پاس اس کی موجودگی(presence) کو محسوس کرنے لگنا۔

27 ستمبر 1983

علامہ اقبال نے لکھا ہے کہ " مسلمانوں کے تنزل کا انتہائی نقطہ 1799 تھا جب ترکوں کا بیڑہ غرق اور سلطان ٹیپو کو شہید کر دیا گیا۔ "

other sourceWords of another person or source

یہ بظاہر ایک سادہ سی بات ہے ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ صحیح نہیں ۔ اس کی غلطی یہ ہے کہ اس میں ترقی اور تنزل کو محض ایک سیاسی واقعہ سمجھ لیا گیا ہے ۔ اس تبصرہ کے مطابق اقتدار کا مطلب ترقی ہے ۔ اور اقتدار سے محرومی کا مطلب تنزل ۔

اسی غلط فکر کا یہ نتیجہ ہے کہ مسلمان 1799 سے لے کر اب تک اپنی ساری طاقت کسی نہ کسی اعتبار سے سیاسی تحریکوں میں لگاۓ ہوۓ ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ سیاست ہی کے میدان میں ان کی ترقی اور تنزل کا فیصلہ ہو گا ، اس لئے ساری توجہ سیاسی حیثیت حاصل کرنے پر لگاؤ ، اگر مسلمان یہ سمجھتے کہ ان کی ترقی اور تنزلی حقیقتہ دعوت سے وابستہ ہے تو وہ دعوت کے میدان میں اپنی قوت صرف کرتے۔

28 ستمبر 1983

ایک صاحب نے مشورہ دیا کہ آپ دوسروں پر تنقید کرنا چھوڑ دیں۔ اور صرف مثبت موضوعات پرلکھیں، مثلا مذہب اور جدید چیلینج وغیرہ ۔ اس کے بعد کسی کو آپ سے شکایت نہیں ہوگی۔ اور آپ کے قارئین اور ہمدردوں کا حلقہ بہت زیادہ بڑھ جائے گا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میں نے کہا کہ آپ یہ مشورہ اس لئے دے رہے ہیں کہ آپ نے ابھی تک ہمارے مقصد کو نہیں سمجھا۔ ہمارا مقصد Intellectual entertainment نہیں ۔ اور نہ تجارت کرنا ہمارا مقصد ہے۔یہ مشکل مشن ہم نے اس لئے نہیں کھڑا کیا ہے کہ کچھ لوگوں کے لئے ذہنی تفریح کا سامان فراہم کریں ۔ ہمارا اصل مقصد باطل کا پردہ پھاڑنا ہے۔ دین حق کے اوپر جو گرد پڑ گئی ہے اس کو اس سے ہٹانا ہے۔ تاکہ آدمی خدا کے دین کو اس کے اصلی روپ میں دیکھ سکے۔

اگر آپ ہمارے مشن کی اس نوعیت کو سامنے رکھیں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ موجودہ انداز ہی صحیح ترین انداز ہے۔ اس انداز میں تبدیلی خود مقصد میں تبدیلی کے ہم معنی ہوگی ۔

29 ستمبر 1983

بعض علما نے لکھا ہے کہ اس شخص کی تلاوت قرآن جائز نہیں جو تجوید کے ساتھ قرآن کی تلاوت نہ کرے۔ اس لئے کہ تجوید کے ساتھ تلاوت کرنا فرض ہے ، جب کہ قرآن کی تلاوت مطلقا نفل ہے۔ اس بنا پر فرض کو ترک کرنا نفل کی وجہ سے جائز نہیں ۔ لہذا مسلمان پر فرض ہے کہ وہ علم تجوید سیکھے۔ اس لئے کہ اللہ تعالی قرآن پاک میں خود فرماتا ہے: ورتل القرآن ترتيلا

quoted sourceQuoted from another author or source

مذکورہ مسئلہ کا قرآن کی اس آیت سے کوئی تعلق نہیں۔ ترتیل اور تجوید دونوں ہم معنی الفاظ نہیں ہیں ترتیل کے معنی ہیں ٹھہرٹھہر کر پڑھنا۔ اور تجوید کے معنی ہیں اصول قرات کے مطابق مخارج اور غناء کے ساتھ پڑھنا۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ تجوید نہ فرض ہے اور نہ نفل۔ وہ ایک فن ہے ۔ اس کو زیادہ سے زیادہ فن قرات کہا جا سکتا ہے نہ کہ واجب یا فرض۔

ترتیل حقیقتہ تدبر کی ظاہری صورت ہے۔ آدمی جب کسی عبارت کو اس کے معنی پر پورا دھیان دیتے ہوئے اور غور کرتے ہوئے پڑھے تو اس سے جو انداز قرات بنے گا اسی کا نام ترتیل ہے ۔ قرآن کی تلاوت کے سلسلہ میں اصل اہمیت کی چیز تدبر و تفکر ہے نہ کہ الفاظ کی حسن ادائگی ۔

30 ستمبر 1983

صحابہ اور تابعین کے زمانہ تک دین سادہ اور فطری حقیقت کا نام تھا ۔ اس کے بعد فنی بحث کا آغاز ہوا۔ اس نے دین میں بے شمار اختلافات پیدا کر دئے حتی کہ شریعت کا کوئی مسئلہ ایسا نہیں رہا جس میں علماء کے درمیان اختلاف نہ پایا جا تا ہو۔

" سنت " ایک ایسی چیز ہے جس پر دین کی بنیاد قائم ہے۔ بظا ہراس میں اختلاف نہیں ہونا چاہئے تھا۔ مگرفنی موشگافیوں نے اس میں بھی اختلاف پیدا کر دیا۔ مثلاً ایک سوال یہ قائم کیا گیا کہ سنت کیا ہے۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ سنت سے مراد صرف سنت رسول ہے۔ دوسرے لوگوں نے کہا کہ سنت میں سنت صحابہ بھی شامل ہے ۔ اس سے مراد دین میں چلا ہوا طریقہ ہے، خواہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر چلے ہوں یا آپ کے اصحاب اس پر چلے ہوں۔ امام شافعی نے کہا کہ نہیں ، سنت صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے، چاہے وہ آپ کا قول ہو یا آپ کا فعل ہو ۔ یہ اس لئے کہ امام شافعی تقلید صحابی کے قائل نہیں ہیں:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

السنة الطريقة المسـلـوكـةفيالدينالمسلوكةفيالدينسواءسـلهاالنبىصلىاللهعليهواصحـابه. وقالالشافعيالسنةهيطـريـةالنبيصلىاللهعليهوسلمعنقولهوفعلهفقطلانهلايرىتقليدالصحابي اوپرکی عبارت میں بریکٹ والا فقرہ علامہ حسام الدین ( م 644ھ) کی کتاب حسامی کا ہے۔ اور اس کے بعد کی تشریحی عبارت مولانا نظام الدین کیرانوی کی کتاب نظامی شرح حسامی سے ماخوذ ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

The realization of God is the essence of religion. Without maarifah, religion is reduced to a spiritless form.

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceQur'anQuotes the Qur'anquoted sourceQuoted from another author or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside ithadithQuotes a hadithoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itquoted sourceQuoted from another author or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itopposing viewA view stated in order to be argued againstoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itquoted sourceQuoted from another author or sourceother sourceWords of another person or sourcequoted sourceQuoted from another author or sourceother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itquoted sourceQuoted from another author or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it