← Diary 1983-1984Diary 1983-1984
August 1983
English · 28 min read
یکم اگست 1983
ایک مدرسہ کے جلسہ میں شرکت کا اتفاق ہوا۔ یہاں ایک "عرب" کی تقریر تھی۔ وہ سعودی شیخ کے لباس میں اسٹیج پر آئے اور عربی زبان میں تقریر شروع کی ۔ ساتھ ساتھ ایک صاحب ان کی عربی تقریر کا اردو ترجمہ کرتے جارہے تھے، لباس کے اعتبار سے وہ پورے عرب دکھائی دے رہے تھے۔ تاہم ان کا لہجہ عربوں جیسا نظر نہیں آتا تھا۔
تقریر کے بعد وہ ڈائس پر میرے قریب آکر بیٹھ گئے۔ انھوں نے عربی میں گفتگو شروع کی اور اس دوران میری بعض اردو کتابوں کا ذکر کیا ۔ میں نے پوچھا کہ یہ کتابیں تو اردو زبان میں ہیں ، پھر آپ کیوں کر ان سے واقف ہوئے ۔ اب انھوں نے اپنا مکھوٹا (mask) اتار دیا اورصاف اردو میں بولتے ہوئے کہا کہ میں تو ایک ہندستانی ہوں عرب میں میری تعلیم ہوئی ہے۔ منتظمین مدرسہ نے بعض عرب شیوخ کو دعوت نامے بھیجے تھے اور پوسٹروں میں اعلان کر دیا تھا کہ ان کے جلسہ میں عرب کے شیوخ آئیں گے۔ مگر اتفاق سے کوئی شیخ نہ آسکا۔ اب عوام کی بھیڑ کو مطمئن کرنے کے لئے یہ طے کیا گیا کہ میں عربی لباس کے ساتھ اسٹیج پر آؤں اور عربی میں تقریر کروں۔ اور میری تقریر کا اردو میں ترجمہ کر دیا جائے ۔
یہ اس مدرسہ کا حال ہے جہاں اتفاق سے عرب شیوخ نہ آسکے. مگر جہاں واقعۃ عرب شیوخ آتے ہیں وہاں کا حال بھی مزاج کے اعتبار سے مذکورہ مدرسے کچھ مختلف نہیں۔ اصل چیز ہے عرب شیخوں کے ذریعہ عوام کی بھیڑ جمع کرنا ، اور وہ دونوں جگہ یکساں طور پرموجود ہے۔
2 اگست 1983
ڈیڑھ سو سال پہلے جب عوام نے لوہے کی پٹری پر ریلوے ٹرین کو دوڑتے ہوئے دیکھا تو اس کا نام انھوں نے لوہے کا گھوڑا ( iron horse) رکھ دیا ۔ اسی طرح پچاس پہلے جب دیہات کے لوگوں نے فضا میں ہوائی جہاز کو اڑتے ہوئے دیکھا تو کہا کہ یہ لوہے کی چڑیا (Iron bird) ہے۔
آدمی اپنی معلوم چیز پر غیر معلوم چیزکو قیاس کرتا ہے۔ فرض کیجئے کہ لوگوں کو ٹرین کا اور ہوائی جہانہ کا پہلے سے علم ہوتا مگر وہ گھوڑے اور چڑیے سے بے خبر ہوتے ۔ اب اگرا چانک انھیں ایک گھوڑا دوڑتا ہوا دکھائی دیتا تو شاید وہ اس کو ” ریل گھوڑا کہتے ، اور اگر وہ اچانک ایک چڑیا فضا میں اڑتی ہوئی دیکھے تو وہ اس کو "جہازی چڑیا" کہنا پسند کرتے۔
یہی انسان کی اصل کمزوری ہے ۔ وہ ہمیشہ اپنی معلومات کے دائرہ میں رائے قائم کرتا ہے۔ اور چوں کہ انسان کی معلومات محدود ہیں ، اکثر وہ غلطیوں کا ارتکاب کرتا ہے۔ عام حالات میں انسان کو اس کے لئے معذور قرار دیا جا سکتا ہے۔ تاہم جب معاملہ کسی کے خلاف رائے قائم کرنے کا ہو تو اس کو حد درجہ محتاط ہونا چاہئے ۔ ورنہ عین ممکن ہے کہ ایک شخص جس نے صرف ایکسپلائٹیشن (Exploitation) کے ذریعہ کامیابی کا تجربہ کیا ہو، وہ دوسرے کو کامیاب ہوتے ہوئے دیکھ کر اس کو بھی ایکسپلائٹر (exploiter) سمجھ لے ۔ حالاں کہ عین ممکن ہے کہ اس نے جائز محنت کے ذریعہ کامیابی حاصل کی ہو۔ وہ ایک جاندار چیز کو لوہا سمجھ لے ، صرف اس لئے کہ اس کے پاس لوہے کے معیار کے سوا کوئی اور معیار موجود ہی نہ تھا جس پر وہ دوسرے کو قیاس کر سکے۔
3 اگست 1983
حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لوگ سوانٹوں کی طرح ہیں مشکل سے تم ان سو اونٹوں میں سے کوئی ایک اونٹ سواری کے قابل پاسکتے ہو (عن ابن عمر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : انماالناس کالابل المائة لاتكاد تجد فيها راحلة، متفق عليه،مشکوة ثالث،1473 )
hadithQuotes a hadith
دنیا میں بے شمار اونٹ ہیں، مگر صحیح معنوں میں کام کا اونٹ مشکل سے ملتا ہے۔ یہی معاملہ انسانوں کا بھی ہے۔ دنیا میں کروڑوں انسان ہیں، مگر ان کا تجربہ کیا جائے تومعلوم ہوگا حقیقی معنوں میں کام کا آدمی کوئی نہیں۔ اگر کسی کو ایک دو آدمی کام کے مل جائیں تو یقینا وہ بہت خوش قسمت ہے ۔ قرآن کے مطابق کام کا آدمی وہ ہے جس میں دوصفتیں ہوں ، قوت اور امانت ( القصص 26 ) مگر لوگوں کا حال یہ ہے کہ کسی شخص کے اندر اگر قوت ہے تو امانت نہیں ، اور اگر امانت ہے تو قوت نہیں۔اور اگر بالفرض کسی آدمی کے اندر دونوں صفتیں جمع ہوں تو اس کے اندر سرکشی کا مزاج پیدا ہو جاتا ہے جو اس کی تمام اعلی صلاحیتوں کو، کم ازکم اجتماعی کام کے لئے، بے فائدہ بنا دیا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
4 اگست 1983
"مومن کون ہے اورمنافق کون" اس سوال کے جواب میں میں نے ایک صاحب سے کہا: ایک ہے زندہ شعور کی سطح پر مسلمان ہونا ، دوسرا ہے بے حسی کی سطح پر مسلمان ہونا ۔ جوشخص زنده شعور کی سطح پر مسلمان ہو وہ مومن ہے، اور جو شخص بے حسی کی سطح پر مسلمان ہو وہ منافق ہے۔
5 اگست 1983
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر جنگ مدافعانہ جنگ تھی۔ آپ کی کوئی جنگ جارحانہ جنگ نہیں۔ حتی کہ بدر میں جب دونوں طرف کی فوجیں آمنے سامنے ایک میدان میں جمع ہوگئیں تب بھی آپ نے اپنے اصحاب کو حکم دیا کہ وہ حملہ کرنے میں پہل نہ کریں ۔ وہ اس وقت تک جنگ شروع نہ کریں جب تک فریق ثانی خود جنگ کا آغاز نہ کر دے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
موجودہ زمانہ میں جنگ کے مختلف پہلوؤں پر زبردست تحقیقات ہوئی ہیں ، ان تحقیقات سے آپ کی مذکورہ روش کی حربی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ موجودہ زمانہ میں مختلف جنگوں کے تجربات کو جمع کر کے ان کا مطالعہ کیا گیا۔ ان تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ دفاع کرنے والی افواج ( censung forces ) کے مقابلہ میں پیش قدمی کرنے والی افواج (Attacking forces ) کا جانی نقصان ہمیشہ زیادہ ہوتا ہے۔ یہ رسول اللہ کے طریق جنگ کی عصری تصدیق ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگی پالیسی کے دو خاص پہلو تھے۔ (1) دشمن کی سرگرمیوں سے مکمل طور پر باخبر رہتے ہوئے اپنی تیاری جاری رکھنا۔ (2) عملی طور پر صرف اس وقت لڑنا جب کہ دفاعی طور پر لڑنا بالکل آخری درجہ میں ضروری ہوگیا ہو۔ جنگ آپ کی پالیسی کا صرف اتفاقی جزء ہے ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
6 اگست 1983
تمام اہل علم مانتے ہیں کہ زمین نارنگی کی طرح گول ہے۔ مگر کسی شخص نے آج تک زمین کی گولائی کو پوری شکل میں نہیں دیکھا۔ جو لوگ راکٹ پر سوار ہو کر خلا میں گئے ، انھوں نے بھی زمین کی صرف آدھی گولائی کو دیکھا۔ زمین کی پوری گولائی کو بیک وقت وہ کبھی نہ دیکھ سکے۔ اس کی وجہ انسان کی محدودیت ہے۔ انسان اپنی محدودیت کی وجہ سے بیک وقت پورا علم حاصل نہیں کر پاتا۔
یہی معاملہ ہر چیز کے بارہ میں ہے ۔ انسان کا بیشتر علم استنباطی ہے نہ کہ حقیقی معنوں میں مشاہداتی۔ جرمنی کا مشہور سائنس داں ہینرنبرگ(Warner Heisenberg) 1901 میں پیدا ہوا ۔ 1976 میں اس کی وفات ہوئی ۔ 1932 میں اس کو فزکس کا نوبل انعام ملا۔ اس نے تحت ایٹمی مظہر( Sub Subatomic World) یا (Subatomic phenomenon) کا مطالعہ کیا۔ اس نے پایا کہ اگر ہم یہ جانیں کہ ایک الکٹران کدھر جا رہا ہے تو وہ اس وقت ہم یہ نہیں جان سکتے کہ وہ کہاں ہے ۔ اور اگر یہ جان لیں کہ وہ کہاں ہے تو ہم یہ نہیں جان سکتے کہ وہ کدھر جارہا ہے :
If we know where an electron is going, we do not know where it is, and if we know where it is, we do not know where it is going.
7 اگست 1983
امام مالک نے ایک بار لوگوں کے سامنے یہ مسئلہ بیان کہ ایک شخص اگر ظلما کسی شخص کی ایک انگلی توڑ دے تو اس کے بدلے اس کو دس اونٹ دیت میں دینا ہوگا۔ اور اگر کوئی شخص کسی کی پانچوں انگلیاں توڑ کر بیکار کر دے تو پچاس اونٹ دیت میں دینا ضروری ہو گا۔ سامعین میں سے ایک آدمی نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی پانچ انگلیوں کی قیمت پچاس اونٹوں کے برابرہے ، پھر تو چور کا ہاتھ جس میں اس کی پانچوں انگلیاں کاٹ دی جاتی ہیں، اس وقت کاٹا جانا چاہے جب کہ چور نے پچاس اونٹ کی مالیت کی چیز چرائی ہو۔ حالاں کہ مسئلہ کے مطابق ، اس کا ہاتھ صرف چار درہم میں کٹ جاتا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
امام مالک نے جواب دیا کہ چور نے چوری کا جرم کر کے اپنی انگلیوں کی قیمت گھٹا دی۔ اس کا ہاتھ جب تک امانت دار تھا وہ قیمتی تھا ، اور جب اس کے ہا تھ نے خیانت کا فعل کیا تو وہ حقیر ہوگیا ( ان اليد لما كانت امينة كانت ثمينة فاما خانت هانت)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
موجودہ مسلمان اس اصول کو مسائل فقہ میں جانتے ہیں مگر وہ اس اصول کو مسائل حیات میں نہیں جانتے۔ مثال کے طور پر ہندستان کا ایڈ منسٹریشن مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کرتا ہے تو وہ چیختے ہیں کہ ہمارے ساتھ برابر کا سلوک کیوں نہیں کیا جاتا مگر مذکورہ اصول کی روشنی میں ایسا ہونا بالکل فطری ہے۔
مسلمانوں نے 1947 سے پہلے اس ملک میں بٹوارہ کی سیاست چلائی ۔ انھوں نے کہا کہ ہم تم سے الگ ایک قوم ہیں۔ ہمارا حصہ بانٹ کر ہمیں دے دو۔ اس سیاست کے نتیجہ میں مسلمان اس ملک میں اپنی قیمت کم کرچکے ہیں۔ انھیں اس نادانی کی قیمت اس وقت تک دینی پڑے گی جب تک وہ کوئی ممتاز تعمیری عمل کر کے اپنی سابقہ تصویر کو بدل نہ ڈالیں ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
8 اگست 1983
جان اسٹوارٹ (John Stuart lill) کا قول ہے کہ بہت سی سچائیاں ایسی ہیں جن کی پوری معنویت اس وقت تک سمجھی نہیں جا سکتیں جب تک ذاتی تجربہ سے ان کا ادراک نہ ہو جائے :
other sourceWords of another person or source
There are many truths of which the full meaning cannot be realised until personal experience has brought it home.
اصل یہ ہے کہ بات صد فی صد لفظوں میں بیان نہیں کی جاسکتی لفظوں میں بیان کردہ بات کے ساتھ آدمی کو خود اپنی طرف سے کچھ شامل کرنا پڑتا ہے ، اسی وقت وہ اس کو پوری طرح سمجھ پاتا ہے۔ جس آدمی کے پاس اپنی طرف سے شامل کرنے کے لئے نہ ہو ، وہ کسی بات کو محض سنے ہوئے الفاظ کے ذریعہ سمجھ نہیں سکتا۔
9 اگست 1983
قرآن میں دعوت حق کا انکار کرنے والے مجرمین کے بارہ میں ارشاد ہو اہے کہ قیامت کے دن ان کے بارہ میں کہا جائے گا : (انهم كانوا اذا قیل لهم لا اله الا الله يستكبرون ويقولون ائنا لتاركوا آلهتنا الشاعر مجنون (الصافات36-35) جب ان سے کہا جاتا تھا کہ اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں تو وہ تکبر کرتے تھے اور کہتے تھے کہ کیا ہم ایک دیوانے شاعر کے کہنے سے اپنے آلہہ کو چھوڑ دیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
منکرین حق کا یہ تکبراللہ کے مقابلہ میں نہیں تھا، بلکہ داعی کے مقابلہ میں تھا۔ اپنے جن اکابر کے دین پر وہ اپنے آپ کو سجھتے تھے، وہ اکابر ان کو معاصر داعی کے مقابلہ میں زیادہ عظیم نظر آتے تھے۔ اس لئے انھوں نے داعی کو حقیر سمجھ کر اس کے پیغام کو ماننے سے انکار کر دیا۔
10 اگست 1983
آدمی کی نگاہ اگر نہ ملنے والی چیز پراٹکی ہوئی ہو تو وہ ملنے والی چیز کو دیکھنے میں بھی ناکام رہے گا۔ نہ ملنے والی چیز کے پیچھے دوڑنے میں وہ اس چیز کو بھی کھو دے گا جو اس کو یقینی طور پر مل رہی تھی یا مل سکتی تھی۔
11 اگست 1983
ہر آدمی اپنی ذات میں ایک " انسان " کا تجربہ کرتا ہے۔ یہی تجربہ خدا کے وجود پر یقین کرنے کے لئے کافی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان خدا کا آئینہ ہے، فرق یہ ہے کہ انسان کی ہستی محدود ہے اور خدا کی بستی لامحدود۔
انسان کیا ہے۔ انسان ایک صاحب ذہن مخلوق ہے۔ ذہن ہی کا دوسرا نام انسان ہے ۔ یہ دراصل ذہن ہے جو انسان کی طاقت کا سرچشمہ ہے۔ انسان کا ذہن محدود ہے ، اس لئے اس کی طاقت بھی محدود ہے، اگرذہن لامحدود ہو جائے تو طاقت بھی لامحدود ہو جائے گی۔ ہم اپنے تجربہ کی بنا پرمجبور ہیں کہ محدود ذہن کو مانیں۔ اور محدود ذہن کو مانتے ہی دوبارہ ہم مجبور ہوجاتے ہیں کہ "لا محدود ذہن " کے وجود کوتسلیم کریں۔ جزء کو ماننے کے بعد کل کو نہ ماننے کے لئے کوئی منطقی بنیاد باقی نہیں رہتی ۔ ایک آرٹسٹ کے آرٹ کو دیکھ کر یہ خیالات ذہن میں آئے۔
12 اگست 1983
حدیث میں آیا ہے ، من قرأ القرآن فاعربه كان له بكل حرف عشرون حسنة ومن قرا القرآن بغير اعراب كان له بكل حرف عشرحسنات ۔ جوشخص قرآن کواس کے اعراب کے ساتھ پڑھے تو اس کے لئے ہر حرف کے بدلے بیس نیکی ہوگی۔ اور جو شخص قرآن کو عراب کے بغیرپڑھے تو اس کے لئے ہر حرف کے بدلے دس نیکی ہوگی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ایک شخص جو عربی سے اور حدیث کی زبان سے بخوبی آشنا نہ ہو وہ حدیث میں اعراب کا مطلب معروف زبرزیر پیش لے لے گا۔ اور اس کے مطابق حدیث کے معنی بیان کرے گا۔ حالانکہ اعراب سے یہاں زبر زیر پیش مراد نہیں۔ زبر زیر پیش کا طریقہ تو رسول اللہ صلی الہ علیہ وسلم کے زمانہ میں موجود ہی نہ تھا۔
سیوطی نے الاتقان فی علوم القرآن میں لکھا ہے کہ قرآن کے اعراب سے مراد اس کے الفاظ کے معانی کی معرفت ہے اس سے نحوی اصطلاح والا اعراب مراد نہیں ( المراد باعرابه معرفة معاني الفاظه وليس المراد به الاعراب المصطلح عليه عند النحاۃ)
other sourceWords of another person or source
اسی طرح ایک اور حدیث ہے جس کے الفاظ یہ ہیں : اعربوا القرآن والتمسواغرائبه (قرآن کو سمجھ کر پڑھو اور اس کے مشکل الفاظ کی کھوج کرو )
hadithQuotes a hadith
13 اگست 1983
قرآن میں جنت کی تعمیر کے لئے بار بار دو الفاظ آۓ ہیں: لا خوف عليهم ولا هم يحزنون ( اہل جنت کو وہاں نہ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے) ۔
Qur'anQuotes the Qur'an
دنیا کی زندگی میں دو قسم کی ناخوشگواریاں آدمی کی زندگی کو بے لطف بنا دیتی ہیں۔ ایک خارجی اور دوسرے داخلی خارجی سے مراد وہ مسائل و مصائب ہیں جو دوسروں کی طرف سے سامنے آتے ہیں۔ اور داخلی سے مراد یہ ہے کہ آدمی اپنے عجز اور اپنی محدودیت کی وجہ سے بار بار دل شکستگی اور غم گینی کی کیفیت سے دوچار ہوتا ہے۔ جنت میں یہ دونوں چیزیں ختم ہو جائیں گی۔
دنیا میں امتحان کی بنا پر اچھے لوگوں کے ساتھ برے لوگ بھی شامل ہیں۔ یہاں پر ایک کو پوری آزادی حاصل ہے۔ جنت کی دنیا میں تمام برے لوگ دور پھینک دیے جائیں گے ۔ جنت کا ماحول صرف اچھے لوگوں کا ماحول ہوگا۔ دوسری طرف انسان کے عجز اور محدودیت کا خاتمہ ہو چکا ہو گا ، اس لئے اس کا امکان بھی ختم ہو جاۓ گا کہ آدمی اپنی کمیوں اور کوتاہیوں کی بنا پر غم واندوہ میں مبتلا ہو ۔
14 اگست 1983
اخـرج اواني دارد عن مسلم بن مخـراققـالتـلتلعـائشـةانرجـالايقرأاهـدهمالقرآنفيليلةمرةومرتيناوثلا،فقالتقـراراولـميقـرأواكنتالقـوممعرسولصلىاللهعـارسـالـيـاةفيقرأبالبقرةوآلعمرانوالنسـاء نـاديمريبآيةفيهااستبشارالادعـاورغب،ولابآية فيها تنوين الودعا واستعاذ
hadithQuotes a hadith
ابن ابی داؤد نے مسلم بن مخراق سے روایت کیا ہے کہ انھوں نے حضرت عائشہ سے کہا کہ کچھ لوگ قرآن کو اس طرح پڑھتے ہیں کہ وہ اس کو ایک رات میں ایک بار یا دو بار یا تین بارختم کرتے ہیں۔ حضرت عائشہ نے جواب دیا کہ انھوں نے پڑھا مگر انھوں نے نہیں پڑھا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ کے ساتھ رات کو کھڑی ہوتی تھی تو آپ سورہ بقرہ اور آل عمران اور نساء پڑھتے تھے، آپ جب بھی کسی آیت سے گزرتے جس میں بشارت ہو تو آپ دعا فرماتے اور اس میں رغبت ظاہرفرما تے ۔ اسی طرح آپ جب بھی کسی ایسی آیت سے گزرتے جس میں ڈرہو تو آپ دعا فرماتے اور اس سے پناہ مانگتے۔
other sourceWords of another person or source
15 اگست 1983
انسان کے بارہ میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک توجیہہ طلب حیوان ہے :
Man is an explanation seeking animal
یہ انسان کی سب سے بڑی خوبی ہے اور یہی انسان کی سب سے بڑی کمزوری بھی۔ کسی معاملہ کے بارہ میں انسان اس وقت مطمئن ہو جاتا ہے جب کہ وہ اس کی توجیہہ پائے۔ اب اگر آدمی معاملہ کی صحیح توجیہہ پا لے تو اس کا مطمئن ہونا صحیح بنیاد پر ہوگا۔ اور اگر اتفاق سے اس کو غلط توجیہ مل جائے تو وہ اسی غلط توجیہہ پر مطمئن ہو جائے گا۔ اور غلط توجیہہ پر مطمئن ہونا اس کو جہاں پہنچائے گا وہ بربادی کے سوا اور کچھ نہیں ۔
16 اگست 1983
ہجرت سے پہلے مدینہ کے لوگوں سے آپ کی ملاقات حج کے موسم میں ہوتی تھی۔ نبوت کے گیارھویں سال آپ قبائل عرب میں تبلیغ کے لئے منیٰ گئے۔ وہاں عقبہ کے قریب آپ کی ملاقات قبیلہ خزرج کے کچھ لوگوں سے ہوئی، یہ تقریبا آٹھ افراد تھے ۔ انھوں نے اسلام قبول کرایا۔ اس کے بعد آپ نے ان سے کہا کہ اگر میں مدینہ آ جاؤں تو کیا تم لوگ میری حمایت کروگے ۔ ابن سعد کی روایت کے مطابق انھوں نے جواب دیا : نحن مجتهدون الله ولرسوله ۔ ـنهفـاعـلـمأعـدامـاغـفـونوانماكانتوقعةبعـاتعـامالاول،يوممنايامنااقتلنافيهناستقدموغنكذالايكون لن اجتماعـنـدمـــاحـتىترجعإلىعشـاشـرينا. لعلاللهيمـلحذات بيننا. وموعدك الموسم العام المقبل.
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ہم اللہ اور اس کے رسول کے لئے پوری کوشش کریں گے۔ مگرہم، آپ جانئے کہ اس وقت آپس کی بغض وعداوت میں مبتلا ہیں۔ اور ابھی پچھلے سال ہمارے یہاں بعاث کی جنگ ہوئی ہے ۔ اگر آپ ایسی حالت میں مدینہ آتے ہیں تو ہم آپ پر جمع نہ ہوسکیں گے ۔ پس آپ ہمیں اپنے لوگوں کی طرف جانے دیجیے، شاید اللہ ہمارے باہمی معاملہ کو درست کر دے۔ اور آپ سے اگلے سال یہیں ملاقات کا وعدہ ہے۔
اس کے بعد دوسری بارنبوت کے بارہویں سال اور تیسری بار نبوت کے تیرھویں سال آپ کی ملاقات مومنین مدینہ سے ہوئی ۔ یہاں تک کہ آپ نے مکہ سے مدینہ کے لئے ہجرت فرمائی۔
مذکورہ روایت میں فان تقدم ونحن کذا لايكون لناعليك اجتماع کاجملہ بڑاعجیب ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ اصحاب رسول کتنے زیادہ باشعور لوگ تھے۔
17 اگست 1983
فوجی معاملات کے ایک مسلم ماہر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے حربی پہلو پر ایک کتاب شائع کی ہے۔ جنگ بدر کے سلسلہ میں وہ لکھتے ہیں کہ حضور نے ایک سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت لڑائی کے لئے بدر کا علاقہ چنا تھا ۔ اس طرح دشمنوں کی پیش قدمی کے لئے ریتیلے ٹیلے اور نرم زمین والا علاقہ چھوڑ دیا تھا۔ مقصد یہ تھا کہ دشمن کو نقل وحرکت میں دشواری کا سامنا کرنا پڑے اور چڑھائی پیش قدمی کرتے ہوئے وہ صاف نظر آئیں۔ حضور نے پہاڑوں کو اپنے بازو اور پشت پر رکھا اور پہل کاری دشمن پر چھوڑ دی۔ اس طرح حضور نے مشہور جنگی اصول (Ground of own choice) یعنی دشمن کو اپنی پسندیدہ زمین پر جنگ کرنے کے لئے مجبور کرنا عمدگی سے استعمال کیا ۔
other sourceWords of another person or source
یہ بات بذات خود صحیح ہے۔ مگر اپنی پسندیدہ زمین پر حریف کو لڑنے کے لئے مجبور کرنے کا اصول صرف جنگ تک محدود نہیں۔ وہ اس سے زیادہ وسیع ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ میں اس اصول کا استعمال صرف جزئی طور پر کیا۔ اس کا زیادہ بڑا استعمال آپ نے دعوت کے میدان میں کیا۔ حدیبیہ کی صلح اس کی مثال ہے جس کو اسلام کی فتح مبین اور فتح عظیم کہا گیا ہے۔ حدیبیہ کی صلح کے ذریعہ ہوا کہ آپ اپنے حریف کو جنگی مقابلہ کے میدان سے نکال کر دعوتی مقابلہ یا فکری ٹکراو کے میدان میں لائے ۔ اور فکر اور نظریہ کے معاملہ میں چوں کہ اسلام واضح طور پر برتر پوزیشن میں تھا ، اس لئے فریق ثانی کو یہاں زبردست شکست ہوئی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
18 اگست 1983
موجودہ دنیا میں ہرآدمی کو وہ تجربہ پیش آتا ہے جس کو کھوئے ہوئے مواقع (Missed opportunities) کہا جاتا ہے۔ یعنی ایک موقع آدمی کے سامنے آتا ہے۔ مستقبل کے اعتبار سے اس میں اس کے لئے زبردست فائدہ ہوتا ہے۔ مگر وہ بروقت اس کی اہمیت کو سمجھ نہیں پاتا۔ بعد کے حالات بتاتے ہیں کہ اس موقع کو استعمال نہ کرنا سخت نادانی تھی۔ اس کو استعمال کر کے میں بہت بڑا فائدہ حاصل کرسکتا تھا۔
عام آدمی کے لئے ایسا تجربہ صرف ناکامی کا تجربہ ہوتا ہے۔ مگرمومن کے لئے اس ناکامی میں بھی کامیابی کا ایک پہلو نکل آتا ہے وہ اپنے عجز کا تجربہ کر کے خدا کی قدرت کو دریافت کرتا ہے۔ وہ اس حقیقت کا ادراک کرتا ہے جس کو قرآن میں مختصر طور پر اس طرح کہا گیا ہے : قل لو اعلم الغيب لا ستكثرت۔غیرمومن کے لئے ایسا تجربہ صرف دل شکستگی کا سبب بنتا ہے۔ مگرمومن کو وہ خدا سے قریب کرتا ہے۔ اس طرح وہ اس کے لئے نئی قوت کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ ایسے تجربہ کے بعد وہ پکار اٹھتا ہے کہ خدایا، میں نے اپنی محدودعقل کی بنا پر جس چیز کو کھو دیا ، تو اپنی لامحدود قدرت کے ذریعہ مجھے اس چیز کا مالک بنادے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
شاید یہی مطلب ہے اس حدیث کا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن کا معاملہ عجیب ہے۔ اس کی ہر بات اس کے لئے خیر ہے۔ اور یہ مومن کے سوا کسی اور کو حاصل نہیں ۔ اگر اس کو نعمت ملتی ہے تو وہ شکر کرتا ہے اور وہ اس کے لئے خیر کا باعث ہوتا ہے۔ اور اگر اس کو مصیبت پڑتی ہے تو وہ صبر کرتا ہے تو وہ اس کے لئے خیر کا باعث ہوتا ہے عجبا لامرالمومن إن أمره كله خير. وليس ذالك لاحد الا لمؤمنإن أصابته سراء شكر فكان خيرا له وان اصابته ضراء صبر فكان خيراله ، روامسلم)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
19 اگست 1983
قرآن کی سورہ نمبر 74 (المدثر) میں پیغمبر اسلام کو انذار اور دعوت کا حکم دیا گیا ہے ، اس سلسلہ میں جو ضروری ہدایات دی گئی ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ تم ایسا نہ کرو کہ احسان کرکے اس کا بدلہ چاہو (ولا تمنن تستكثر)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس ہدایت کو حکم دعوت کے ذیل میں بیان کرنے کی ایک خاص حکمت ہے ۔ دعوت کے کام کو موثر طور پر انجام دینے کے لئے مدعو کا بے غرض ہونا ضروری ہے۔ داعی اور مدعو کے درمیان اگر طلب اور مانگ کی فضا پیدا ہوجائے تو دعوت کا کام انجام نہیں پاسکتا۔ دعوت یک طرفہ طور پرصرف دینے کا عمل ہے دعوت کے ساتھ لینے کا معاملہ شامل کرنا اس کو ہلاک کرنے کے ہم معنی ہے۔
اس معاملہ میں داعی کو اتنا زیادہ محتاط ہونا چاہئے کہ وہ مدعو کے ساتھ احسان کر کے بھی اس سے کسی بدلہ اور معاوضہ کا طالب نہ ہو ، اور احسان کے بغیر مدعو کے مقابلہ میں حقوق طلبی کی مہم چلانے کا تو کوئی سوال ہی نہیں۔
20 اگست 1983
بنجامن ڈزرائیلی (Benjamin Disraeli) کا قول ہے کہ عام قاعدہ کے مطابق زندگی میں سب سے زیادہ کامیاب شخص وہ ہے جو بہترین معلومات رکھتا ہو :
other sourceWords of another person or source
As a general rule, the most successful man in life is the mar who has the best information.
یہ بات نہایت درست ہے۔ زندگی کے عام معاملات میں بھی معلومات کی بےحد اہمیت ہے۔ اسی طرح دشمن کے مقابلہ میں کامیابی کے لئے اس سے واقفیت انتہائی ضروری ہے۔ معلومات میں اضافہ ہی کے لئے اسلام میں مشورہ کا طریقہ رکھا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں کسی شخص کے پاس جتنی زیادہ معلومات ہوگی ، اس کو اتنی ہی زیادہ کامیابی حاصل ہوگی۔
21 اگست 1983
اجتماعی زندگی میں کسی مقصد کو حاصل کرنے کے لئے جو عمل کیا جاتا ہے ، اس کی بہت سی قسمیں ہیں۔
مثلا:
سیاسی عمل (Political activism)
متشددانہ عمل (Violent activism)
غیر متشددانہ عمل (non-violent activism)
مگر اسلام کا عمل ان سب سے الگ ہے۔ اسلامی عمل کو ایک لفظ میں ۔۔۔ دعوتی عمل (da'wah activism) کہا جاسکتا ہے۔ اسلام میں اصلا دعوت کے راستہ سے عمل شروع کیا جاتا ہے پھروہ تدریج کے ساتھ بڑھتے ہوئے بقیہ شعبوں تک پہنچتا ہے۔
22 اگست 1983
انگریزی شاعر چاسر (chwuser) نے کہا تھا کہ جو چیز خود کچھ نہ ہو اس سے کچھ بھی برآمد نہیں ہوسکتا :
other sourceWords of another person or source
Nothing comes of nothing
مٹی لوہے کا کام نہیں کرسکتی۔ ایک مردہ لاش سے وہ چیزیں ظاہرنہیں ہوسکتیں جو زندہ انسان کی خصوصیت ہیں۔ اسی طرح جوقوم تنزل کا شکار ہو چکی ہو ، تاریخی عمل کے نتیجہ میں جس کی صلاحیتیں فنا ہو چکی ہوں، ایسی قوم سے ان اعمال اور ان سرگرمیوں کی امید نہیں کی جاسکتی جوصرف ایک تازہ دم گروہ سے متوقع ہوتی ہیں۔
23 اگست 1983
ایک حدیث ہے جس میں یہ الفاظ آئے ہیں کہ بعثت بالحنيفية السعـة يعنی میں سہل دین کے ساتھ بھیجا گیا ہوں۔ کوئی شخص صرف اتنا ہی پڑھے تو اس کو حدیث کے سمجھنے میں دقت پیش آسکتی ہے۔ کیوں کہ اس میں دین کو سہل بتایا گیا ہے ، جب کہ بہت سے پہلوؤں سے دین پرچلنا کوئی سہل کام نہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس سوال کا جواب اس وقت مل جاتا ہے جب کہ پوری حدیث کو دیکھا جائے۔ پوری حدیث اس طرح ہے:
قال صلى الله عليه وسلم : بعثت بالحنيفية اور السمحة ولم ابعث بالرهبانية الصعبة (المبسوط ، جلد 3، صفحہ 286)
hadithQuotes a hadith
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ میں فطری اور سہل دین کے ساتھ بھیجا گیا ہوں۔ میں رہبانیت جیسے سخت اعمال کے ساتھ نہیں بھیجا گیا۔
hadithQuotes a hadith
پوری روایت کو دیکھئے تو معلوم ہوگا کہ یہاں اسلام کے سہل ہونے کی جو بات کہی گئی ہے وہ مسیحی رہبانیت کے مقابلہ میں کہی گئی ہے نہ کہ مطلق طور پر۔ مسیحی رہبانیت میں غیر ضروری جسمانی مشقت کو معیار کمال سمجھ لیا گیا تھا ۔ اسلام نے اس قسم کے بے فائدہ تشدد کوختم کر دیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
24 اگست 1983
مشہورا مریکی فلم ایکٹرس میریلین مونرو (Marilyn Monroe) نے کہا تھا کہ مجھے دولت سے دلچسپی نہیں۔ مجھے صرف اس سے دلچسپی ہے کہ میں حیرت ناک بن جاؤں :
other sourceWords of another person or source
I am not interested in money. I just want to be wonderful.
یہی اکثر لیڈروں کا حال ہے ۔ان کے لئے پیسہ کی اہمیت نہیں، ان کے نزدیک اہمیت کی بات یہ ہے کہ انھیں عزت اور مقبولیت حاصل ہو ۔ وہ لوگوں کی نظر میں غیر معمولی دکھائی دینے لگیں۔ پیسہ کے معاملہ میں قائد کا استغناء کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ قائد کے استغناء کو جانچنے کا میدان یہ ہے کہ وہ عزت اور ناموری حاصل کرنے والے مواقع پراستغناء کا ثبوت دے۔
25 اگست 1983
فرانسس سلیس (St. Francis De Sales) نے کہا ہے کہ شہد کی مکھیاں انتہائی میٹھا شہد ٹمی کے پھولوں سے بناتی ہے جو کہ ایک چھوٹا اور نہایت کڑوا پودا ہے:
other sourceWords of another person or source
Bees make the sweatest honey from the flowers of the thyme a small and bitter herb.
قرآن میں ہے کہ شہد کی مکھی حکم خداوندی کے تحت کام کرتی ہے (النحل : 68) اس کا مطلب یہ ہے شہد کی مکھی جو کچھ کرتی ہے وہ عین خدائی منشا کے مطابق ہے ۔ وہ گویا خدا کا قائم کرده ایک نمونہ ہے۔ یہ چیز بتاتی ہے کہ خدا کی مرضی اپنے بندوں سے یہ ہے کہ وہ کڑوی چیزوں سے میٹھا مادہ نکالیں ۔ وہ کڑوا پن کو مٹھاس سے بدل دیں۔ اب جو لوگ دوسروں کے کڑوا پن پر احتجاج کریں، وہ گویا خود خدا کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ بالفاظ دیگر، وہ کہہ رہے ہیں کہ ہم خدا کے تخلیقی نظام پر راضی نہیں۔ ہمیں اس کے بجائے دوسری دنیا چاہئے جہاں مٹھاس سے مٹھاس کو نکالنا ہو۔ کڑوا پن سے مٹھاس نکالنے والی دنیا ہمیں منظور نہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
26 اگست 1983
ایک صاحب نے کہا کہ ہندستان میں صوفیا کا بہت بڑا کارنامہ ہے ۔ انھوں نے اس ملک میں تبلیغی کام کیا۔ انھیں کی تبلیغ سے آج مسلمانوں کی اتنی زیادہ تعداد ہندستان میں نظر آتی ہے۔ میں نے نے کہا کہ صوفیا کا اصل کارنامہ یہ نہیں ہے کہ انھوں نے تبلیغی کام کیا۔ ان کا اصل کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے آپ کو غیر تبلیغی کام سے بچایا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
صوفیا کے حالات پڑھئے تو کسی بھی صوفی یا بزرگ کے یہاں یہ نہیں ملتا کہ وہ جا جا کرلوگوں کے یہاں تبلیغ کرتے ہوں یا غیرمسلموں سے یہ کہتے ہوں کہ تم اسلام قبول کر لو ، ورنہ تم خدا کے یہاں پکڑے جاؤگے۔ البتہ وہ اس قسم کے مخالف تبلیغ کام میں مشغول نہیں تھے جس میں دوسرے لوگ مشغول تھے۔ مثلا مسلم بادشاہوں کا ہندووں سے لڑنا، مناظر علماء کا ہندووں سے مناظرہ بازی کرنا ۔ عام مسلمانوں کا ہندووں سے مادی مفادات کے لئے جھگڑا کرنا۔ صوفیا اس کی تمام نزاعی باتوں سے دور رہتے تھے ، یہی وجہ ہے کہ ہندوؤں کو ان سے وہ ضد نہ تھی جو دوسرے مسلمانوں سے انھیں تھی۔ چنانچہ وہ ان کے پاس آتے جاتے اور ان سے نصیحت لینے کی کوشش کرتے ۔
اہم بات یہ ہے کہ اسلام ایک محفوظ اور تسلیم شدہ مذہب ہے۔ اس لئے وہ اپنے آپ پھیلتا ہے ، وہ اپنے آپ لوگوں کے دلوں میں جگہ بنا لیتا ہے۔ چنانچہ جب کوئی شخص بطور خود اسلام کی طرف مائل ہوتا اور اسلام میں داخل ہونا چا ہتا تو وہ اپنے قریب کے کسی بزرگ کے یہاں آ کر ان کے ہاتھ پر کلمہ پڑھ لیتا۔
27 اگست 1983
اسلامی فقہ کا ایک اصول یہ ہے کہ الاعمال بمقاصدها . یعنی اعمال اپنے مقاصد کے تحت ہیں۔ شریعت میں کوئی عمل مقرر کیا جائے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ عمل برائے عمل ہے، بلکہ وہ عمل برائے مقصد ہے۔ اعمال مقاصد کے تحت ہیں کہ مقاصد اعمال کے تحت ۔ شرعی اعمال کی حکمت سمجھنے کے لئے ان کے مقاصد پر غور کرنا چاہئے۔
28 اگست 1983
انگریزی کی ایک مثل ہے کہ وہ بھی خدمت کرتے ہیں جو صرف کھڑے ہوں اور انتظارکریں :
They also serve who only stand and wait.
یہ مثل بہت بامعنی ہے۔ کیوں کہ جو شخص کھڑا ہو جائے وہ کم از کم اتنا کرتا ہے کہ راستہ کی بھیڑ میں کمی کرتا ہے۔ وہ باہمی ٹکراو کے امکان کو کم از کم اپنی حد تک گھٹا رہا ہے ۔ اسی لئے حدیث میں آیا کہ فتنہ کے زمانہ میں گھر میں بیٹھ جانے والا باہر چلنے والے سے بہتر ہوگا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اجتماعی معاملات میں دخل دینا ایک بے حد نازک کام ہے، اجتماعی معاملہ میں کودنے سے پہلے آدمی کو ہزار بار سوچنا چاہئے۔ اور جوشخص اتنا زیادہ سوچنے اور سمجھنے کا اہل نہ ہو اس کا خاموش بیٹھے رہنا اس سے اچھا ہے کہ وہ کم تر سوچ کے ساتھ میدان میں کود پڑے اور پھر فساد میں اضافہ کا سبب بنے ۔
29 اگست 1983
لما عزم المامون على قتل ابراهيم بن المهدى، وكان مصمتاعلى قتله شاورفيه احمد بن ابى خالد الوزير فقال : يا اميرالمومنين ان قتلته فلك نظراء ،وان عفوت عنه فما لك نظـير . فعفا عنه
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
خلیفہ مامون نے جب ابراہیم بن مہدی کے قتل کا ارادہ کیا ، اور وہ اس کے قتل کا پختہ ارادہ کر چکا تھا۔ اس نے اس معاملہ میں اپنے وزیر احمد بن ابی خالد سے مشورہ کیا۔ وزیر نے کہا کہ اے امیر المومنین، اگر آپ اس کو قتل کر دیں تو آپ کے لئے مثالیں موجود ہیں ، اور اگر آپ اس کو معاف کر دیں تو آپ کے لئے کوئی مثال نہیں۔ چنانچہ مامون نے اس کو معاف کر دیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
وزیر کا مطلب یہ تھا کہ اگر آپ نے انھیں قتل کیا تو آپ وہی کریں گے جو سب لوگ ایسے وقت پر کرتے ہیں ، اور اگر آپ معاف کر دیں تو آپ وہ کام کریں گے جو کسی نے نہیں کیا۔ وزیر کے اس جملہ نے خلیفہ مامون کے احساس کو جگا دیا۔ پہلے وہ اس کو قتل کر دینے میں اپنی بڑائی سمجھتا تھا ، اب اس کو نظر آیا کہ معاف کر دینا زیادہ بڑا کام ہے۔ اس احساس نے اس کو مجبور کیا کہ وہ اسے معاف کر دے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
30 اگست 1983
البرٹ آئنسٹائن (Albert Einstein ) کا قول ہے کہ سائنس مذہب کے بغیر لنگڑی ہے، مذہب سائنس کے بغیراندھی ہے۔
other sourceWords of another person or source
Science without religions is lame. Religions without science is blind.
میرا خیال ہے کہ یہ بات زیادہ صحیح طور پر اس طرح کہی جاسکتی ہے کہ انسان سائنس کے بغیر لنگڑا ہے ، اور انسان مذہب کے بغیرا ندھا ہے۔ مذہب انسان کو وہ نقطہ نظر دیتا ہے جس کی روشنی میں وہ چیزوں کو دیکھ سکے ۔ اسی طرح سائنس انسان کو وہ اسباب دیتی ہے جس سے وہ موجودہ دنیا میں اپنی زندگی کی تشکیل کرسکے۔
31 اگست 1983
ہندستان کی آزادی کا قانون جب برطانی پارلیمنٹ میں پاس ہوا ، اس وقت کلیمنٹ ایٹلی برطانیہ کے وزیر اعظم تھے۔ ان سے پہلے برطانیہ کے وزیر اعظم ونسٹن چرچل تھے۔ انھوں نے اپنے زمانہ اقتدار میں یہ کہہ کر ہندستان کو آزادی دینے سے انکار کر دیا تھا کہ میں شاہ برطانیہ کا پہلا وزیر اس لئے نہیں بنا ہوں کہ برطانی سلطنت کے خاتمہ کی تقریب کی صدارت کروں :
I did not become the King's first minister to
preside over the liquidation of the British empire.
سابق برطانی وزیر اعظم جیمز کالاگھن کی ایک کتاب (وقت اور موقع) کے نام سے چھپی ہے :
other sourceWords of another person or source
James Callaghan, Time And Chance
مصنف لکھتے ہیں کہ برطانیہ کا 1945 کا الکشن اگر ونسٹن چرچل جیت جاتے تو کیا ہوتا۔ وہ اپنے مزاج کے مطابق ہرگز انڈیا کو آزادی دینے کے لئے تیار نہ ہوتے اور طاقت کے ذریعہ اس پر قبضہ باقی رکھنے کی کوشش کرتے ۔ مصنف مزید لکھتے ہیں کہ ہم انڈیا کی آزادی کو روک نہیں سکتے تھے ۔ اس کے بعد ہندستان کے عوام خونی تصادم کے ذریعہ آزادی حاصل کرتے، اور پھر دونوں ملکوں کے درمیان تلخ احساسات( (Bitter feelings مستقل طور پر باقی رہ جاتے ۔ اس کے متعلق کہا گیا ہے کہ :
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
برآنچه دانا کند کند ناداں لیک بعد از خرابی بسیار