Maulana Wahiduddin Khan
27 min left
0:00

← Diary 1983-1984
Diary 1983-1984

August 1984

English · 27 min read

یکم اگست 1984

دور اول میں اسلام کو جوفتومات حاصل ہوئیں وہ ساری انسانی تاریخ کا واحد واقعہ ہے ۔ ایسا واقعہ نہ اس سے پہلے کوئی ہوا اور نہ اس کے بعد ۔ اس واقعہ کا یہی تفرد یہ ثابت کر تا ہے کہ وہ انسانی واقعہ نہیں۔ وہ ایک خدائی واقعہ ہے۔

اگروہ سادہ معنوں میں ایک انسانی واقعہ ہوتا تو وہ واحد نہیں ہوسکتا تھا۔ تمام دوسرے انسانی واقعات جو ہم کومعلوم ہیں ان میں تو تعدد پایا جاتا ہے ، پھر یہی ایک واقعہ ایسا کیوں ہے جو استثنائی طور پر تفرد کی خصوصیت رکھتا ہے ۔

اسلامی انقلاب کا یہ پہلو اس کی صداقت کے حق میں ایک تاریخی ثبوت ہے ۔ وہ اس کو سچا خدائی مذہب ثابت کرتا ہے ۔

2 اگست 1984

فرقہ وارانہ فساد کے سلسلے میں عام طور پر چند خاص فرقہ پرست لیڈروں کا حوالہ دیا جاتا ہے کہ انھوں نے ایسا کہا، انھوں نے ایسا لکھا ، ان کے ایسے اور ایسے خیالات ہیں ۔

اس سلسلہ میں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا یہی چند لیڈر فساد کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے چند لیڈرخود بھی فساد نہیں کرسکتے ۔ انھیں فساد کرنے کے لئے عوام کو ساتھ لینا پڑتا ہے۔ اور عوام کو ان لیڈروں کا ساتھی بنانے کا کام مسلمان کرتے ہیں ۔

مسلمان جذباتی قوم ہیں۔ عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ وہ کسی چھوٹے سے واقعہ پر مشتعل ہو کر کوئی حرکت کر ڈالتے ہیں۔ فرقہ پرست لیڈر اس واقعہ کو لے کر عوام کو بھڑکا تا ہے ۔ اگر مسلمان چھوٹی چھوٹی چیزوں کو برداشت کرنا سیکھ جائیں تولیڈروں کو یہ موقع ہی نہ ملے کہ وہ عوام کو بھڑکا سکیں۔

فرقہ پرست لیڈرمسلمانوں کے ہاتھ میں نہیں ہیں۔ مگر یہ بات یقینی طور پر مسلمانوں کے ہاتھ میں ہے کہ وہ ایسا فعل کریں جو انہیں عوام کو بھڑکانے کا موقع دے۔ گویا فرقہ وارانہ فساد کی وھیل اگر فرقہ پرست ہندو لیڈروں کے ہاتھ میں ہے تو اس کا بریک مسلمانوں کے قبضہ میں ہے۔ مسلمان اگر اس راز کو جان لیں تو وہ ہرفساد کو روک سکتے ہیں۔ مسلمان اشتعال انگیز حرکت نہ کر کے فرقہ پرست لیڈروں کو ان کے عوام سے کاٹ سکتے ہیں۔

2 اگست 1984

آدم اور ابلیس کے سلسلہ میں ایک لمبی بحث تفسیر کی کتابوں میں یہ ہے کہ آدم کی جنت آسمان میں تھی اور شیطان آدم کو سجدہ نہ کرنے کے نتیجہ میں پہلے ہی آسمان سے نکال دیاگیا تھا۔ پھر اس کے لئے کیوں کرممکن ہوا کہ وہ آسمان پر پہنچ کر جنت میں داخل ہو اور آدم وحوا کو بہکائے۔ اس سوال کے کئی جواب دئے گئے ہیں۔

1۔ جنت میں شیطان کے لئے باعزت داخلہ منع تھا۔ البتہ چور کی مانند داخل ہونے کا راستہ اس کے لئے پھر بھی کھلا ہوا تھا ۔

2۔ بعض لوگوں کے نزدیک شیطان سانپ کے منہ میں داخل ہوکر جنت کے اندر پہنچا۔ 3۔ ایک رائے یہ ہے کہ وہ جنت کے اندر نہیں گیا۔ بلکہ جنت کے دروازہ پر کھڑے ہوکر اس نے آدم کو بہکایا۔

opposing viewA view stated in order to be argued against

4- ایک رائے کے مطابق وہ زمین ہی پر تھا۔ اور وسوسہ اندازی کے ذریعہ اس نے آدم کو بہکایا جو آسمان میں تھے (تفسیر ابن کثیر ، الجزء الأول صفحہ 81 )

other sourceWords of another person or source

اس قسم کی بے فائدہ بحثیں کثرت سے ہماری تفسیروں میں بھری ہوئی ہیں۔ اور ان بحثوں نے تفسیر قرآن کو عملا قاری کے لئے بے فائدہ بنا دیا ہے۔ وہ غیر ضروری بحثوں اور غیرمتعلق معلومات کے ڈھیر میں گم ہو جا تا ہے اور قرآن کے اصل مدعا علیہ تک نہیں پہنچتا۔

4 اگست 1984

کسی پرچہ میں میں نے ایک مقولہ پڑھا جو مجھے پسند آیا ۔ ” زندگی کا ہرلمحہ جو آپ صرف کرتے ہیں ، اچھی طرح سمجھ لیجئے کہ آخری طور پر صرف کرتے ہیں۔ کیوں کہ وہ لمحہ دوبارہ آپ کی طرف واپس آنے والا نہیں ۔" کتنی اہم بات ہے یہ ، مگر اسی سب سے زیادہ اہم بات کو انسان سب سے زیادہ بھولا ہو اہے۔

5 اگست 1984

ٹیگور (1941- 1861 ) کو حکومت برطانیہ نے 1915 میں سر کا خطاب دیا تھا۔ 1919 میں جب انگریزی حکومت نے امرتسر میں نہتے ہندستانیوں پر گولی چلائی تو ٹیگور نے سر کا خطاب واپس کر دیا۔

اقبال (1877 1938 ) کو حکومت برطانیہ نے 1922 میں سر کا خطاب عطا کیا۔ اقبال نے اس کو قبول کر لیا اور کبھی اس کو واپس نہیں کیا۔

میں ذاتی طور پر سرکاخطاب لینے کو غلط نہیں سمجھتا مگراقبال اپنی شاعری میں جس قسم کی اونچی باتیں کرتے ہیں اس کے لحاظ سے انگریزی حکومت کا دیا ہوا سر کا خطاب ان کے لئے موزوں نہ تھا۔ ایک طرف وہ ” قصرسلطانی “ کے گنبد پرنشیمن بنانے والوں کا مذاق اڑاتے رہے، اور دوسری طرف خود قصر سلطانی کے گنبد ہی پر اپنا نشیمن بنایا۔

تضاد یا دو عملی کی یہ قسم موجودہ زمانہ کے بیشتر مسلم قائدین کے یہاں نظر آتی ہے۔ اس دو عملی سے خود قائدین کو تو کوئی نقصان نہیں پہنچا ۔ مگرمسلمان بحیثیت قوم برباد ہوکر رہ گئے۔

6 اگست 1984

سرسید احمد خاں نے 1877 میں علی گڑھ میں مسلمانوں کا کالج قائم کیا۔ اس وقت ہندستان میں انگریزوں کا دبدبہ تھا ۔ اس وقت کے حالات کے لحاظ سے انہیں اس کا نام اینگلو محمڈن کالج رکھنا پڑا۔ اس کالج کا سنگ بنیاد اس وقت کے انگریز وائسرائے نے رکھا تھا۔ اس وقت اگر سرسید یہ اصرار کرتے کہ کالج کے نام میں نہ اینگلو کا لفظ ہوگا اور نہ محمڈن کا ، بلکہ صرف مسلم کالج ہوگا تو اس کالج کو منظوری ملتی اور نہ انگریز وائسرائے اس کا سنگ بنیاد رکھتا۔

اس کے بعد حالات بدلے۔ خلافت تحریک اور آزادی کی تحریک نے انگریزوں کے دبدبہ میں بہت کمی کر دی ۔ ہندستانی عوام بےبا کانہ طور پر انگریزوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ انگریز اپنے آپ کو دفاعی پوزیشن میں محسوس کرنے لگا۔ ان حالات میں تقریبا 45 سال بعد 1921 میں اینگلو محمڈن کالج ترقی کرکے یونیورسٹی بنا اور اس کے حق میں حکومت نے ایکٹ پاس کیا۔ مگر اب اس کا نام اینگلو محمڈن یونیورسٹی نہیں تھا، بلکہ صرف مسلم یونیوسٹی تھا ۔

1877 میں سرسید اگر نام کے مسئلہ پر اصرار کرتے تو ان کی تعلیمی تحریک پہلے ہی مرحلہ میں ناکام ہو کر رہ جاتی ۔ نام کے معاملہ میں انھوں نے مفاہمت کا طریقہ اختیار کیا۔ چنانچہ انہیں انگریزوں کا تعاون ملا۔ اور اسی کی وجہ سے تو نوابوں اور زمینداروں نے ان کو بڑے بڑے چندے دۓ۔ تاہم یہ مفاہمت وقتی مفاہمت تھی۔ چنانچہ عبد کوجب حالات بدلے توکسی نقصان کا خطرہ مول لئے بغیر اس کا نام مسلم یونیورسٹی ہوگیا۔ جو شخص حال میں کم پر راضی ہو جائے وہ مستقبل میں زیادہ کا مالک بنتا ہے۔

7 اگست 1984

ہندستان کے مسلمانوں نے 1857 میں انگریزوں سے جنگ کی ۔ اس جنگ میں مسلمانوں کو مکمل شکست ہوئی۔ 1860 میں ہندستان کے مسلمانوں نے جان لیا کہ انگریزوں کی سلطنت ہندستان میں ایک مسلمہ امر بن چکی ہے ۔ اس وقت ہندستان کے مسلم علماء کا پہلا رد عمل کیا ہوا ۔ یہ کہ ہندستان کے مسلمانوں کو انگریزی تہذیب اور انگریزی تعلیم سے بچایا جائے۔ اس کے تحت ملک میں کثرت سے عربی مدارس قائم کئے گئے۔

یہ ناقص رد عمل کی بڑی عجیب مثال ہے۔ انگریزوں کے مقابل میں شکست کا اصل ردعمل یہ ہونا چاہئے تھا کہ مسلم علماء میں یہ ذہن ابھرے کہ انگریزوں کے پاس وہ کون سی طاقت ہے کہ وہ باہر سے آکر ملک میں قابض ہوگئے ہیں۔ اور پھر ان کی طاقت کو جان کر اس کو حاصل کیا جائے اور پھران کے خلاف زیادہ موثر انداز میں اقدام کیا جائے۔

صلیبی جنگوں میں شکست کے بعد عیسائیوں میں یہ ذہن ابھرا تھا کہ مسلمانوں کی طاقت کے راز کو جانیں۔ انھوں نے تیزی سے عربی زبان سیکھی اور مسلمانوں کے علوم کا لاتینی زبان میں ترجمہ کیا۔ مگرجب تاریخ بدلی اور دور جدید میں مسلمانوں کو مسیحی اقوام کے مقابلہ میں شکست ہوئی تو مسلمان یہ نہ سوچ سکے کہ وہ مسیحی قوموں کی طاقت کے راز کو جانیں اور اپنے آپ کو اس کے اعتبار سے سے کریں۔ وہ صرف تحفظ کی نفسیات میں بند ہوکر رہ گئے۔

8 اگست 1984

مسلمان ساری دنیا میں تقریبا 100 کروڑ ہیں۔ ان میں تقریبا 30 کروڑ وہ ہیں جو اردو اور عربی زبان بولتے ہیں۔ بقیہ 70 کروڑ مسلمان دوسری زبانیں بولتے ہیں ، مثلا ترکی، فارسی ، ہندی ، بنگالی، انڈونیشی ، ملالی ، وغیرہ ۔

اسلامی لٹریچر تیار کرنے کا کام جتنا عربی اور اردو میں ہوا ہے ، اس کی نسبت سے دوسری زبانوں میں بہت کم ہوا ہے۔ یہ بہت نقصان کی بات ہے۔ یا تو سارے مسلمان عربی بولنے اور سمجھنے والے بن گئے ہوتے ۔ یا پھر تمام زبانوں میں طاقت ور اسلامی لٹریچر تیار کیا گیا ہوتا۔ اس غفلت کانتیجہ یہ ہوا کہ عالمی سطح پر مسلمانوں کی نصف سے زیادہ تعداد تقریبا معطل ہوکر رہ گئی۔

عیسائی لوگ انجیل کا ترجمہ دنیا کی دوسو زبانوں میں کر چکے ہیں جب کہ مسلمانوں نے ابھی تک قرآن کا ترجمہ دو درجن زبان میں بھی نہیں کیا۔ جو ترجمے کئے گئے ہیں ان میں بھی کثرت سے غلطیاں پائی جاتی ہیں۔

9 اگست 1984

کسی شخص کا قول ہے کہ یقین اور تعصب کا فرق یہ ہے کہ تم یقین کی وضاحت غصہ کے بغیرکر سکتے ہو :

other sourceWords of another person or source

... a conviction and prejudice is that you explain conviction without getting angry. The Quotable Quorations Book, Edited by Alec Lewis

جب آدمی سے اس کے نقطہ نظر کے بارہ میں گفتگو کی جائے اور وہ غصہ اور جھنجلاہٹ کے بغیر تمام باتوں کا جواب دے تو سمجھ لیجئے کہ وہ یقین پر کھڑا ہوا ہے۔ اور اگر ایسا ہو کہ جب اس سے اس کے نقطہ نظر کے بارہ میں سوال کیا جائے تو وہ بگڑ جائے اور غیر متعلق باتیں کرنے لگے تو سمجھ لیجئے کہ اس کا کیس تعصب کا کیس ہے نہ کہ یقین کا کیسں۔

10 اگست1984

مغل حکمراں جہا نگیر بہت زیادہ شراب کا عادی تھا۔ وہ دن بھر میں بیس پیالے شراب پی جاتا تھا۔ یہ شراب بھی دو آتشہ یعنی بہت تیز ہوتی تھی ۔ اس مے نوشی کا انجام یہ ہوا کہ آخرعمر میں وہ اتنا کمزور ہوگیا کہ خود اپنے ہاتھ سے شراب کا پیالہ اپنے منہ تک نہیں لے جا سکتا تھا۔ اس کام کے لئے دوسرے آدمی مقرر تھے جوشراب کے پیالہ کو اس کے منہ سے لگاتے تھے۔ نورجہاں نے ایک بار شراب سے توبہ کرائی مگر وہ اس پر قائم نہ رہ سکا۔

جہاں گیر کا معاملہ عجیب تھا۔ وہ اگرچہ خود شراب پیتا تھا۔ مگر اس نے ملک بھر میں شراب کا استعمال ممنوع قرار دے دیا تھا۔ اس کے وہ امراء جو رات کو اس کے ساتھ بیٹھ کر شراب پیتے تھے وہ دن کے وقت دربار میں شراب کا ذکر تک نہیں کرسکتے تھے۔

جہاں گیر نے تخت پر بیٹھنے کے بعد یہ کیا کہ سونے کی ایک زنجیر دریائے جمنا کے کنارے سے شاہ موج (شاہی محل) تک بندھ وا دی تاکہ اگرکسی کو بادشاہ سے فریاد کرنا ہو تو وہ زنجیڑ کھینچ کر بادشاہ کو مطلع کرے۔ اس زنجیر عدل میں 60 گھنٹیاں لگی ہوئی تھیں۔ یہ گھنٹیاں زنجیرکھینچتے ہی بچنے لگتی تھیں۔ اس زنجیر کے بنانے پر چار من سونا خرچ ہوا تھا۔ جیسے ہی گھنٹی بجتی بادشاہ فورا سائل کوشکایت سننے کے لئے طلب کر لیتا تھا اور اسی وقت اس کا انصاف کرتا تھا۔

11 اگست 1984

سیرت النبی از مولانا سید سلیمان ندوی (جلد چهارم صفحہ 11 ) میں نبوت ورسالت کے اثبات پر یہ دلیل دی گئی ہے : " انسان کی تمام حرکات ممکن ہیں اس لئے مرجح کی ضرورت ہے ۔ اختیاری ہیں، اس لئے عقل کی ضرورت ہے ۔ خیروشر کی متحمل ہیں، اس لئے رہنما کی ضرورت ہے۔ اسی رہنما کا نام پیغمبر ہے۔"

other sourceWords of another person or source

قدیم متکلمین اسی انداز پر استدلال کرتے تھے۔ اس استدلال کی بنیاد جس چیز پر ہے وہ قیاسی منطق ہے۔ مگر موجودہ زمانہ کا انسان قیاسی منطق کو اہمیت نہیں دیتا۔ وہ کسی بات کی اہمیت صرف اس وقت مانتا ہے جب کہ وہ سائنٹفک استدلال کے ذریعہ ثابت کر دی گئی ہو۔ اس لئے جدید متکلمین کو صرف اس پر اکتفا نہیں کرنا چاہئے کہ وہ قدیم استدلالات کو دہرا دیں۔ انہیں اسلامی عقائد کوجدید استدلال میں بیان کرنا چاہئے۔

مولانا قاری طیب صاحب اگر چہ خود اس کام کو نہ کر سکے ، مگر وہ اس کی اہمیت تسلیم کرتے تھے۔ وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ آج کی ضرورت جدید طرز استدلال ہے ۔ ان کے الفاظ میں،مسائل قدیم ہوں ، دلائل جدید ہوں۔

12 اگست 1984

موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے پاس ہمیشہ سے زیادہ پیسہ ہے اور وہ ہمیشہ سے زیادہ خرچ کرنے کے لئے تیار بھی ہیں۔ مشکل یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان "سمعہ" پسند ہوگئے ہیں۔ان میں سے ہر شخص شہرت کا دلدادہ ہے۔ انھیں چیزوں میں خرچ کرنے کے لئے ان کے اندر جذبہ ابھرتا ہے جن میں(Kon value) ہو ۔ اور جن چیزوں میں نیوز ویلیو نہ ہو ان میں خرچ کرنے کا جذبہ بھی ان کے اندر نہیں بھڑکتا۔

ہندستان میں چند ادارے ایسے ہیں جو خرچ کی اشتہاری مدبن چکے ہیں۔ ان کے حق میں ایسے تاریخی اسباب جمع ہوگئے ہیں کہ ان میں خرچ کیجئے تو آپ کا خوب اشتہار ہوگا۔ مثال کے طور پر دارالعلوم دیوبند ایک اشتہاری مد ہے۔ دارالعلوم ندوہ ایک اشتہاری مد ہے۔ دہلی کی شاہجہانی مسجد ایک اشتہاری مد ہے۔ جس شخص کے ہاتھ میں یہ ادارے ہوں اس کے ہاتھ میں گویا ایک زبر دست اشتہاری مد ہے اور وہ ان کے نام پر جتنا چاہے پیسہ جمع کر سکتا ہے۔

مگران اشتہاری مدوں سے باہرکسی مد کے لئے سرمایہ اکٹھا کرنا اتنا ہی مشکل ہے جتنا پتھر سے پانی نکالنا۔ مثال کے طور پر غیرمسلموں میں اسلام کی تبلیغ ایک اہم ترین دینی فریضہ ہے۔ آپ اگر اس مقصد کے لئے اٹھیں تو خواہ آپ کتنے ہی مخلص ہوں ، آپ نے کتنا ہی زیادہ کارکردگی کا ثبوت دیا ہو ، کوئی آپ کو پیسہ دینے والا نہیں۔ یقینی ہے کہ آپ کی اسکیم مفلس کا چراغ بنی رہے گی۔

جو اداره جتنا زیادہ اشتہاری مد بن جاۓ اتنا ہی زیادہ کم کام اس میں ہوتا ہے۔ کام حقیقتہ نئے اداروں میں ہوتا ہے ، مگر ادارے اشتہاری مد نہیں ہوتے۔ اس لئے کوئی اس میں تعاون بھی نہیں کرتا۔

13 اگست 1984

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو ایک دعا سکھائی ۔ یہ دعا بہت چھوٹی سی ہے مگر نہایت با معنی ہے :

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

الهم الھمنی رشدى وقني شرنفسی (خدایا ، میری ہدایت مجھ پر القاء فرما اور میرے نفس کے شرسے مجھ کو بچا)

14 اگست 1984

اس دنیا کے لئے خدا کا قانون یہ ہے کہ جو اپنے آپ کو نفع بخش ثابت کرے وہ دنیامیں سرفرازی حاصل کرے ۔ قدیم زمانہ میں مسلمان دنیا والوں کے لئے نفع بخش بن کر سر بلند ہوئے تھے۔ آج بھی وہ اسی وقت سربلند ہو سکتے ہیں جب کہ وہ دنیا والوں کے لئے دوبارہ نفع بخش بنیں۔

مسلمانوں کے لئے خدا کا قانون نہیں بدلے گا۔ البتہ مسلمان اگر چاہیں تو وہ خدا کے قانون کو استعمال کر کے اپنے حالات کو بدل سکتے ہیں۔ مسلمانوں کا ایک " مستقل ایڈوانچ “ یہ ہے کہ ان کے پاس خدا کی کتاب محفوظ حالت میں موجود ہے ۔ وہ اس کی روشنی میں اٹھیں اور دوبارہ اپنے آپ کو اہل عالم کے لئے نفع بخش بنائیں۔ اس طرح وہ دوبارہ اپنے آپ کو اس کا اہل ثابت کر سکتے ہیں کہ قدرت کا یہ قانون ان کے حق میں پورا ہو ــــــــــ وأما ما ينفع الناس فيمكث في الارض

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

16 اگست 1984

ایک زمانہ میں یہ بحث چھڑی ہوئی تھی کہ نجات کے لئے ایمان (لاالہ الا اللہ) کا اقرار کافی ہے یا عمل بھی ضروری ہے ۔ کچھ لوگ صرف ایمان کو کافی سمجھتے تھے ، کچھ لوگ کہتے تھے کہ ایمان کے ساتھ عمل کرنا بھی ضروری ہے۔ اس زمانہ میں کچھ لوگ امام وہب بن منبہ کے پاس گئے۔ ان سے جو گفتگو ہوئی وہ حسب ذیل ہے :

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قيل له اليس لا اله الا الله مفتاح الجنة. قال ، بلى ولكن ما من مفتاح الاوله اسنان فان جئت بمفتاح له اسنان فتح لك.والا لم يفتح لك

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

امام ابن منبہ سےکہا گیا کہ کیا لا الہ الا اللہ جنت کی کنجی نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہاں ۔ مگر ہرکنجی کے دانت ہوتے ہیں ۔ اگرتم ایسی کنجی لائے جس میں دانت ہوں تو جنت تمہارے لئے کھول دی جائے گی اور اگر نہیں تو وہ نہیں کھولی جائے گی۔

other sourceWords of another person or source

آدمی اگر پائے ہوئے ہو تو وہ چند الفاظ میں وہ بات کہہ دیتا ہے جس کو نہ پایا ہوا آدمی بڑی بڑی تقریروں اور لمبے لمبے مضامین میں بھی نہیں کہہ سکتا۔

17 اگست 1984

پلیٹ فارم پر کچھ مسلمانوں نے جماعت کے ساتھ نماز پڑھی۔ نماز سے فارغ ہوئے تو ایک ہندو مسافر نے ایک مسلمان سے کہا : آپ لوگ نماز میں بار بار اللہ اکبر کہ رہے۔ کیا آپ اکبر بادشاہ کو یاد کر رہے تھے۔"

ایک اور موقع پر ایک ہندو نے ایک مسلمان سے کہا کہ پگ (Pig) جو آپ لوگ نہیں کھاتے تو کیا آپ اس کو سیکرڈ انیمل (sacred animal) سمجھتے ہیں۔

opposing viewA view stated in order to be argued against

اس قسم کی باتیں جو دوسرے مذہب کے لوگ مسلمانوں سے کہتے ہیں وہ طنزا بھی ہوسکتی ہیں۔ اور بے خبری کی بنا پر بھی۔ تاہم جو بھی وجہ ہو اس کے اصل ذمہ دارخو دمسلمان ہیں ۔ کیوں کہ طنز اس چیز پر کیا جاتا ہے جس کی عظمت لوگوں کے دلوں پر قائم نہ ہو مسلمانوں نے موجودہ زمانہ میں اپنی غفلتوں اور نادانیوں سے اسلام کو بے عظمت کر دیا اس لئے لوگوں کو ہمت ہورہی ہے کہ وہ اس پر طنز کریں۔

اور اگر یہ باتیں بے خبری کی بنا پر ہیں تو مسلمانوں کا جرم اور بھی زیادہ بڑھ جاتا ہے کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے لوگوں کو مسلمانوں نے اسلام سے آگاہ نہیں کیا۔

18 اگست 1984

جو لوگ شراب کو جائز سمجھتے ہیں وہ اپنے حق میں ایک دلیل یہ دیتے ہیں کہ اگر انگور کھایا جاسکتا ہے تو اس کے عرق میں کیا خرابی ہے کہ اس کو حرام سمجھا جائے۔ یہ دلیل نہیں بلکہ دھاندلی ہے ۔ کیوں کہ کوئی شخص بھی انگور کے عرق (جوس) کوحرام نہیں بتاتا بلکہ وہ اس رس کو حرام بتاتا ہے جس میں تبدیلی کے ذریعہ نشہ پیدا ہوگیا ہو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ استدلال ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص کہے کہ مختلف غذاؤں میں کیمیائی تبدیلی کے بعد جو تیزاب اور سمیات بنتے ہیں انھیں بھی غذا کے طور پر کھانا چاہئے ، کیوں کہ اپنی ابتدا میں وہ غذا ہی تھے۔

19 اگست 1984

ذو النون مصری سے پوچھا گیا کہ آپ نے اپنے رب کو کیسے پہچانا ۔ انھوں نے کہا : میں نے اپنے رب کو اپنے رب سے پہچانا اور اگر رب کی مہربانی نہ ہوتی تو میں اپنے رب کو نہ پہچانتا

other sourceWords of another person or source

(سئل ذوالنون المصرى بماذا عرفت ربك. فقال عرفت ربي بربي ولولا ربي ماعرفت ربی)

other sourceWords of another person or source

حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں ہرچیز اللہ کی توفیق سے ملتی ہے ، حتی کہ خود اللہ تعالی کی معرفت بھی۔

20 اگست 1984

سورہ کہف میں حضرت موسیٰ اور ایک بندہ خدا (حضرت خضر) کی ملاقات کا ذکر ہے۔ حضرت خضرنے تین واقعات کئے تینوں کا ظاہر اچھا نہیں تھا۔ انھوں نے ایک کشتی کی لکڑی توڑ دی ۔ انھوں نے ایک لڑکے کو ہلاک کر دیا۔ چنانچہ حضرت موسی وعدہ کے باوجود بول پڑے ۔ تاہم حضرت خضر نے جو کچھ کیا وہ اللہ کے حکم سے کیا۔ یہ کام ظاہری طور پر برے دکھائی دے رہے تھے، مگرحقیقت میں وہ نہایت مفید اور بامعنی کام تھے۔

اس میں یہ سبق ہے کہ کسی چیز کے ظاہر کو دیکھ کر اس پر حکم نہیں لگانا چاہئے۔ ایک چیز دیکھنے میں بظاہر بری ہوسکتی ہے۔ مگر عین ممکن ہے کہ وہ اپنی باطنی حقیقت کے اعتبار سے نہایت اچھی ہو۔

ان واقعات کی صورت میں یہ بتایا گیا ہے کہ چیزوں کو ان کی (face value) پرنہ لو بلکہ ان کی اصل حقیقت کوسمجھو اور اصل حقیقت کے اعتبارسے رائے قائم کرو ۔

21 اگست 1984

اسلام کی تاریخ کا ایک واقعہ وہ ہے جس کو ہجرت حبشہ کہا جاتا ہے ۔ مکہ کے کچھ کمزور مسلمان دشمنوں کی ایذارسانیوں سے تنگ آکر قریب کے ملک حبش چلے گئے۔ اس وقت حبش کا بادشاہ نجاشی تھا۔ اس نے مسلمانوں کو پناہ دی اورکفار مکہ کی کوششوں کے باوجود ان کو ستایا اور نہ اپنے ملک سے باہر نکالا ۔

یہ ایک احسان کا معاملہ تھا ۔ مسلمانوں نے اس احسان کا بدلہ اس طرح ادا کیا کہ انھوں نے افریقہ میں مصر سے لے کر مراکش تک حملے کئے اور ملکوں کو زیر و زبر کر ڈالا۔ مگر حبش کی طرف رخ نہیں کیا جبکہ حبش محض ایک کمزور ملک تھا۔ آٹھ سو سالہ اقتدار کے زمانہ میں بھی حبش میں کوئی مسلم فوج نہیں بھیجی گئی۔

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام میں امن کی کتنی زیادہ اہمیت ہے۔ کوئی شخص یا کوئی قوم کسی کے ساتھ احسان کرے تو اس کا احسان ہر حال میں ماننا چاہئے۔

22 اگست 1984

سوره انفال (آیت 11) میں ہے کہ اللہ تعالی نے بدر کی لڑائی کے موقع پر آسمان سے پانی برسایا تاکہ اس کے ذریعہ تمہیں پاک کرے (لیطهركم به ويذهب عنكم رجز الشيطان)

Qur'anQuotes the Qur'an

ایک مفسر قرآن لکھتے ہیں کہ کفار نے چونکہ پہلے وہاں پہنچ کر پانی کے چشمہ پر قبضہ کر لیا تھا اس لئے مسلمانوں کو تشویش تھی کہ وضو کیسے ہوگا ، طہارت کے لئے کیا بنےگا ،غسل کی ضرورت پیش آئی تو کیا صورت ہوگی۔ صحابہ نے اس موقع پر پانی کے مسئلہ پرغور کیا ہوگا توان کے سامنے یہ باتیں آئی ہوں گی۔" اللہ تعالی نے بارش برسا کر اس مسئلہ کو حل کر دیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مگر میرا خیال ہے کہ اس سے زیادہ صحیح جواب یہ ہے کہ اس غیر متوقع بارش سے اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے ازدیاد ایمان کا سامان کیا۔ دشمنوں نے یہ ہوشیاری کی تھی کہ بدر کے مقام پر پہلے پہنچ کر وہاں کے بعض چشموں پر قبضہ کرلیا۔ پانی کی اہمیت کی بنا پر قدرتی طور پر مسلمانوں کو اس کی تشویش ہوئی ہوگی۔ اس وقت اللہ نے خصوصی تائید فرمائی۔ دشمنوں نے ان کو زمین کے پانی سے محروم کرنے کی تدبیر کی تو اللہ تعالی نے ان کے لئے آسمان سے پانی بھیجنے کا انتظام کر دیا۔

اس طرح مسلمانوں کا یقین مزید پختہ ہوگیا کہ اللہ ان لوگوں کا مددگار ہے جو اس کے دین کے لئے اٹھیں ۔ وہ کسی حال میں ان کو بے سہارا نہیں چھوڑتا۔

23 اگست 1984

بدر کی جنگ میں قریش کے جولوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑنے کے لئے نکلے تھے ان میں سے ایک تعداد وہ تھی جو رسول اللہ سے لڑنے کے لئے پرجوش نہ تھی ۔ یہ لوگ ابوجہل کی غیرت دلانے والی باتوں کے زیراثر نکل پڑے تھے ۔ مگر ان کا ضمیراندر سے انہیں ملامت کر رہا تھا۔ وہ چاہتے تھے کسی طرح درمیان راہ سے واپسی ہو جائے اور جنگ کی نوبت نہ آئے ۔

انھیں میں سے ایک عتبہ بن ربیہ تھا۔ وہ کبیر السن تھا اور قریش کے مدبرین میں سے تھا۔ عتبہ کی رائے جنگ کی موافقت میں نہ تھی۔ عتبہ نے اپنی رائے کا اظہار حکیم بن حزام سے کیا۔ حکیم بن حزام وہ ہیں جو بعد کو اسلام لائے۔

حکیم بن حزام ابو جہل کے پاس آئے اور کہا کہ عتبہ نے مجھےتمہارے پاس بھیجا ہے۔ اور عتبہ کی پوری گفتگو ابوجہل کے سامنے نقل کرتے ہوئے کہا کہ بہتر یہ ہے کہ ہم لوگ جنگ سے باز آجائیں۔ یہ جنگ ہمارے لئے مفید نہ ہوگی۔ ابوجہل نے سختی سے انکار کر دیا اور کہا کہ ایسا کبھی نہ ہوگا۔ ہم ضرور محمد سے لڑنے کے لئے جائیں گے۔ پھر ابو جہل نے کہا کہ عتبہ تو ڈرپوک آدمی ہے۔ وہ بزدلی کی وجہ سے ایسی باتیں کررہا ہے۔ ابوجہل نے کہا محمد کے ساتھیوں میں عتبہ کا بیٹا (ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ) بھی ہے۔ وہ نہیں چاہتا کہ اس کا بیٹا قتل ہو، اس لئے وہ تم کو ڈرارہا ہے: وفيهم ابنه فقد تخوفكم علیہ ۔

other sourceWords of another person or source

ابن ہشام دوم،263

ابو جہل نے دلیل کا جواب الزام سے دیا۔ اس طرح ایک صحیح بات کو قبول نہ کرنا اور نیت پرحملہ کرتے ہوئے اسے رد کر دینا ابو جہل کی سنت ہے ، جو لوگ ایسا کریں وہ اپنے آپ کو ابو جہل کا ساتھی بنارہے ہیں۔

24 اگست 1984

ایک صاحب نے ایک وعدہ کیا اور پھر انھوں نے اس کو پورا نہیں کیا۔ بعد کو ملاقات ہوئی تو وہ عذر بیان کرنے لگے۔ میں نے کہا کہ جس چیز کو آپ عذر بنارہے ہیں اس کو عذر نہ بنائیے ۔ حقیقت یہ ہے کہ عذر کوعذر نہ بنانے ہی کا نام زندگی ہے۔ اس دنیا میں بھی ایسا ممکن نہیں کہ آدمی کے پاس عذرات نہ ہوں ۔ یہاں جو شخص عذر کو عذر بنائے وہ کبھی کوئی بڑا کام نہیں کرسکتا۔ اس حقیقت کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیاگیا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

الرجل مغبون باثنين الصحة والفراغ.

آدمی ہمیشہ دو چیزوں سے دھوکے میں رہتا ہے : صحت اور فرصت۔ اس دنیا میں کامل صحت اور کامل فرصت ممکن نہیں ۔ اس لئے کامل صحت اور فرصت کا انتظار کرنے والا کبھی کوئی کام کی نہیں کرسکتا۔ زندگی کو کا سب سے بڑا راز یہ ہے کہ اگر آپ کے پاس ایک بہترین عذر ہو تب بھی اس کو استعمال نہ کیجئے :

If you have a good excuse don't use it.

25 اگست 1984

ہالی وڈ (امریکہ) کے ایک دولت مند فلم پروڈیوسر کی لڑکی کسی ابتدائی اسکول میں پڑھتی تھی۔ اس کی استانی نے لڑکی کو کہانی لکھنے کے لئے ایک عنوان دیا۔ عنوان تھا " مفلس گھرانا “ لڑکی نے اپنی کہانی میں لکھا ، ایک دن کا ذکر ہے کہ کہیں کوئی مفلس گھرانا تھا ۔ اس کی ماں مفلس تھی۔ اس کا باپ مفلس تھا۔ اس کے بچے مفلس تھے ۔ اس کا بیرا مفلس تھا، اس کا شوفر مفلس تھا۔ اس کی ماما مفلس تھی ۔ اس کا مالی مفلس تھا۔ غرض اس گھرانے کا ہر شخص مفلس تھا ....

یہ ایک دلچسپ مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آدمی کی معلومات اگر ناقص ہوں تو اس کی رائے بھی کسی قدر ناقص ہوکر رہ جاتی ہے۔

26 اگست 1984

We promise according to our hopes, and perform according to our fears. La Rochefoucauld

other sourceWords of another person or source

(ہم اپنی امیدوں کے مطابق وعدہ کرتے ہیں اور اپنے اندیشوں کے مطابق تعمیل کرتے ہیں) اس کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ جب وعدہ کرنا ہوتا ہے تو آدمی بڑے بڑے وعدے کر لیا ہے۔ اور جب اس کی تعمیل کا وقت آتا ہے تو وہ بس اتنی ہی تعمیل کرتا ہے جتنی تعمیل کے لئے وہ مجبور کر دیا گیا ہو۔

یہ انسان کی کمزوری ہے اور موجودہ زمانے کے مسلمان سب سے زیادہ اس کمزوری کا شکار ہیں۔

27 اگست 1984

انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا میں نیشنلزم کا آرٹیکل پڑھ کر ایک تاثر ہوا جس کو یہاں لکھتا ہوں:

جدی نیشنلزم کی تحریک اٹھارویں صدی میں یورپ میں پیدا ہوئی ۔ انیسویں صدی کے نصف آخر میں وہ ایشیا اور افریقہ میں پہنچی۔ اس وقت یہ ممالک بیرونی طاقتوں کے سیاسی محکوم تھے، ان کے درمیان ان کی اپنی حکومتیں قائم نہ تھیں ۔ اس بنا پرنیشنلزم کا نظریہ ان میں بہت مقبول ہوا۔ کیوں کہ اس میں انھیں اپنے سیاسی حوصلے کے حق میں یہ نظریاتی دلیل مل رہی تھی کہ ان کے ملک میں خود اپنی ملکی اور قومی حکومت قائم ہونا چاہئے۔ چنانچہ ان ملکوں میں نیشنلزم کی تحریکیں بہت مقبول ہوئیں ۔ یہاں تک کہ نیشنلزم کے زور پر بیسویں صدی میں ایشیا اور افریقہ کے تقریبا تمام ممالک آزاد ہوگئے۔

مگر اس کے بعد کیا ہوا ۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ ایشیا اور افریقہ کے یہ ممالک آپس میں لڑ گئے ۔ ایشیا اور افریقہ کے ان آزاد ممالک کا مفاد آپس میں ٹکرا گیا۔ وہ ایک دوسرے سے لڑنے لگے ۔ اب معلوم ہوا کہ نیشنلزم کا نظریہ جو محکوم قوم کی حیثیت سے ان کے لئے نہایت مفید تھا ، وہ آزاد قوم کی حیثیت سے ان کے لئے مفید نہیں۔

انیسویں صدی کی دنیا میں جدید نیشنلزم کو کامل سچائی سمجھ لیا گیا تھا۔ مگر تجربہ کے بعد معلوم ہوا کہ وہ صرف آدھی سچائی ہے، وہ پوری سچائی نہیں ۔

28 اگست 1984

What we call progress is the exchange of one nuisance for another. Havelock Ellis

other sourceWords of another person or source

(جس چیز کو ہم ترقی کہتے ہیں وہ اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ ایک اذیت سے دوسری اذیت کا تبادلہ ہے) قرآن میں ہے کہ لقد خلقنا الانسان في كبد (ہم نے انسان کومشقت میں پیدا کیا ہے)۔ یہی بات بائبل میں ان لفظوں میں ہے کہ اللہ تعالی نے آدم کو زمین پر بھیجا تو کہا کہ مشقت کے ساتھ تو اپنی عمر بھر زمین کی پیداوار کھائے گا۔ اور وہ تیرے لئے کانٹے اور اونٹ کٹارے اگائے گی ۔ تو اپنے منھ کے پسینہ کی روٹی کمائے گا ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے ۔ یہاں آدمی اپنی آرزؤوں کی دنیا نہیں بنا سکتا۔ یہاں پر ترقی اور کامیابی کے ساتھ ایک کانٹا لگا دیا گیا ہے تاکہ آدمی موجودہ دنیا پر شائع نہ ہو سکے۔ وہ موجودہ دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کی دنیا کو یاد رکھے۔

29 اگست 1984

موجودہ زمانہ میں اسلام پر جو کتابیں لکھی گئی ہیں ، ان سب کا مشترک عنوان تجویز کرنا ہو تو وہ صرف دو ہوگا۔ــــــ فضائل اسلام اور مسائل اسلام ۔ ان کتابوں کا خواہ جو بھی نام ہو اور وہ خواہ جس موضوع پر بھی ہوں، لیکن گہرائی کے ساتھ دیکھئے تو وہ یا تو اسلام کے فضائل دکھانے کے لئے لکھی گئی ہوں گی یا اسلام کے مسائل بتانے کے لئے۔

عصر حاضر میں سب سے زیادہ جس موضوع پر کتابیں لکھنے کی ضرورت تھی وہ ہے : اظہار اسلام ۔ اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کے سامنے نہ تو اظہار اسلام کا مقصد تھا اور نہ انھوں نے اظہار اسلام پرکتابیں لکھیں ۔ اظہار اسلام سے میری مراد ہے اسلام کی تعلیم کو عصری اسلوب میں پیش کرنا تاکہ وہ آج کے انسان کے لئے قابل قبول ہوسکے۔

30 اگست 1984

كل بني آدم خطاء وخير الخطائين التوابون (ترمذی)

ہرانسان خطا کار ہے اور بہترین خطا کار وہ ہیں جو خطا کے بعد توبہ کریں ۔

خطا کے بعد توبہ کرنا دوسرے لففلوں میں غلطی کر کے اپنی غلطی کا اعتراف کرنا ہے اور یہ بلاشبہ سب سے بڑی نیکی ہے۔ اللہ تعالی نے انسان کو سب سے زیادہ غلطی کرنے والا بنایا ، تاکہ وہ سب سے زیادہ نیکی کرنے والا بنے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ غلطی کے بعد آدمی اس کا اعتراف نہیں کرتا ۔ خدا کے سامنے وہ توبہ کے الفاظ بول دے گا مگر اپنے جیسے آدمی کے سامنے اپنی غلطی کا اعتراف کرنا ہو تو وہ کسی حال میں اعتراف کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ وہ سمجھتا ہے کہ اعتراف کرنے کے بعد میں اس کے سامنے بے عزت ہو جاؤں گا۔

غلطی حقیقت واقعہ سے انحراف کا دوسرا نام ہے ۔ آدمی کو جاننا چاہئے کہ وہ حقیقت واقعہ کو بدل نہیں سکتا۔ اپنے آپ کو بدلنا ممکن ہے ، مگر حقیقت واقعہ کو بدلنا ممکن نہیں۔ کیا عجیب ہے وہ انسان جو غیر ممکن کو کرے اور جو ممکن ہو اس کو چھوڑ دے۔

31 اگست 1984

ایک شخص حضرت سعید بن جبیر کے پاس آیا۔ اس نے کہا کہ فلاں حدیث کو ماننے میں مجھے تردد ہے، کیوں کہ وہ مجھے قرآن کے خلاف نظر آتی ہے ۔ حضرت سعید بن جبیر نے فرمایا:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اعلم بكتاب الله منك

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم سے زیادہ اللہ کی کتاب کو جاننے والے تھے۔

ایک حدیث کے متعلق اگر یہ ثابت ہو جائے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہے تو پھر اس میں عقل کو استعمال کرنا جائز نہیں۔ کیوں کہ عقل نہایت محدود ہے ۔ صرف یہی نہیں کہ عقل ہربات کی تہہ تک پہنچ نہیں سکتی ، بلکہ انسان کی عقل بعض اوقات کسی چیز کو صحیح زاویے دیکھ نہیں پاتی۔ زاویہ نگاه کی غلطی کو وہ اصل بات کی غلطی سمجھ سمجھ لیتی ہے۔ بار بار کا تجربہ ہے کہ ایک بات کو ایک رخ سے دیکھا جائے تو وہ غلط نظرآتی ہے ، حالاں کہ اسی بات کو دوسرے رخ سے دیکھاجائے تو وہ عین درست نظر آنے لگے گی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

آدمی اپنے قیام سے رائے قائم کرتا ہے ۔ حالانکہ تجربہ بتاتا ہے کہ قیاس صحیح بھی ہوسکتاہے اور غلط بھی ۔ آدمی اگر قیاس صحیح اور قیاس فاسد کا فرق جان لے تو وہ ایسی باتوں پر اصرار کرنا چھوڑ دے ۔

Highlights
Reading

The realization of God is the essence of religion. Without maarifah, religion is reduced to a spiritless form.

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content