← Diary 1983-1984Diary 1983-1984
June 1983
English · 32 min read
یکم جون 1983
ایک عربی جریدہ میں ایک مضمون پڑھا۔ عنوان تھا : من اقوال الصحابة۔ اس میں درج تھا کہ خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق نے ایک بار فرمایا۔ وہ ایک آدمی کی تلاش میں تھے جس کو کسی مقام کا حاکم بنا سکیں۔ انھوں نے کہا کہ میں ایک ایسا آدمی چاہتا ہوں کہ جب وہ کسی گروہ میں امیر ہوتو وہ انہیں کے ایک شخص کی طرح رہے ، اور جب وہ امیر نہ ہو تو ان کے درمیان امیر کی طرح بنا ہوا ہو ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قال عمر رضي الله عنه وهو يبحث عن رجل يوليه عملا : اريد رجلا اذا كان في القوم وهو اميرهم كان كبعضهم واذا لم يكن امیرا فكانه اميرهم –
hadithQuotes a hadith
اس کا مطلب یہ ہے کہ اس آدمی کے اندر ایسے اخلاقی اوصاف ہوں کہ عہدہ کے بغیروہ لوگوں کے در میان عزت واحترام کا درجہ حاصل کرلے ۔ مگراسی کے ساتھ و واتنا بے نفس ہو کہ اگر اس کو عہدہ پر بیٹھا دیا جائے تو اس کے اندر بڑائی کا احساس پیدا نہ ہو، اس کے باوجود وہ لوگوں کے درمیان عام آدمی کی طرح رہے ۔۔۔۔۔۔۔ اچھے عہدیدار کی اس سے بہتر تعریف نہیں ہوسکتی۔
2 جون 1983
سئل المغيرة بن شعبة عن عمر بن الخطاب رضوان الله عليه فقال: كان والله افضل من أن يخدع واعقل من ان يخدع وهوالقائل لست بحب و الخب لا يخدعنى
other sourceWords of another person or source
مغیرہ بن شعبہ سے حضرت عمرفاروق کے بارہ میں پوچھا گیا۔ انھوں نے کہا کہ خدا کی قسم وہ اس سے بلند تھے کہ وہ کسی کو دھوکا دیں اور اس سے زیادہ دانش مند تھے کہ کوئی انھیں دھوکا دے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ میں دغا باز نہیں ، اور کوئی دغا باز مجھے دھوکا نہیں دے سکتا ۔
other sourceWords of another person or source
دانش خدا کی عام نعمت ہے۔ خدا ہر زمانہ میں بے شمار لوگوں کو دانش اور ہوشیاری عطا فرماتا ہے۔ مگر مومن اور غیر مومن میں یہ فرق ہے کہ مومن دانش کے استعمال کی حد جانتا ہے ، جب کہ غیر مومن دانش کے استعمال کی حد نہیں جانتا۔ یہ بلاشبہ دانش کا جائز استعمال ہے کہ آدمی دوسروں کی دغا بازی سے بچے ۔ مگر مومن کا خوف خدا اس بات کی ضمانت ہوتا ہے کہ وہ دوسروں کی دغا بازی سے اپنے آپ کو بچائے گا مگر خود کبھی دوسروں کو دھوکا نہیں دے گا
3 جون 1983
قدیم عرب میں قبیلہ ثقیف ایک سرکش قبیلہ تھا۔ وہ طائف کے واحد محصورشہر میں رہتا تھا۔ یہ لوگ فتح کے بعد آخری زمانہ میں ایمان لائے۔ روایات میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ثقیف کے لوگوں نے ارادہ کیا کہ وہ اسلام کو چھوڑ دیں اور مرتد ہو جائیں۔ اس وقت انھوں نے اپنے ایک بزرگ شخص عثمان بن ابی العاص سے مشورہ کیا ۔ انھوں نے ان سے کہا : تم لوگ عربوں میں سب سے آخر میں اسلام لانے اور ان میں سب سے پہلے اسلام کو چھوڑ دینے والے نہ بنو۔ یہ رائے ثقیف کے لئے مفید ثابت ہوئی۔ وہ اپنے ارادے سے بازرہے:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ساهمت ثقيف بالارتداد بعد وفاة النبي صلى الله عليه وسـاماسـتشارواعثمانبنالى العاص وكان مطاعأفيه فقال لهـملاتكونواآخـرالعـربإسلاماًواولهمارتداداً. فنفعهماللهبـرايـه
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
انسانی خصوصیات میں سے آخری چیز غیرت ہے ۔ ثقیف کے اندر اگر چہ گمراہی کے جذبات پیدا ہوئے ، تاہم غیرت کا احساس پھر بھی ان کے اندر زندہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ایک جملہ ان کی اصلاح کے لئے کافی ہو گیا۔ اور جس آدمی کے اندر سے غیرت کا احساس رخصت ہو جائے ، لمبی تقریر بھی ان کو تڑپانے کے لئے کافی نہیں ہوسکتی
4 جون 1983
زیاد بن ابی سفیان نے کہا کہ عقل مند وہ نہیں ہے جو معاملہ میں پڑ جانے کے بعد اس کی تدبیر کرے ۔ عقل مند وہ ہے جو پہلے ہی تدبیر کرے تاکہ وہ معاملہ میں نہ پڑے ۔ تال زید بن ابی سفیان ليس العـاقـلالذيوقعفيالامـراتالله. ولكنالعاقليعتالللامرحتى لا يقع فيه
other sourceWords of another person or source
اس "عقل" کو حاصل کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ مشورہ ہے۔ وہ انسان بہت خوش قسمت ہے جس کو صاحب فہم افراد مشورہ دینے کے لئے مل جائیں مشورہ کا یہ فائدہ ہوتا ہے کہ اس میں کئی آدمیوں کے تجربات اکھٹا ہو جاتے ہیں ۔ اس طرح ایک شخص کو موقع مل جاتا ہے کہ وہ وسیع تر معلومات کی روشنی میں کوئی فیصلہ لے سکے۔
5 جون 1983
علم حدیث میں ایک چیز وہ ہے جس کو" جرح و تعدیل" کہتے ہیں ، راوی کے اوصاف وخصائل کی تحقیق کے بعد اس کے ان عیوب کا اظہار کرنا جو اس کی روایت کے قبول کرنے میں خارج ہوں جرح کہلاتا ہے۔ اور راوی کے اخلاق و کردار کی تحقیق کے بعد یہ بتانا کہ راوی ثقہ ہے، تعدیل کہلاتا ہے۔
راویوں کی چھان بین کے اس کام میں سیکڑوں محدثین نے اپنی عمریں صرف کر دیں۔ وہ ایک ایک شہر گئے۔ راویوں سے ملے ۔ ان کے پڑوسیوں سے ملاقاتیں کیں۔ ان کے حلقہ تعارف سے رابطہ قائم کیا۔ جو روا ة اس زمانہ میں موجود نہ تھے ان کے دیکھنے والوں سے ان کے حالات معلوم کئے ۔ اس طرح راویوں کے حالات کا ایک پورا انسائیکلو پیڈیا تیار کر ڈالا ۔ اسی کو دیکھ کر ڈاکٹرا سپرنگ (Sprenger) نے کہا تھا کہ مسلمان اس خصوصیت میں ممتاز ہیں کہ انھوں نے اپنے پانچ لاکھ علماء کے حالات محفوظ رکھے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مگر یہ کام آسانی سے نہیں ہو گیا۔ اگر اس زمانہ کے لوگوں کی طرف سے زبر دست اعتراضات کے لئے کیوں کہ یہ طریقہ نہ صرف اشخاص پر تنقید سے تعلق رکھتا تھا، بلکہ بظاھر وہ غیبت اورتجسس تک پہنچتا تھا۔ محدثین کو بار بار یہ وضاحت کرنی پڑی کہ معرفت حدیث کا یہ طریقہ (جرح وتعدیل) غیبت نہیں ہے بلکہ شریعت اسلامی کے عین مطابق ہے ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
محدثین کے حالات میں جو کتابیں لکھی گئی ہیں ، ان میں اس طرح کے واقعات کثرت سے موجود ہیں ۔ مثلا ابو تراب نخشبی نے امام احمد بن حنبل سے کہا کہ علماء اسلام کی غیبت نہ کیجئے ۔ اس کے جواب میں امام احمد بن حنبل نے کہا : افسوس ہے تمہارے اوپر تم کو جاننا چاہئے کہ ہمارا یہ کام نصیحت ہے کہ نہ کہ غیبت
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
6 جون 1983
ایک مسلمان بزرگ سے ملاقات ہوئی ۔ انھوں نے ہندستان کے موجودہ حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا : ملک کی آزادی کے لئے ہم نے سب سے زیادہ قربانی دی اور ہمیں کوسب سے زیادہ نظر انداز کیا جارہا ہے۔ میں نے کہا کہ آپ نے ایک صحیح بات کو غلط لفظ میں بیان کیا ہے۔ آپ کو یوں کہنا چاہئے کہ ملک کی آزادی کے لئے ہم نے سب سے زیادہ بے وقوفی کی ، اور بے وقوفی کرنے والوں کو ہمیشہ نظر انداز ہی کیا جاتا ہے ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مسلمانوں نے ۱۸۵۷ میں مسلح بغاوت کے ذریعہ ہندستان کو آزاد کرنا چاہا۔ مگراسلحہ کی طاقت میں انگریز ان سے بہت زیادہ بڑھا ہوا تھا اس لئے یہ بغاوت صد فی صد ناکام رہی۔ اس کے بعد مسلم لیڈروں نے "ریشمی رومال“ جیسی تحریکیں چلائیں۔ ان کا مقصد بیرونی ممالک سے مدد لے کر ہندستان میں انگریزی اقتدار کوختم کرنا تھا۔ مگر یہ تحریک بھی صد فی صد ناکام رہی ۔ کیوں کہ باہر کے ملکوں نے ہمارے قائدین کی خوش فہمیوں کے برعکس ان کا ساتھ نہیں دیا۔ اس کے بعد ترکی کی خلافت کے نام پر جلسے جلوس کا ہنگامہ کھڑا کیا گیا ۔ اندازہ یہ تھا کہ ترکی کی مردہ خلافت دو بارہ زندہ ہو جائے گی۔ اور ہندستان کی آزادی میں مددگار ثابت ہو گی ۔ مگر ۱۹۲۴ میں مصطفی کمال پاشا نے خلافت کے ختم شدہ ادارہ کے آخری خاتمہ کا اعلان کر دیا اور ہمارے رہنماؤں کی خلافت تحریک اچانک کٹی ہوئی شاخ کی طرح زمین پر گر پڑی۔
مسلم رہنما تشدد کے ذریعہ ہندستان کو آزاد کرانا چاہتے تھے مگر منصوبہ سراسرنا کام ہوگیا۔ اس کے بعد مہاتما گاندھی منظر پر آئے ۔ انھوں نے عدم تشدد کی تدبیر کو کامیابی کے ساتھ استعمال کیا۔ یہاں تک کہ ۱۹۴۷ میں ہندستان آزاد ہوگیا۔ تحریک آزادی کے اس دوسرے دور میں مہاتما گاندھی کو قائد کا مقام حاصل تھا اورمسلم رہنماؤں کو صرف پیرو کا۔ ایسی حالت میں ہندستانی مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ تاریخ کے فیصلہ کے تحت ہو رہا ہے ۔ اس کی ذمہ داری تاریخی حقائق پر ہے ۔ اس کے لئے ہندویا حکومت کی شکایت کرنا ماضی کی بے وقوفی پر حال کی بے وقوفی کا اضافہ کرنا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
7 جون 1983
چڑیا کو اڑتی ہوئی دیکھ کر خیال آیا کہ خداا شاروں کی زبان میں ان کی رہنمائی کرتا ہے ۔ دنیا کی تمام چیزیں اس ڈھنگ پر بنائی گئی ہیں کہ ان سے انسان کو ہر قسم کا مفید سبق ملتا رہے۔
گھوڑے کو خدانے زمین پر دوڑا دیا۔ اس کو دیکھ کر انسان کا ذہن اس طرف منتقل ہوا کہ وہ گاڑی بنائے۔ گاڑی بنیادی طور پر گھوڑے کی نقل ہے ، اس فرق کے ساتھ کہ گھوڑے کے پاؤں کو گاڑی کے پیر کی صورت میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اس طرح خدا نے مچھلی کو پانی میں تیرایا تاکہ انسان کشتی اور جہاز بنانے کی بات سوچ سکے ۔ خدانے چڑیوں کو ہوا میں اڑایا تاکہ اس کو دیکھ کر انسان کا ذہن ہوائی جہاز بنانے کی طرف منتقل ہو۔
اسی طرح دنیا میں جو چیزیں ہیں ، ان میں ہرقسم کے سبق رکھ دئے گئے ہیں، دنیا کے فائدے کے بھی اور آخرت کے فائدے کے بھی۔
8 جون 1983
شیخ تاج الدین سبکی (۱ ۷۷- ۱۲۷۰ء) نے اپنی کتاب طبقات الشافعیہ الکبری میں لکھا ہے کہ امت کے ہر امام کے ساتھ یہ معاملہ پیش آیا کہ لوگوں نے ان کو نشان ملامت بنایا ، اور اس کے نتیجہ میں ہلاک ہونے والے ہلاک ہوئے ( ما من امام الاوقد طعن فيه طاعنون وهلك فيه هالكون)
other sourceWords of another person or source
ایک چیز ہے اختلاف رائے اور دوسری چیز ہے طعن۔ دلیل کے ساتھ اختلاف رائے کرنا عین جائز بلکہ مفید ہے۔ مگر بے دلیل الزام لگانا اور شخصی عیب جوئی کرنا ہرگز جائز نہیں۔ اس کا نام طعنہ زنی ہے۔ اور وہ بلاشبہ ایمان کے منافی ہے۔
ہر زمانہ کے امام (بڑی شخصیتوں) کے ساتھ طعنہ زنی کیوں کی گئی۔ اس کا وا حد سبب حسد ہے۔ انسان اپنے سوا کسی اور کو بڑا ماننا نہیں چاہتا ، اس لئے جب وہ کسی کو بڑا ہوتے ہوئے دیکھتا ہے تو اس کی عیب جوئی کر کے اپنے دل کی بھڑاس نکالتا ہے ۔ وہ واقعہ میں جب اپنے محسود کو چھوٹا نہیں کر پاتا تو لفظوں میں اسے چھوٹا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ منفی نفسیات کے زیراثر وہ بھول جاتا ہے کہ اس طرح وہ خود اپنے آپ کو چھوٹا کر رہا ہے نہ کہ کسی دوسرے کو۔
9 جون 1983
الرسالہ کے انداز پرتنقید کرتے ہوئے ایک صاحب نے کہا کہ آپ تو قوم کو بزدل بنا دینا چاہتے ہیں ۔ حالانکہ علامہ اقبال نے کہا ہے :
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق عقل ہے محوتماشائے لب بام ابھی
میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی سب سے بڑی ٹریجڈی یہ ہے کہ ان کے درمیان خیالی قسم کے رھنما اٹھے۔ کوئی اقبال کی طرح شاعر تھا ، کوئی خطیب اور کوئی انشا پرداز۔ ان لوگوں نے حقائق پر دھیان نہیں دیا۔ بس الفاظ کے ذریعہ خیالی تصوریں بناتے رہے۔
مثلا اقبال کا یہ شعر جسے آپ لوگ بڑی دھوم کے ساتھ پڑھتے ہیں ، سراسر لغو ہے۔ اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ اس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تصویریہ بتائی گئی ہے کہ وہ عشق سے سرشار ہوکر بطور خود بھڑکتی ہوئی آگ میں کود پڑے ۔ حالانکہ یہ بات واقعہ کے بالکل خلاف ہے۔
اصل واقعہ کے مطابق ، حضرت ابراہیم آگ میں جبرا ڈالے گئے تھے ، نہ کہ خودسے آگ میں کودے تھے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ حضرت ابراہیم کے دشمنوں نے باہم مشورہ سے یہ منصوبہ بنایا کہ انھیں آگ میں ڈال دو ( قالوا حرقواہ ) اور پھر آگ جلا کر اس میں انہیں پھینک دیا۔ (الانبیاء 68 )
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
روایات میں اس کی تفصیل آئی ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے بڑی تعداد میں لکڑی جمع کی ۔ اس کے بعد ایک گڑھے میں آگ دہکائی ۔ پھر حضرت ابراہیم کو باندھ کر منجنیق میں رکھا اور اس کے ذریعہ ان کو آگ میں پھینک دیا (ثم اوثقوا ابراهيم وجعلوہ في منجنيق ورموه في النار،صفوة التفاسير، الجلد الثاني ، صفحه 268 )
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
10 جون 1983
شیعہ مذہب کا سارا انحصار اہل بیت کے تقدس پر ہے ۔ مگر اہل بیت سے مراد ان کے نزدیک صرف حضرت فاطمہ اور ان کی اولاد ہے حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تین اور صاحبزادیاں تھیں ـــــــ زینب، رقیہ، ام کلثوم ۔ اور ظاہر ہے کہ اولاد رسول ہونے کے اعتبارسے سب یکساں ہیں ، اس لئے تقدس کے معاملہ کو صرف فاطمہ سے وابستہ کرنے کی کوئی شرعی یاعقلی وجہ نہیں۔
مگر انسان کا دماغ اپنے نقطہ نظر کو ثابت کرنے میں بہت زرخیز واقع ہوا ہے ۔ چنانچہ کچھ شیعہ علماء نے اپنے مسلک کی ایک تاویل دریافت کر لی ۔ انھوں نے کہ دیا ر کہ سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقی صاحبزادی صرف حضرت فاطمہ تھیں۔ باقی تین صاحبزادیاں ( زینب ، رقیہ ، ام کلثوم ) آپ کی حقیقی صاحبزادی نہ تھیں ، وہ حضرت خدیجہ کے پہلے شوہر کی اولاد تھیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
حالانکہ یہ صرف ایک دعوی ہے ، اس کا کوئی واقعی ثبوت موجود نہیں خود قرآن (الاحزاب 59 ) میں پردہ کے حکم کے تحت یہ الفاظ آتے ہیں : یا ایها النبي قل لازواجك وبناتك اس میں بنت کے بجاۓ بنات (جمع کا صیغہ) ہے جو بتاتا ہے کہ آپ کی صاحبزادیاں کئی تھیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
11 جون 1983
سائنسی تحقیقات کے مطابق آنسوؤں کی دوقسمیں ہیں۔ ایک وہ جو ریت یا دھوئیں وغیرہ کے سبب سے آنکھوں سے بہنے لگتے ہیں ۔ یہ آنکھ کی صفائی کا قدرتی انتظام ہے۔ اس قسم کے آنسو انسانوں اور جانوروں دونوں میں پائے جاتے ہیں۔
other sourceWords of another person or source
آنسووں کی دوسری قسم وہ ہے جو جذباتی دباؤ یا نفسیاتی ہیجان کے وقت نکلتے ہیں۔ غم یا خوشی کا شدید احساس ہو تو اس وقت آنکھ سے آنسونکل پڑتے ہیں۔ یہ دوسری قسم کے آنسو صرف انسان کے اندر پائے جاتے ہیں۔ کیوں کہ ان کا تعلق نازک احساسات سے ہے، اور جانور اس قسم کے نازک احساسات نہیں رکھتے ۔ کہا جاتا ہے کہ غم واندوہ کے تحت نکلے ہوئے آنسو دوسرے آنسوؤں سے مختلف ہوتے ہیں۔ ان کی کیمیائی ساخت مخصوص نوعیت کی ہوتی ہے جو دوسرے آنسوؤں میں نہیں پائی جاتی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
میرے نزدیک آنسووں کی ایک تیسری قسم بھی ہے جس کو " ربانی آنسو" کہا جاسکتا ہے۔ یہ آنسو مذکورہ دونوں قسموں سے بالکل الگ ہوتے ہیں۔ وہ خدا کے ساتھ انسانی روح کے ارتباط سے ظاہر ہوتے ہیں۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب کہ بندہ بندہ رہتے ہوئے اپنے رب سے مل جاتا ہے ، جب وہ موجودہ دنیا میں رہتے ہوئے حسیاتی طور پر دوسری دنیا میں پہنچ جاتا ہے، اس وقت انسان حقیقت اعلی کا براہ راست تجربہ کرتا ہے ۔ تجربہ کے دوران اس کی روح پر جو ناقابل بیان احوال گزرتے ہیں ، وہ خارجی طور پر آنسوؤں کی صورت میں بہہ نکلتے ہیں۔
12 جون 1983
فلپ ڈورمراسٹان ہوپ کا قول ہے کہ موجودہ لوگوں کے بارہ میں تحقیر کے بغیربولو ،اور قدیم لوگوں کو بت بنائے بغیران کے بارہ میں کلام کرو :
other sourceWords of another person or source
Speak of the moderns without contempt and of the ancients without idolatry.
- Philip Dormer Stanhope
انسان کا حال یہ ہے کہ وہ اپنی ہم زمانہ شخصیتوں کو حقیر سمجھتا ہے۔ وہ ان کے بارہ میں منصفانہ رائے قائم نہیں کر پاتا۔ اس کے برعکس ماضی کی شخصیتوں کو وہ بت بنا لیتا ہے ، وہ ان کے بارہ میں مبالغہ آمیزقصیدہ خوانی کرتا ہے ۔ یہ دونوں باتیں غلط ہیں۔ آدمی کو حقیقت پسندی اور انصاف پر قائم رہنا چاہئے ۔
خواہ وہ ماضی کی شخصیتوں پر کلام کر رہا ہو یا حال کی شخصیتوں پر ۔
13 جون 1983
ایک اجتماع کی تاریخ پر بعض لوگوں کو اعتراض تھا۔ اس پر اظہار خیال کرتے ہوئے میں نے کہا کہ لوگ ہم سے کہتے ہیں کہ جون کا مہینہ اجتماع کرنے کے لئے بہت غیر موزوں ہے ۔ مگرایسا صرف وہ لوگ کہہ سکتے ہیں جو اس اجتماع کو عام قسم کا ایک سمینار سمجھتے ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے جس مقصد سے یہ اجتماع رکھا ہے اس کے لحاظ سے جون کا مہینہ موزوں ترین مہینہ ہے۔ یہ اجتماع ہم نے اس لئے رکھا ہے کہ یہ دیکھیں کہ کیا قوم میں کچھ ایسے لوگ ہیں جو جون کی گرمی کو دیکھ کرجہنم کی گرمی کو یاد کریں خدا کی جنت کا شوق جن کی نظر میں دنیا کی مصیبتوں کو بے قیمت کر دیتا ہو۔ اس تین روزہ تجربے میں آپ کو جو تکلیفیں پہنچیں گی وہ اس سے بہت کم ہیں جو پچھلے حق پرستوں کو پہنچیں۔ اگر آپ اس معمولی مصیبت کو برداشت نہ کرسکیں تو آپ سے کیا امید کی جاسکتی ہے کہ آپ حق کی خاطر اس سے زیادہ قربانیاں دے سکتے ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
بنی اسرائیل کے قائد نے اپنی فوج کو پیاس کے باوجود دریا میں پانی پینے سے روک دیا۔ ( بقره 249 ) بدر کا غزوہ رمضان کے مہینہ میں پیش آیا۔ تبوک کا سفر ایسے وقت میں کرنا پڑا جبکہ فصلیں کاٹنے کے لئے بالکل تیار کھڑی تھیں۔ وغیرہ ۔ اس قسم کے واقعات بالقصد اس لئے کئے گئے تا کہ پہلے ہی مرحلہ میں قوم کی استعداد کا اندازہ کر لیا جائے۔ اگر آپ ان معمولی مصیبتوں کو برداشت نہیں کرسکتے تو یقینا یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ سے اس کے آگے کی کوئی امید کرنا سخت ترین نادانی ہوگی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
14 جون 1983
ایران کے قدیم بادشاہ کو مسلمانوں کے مقابلہ میں نہاد ند کے مقام پر فیصلہ کن شکست ہوئی تھی ۔ مورخ طبری کا بیان ہے کہ اس کے بعد اس نے چین کے بادشاہ کے پاس اپنا ایک قاصد بھیجا تاکہ مسلمانوں کے مقابلہ میں اس کی مدد حاصل کرے ۔ شاہ چین نے قاصد سے مسلمانوں کے اوصاف پوچھے۔ اس کے بعد اس نے شاہ ایران کو خط لکھا :
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
بادشاہوں کا فرض ہے کہ وہ مغلوب بادشاہوں کی درخواست پر ان کی مدد کریں۔ میں تمہاری مدد کے لئے ایسا لشکر بھیج سکتا ہوں جس کا اگلا سرا مرو میں ہو اور دوسرا سرا چین میں مگر دشمن کے جو اوصاف مجھے بتائے گئے ہیں وہ بہت قابل توجہ ہیں۔ یہ لوگ جب تک ان اوصاف کے حامل ہیں، وہ پہاڑ کو بھی اپنی جگہ سے ہٹا دیں گے حتی کہ میری حکومت کو ختم کرنا بھی ان کے لئے مشکل نہ ہوگا ۔ اس لئے میری رائے ہے کہ تم ان سے صلح کر لو ۔ ان کی برتری پر راضی ہو جانا اس سے بہتر ہے کہ ان سے ٹکراؤ کیا جاۓ۔
شاہ چین کا یہ تبصرہ اس بات کا اعتراف ہے کہ اس دنیا میں کسی قوم کی اصل طاقت اس کا کردار ہے نہ کہ تعداد اور فوجی ہتھیار ۔
15 جون 1983
قال الامام ابوحنيفة : اذاجاء الحديث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم فعلى الرأس والعين واذاجاء عن الصحابة فعلى الرأس والعين واذا جاء عن التابعين فهم رجال ونحن رجال
other sourceWords of another person or source
امام ابوحنیفہ نے کہا کہ جب کوئی بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے تو سر آنکھوں پر۔ اور جب وہ صحابہ سے ملے تب بھی سرآ نکھوں پر ۔ اور جب وہ تابعین سے ملے تو وہ بھی آدمی ہیں اور ہم بھی آدمی ہیں۔
other sourceWords of another person or source
16 جون 1983
ایک مسلمان ڈاکٹر سے ملاقات ہوئی۔ ان سے ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل پر گفتگو ہوئی۔ میں نے کہا کہ ہندستان کے مسلمانوں کو ان اسلامی تعلیمات پر عمل کرنا چاہیے جن کو قرآن میں اعراض اور صبر اور یک طرف حسن کردار کہا گیا ہے۔ انھوں نے جواب دیا کہ یہ احکام مکی دور کے ہیں جب کہ ابھی امت نہیں بنی تھی ۔ امت بن جانے کے بعد جوتعلیم دی گئی ہے وہ جہاد ہے۔ اب ہم کو جہاد اورمقابلہ کے طریق پر عمل کرنا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
میں نے کہا کہ امت بننے کا جو نظریہ آپ پیشں کر رہے ہیں وہ بجائے خود قابل بحث ہے۔ تاہم اس سے قطع نظر، یہ بتائیے کہ قرآن میں یہ کہاں لکھا ہوا ہے کہ اعراض اور صبر جیسے احکام امت بننے سے پہلے کے لئے ہیں۔ امت بننے کے بعد کے لئے نہیں۔ امت بننے کے بعد جہاد و قتال کے حکم پرعمل کرنا ہے ۔ وہ اپنے نقطہ نظر کی تائید میں قرآن کی کوئی آیت پیش نہ کر سکے۔
میں نے کہا کہ " امت " کا تصور بالکل مفروضہ تصور ہے۔ اس کا قرآن سے کوئی تعلق نہیں ۔ اعراض کے بارے میں قرآن میں یہ آیت ہے کہ واعرض عن الجاهلين (اعراف 199 ) گویا اعراض اختیار کرنے کا سبب دوسروں کا جہل ہے ، نہ کہ امت بننا یا نہ بننا ۔ اس طرح قرآن میں بتایا گیا ہے کہ لوگوں کی ایذارسانی پرصبرکرو اور ان کے برے سلوک کے باوجود ان سے اچھا سلوک کرو ، اس طرح جو تمہارا دشمن ہے وہ تمہارا دوست بن جائے گا (حم السجده 34، 35 ) یہاں بھی اغیار کی "عداوت" کو وجہ صبر بتایا گیا ہے نہ کہ امت بننے یا نہ بننے کو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
17 جون 1983
ہندستان ٹائمس (23 مئی1983) کے صفحہ 21 پر ایک مضمون چھپا ہے جس کا عنوان یہ ہے ۔ـــــ ارد شر پہلی بار گیس کی روشنی بمبئی میں لائے۔
Ardshir brought gas lighting into Bombay.
ارد شر ایک پارسی تھا۔ وہ مشہور واڈ یا خاندان میں پیدا ہوا جو انیسویں صدی میں پانی کا جہازبناتا تھا جس کی ایک گاہک ایسٹ انڈیا کمپنی بھی تھی ۔ ارد شر نے انجنیرنگ کی تعلیم حاصل کی۔ اس کو ٹکنکل چیزوں سے خاص دلچسپی تھی۔ اس نے انگلینڈ کا دورہ کیا تاکہ جدید ٹکنیک سے واقفیت حاصل کرے۔ واپس آ کر اس نے ہندستان میں بہت سے صنعتی منصوبے چلائے۔ اس نے بمبئی میں پہلی بار چراغ کے بجائے گیس کی روشنی کو رائج کیا۔
مسلمانوں نے قدیم روایتی دور میں دنیا کو بہت سی نفع بخش چیزیں دی تھیں ۔ مثلا کھیتوں کی سینچائی کے لئے چرخی کے بجائے رہٹ وغیرہ ، مگر دور جدید میں ان کا نام صرف لینے والوں کی فہرست میں درج ہے، دینے والوں کی فہرست میں ان کا نام میں درج نہیں ۔ یہی سب سے بڑی وجہ ہے جس نے انہیں دور جدید میں بے قیمت کر دیا۔
18 جون 1983
کسی فکر کا قول ہے ۔ سیاسی مدبر وہ شخص ہے جو سوال کو جانتا ہے ۔ اور سیاسی لیڈر وہ شخص ہے جو جوابات کو جانتا ہے ؛
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
A statesman is a man who knows the question. A politician is a man who knows the answers.
مدبر ایک سنجیدہ انسان ہوتا ہے۔ حقیقی معنوں میں کچھ کرنا چا ہتا ہے ، اس لئے وہ سوالات (مسائل) کو جاننا چاہتا ہے تاکہ ان کو جان کر انھیں حل کرے ۔ سیاسی لیڈروں کا معاملہ اس کے بر عکس ہے ۔ ان کا مقصد صورت حال کا استحصال کرنا ہوتا ہے ۔ وہ اپنی ذہانت صرف اس میں دکھاتے ہیں کہ جب کوئی شخص ان کے خلاف کوئی بات کہے تو فی الفور اس کا ایک مسکت جواب لفظوں میں ڈھال کر پیش کر دیں۔
19 جون 1983
ایک مطالعہ کے ذیل میں یہ حدیث سامنے آئی : عن ابي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يزال البلاء بالمؤمن والمؤمنة فى نفسه او ماله او ولدہ حت يلقى الله وماعليه من خطیئة (الترمذی) حضرت ابوہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن مرد اور مومن عورت پرمصیبتیں پڑتی رہتی ہیں ، اس کے جان میں اور اس کے مال میں اور اس کی اولاد میں ، یہاں تک کہ وہ اللہ سے اس حال میں ملتا ہے کہ اس کے اوپر کوئی گناہ نہیں ہوتا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مصیبتوں کے ذریعہ خطاوں کی معافی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مصیبت پڑنا آٹو میٹک طور پر خطاؤں کی معافی کا سبب بن جاتا ہے۔ یہ بات در اصل اس انسان کے اعتبار سے کہی گئی ہے جو مصیبتوں کا استقبال" مومن “ کی حیثیت سے کرے۔
ایک شخص جس کے اندر ایمانی شعور زندہ ہو ، اس کے لئے ہر مصیبت اس کو خدا سے مزید جوڑنے کا سبب بن جاتی ہے۔ اس کے ذریعہ سے اس کے اندر خدا کی یاد ابھرتی ہے۔ وہ اعلی ایمانی کیفیات کا تجربہ کرتا ہے ۔ وہ دنیا کے مقابلہ میں آخرت کا چا ہنے والا بن جاتا ہے۔ ہر مصیبت اس کو قدرت خدا وندی اور عجز انسانی کا سبق دیتی ہے۔ اس طرح وہ مصیبتوں کے ذریعہ معرفت کے مراحل طے کرتا رہتا ہے، اور پھر وہ اس حال میں خدا سے ملتا ہے کہ اس کی روح ربانی تجربات کے سمندرمیں نہا کر مصفی و مزکی روح بن چکی ہوتی ہے۔
20 جون 1983
اراکان ، برما کا ساحلی ضلع ہے جو بنگلہ دیش (سابق مشرقی پاکستان) سے ملتا ہے۔ 1947 میں برما کی سرحد پرمشرقی پاکستان وجود میں آیا تو اراکان کے مسلمانوں نے غیر ضروری طور پر مشرقی پاکستان سے اپنا تعلق جوڑنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ اراکان کے مسلم علاقہ میں آزادی کی تحریکیں چل پڑیں۔ اس کے نتیجے میں اراکان کے مسلمان برما کی سوشلسٹ حکومت کی نظر میں معتوب ہو گئے۔ ان پرسختیاں کی جانے لگیں۔ 1978 میں تقریبا دو لاکھ آدمی اراکان کو چھوڑ کرمشرقی پاکستان(بنگلہ دیش ) کے علاقہ میں داخل ہونے پر مجبور ہوگئے۔
اراکان کے مسلمانوں کی تحریک آزادی بلاشبہ ایک احمقانہ تحریک تھی ۔ مگر اس کو روکنے کے لئے کوئی مسلمان لیڈر نہیں تھا۔ البتہ جب اپنی حماقت کے نتیجہ میں وہ "مظلوم" ہو گئے تو تمام مسلمان لیڈروں نے ان کی حمایت میں بیان دینا شروع کر دیا۔ اخبار ریڈئنس (11جون 1978) نے اپنے صفحہ اول کے ایک مضمون میں بتایا تھا کہ برما میں مسلمانوں کی تعداد تقریبا3 ملین ہے۔ وہ برما کی کل آبادی کا 10 فی صد ہیں۔ وہ ملک کی دوسری سب سے بڑی کمیونٹی ہیں ۔ اراکان ضلع کے مسلمان منظم منصوبہ کے تحت ستائے جا رہے ہیں، اور ان کو ان کی املاک سے محروم کیا جا رہا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ریڈنس نے مزید لکھا ہے کہ ایوب خان کے زمانہ حکومت میں وہ سابق مشرقی پاکستان جانے پر مجبور کر دئے گئے تھے۔ سابق فوجی حکمران )ایوب خان( نے وارننگ دی کہ مجھے امید ہے کہ برما یہ نہیں چاہتا کہ ہماری فوجیں سرحد کو پار کریں۔ اس وارننگ نے مسلمانوں کے خاتمہ کے عمل کو روک دیا ، اگر یہ تھوڑی مدت کے لئے:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
During the days of Mr Ayub Khan, they were physically pushed into what was once East Pakistan. The Late Military General's warning "I hope you don't want our forces to cross the border" stopped Muslim extermination, but only for a short period. (p. 1).
یہ مدت مختصر کیوں رہی۔ اس کی ذمہ داری برما پر نہیں بلکہ خود مسلمانوں پر عائد ہوتی ہے۔ پاکستان میں صدر ایوب کے خلاف پرشور تحریک اٹھائی گئی جس میں مسٹر بھٹو کے ساتھ اسلام پسند گروہ کے لیڈر سید ابوالاعلی مودودی بھی پوری طرح شریک تھے۔ اس کے نتیجہ میں صدر ایوب کو استعفا دینا پڑا۔ اس کے بعد ایسے حالات پیش آئے کہ پاکستان برابر کمزور ہوتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ وہ اس قابل نہ رہا کہ اس کی ایک دھمکی پر برما کی حکومت متزلزل ہو جائے۔
21 جون 1983
مولانا ابوالکلام آزاد نے اپنی کتاب آزادی ہند( India Wins Freedom ) میں لکھا ہے کہ یہ حقیقت ہے کہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے تقسیم کے نظریہ کا سب سے پہلا شکار جو شخص ہوا وہ سردار پٹیل تھے۔ غالبا بالکل آخر تک مسٹر جناح کے لئے پاکستان محض ایک سودا بازی کا معاملہ تھا:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Till perhaps the very end Pakistan was for Jinnah a
bargaining counter. (p. 183)
مسٹر جناح کے بارے میں یہ بات دوسرے کئی اصحاب نے بھی لکھی ہے اور اس سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ کانگریس قیادت اگر ہوش مندی سے کام لیتی تو تقسیم سے بچنا ممکن تھا ۔ میرے نزدیک یہ بات درست نہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اصل یہ ہے کہ سودا بازی کی دوقسمیں ہیں۔ ایک یہ کہ دو آدمیوں کی گفت و شنید کے دوران اس کو اختیار کیا جائے ۔ دوسرے یہ کہ عوام کو بھی اس میں شامل کر لیا گیا ہو۔ مسٹرجناح کا معاملہ اول الذکر نوعیت کا معاملہ نہ تھا۔ اگر وہ تقسیم کی سودے بازی کو بھی ذاتی سطح کی گفت وشنید میں اختیار کئے ہوئے ہوتے توکسی مرحلہ میں وہ اس سے دست بردار بھی ہو سکتے تھے مگر جناح اور ان کے ساتھیوں نے تقسیم کے موضوع پر سارے مسلم عوام کو بھڑکا دیا تھا حتی کہ انھوں نے مبالغہ آمیزی کر کے اس کو آخری حدوں کے پار پہنچا دیا تھا۔ ایسی حالت میں خود مسلم لیگ کی قیادت کے لئے مطالبہ تقسیم سے پیچھے ہٹنا ممکن نہ تھا۔ عوامی ابال کو اس طرح پیچھےکی طرف لوٹانا کبھی ممکن نہیں ہوتا۔
22 جون 1983
بطلیموس (Ptolemy) دوسری صدی عیسوی کا مشہور یونانی عالم فلکیات ہے۔ اس نے نظام شمسی کا زمین مرکزی (Earth-centered) نظریہ پیش کیا۔ اس موضوع پر اس کی کتاب المجستی بہت مشہور ہے۔ بطلیموس کا نظریہ تقریباً ڈیڑھ ہزار سال تک عالمی ذہن پر چھایا رہا،یہاں تک کہ سولھویں صدی عیسوی میں کوپر نیکس اور گلیلیو اور کپلر کی تحقیقات نے اس کو غلط ثابت کر دیا، اور اب ساری دنیا میں کوئی اس کو ماننے والانہیں۔
اس طرح کے کتنے نظریات ہیں جو محدود مدت کے لئے ذہنوں پر چھاتے ہیں اور پھر حرف غلط کی طرح مٹا دیے جاتے ہیں۔ مگر توحید " کا نظریہ زمانہ کے بے شمار نشیب و فراز کے باوجود اپنی اہمیت کم نہ کر سکا۔ بلکہ ہرنئی تحقیق اس کی اہمیت و واقعیت میں مزید اضافہ کر دیتی ہے۔ یہ واقعہ اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ توحید ایک واقعی حقیقت ہے نہ کہ محض ایک فرضی عقیدہ۔
( زمینی مرکز یت کے نظریہ کے لئے عیسائی نقطہ نظر: (4/522-EB
23 جون 1983
امام بخاری نے محمد بن جبیر بن مطعم سے روایت کیا ہے کہ ان کے والد( جبیر بن مطعم) نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں سورہ الطور پڑھتے ہوئے سنا ۔ جب آپ اس آیت پر پہنچے ام خلقوا من غيرشئی ام هم الخالقون ام خلقوا السماوات والأرض بل لايوقنون ام عندهم خزائن رحمة ربك ام هم المصيطرون ۔ توان الفاظ کو سن کر مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میرا دل اسلام کی طرف اڑ جائے گا (کاد قلبي ان يطير الى الاسلام) مفسر ابن کثیراس ذیل میں لکھتے ہیں :
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
وجبير بن مطعم كان تقدم على النبي صلى اله عليه وسلم بعد وقعة بدر فی فداء الاماريٰ وكان إذ ذاك مشركاً فكان سماعه هذه الآية من هذه السورة من جملة ماحمله على الدخول في الاسلام بعد ذالك (صفحہ244)
اور جبیر بن مطعم بدر کے واقعہ کے بعد رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے تاکہ فدیہ دے کر اپنے قیدیوں کو چھڑائیں۔ اور وہ اس وقت مشرک تھے۔ اس لئے سورہ نور کی ان آیتوں کا سننا من جملہ ان اسباب کے تھا جس نے اس کے بعد انھیں اسلام میں داخل ہونے پر آمادہ کیا۔
اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ دور اول کے لوگ شعوری انقلاب کے تحت ایمان لائے تھے۔ ان کا ایمان ان کے لئے حقیقت کی دریافت کے ہم معنیٰ تھا نہ کہ محض روایتی تقلید کے ہم معنی جیسا کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں پایا جاتاہے۔
24 جون 1983
حدیث میں آیا ہے کہ من فارق الجماعة شبرا فقد خلع ربقة الاسلام من عنقه، جوشخص ایک بالشت بھر بھی الجماعت سے ہٹا اس نے اسلام کی رسی اپنی گردن سے نکال پھینکی۔ اسی طرح دوسری حدیث میں ہے يد الله على الجماعة (الجماعۃ پر خدا کا ہاتھ ہے) اس طرح کے مواقع پر عام طور پر لوگ الجماعت سے مراد سواد اعظم لیتے ہیں یعنی کسی زمانہ کے مسلمان یا کسی زمانہ کے اہل دیں جس پر زیادہ تعداد میں متفق ہوجائیں۔ مگر الجماعت کی یہ تشریح صحیح نہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
" الجماعت " کی تشریح خود حدیث میں موجود ہے۔ ایک حدیث مختلف طرق سے آئی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ سابق اہل کتاب 72 فرقوں میں بٹ گئے اور امت مسلمہ 73 فرقوں میں بٹ جائے گی۔ ان میں سے صرف الجماعت برحق اور مستحق جنت ہوگی. (واحدة في الجنة وهى الجماعة )ترمذی کی روایت میں ہے کہ صحابہ کرام نے پوچھا کہ یہ الجماعت کون لوگ ہیں ۔ آپ نے جواب دیا : وہ جو اس پر ہو جس پر میں اور میرے اصحاب ہیں (من كان على ما اناعليه واصحابی)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
رسول اور اصحاب رسول اس ملت میں اصل معیار کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ "الجماعت" ہیں ۔ ہر زمانہ سے مسلمانوں کو ہر معاملہ میں انھیں کی طرف دیکھنا ہے ۔ بعد کے مسلمان دور اول کی اس الجماعت پر پرکھے جائیں گے نہ کہ خود اپنے زمانہ کے سواد اعظم یا اکثریتی گروہ کی بنیاد پر۔ مثلا ملک ہندوستان میں مسلمان پہلی جنگ عظیم کے بعد خلافت کمیٹی میں بہت بڑی اکثریت کے ساتھ شامل ہوگئے ۔ تقسیم ہند سے پہلے مسلمانوں کی بیشتر تعداد مسلم لیگ کے تحت جمع ہوگئی۔ آجکل مسلمانوں کی اکثریت آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ساتھ شریک ہے۔ مگر ان میں سے کوئی بھی الجماعت نہیں ۔ الجماعت کی حیثیت صرف رسول اور اصحاب رسول کو حاصل ہے ، اور ان کی یہ حیثیت ہمیشہ باقی رہے گی ۔ مثلا آج کسی مسلمان کا صحیح یا غلط ہونا اس پر نہیں جانچا جائے گا کہ وہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ساتھ شریک ہے کہ نہیں ، بلکہ اس کو اس اعتبار سے جانچا جائے گا کہ اس کا رویہ رسول اور اصحاب رسول کے رویے کے مطابق ہے یا نہیں۔
25 جون 1983
ایک عربی کتاب میں یہ واقعہ پڑھا کہ حضرت عبداللہ بن عباس نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ اپنے لڑکے کے ساتھ چلا جارہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر وہ زندہ رہا تو وہ تم کوفتنہ میں مبتلا کرے گا ، اور اگر وہ مرگیا تو تم کوغمگین کرے گا (رأى عبد الله بن عباس رضي الله عنهما رجلا یسير مع ابنه فقال ان عاش فتنك و ان مات حزنك
other sourceWords of another person or source
اسکا مطلب غالبا یہ ہے کہ آدمی اپنی اولاد سے بے پناہ تعلق قائم کرتا ہے۔ حتی کہ اولاد ہرآ دمی کی سب سے زیادہ محبوب چیز ہوتی ہے، مگر اکثر حالات میں اولاد سے اس کی توقعات پوری نہیں ہوتیں۔ اگر بالفرض وہ کم عمری میں مرجائے تو باپ کو شدت محبت کی وجہ سے شدید صدمہ لاحق ہوتا ہے۔ اور اگر وہ زیادہ دنوں تک زندہ رہے تب بھی اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بیٹے کی محبت باپ کوکسی نہ کسی آزمائش میں مبتلا کر دیتی ہے۔ مثلا اولاد کی وجہ سے انفاق فی سبیل اللہ میں کمی ۔ اولاد کا مستقبل بنانے کی خاطر غلط کاروائی کرنا ، اولاد کے اصرار کی وجہ سے دوسروں کی حق تلفی کرنا ، وغیرہ ۔ دنیا میں سچے بیٹے بھی کم ہیں اور سچے باپ بھی کم۔
26 جون 1983
محمد حسین آزاد اپنی کتاب ” آب حیات " کی وجہ سے کافی مشہور ہیں۔ ان کے والد کا نام مولانا محمد باقر تھا۔ انھوں نے 1837ء میں دہلی سے " اردو اخبار“ جاری کیا۔ 1854 میں محمد حسین آزاد بھی اس میں ایڈیٹر کی حیثیت سے شریک ہوگئے۔
1857 کے غدر (یا جنگ آزادی) کے زمانہ میں ’’اردو اخبار‘‘ نے انگریزوں کے خلاف دھواں دھار مضامین شائع کئے۔ مگر انگریزوں کے خلاف بغاوت مکمل طور پر ناکام ہو گئی ۔ اس کے بعد پکڑ دھکڑ شروع ہوئی۔ مولانا محمد باقر گرفتار کر لئے گئے اور انہیں گولی مار دی گئی ۔ محمد حسین آزاد بھاگ کر روپوش ہو گئے۔ آخر میں انھوں نے سیاست سے علیحدگی اختیار کرلی اور انگریزوں کے ایک تعلیمی ادارہ (گورنمنٹ کالج لاہور) میں ملازم ہو گئے۔ اس کے بعد حسین آزاد کی سیاسی مضمون نگاری ادبی مضمون نگاری میں تبدیل ہوگئی ۔ آب حیات اسی دوسرے دور کی تصنیف ہے۔
انیسویں صدی کے نصف آخر اور بیسویں صدی کے نصف اول میں مسلمانوں کے درمیان بڑی تعداد میں اعلی ذہن کے لوگ پیدا ہوئے مگر وہ اپنی صلاحیتوں کا صرف دو استعمال دریافت کرسکے ، مشغلہ سیاست یا مشغلہ ادب۔ ان کی صلاحیت کا اصلی اور دور رس استعمال صرف مشغلہ دعوت تھا ۔ مگر وہ ان کی دریافت سے باہر رہا، اس لئے وہ اپنے آپ کو اس میں مشغول بھی نہ کر سکے۔
27 جون 1983
انگریزی دور میں ہمارے علماء اور ہمارے رہنماؤں نے انگریزوں کے خلاف اس قدر نفرت پیدا کی کہ وہ حد کو پار کر گئی۔” نفرت انگریز" بجائے خود ایک نیکی بن گئی۔ انگریز جب ہندستان آئے تو مشینیں ایجاد ہو چکی تھیں اور اسٹیم پاور دریافت ہو چکی تھی ۔ مگر بڑھی ہوئی نفرت کی بنا پر لوگوں نے انگریزوں کی اچھی چیز کو بھی بری نظر سے دیکھا۔ اس کا ایک نمونہ اکبرالہ آبادی (1921- 1846) کا یہ قطعہ ہے:
پانی پینا پڑا ہے پائپ کا حرف پڑھنا پڑا ہے ٹائپ کا
پیٹ چلتا ہے آنکھ آئی ہے شاہ ایڈورڈ کی دہائی ہے
اس منفی بلکہ مجنونانہ نفرت کے ذہن کا یہ نتیجہ ہوا کہ مسلمان لمبے عرصے تک جدیدعلوم اور جدید تکنالوجی سے بیزار رہے، اور بالآخر جدید شعبوں میں دوسری قوموں سے کم از کم سوسال پیچھے ہو گئے۔
28 جون 1983
امام حسن بصری تابعی کا قول ہے کہ تدبیر آدھا کسب ہے (التدبير نصف الكسب) یہ بڑی حکیمانہ بات ہے ۔ اس تد بیرکا تعلق ہرقسم کے کسب سے ہے۔ معاش حاصل کرنے کا معاملہ ہو یا اور کوئی معاملہ ، ہر چیز میں تدبیر فیصلہ کن حد تک اہمیت رکھتی ہے۔ خوش تدبیری سے بگڑا ہوا معاملہ بن جاتا ہے ، اور بد تدبیری سے بنا ہو معاملہ بگڑ جاتاہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
29 جون 1983
حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اپنے بھائی کے لئے وہی چیز پسند کرو جو تم خود اپنے لئے پسند کرتے ہو ( احب لاخيك ماتحب لنفسك) اس حدیث نبوی میں مختصر ترین الفاظ میں مفصل ترین بات کہہ دی گئی ہے۔ یہ اخلاق انسانی کی بنیاد ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس سے بہتر الفاظ میں اخلاق انسانی کی تشریح نہیں کی جاسکتی۔ اگر آدمی سنجیدہ ہو تو یہی ایک جملہ اس کی پوری زندگی میں اخلاقی سدھار لانے کے لئے کافی ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
30 جون 1983
ابن عطاء اللہ اسکندری کا قول ہے کہ اس شخص نے کیا پایا جس نے خدا کو کھو دیا ، اور اس شخص نے کیا کھویا جس نے خدا کو پالیا (ما ذا وجد من فقدہ و ما ذا فقد من وجدہ ) یعنی جو شخص اللہ کوپا لےوہ کچھ بھی نہیں کھوتا ، خواہ اس نے بظا ہرکتنا ہی زیادہ نقصان اٹھایا ہو۔ اور جوشخص اللہ کو کھو دے وہ کچھ بھی نہیں پاتا ، خواہ بظاہر اس نے بہت کچھ حاصل کر لیا ہو۔ اللہ سب کچھ ہے اور اس کے سوا جو ہے وہ ہے کچھ ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it