← Diary 1983-1984Diary 1983-1984
May 1983
English · 30 min read
یکم مئی 1983
قیل لعمرو بن عبيد رحمه الله ما البلاغة. قال ما بلغك الجنة وعدل بك عن النار (عمرو بن عبید سے پوچھا گیا کہ بلاغت کیا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ وہ جو تم کو جنت میں پہنچائے اور جہنم سے تم کو دور کر دے)
other sourceWords of another person or source
حضرت عمرو بن عبیدسے ایک ادبی سوال کیا گیا تھا ، مگر انھوں نے اس کا ایک دینی جواب دیا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ بلاغت کے ادبی مفہوم سے ناواقف تھے ۔ اس سوال میں مجیب کا زور دراصل سوال پر نہیں بلکہ سائل پر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم لوگ ادبی مسائل میں الجھے ہوئے ہو، حالانکہ تمہیں جنت اور جہنم کے مسائل کی فکر کرنی چاہئے۔
2 مئی 1983
سوامی ویوکا نند (1903 - 1863) غیر معمولی صلاحیت کے آدمی تھے۔ کلکتہ میں بی اے کرنے کے بعد انھیں سچائی کی تلاش ہوئی۔ وہ رابندر ناتھ ٹیگور سے ملے اور ان سے پوچھا کہ " کیا آپ نے بھگوان کو دیکھا ہے" ۔ ٹیگور نے کہا کہ نہیں ۔ اس کے بعد وہ ددکشنیشور کے مندر میں گئے اور وہاں شری رام کرشن سے ملے۔ ان سے بھی انھوں نے وہی سوال کیا۔ شری رام کرشن نے مثبت جواب دیتے ہوئے انھیں بتایا کہ انسانوں میں خدا کو جلوہ گر دیکھ کر سب کی سیوا کرو، ہر جاندار کو بھگوان کا روپ مان کر اس کی سیوا کرنا ہی سچا دھرم ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
نوجوان ویویکا نند میں جو جذبہ ابھرا تھا ، وہ ایک فطری جذبہ تھا۔ وہ خدائے واحد کو پانے کاجذبہ تھا ، مگر ان کے گرو نے ان کے جذبہ کو پھیر دیا۔ ویویکا نند توحید کی تلاش میں تھے۔ گرو نے اس کے جواب میں ان کو" ہمہ اوست “ دے دیا۔ ویویکا نند کی فطرت نہ دکھائی دینے والے خدا کو پانا چا ہتی تھی ، گرونے دکھائی دینے والی چیزوں کو خدا بنا کر ان کے سامنے رکھ دیا۔ خدا کا مسافرخدا کی مخلوق میں اٹک کر رہ گیا۔
3 مئی 1983
حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قيدو العلم بالکتاب (علم کولکھ کرمحفوظ کرو ) اس طرح کی اور بہت سی حدیثیں ہیں جو علم کے لئے کتابت کی اہمیت کو بتاتی ہیں ۔ ایسی حالت میں سوال ہوتا ہے کہ اس حدیث کا کیا مطلب ہے جو ابوسعید خدری کے واسطہ سے صحیح مسلم میں آئی ہے ، جس کے مطابق آپ نے فرمایا کہ مجھ سے نہ لکھو ، اور جس نے مجھ سے قرآن کے علاوہ لکھا ہو وہ اس کومٹا دے ۔ اور میری بات کو بیان کرو ، اس میں کوئی ہرج نہیں ( لاتكتبواعنى ومن کتب عنی غیر القرآن فليمحه وحدثوا عنى ولاحرج)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس دوسری حدیث کی تشریح میں کئی قول نقل کئے گئے ہیں۔ میرے نز دیک صحیح قول یہ ہے کہ یہ ممانعت مطلق نہ تھی۔ بلکہ آپ نے ایک ہی مجموعہ میں قرآن اور حدیث دونوں کو لکھنے سے منع فرمایا تاکہ دونوں مل نہ جائیں ، اور قاری دونوں کے ایک ساتھ ہونے کی وجہ سے مشتبہ نہ ہو جاۓ( قیل انما نهى عن كتابة الحديث مع القرآن في صحيفة واحدة لئلا يختلط فيشتبه على القارئ في صحيفة واحدة )
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
4 مئی 1983
ایک صاحب سے میں نے تبلیغی جماعت کے مشن اورالرسالے کے مشن کے فرق کو بتاتے ہوۓ کہا کہ تبلیغ والے فضیلت اعمال کو بتاتے ہیں اور ہم حقیقت اعمال کو بتاتے ہیں۔
5 مئی 1983
چونکہ حدیث کی زبان عربی ہوتی ہے اور عرب اقوال کی زبان بھی عربی ہوتی ہے ، اس مشابہت کی وجہ سے بہت سے عرب اقوال عام لوگوں میں اس طرح مشہور ہوگئے ہیں جیسے کہ وہ حدیث رسول ہوں ۔ مثال کے طور پر حسب ذیل مقولہ :
إتق شرمن أحسنت اليه اسکےشرسےبچوجس پرتم نےاحسان کیا ہے ۔
یہ مقولہ بذات خود بہت با معنی ہے ، وہ ایک حکیما نہ مقولہ ہے ، مگر وہ ایک عربی مقولہ ہے وہ حدیث رسول نہیں ہے ۔ اسی طرح اور بہت سے اقوال ۔
6 مئی 1983
امام ابوالحسن الاشعری( 935 - 873) بصرہ میں پیدا ہوئے اور بغداد میں وفات پائی ۔ وہ مشہور معترلی الحبالی (م 915 ) کے شاگرد تھے اور اسلام کی عقلی تشریح کیا کرتے تھے ۔ اس کے بعد انھوں نے اچانک ایک روز معتزلہ کے گروہ کو چھوڑ دیا اور اعتزال کی تردید اور اسلام کی نقلی تشریح کے امام بن گئے۔
امام ابو الحسن الاشعری کا یہ واقعہ عام مسلمانوں کے نزدیک ناحق کو چھوڑنے اور حق کو اختیار کرنے کا واقعہ ہے ۔ اس بنا پر مسلمانوں کے درمیان ان کا ایک خاص احترام پایا جاتا ہے ۔ مگر اسی واقعہ کو ایک مستشرق دوسری نظر سے دیکھتا ہے ۔ اس نے الاشعری کے ڈرامائی طور پر ترک تعلق (Dramatic renunciation)کا ذکر اس طرح کیا ہے :
" الاشعری ابتدا عقلی حلقہ میں شامل تھے ۔ مگر انھوں نے دیکھا کہ ان کو عقلی علماء کے درمیان ممتاز مقام حاصل کرنے کا موقع نہیں مل رہا ہے اور نہ بظاہر مل سکتا ہے تو انھوں نے شہرت کی خاطر رجعت پسند مکتب کی حمایت کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ واقعہ بصرہ کی جامع مسجد میں جمعہ کے دن ہوا۔ وہ اپنے شاگردوں کو درس دیتے ہوئے اچانک اٹھ کھڑے ہوئے اور مجمع سے بآواز بلند مخاطب ہوتے ہوئے کہا : جولوگ مجھے جانتے ہیں انھیں معلوم ہے کہ میں کون ہوں ۔ جو لوگ نہیں جانتے وہ سن لیں کہ میں علی بن اسماعیل الاشعری ہوں ۔ میرا عقیدہ تھا کہ قرآن مخلوق ہے ، انسان کی آنکھ خدا کو نہ دیکھ پائے گی ، اور ہم خود اپنے افعال بد کے موجد اور مختار ہیں۔ اب میں حق کی طرف واپس آتا ہوں ، ان عقائد سے توبہ کرتا ہوں اور معتزلہ کی تردید اور ان کی غلط بیانیوں کی قلعی کھولنے کا بیڑا اٹھاتا ہوں۔ الاشعری ایک ایک کر کے اپنے سابق عقیدوں سے توبہ کرتے رہے اور ایک کے بعد ایک اس کے ساتھ اپنے کپڑے پھاڑ کر پھینکتے رہے اور ہر بار یہ اعلان کرتے رہے کہ میں اس عقیدہ کو یوں ترک کرتا ہوں جیسے اس جامہ کو پھاڑ کر پھینکتا ہوں ۔ سب سے پہلے انھوں نے اپنی پگڑی اتار پھینکی۔ اس کے بعد جبہ اور پھر دوسرے کپڑے۔ بصرہ کے زود اعتقاد لوگوں پر اس کا زبردست اثر ہوا ۔ الاشعری کی شہرت اتنی تیزی سے پھیلی کہ بہت جلد ان کو امام وقت مان لیا گیا۔ ابن خلکان نے ان کو دین حنیف کا بہت بڑا حامی لکھا ہے۔"
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
7 مئی 1983
لیبیا میں ڈکٹیٹرانہ نظام ہے۔ وہاں حکومت پر تنقید کرنے کی اجازت نہیں ۔ 1976 میں جب پہلی بار طرابلس گیا تو میں نے دیکھا کہ وہاں دیواروں پر اس طرح کے فقرے لکھے ہوئے ہیں :
نحن نضرب بالحديد اذا مست الثورة
لیبیا میں جو شخص ناقدانہ ذہن رکھتا ہو وہ فوراً جان لیتا ہے کہ موجودہ نظام حکومت کے تحت وہ یہاں نہیں رہ سکتا۔ چنانچہ ایسے تمام لیبی اپنے ملک کو چھوڑ کر باہر چلے گئے۔ ان میں جو تعلیم یافتہ ( ڈاکٹر ، انجینیر وغیرہ ) تھے ، انھوں نے باہر ملازمت کر لی ۔ دوسرے لوگ باہر کے ملکوں میں تجارت کرنے لگے۔
اس قسم کے لیبیوں کی تعداد ہزاروں تک پہنچتی ہے۔ ان کو لیبیا میں الكلاب الضالة (گم راہ کئے ) کہا جاتا ہے۔ بظاہر یہ بہت ناشائستہ بات معلوم ہوتی ہے۔ مگر اسی ناشائستہ فعل میں آجکل کے تمام مسلمان مبتلا ہیں۔ وہ شخصیتیں جن کو مسلمانوں نے یا ان کے کسی حلقہ نے " اکابر" کا درجہ دے رکھا ہے، اگر کوئی شخص ان کے اوپر تنقید کرے تو اس کو اسی نوعیت کے الفاظ سے نوازا جا تاہے ، اپنے ناقدین کے حق میں کوئی شخص بھی انصاف کرنے کے لئے تیار نہیں۔
8 مئی 1983
ایک عربی جریدہ میں ایک مضمون پڑھا جس کا عنوان تھا : المنكرون لعذاب القبر ونعيه وشبهتھم والرد عليهم (دقبرکےعذاب اوراسکی نعمت کے منکرین اور ان کا شبہہ اور ان کی تر دید)
اس میں بتایا گیا تھا کہ ملاحدہ اور زنادقہ عذاب قبر اور نعیم قبر کے منکر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے قبروں کو کھول کر دیکھا تو ان میں نہ عذاب تھا اور نعمت ۔ ان کہنا ہے کہ ایسی تمام حدیثیں غلط ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ قبر یا تو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے ، یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے(القبر روضة من رياض الجنة اوحفرة من حفر النار )
quoted sourceQuoted from another author or source
مضمون نگار نے مختلف انداز سے اس ملحدانہ نقطہ نظر کی تردید کی ہے ۔ مثلاً یہ کہ اللہ کی قدرت بہت بڑی ہے ۔ وہ قادر ہے کہ ایسے واقعات کرے جن کو دیکھنے کے لئے انسان کی آنکھیں معذور ہوں ۔ اور یہ کہ انسان کمزور ہے، وہ اس طرح کی چیزوں کو دیکھنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ( العبد اضعف بصرا وسمعا ان يثبت لمشاهدة عذاب القبر)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
میرے نزدیک یہ دونوں باتیں غیر ضروری ہیں۔ اصل یہ ہے کہ امور غیب کے بارہ میں اس قسم کی جو حد یثیں وہ سب تمثیلی زبان( (Symbolic language میں ہیں۔ ان میں اصل حقیقت واقعہ بیان نہیں کی گئی ہے بلکہ اصل حقیقت واقعہ کو حروف تمثیل کے روپ میں واضح کیا گیا ہے۔
9 مئی 1983
ایک صاحب اپنا بال ہمیشہ خود کاٹتے ہیں۔ ان کے یہاں ایک لڑکی پیدا ہوئی تو اس کا بال بھی انھوں نے خود کاٹنا شروع کیا۔ وہ کہا کرتے تھے کہ میں نہ اپنا سر کام کے سامنے جھکاؤں گا اور نہ اپنی لڑکی کا سر۔
مگر جب لڑکی چار سال کی ہوئی تو اب اس کی تعلیم کا مسئلہ تھا ۔ انھوں نے چاہا کہ اس کو انگلش اسکول میں داخل کریں ۔ معیاری انگلش اسکولوں میں داخلہ کا قاعدہ ہے کہ وہ بچوں کا ٹسٹ لیتے ہیں تو اس کی ہر چیز کو جانچتے ہیں۔ بچی کے والد نے سوچا کہ اگر میں خود بال کاٹوں تو وہ اچھے نہیں ہوں گے اور اندیشہ ہے کہ صرف بال کے بے ڈھنگے پن کی وجہ سے بچی کا داخلہ نہ ہوسکے ۔ چنانچہ انھوں نے یہ کیا کہ ٹیسٹ کے لئے بچی کو لے جانے سے پہلے اس کو شہر کے "سیلون “ میں لے گئے اور وہاں بچی کے بال کو جد ید معیار کے مطابق درست کرایا۔
آدمی کا یہ حال ہے کہ جب تک اس کا ذاتی انٹرسٹ خطرہ میں نہ پڑے وہ غیرسنجیدہ باتیں کرتا ہے ، مگر ذاتی انٹرسٹ کے زد میں آتے ہی وہ حقیقت پسند بن جاتا ہے۔ یہ بلاشبہ انسان کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔
10 مئی 1983
سید امیرعلی (1928۔ 1849 ) نے اپنی کتاب روح اسلام (.The Spirit of Islam) میں کسی مستشرق کا قول نقل کیا ہے کہ ایک منحوس گھڑی میں صلیب نے غرناطہ کے میناروں پر ہلال کی جگہ لے لی :
other sourceWords of another person or source
In an ill-omened hour the Cross supplanted the Crescent on the towers of Granada (p. 399).
یقیناً وہ ایک منحوس گھڑی تھی جب کہ تاریخ یورپ کا یہ واقعہ ہوا ۔ مسلمانوں نے پسماندہ اسپین کو علم وفن کا مرکز بنا دیا تھا ۔ مگر عیسائیوں کے مجنونانہ تعصب کی وجہ سے مسلمانوں کو اسپین سے نکلنا پڑا اور نہ صرف اسپین بلکہ سارے یورپ میں ترقی کی رفتار سیکڑوں سال پیچھے ہوگئی ۔
فرانس کے محاذ پرعرانوں کی ناکامی نے دنیا کی ترقی کو صدیوں کے لئے روک دیا مسلمانوں کی نا اتفاقی کا نتیجہ یہ ہوا کہ فرینک (Franks) کے بادشاہ چارلس مارٹل Charles Martel) نے تورس Tours) ) کے مقام پر 732ء میں مسلمانوں کو شکست دی۔ اس کے نتیجہ میں مسلمانوں کی یورپ کی طرف پیش قدمی رک گئی۔
اسلام اسپین کے راستہ سے سائنسی ترقی کا پیغام لے کر یورپ میں داخل ہو رہا تھا۔ مگر جب فرانس کی سرحد پر مسلمانوں کی شکست کے بعد یورپ عیسائیت کے حوالے ہو گیا تو سائنسی کھوج کرنے والوں کو بھیانک رکاوٹوں سے دوچار ہونا پڑا۔ اطالوی عالم برونو (1600 - 1548) کو فلکیات میں جدید نظریات پیش کرنے کے جرم میں زندہ جلا دیا گیا۔ سروتیس (1511-1553 ) اسپین کا ایک طبیعیاتی عالم تھا ، اس پر الحاد کا الزام لگا کر اس کو نذر آتش کر دیا گیا۔ انکوزیشن (The Inquisition) نے اس طرح ہزاروں لوگوں کو صرف اس جرم میں ہولناک سزائیں دیں کہ وہ علم کی دنیا میں جدید تحقیقات کر رہے ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اسلام کے زیر اثر سائنس ترقی کی منزلیں طے کر رہی تھی ۔ مگر عیسائیت کے زیر اثر صدیوں تک کے لئے علمی ترقی ٹھپ ہوکر رگئی۔
11 مئی 1983
ڈائری کی بہت سی باتیں جو سوال وجواب یا گفتگو کے انداز میں نہیں لکھی گئی ہیں بلکہ مضمون کے انداز میں ہیں ، وہ حقیقتہ کسی سے گفتگو کا خلاصہ ہیں جس کومضمون کی صورت میں درج کر دیا گیا ہے۔ اس کو مکالمہ کی بدلی ہوئی مشکل سمجھنا چاہئے ۔
12 مئی 1983
في الصحيحين عن ابن عباس ان النبي صلى الله عليه وسلم سئل عن اولاد المسكين فقال: الله اعلم بما كانوا عاملين . وفي صحيح ابی حاتم ابن حبان من حديث جرير بن حازم قال: سمعت ابارجاء يقول و هو على المنبر ،قال رسول الله صل الله عليه وسلم : لا يزال امر هذة الامة قواما (او مقاربا ) ما لم يتكلموا في الولد ان والقدر . قالابوحاتم : الولد ان اراد به اطفال المشركين (طريق الهجرتين ، صفحہ 387 )
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
بخاری مسلم میں حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اہل شرک کی اولاد کے بارہ میں پوچھا گیا ۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ ان کے عمل کے بارہ میں زیادہ جانتا ہے اور صحیح ابن حبان میں حضرت جریر بن عازم سے روایت ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابورجاء کومنبر پر کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس امت کا معاملہ درست رہے گا جب تک کہ وہ اولا د اور تقدیر کے بارہ میں کلام نہ کریں۔ ابوحاتم کہتے ہیں کہ اولاد سے مراد مشرکین کے لڑکے ہیں۔
quoted sourceQuoted from another author or source
ابن قیم الجوزیہ ( 751ــ 691ھ ) نے اپنی کتاب طریق الہجرتین میں مذکورہ روایت نقل کی ہے۔ اس کے ساتھ انھوں نے لکھا ہے کہ اطفال مشرکین کے بارہ میں علماء کے آٹھ اقوال (ثمانية مذاهب) ہیں۔ (الوقف فيهم ،انهم في النار، انهم في الجنة ، انهم في المنزلتین، انهم تحت مشيئة الله ، انهم خدم اهل الجنة . ان حكمهم حكم آبائهم،انهم يمتحنون في عرصات القيامة)
other sourceWords of another person or source
یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسلمان بعد کے زمانہ میں کس طرح غیر ضروری بحثوں میں مبتلا ہوگئے ۔ حتی کہ جس بحث میں انھیں پڑنے سے منع کیا گیا تھا ، اس میں بحث کرکے آٹھ مختلف رائیں بنا ڈالیں۔ اسلامی طریقہ یہ ہے کہ صرف ان امور میں بحث کی جائے جو حقیقی عملی ضرورت ہو ۔ جو چیز صرف ذہنی بحث کا درجہ رکھتی ہو ، اس سے کامل پرہیز کیا جائے ۔ مگر جب قوموں پر زوال آتا ہے تو اس کے افراد ذہنی بحث اور عملی ضرورت کا فرق نہیں سمجھ پاتے۔ وہ ایسی بحثوں میں پڑ جاتے ہیں جن میں الجھھنا وقت کی بربادی کے سوا اور کچھ نہیں ۔
13 مئی 1983
ذکر کا مطلب یاد ہے۔ ذکر اللہ کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کے اوپر عظمت و جلال کا اتنا غلبہ ہو کہ بار بار اس کی یاد آتی رہے اور مختلف شکلوں میں اس کا اظہار ہوتا رہے ۔ مگر کچھ لوگوں نے ذکر کو تکرار لفظ کے معنی میں لے لیا۔ اس کے نتیجہ میں بہت سی غلطیاں پیدا ہوگئیں ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس کا ہی نتیجہ ہے کہ کچھ لوگوں نے کہا کہ اسم ظاہر کے مقابلہ میں اسم مضمر سے ذکر کرنا ( مثلا ہو، ہو۔ کہنا) اس سے بھی زیادہ افضل ہے ۔ قال بعضهم ان الذكر بالاسم المفرد وهو الله الله افضل من الذكر بالجملة المركبة كقوله سبحان الله والحمد لله ولا اله الا الله و الله أكبر . وبالغ بعضهم في ذالك حتى قال الذكر بالاسم المضمرافضل من الذكربالاسم الظاهر، فالذكر بقوله هو،هوافضل من الذكر بقولهم الله،الله (طريق الهجرتين،لابن قيم،صفحہ 339)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
کیسی کیسی بدعتیں ہیں جو بعد کے لوگوں نے دین میں نکالیں۔
14 مئی 1983
نجران ( یمن ) کا علاقہ خلیفہ اول ابو بکر صدیق کے زمانہ میں فتح ہوا۔ اس وقت اسلامی فوج کے سردار حضرت خالد بن ولید تھے۔ اس وقت تہران میں عیسائیوں کی بڑی تعداد آباد تھی ۔ حضرت خالد نے عیسائیوں کے ساتھ جو معاہدہ کیا ، اس کو قاضی ابو یوسف نے کتاب الخراج میں نقل کیا ہے ۔ اس میں یہ الفاظ بھی شامل ہیں:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
لايهدم لهم بيعة ولكنيسة ولايمنعون من ضرب النواقيس ولا من اخراج الصلبان في يوم عيدهم ( ان کاکوئی عبادت خانہ اور کلیسا گرایا نہیں جائے گا ۔ اور وہ ناقوس بجانے سے روکے نہیں جائیں گے۔ اور نہ انھیں اپنے تیوہاروں کے دن صلیب نکالنے سے منع کیا جائے گا)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس معاہد ہ سے معلوم ہوتا ہے کہ دوسرے مذاہب کے معاملہ میں اسلام کا مزاج کیا ہے ۔ مگر ہندستان کے مسلمانوں کو اسلام کے اس مزاج کی کوئی خبرنہیں ۔ وہ بے طاقت ہوتے ہوۓ وہ کام کرنا چاہتے ہیں جو طاقت کی حالت میں بھی دور اول کے مسلمانوں نے نہیں کیا۔
15 مئی 1983
ہلاکو ( 1265 - 1217 ) ، چنگیز خان کا پوتا تھا۔ ہلا کونے 1258ء میں بغداد کو تباہ کیا اور آخری عباسی خلیفہ مستعصم کوقتل کیا۔ اس نے اسلامی دنیا کو جتنا نقصان پہنچایا ، اتنا کسی اور شخص نے کبھی نہیں پہنچایا۔ اسی خونیں واقعہ پر شیخ سعدی نے کہا تھا:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
آسمان راحق بود گرخوں ببارد بر زمین برزوال ملک مستعصم امیرالمومنین
اسی ہلاکو کا پر پوتا غازان خان تھا ۔ وہ نہ صرف ایک ظالم ترین انسان کی نسل سے تعلق رکھتا تھا بلکہ خود اس کی تربیت بدھسٹ کی حیثیت سے ہوئی تھی ۔ اپنی ابتدائی تعلیم وتربیت کے اعتبار ہے وہ بدھرم کا ایک فرد تھا۔ مگر یہ غازان خان 1295ء میں اس حال میں تخت سلطنت پر بیٹھا کہ وہ اسلام قبول کر چکا تھا۔ اس نے اپنی بقیہ زندگی اسلام کے پرجوش خادم کی حیثیت سے گزاری۔
یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ظالم بھی کسی وقت دوست بن جاتے ہیں۔ اور اسی طرح تعلیم وتربیت پر دوسرے عوامل فائق ترثابت ہوتے ہیں ۔
16 مئی 1983
قران میں یہود کے تذکرہ کے ذیل میں ارشاد ہواہے : اور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب میں بتا دیا تھا کہ تم دومرتبہ زمین (شام) میں خرابی کرو گے اور بڑی سر کشی دکھاؤگے۔ پھرجب ان میں سے پہلا وعدہ آیا تو ہم نے تم پر اپنے بندے بھیجے، نہایت زور والے ۔ وہ گھروں میں گھس پڑے اور وعدہ پورا ہو کر رہا۔ (الاسراء ۴-۵ )
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہاں اپنے بندے (عبادا لنا )سے مراد نبوخذنصر( (Nebuchadnezzar II اور اس کی فوج ہے۔ اس نے پہلی بار 597 ق م میں یہودی سلطنت پر حملہ کیا۔ دوسری بار وہ 586 ق م ق میں بڑے لشکر کے ساتھ پروشلم میں داخل ہوا اور یہود کے مقدس شہر کو بالکل برباد کر دیا۔ ان حملوں میں اس نے بے شمار یہودیوں کو قتل کیا۔ بے شمار یہودیوں کو غلام بنا کر اپنے ملک (بابل) لے گیا اور یہود کے مقدس عبادت خانہ کومسمار کر دیا۔
یہود بطورخود نبوخذ نصر کی کارروائی کو سراسر ظلم قرار دیتے ہیں ، مگر اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ یہ ہمارے بندے تھے جن کو ہم نے تمہاری طرف بھیجا گویا یہود کے نزدیک یہ ایک ظالما فعل تھا ، مگرقرآن کے مطابق ایک خدائی آپریشن ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
17 مئی 1983
ایک صاحب نے کہا کہ میں نے آپ کا فلاں مضمون پڑھا۔ مجھ کو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ اپنے کو مجدد ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ کیا مضمون میں ایسا لکھا ہے یا آپ کو خود ایسا محسوس ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مضمون میں تو صاف طور پر ایسا لکھا ہوا نہیں ہے مگر مضمون کو پڑھ کر مجھے ایسا محسوس ہوا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
میں نے کہا کہ جو بات میں نے مضمون میں لکھی ہے ،اس کا جواب دینے کا ذمہ دار میں ہوں۔ آپ متعین سوال کریں تو میں اس کی وضاحت کروں گا۔ باقی جو بات میں نے نہیں لکھی ہے آپ نے بطور خود محسوس فرمائی ہے ، اس کا معاملہ اللہ کے ذمہ ہے جو عالم الغیب ہے۔ آپ قیامت کے دن اس کی بابت اللہ سے پوچھ لیجئے گا۔
18 مئی 1983
ایک حقیقی دلیل اس دنیا میں خدا کی نمائندہ ہے ۔ جو شخص دلیل کے آگے جھکے ، وہ خدا کے آگے نہیں جھکا۔ ایسا شخص آخرت میں اس حال میں حاضر ہو گا کہ وہاں وہ اپنا نام خدا کو نہ ماننے والوں کی فہرست میں لکھا ہوا پائے گا، خواہ دنیا میں وہ اپنا نام خدا کو ماننے والوں کی فہرست میں لکھاۓ ہوۓ ہو۔
19 مئی 1983
صبح کوفجرسے پہلے نیند کھلی۔ ابھی میں بستر پر تھا اور آنکھ بند کئے ہوئے تھا کہ اچانک خدا کا ایک کرشمہ یاد آیا اور میں حیرت میں ڈوب گیا۔
آنکھ کا معاملہ یہ ہے کہ اگر آپ اس کو بند کرلیں تب بھی وہ نارمل حالت میں محسوس ہوتی ہے۔ اور اگر کھلا رکھیں تب بھی نارمل حالت میں ۔ دونوں میں سے کسی حالت میں بھی کسی قسم کا بوجھ محسوس نہیں ہوتا ۔ جب کہ منھ کا معاملہ اس کے برعکس ہے ۔ منہہ کی نارمل حالت یہ ہے کہ اس کو بند رکھا جائے ۔ اگر آپ منھ کو کھولیں اور اس کو دیر تک اسی حالت میں رکھیں تو سخت زحمت محسوس ہوگی اور جی چاہے گا کہ اس کو بند کر لیا جائے ۔
ایک ہی جسم میں دواعضاء کے بارہ میں دو الگ الگ اصول ہونا بے حد حیرت ناک ہے۔ یہ خدا کی منصوبہ بندی کے کمال کو بتاتا ہے ۔ مثلا اگراللہ تعالی نے آنکھ کا اصول بھی وہی رکھا ہوتا جومنھ کا اصول ہے تو کلی طور پر ہم کو سخت دشواری پیش آتی ۔
خدا کی ان گنت صفتیں ہیں۔ انھیں میں سے ایک صفت یہ ہے کہ منصوبہ تخلیق کے تمام امکانی پہلوؤں کو وہ پیشگی طور پر سوچ سکا۔ انسان ایک مشین یا ایک مکان بناتا ہے توعملی تجربہ کے بعد اس پر کھلتا ہے کہ فلاں پہلو کی رعایت وہ نہ کر سکا ۔ مگر خدا نے کسی بھی تجربہ کے بغیرپیشگی طور پر تمام ممکن پہلووں کو اس طرح جان لیا کہ ایک بار تخلیق کر دینے کے بعد پھراسے کبھی ترمیم اور نظرثانی کی ضرورت پیش نہیں آتی۔
20 مئی 1983
گھوڑا جب سڑک پر دوڑتا ہے تو پختہ زمین پر اس کی ٹاپوں کے ٹکراؤ سے چنگاریاں نکلتی ہیں ۔ یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے جو بتاتی ہے کہ دوچیزوں کے ٹکرانے سے نئی نئی چیزوں کا ظہور ہو تا ہے ۔ اگر ٹکراو ختم ہو جائے تو نئی چیزوں کا ظہور بھی نہ ہوسکے۔ ۱
21 مئی 1983
ایک عربی کتاب میں خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق کا یہ واقعہ نظر سے گزرا : مر الفاروق رضي الله عنه ببنيان عال. فقال لمن هذا قیل لعاملك فلان ۔ فقال ابت الدراهم الا ان تخرج اعناقها - ثم استدعاه فحاسبه ( حضرت عمرفاروق ایک بار ایک اونچی عمارت کے پاس سے گزرے۔ آپ نے اس کو دیکھ کر پوچھا کہ یہ عمارت کس کی ہے۔ بتایا گیا کہ آپ کے فلاں عامل کی ہے ۔ حضرت عمر نے کہا کہ درہم ضرور اپنی گردنیں نکال کر رہتے ہیں ۔ اس کے بعد آپ نے اس عامل کو بلایا اور اس سے حساب لیا )
quoted sourceQuoted from another author or source
حضرت عمرفاروق کا یہ قول علم و دانش کی اعلی ترین مثال ہے۔ علم کی یہ قسم کسی درسگاہ سے حاصل نہیں ہوتی ۔ یہ وہ علم ہے جو تقوی کے ذریعہ کسی کے اندر پیدا ہوتا ہے۔
22 مئی 1983
ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ بے تکان بول رہے تھے ۔ ان کا کلام زیادہ تر بے جوڑاور غیرمتعلق باتوں سے بھرا ہوا تھا۔ جب وہ کافی دیر تک بول چکے تو میں نے نرمی سے کہا: آدمی کو چاہئے کہ بولنا جانے، اور اگر بولتا نہ جانتا ہو تو چپ رہنا جانے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
پھر میں نے انھیں حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہو اس کو چاہئے کہ وہ بولے تو بھلی بات ہولے ورنہ چپ رہے ) من كان يومن بالله واليوم الآخر فليقل خيرا او لیصمت) ، یہی بات ایک مغربی مفکر نے اپنے الفاظ میں اس طرح کہی کہ یہ بہت بڑی بختی ہے کہ آدمی کے پاس نہ اتنی سمجھ ہو کہ وہ بات کر سکے اور نہ اتنی قوت فیصلہ ہو کہ وہ چپ رہے:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
It is a great misfortune neither to have enough wit to talk well
nor enough judgement to be silent.
Jean De La Brupere
23 مئی 1983
ایک صاحب سے گفتگو ہورہی تھی ۔ وہ حدیث کو ماننا نہیں چاہتے تھے۔ انھوں نے کہاکہ دیکھئے ، ایک حدیث یہ بتائی جاتی ہے کہ الحرب خدعة ( جنگ دھوکا ہے) کیا یہ پیغمبر خدا کا قول ہوسکتا ہے۔ کیا پیغمبرلوگوں کو یہ تعلیم دے سکتا ہے کہ جنگ کرو اور جنگ میں دھوکا دو۔ اس طرح تو الیکشن کی دھاندلی (rigging) میں جائز ہو جائے گی ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
میں نے کہا کہ الحرب خدعة دراصل الدفاع خدعة کےمعنی میں ہے۔ یہ جنگ بمعنی جارحیت کا اصول نہیں ہے بلکہ جنگ بمعنی بچاؤ کا اصول ہے ۔ الکشن میں تو آدمی خود سے کودتا ہے، وہ چاہے تو نہ کودے ۔ مگر بچاؤ یا دفاع اس لڑائی کا نام ہے جب یک طرفہ طور پر کوئی دوسرا شخص اس کے اوپر حملہ آور ہو اور اس کو ایسے حالات میں مبتلا کر دے کہ وہ اپنے بچاؤ کی خاطر لڑنے پر مجبور ہو جائے۔ ایسی یکطرفہ جارحیت کے مقابلے میں (خواہ وہ مسلح ہو یا غیر مسلح) اس سے اپنے آپ کو بچانے کے لئے تدبیری طور پر" خدعہ " کا فعل کرنا جائز ہے ۔
مثال کے طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت کے وقت مکہ سے مدینہ جانا تھا۔ مگر آپ نے مکہ سے نکل کر چند دن غار ثور میں قیام فرمایا جو کہ مدینہ کے الٹے رخ پر ہے۔ اسی طرح آپ کا طریقہ تھا کہ جب کسی مہم میں مشرق کی طرف روانہ ہونے والے ہوتے تو لوگوں سے مغرب کے راستہ کی تفصیلات پوچھتے تاکہ لوگ اس مغالطہ میں رہیں کہ آپ مغرب کی طرف سفر کرنے والے ہیں۔ اسی تد بیرکو شریعت میں توریہ کہا جا تا ہے۔
24 مئی 1983
ایک مغربی مفکر این ایم بٹلر کا قول ہے کہ ایک بہت سنجیدہ عقیدہ جو ہرآدمی کو ماننا چاہئے ، یہ ہے کہ کسی بھی چیز کو بہت زیادہ سنجیدہ طور پر نہ لیا جائے:
other sourceWords of another person or source
The one serious convictions that a man should have is that nothing is to be taken too seriously.
(Nicholas Murray Butler)
اس میں شک نہیں کہ کچھ چیزیں حق ہیں ، اور اصولا وہ ہمیشہ حق رہیں گی اور کچھ چیزیں باطل ہیں ، اور وہ ہمیشہ باطل رہیں گی۔ مگر موجودہ مقابلہ کی دنیا میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اصولی تقاضے اور عملی تقاضے میں ٹکراؤ ہو جاتا ہے۔ ایسے مواقع پر عملی ضرورت کی بنا پر آدمی کو اپنے اندر لچک پیدا کرنی پڑتی ہے۔ اگر وہ لچک پیدا نہ کرے تو اس کا دوسرا انجام صرف یہ ہو گا کہ وہ تباہ و برباد ہوکر رہ جائے گا۔
جو آدمی عملی پہلوؤں کی رعایت نہ کر سکے اس کی مثال ایسی بائیسکل کی ہے جس کا ہنڈل پوری طرح کس دیا گیا ہو، اور وہ دائیں بائیں نہ گھومے ۔ ایسی بائیسکل کے لئے یہی مقدر ہے کہ وہ کسی کھڈ میں جاگرے ۔
25 مئی 1983
انسان کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ کمزور ہے، خدا کی سب بڑی طاقت میں ہے کہ وہ طاقت ور ہے ۔ انسان کا کمزور ہونا اس کی تمام دوسری حیثیتوں کو باطل کر دیتاہے۔ اور خدا کا طاقت ور ہونا اس کو یہ مطلق حیثیت دے دیتا ہے کہ وہ ہر حال میں انسان کو مغلوب اور مقہور کر سکے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کی عبدیت اپنی آخری شکل میں نمایاں ہو جاتی ہے ۔ کسی شخص کا سفر معرفت اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک وہ اس حقیقت کو نہ جان لے کہ وہ عجز کی انتہا پر ہے اور خدا قدرت کی آخری انتہا پر ۔ اسی ادراک کے بعد آدمی کو ایمان کا ذائقہ ملتا ہے ، اور اسی ادراک کے بعد آدمی کے اندر وہ تمام صفات پیدا ہوتی ہیں جن کو ایمانی صفات کہا جاتا ہے۔
26 مئی 1983
اطباء حدیث کے طور پر یہ جملہ نقل کرتے ہیں : العام علمان،علم الابدان وعلم الاديان (علم دو ہیں ، بدن کا علم اور دین کا علم) مگر محدثین کے نزدیک یہ ایک مقولہ ہے نہ کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث۔ تاہم یہ واقعہ ہے کہ حدیث کی کتابوں میں طب سے متعلق تقریبا تین سو روایتیں پائی جاتی ہیں۔ خود صحیح بخاری میں کتاب الطب کے نام سے ایک مستقل باب موجود ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
چنانچہ طب نبوی کے موضوع پر بہت سے لوگوں نے کتابیں تصنیف کی ہیں۔ مثلا ابونعیم عبداللہ اصفہانی ، ابن قیم جوزی ، شمس الدین محمد بن احمد ، وغیرہ وغیرہ ۔ عربی کے علاوہ دوسری زبانوں میں بھی اس موضوع پر کتابیں لکھی گئی ہیں ۔ مثلا ڈاکٹر سائرل الگوڈ نے انگریزی میں ایک کتاب شائع کی ہے جس کا نام ہے :
Medicine of the Prophet
یہاں ایک سوال ہے کہ طب سے متعلق جو احادیث ہیں ، ان کی حقیقت کیا ہے۔ ابن خلدون( 808 - 732 ) اور شاہ ولی اللہ دہلوی کا کہنا ہے کہ طبی روایات کی شرعی حیثیت نہیں۔ یہ اس زمانہ کے حکماء ، مثلا حارث بن کلدہ وغیرہ کے تجربے ہیں جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب عادت کے تحت بیان فرمایا ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
بکر بن عبد اللہ ابوزید (مصری) کی کتاب ابن قیم الجوزی : حیاتہ و آثاره( مطبوعہ 1980 ) میری نظر سے گزری ۔ اس میں ابن قیم کی کتاب الطب النبوی کے تذکر ہ کے تحت مصنف نے اس بات کی سخت تردید کی ہے کہ طب نبوی کی تشریعی حیثیت نہیں ۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کے پیٹ کے علاج کے لئے شہد تجویز کیا۔ استعمال کے بعد بتایا گیا کہ اس کو اس سے فائدہ نہیں ہوا۔ آپ نے فرمایا : صدق الله وكذب بطن اخيك (صفحہ170) یعنی اللہ کا کلام سچا ہے ، البتہ تمہارے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے ۔ مگر اس روایت سے زیادہ سے زیادہ شہد کا استثناء ثابت ہوتا ہے کیوں کہ قرآن میں اس کو شفاء للناس کہا گیا ہے محض اس روایت کی بنیاد پر بقیہ تمام نسخوں پر استدلال نہیں کیا جا سکتا ۔ حقیقت یہ ہے کہ طب نبوی عربی ہے ، نہ کہ الہامی معنوں میں طب نبوی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
27 مئی 1983
غزوہ موتہ ( 8ھ ) میں اسلامی لشکر کے تین سردار ایک کے بعد ایک شہید ہوگئے _جعفر بن ابی طالب ، زید بن حارثہ ، عبداللہ بن ابی رواحہ ۔ اس کے علاوہ بہت سے صحابہ شہید ہوئے ۔ آخر میں خالد بن ولید کو اسلامی لشکر کا سردار بنایا گیا۔ انھوں نے دیکھا کہ فریق ثانی کا لشکر بہت زیادہ بڑا ہے، اس کے مقابلہ میں اسلامی لشکر بہت زیادہ کم ہے ۔ ایسی حالت میں لڑائی جا ری رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ بقیہ مسلمان بھی ہلاک ہو جائیں۔ اگر چہ یہ لوگ نہایت بہادر تھے۔ اورتمام لوگ لڑنے کے لئے پوری طرح تیار تھے۔ مگر خالد بن ولید نے نہایت ہوشیاری کے ساتھ اسلامی لشکر کو پیچھے ہٹالیا اور مدینہ واپس آگئے۔
مدینہ میں مسلمانوں نے ان کا استقبال فرار (بھاگنے والے) کے لفظ سے کیا۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ فرار نہیں بلکہ کرار ہیں (پیچھے ہٹنے والے نہیں بلکہ آگے بڑھنے والے ہیں) اس سے دو باتیں معلوم ہوئیں۔ ایک یہ کہ اگر دشمن کی طاقت فیصلہ کن طور پر زیادہ ہو تو اس سے لڑائی چھیڑنا اسلام کا طریقہ نہیں ۔ دوسرے یہ کہ اگر ایسی حالت پیش آئے اور اس وقت مسلمان تدبیر جنگ کے طور پر پیچھے ہٹ جائیں تو بظاھر اگرچہ یہ دیکھے ہٹنا ہے، مگر حقیقت کے اعتبار سے وہ آگے بڑھنا ہے۔ کیوں کہ اس میں یہ ارادہ شامل ہے کہ پہلے مزید تیاری کی جائے ، اس کے بعد زیادہ طاقت کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کیا جائے ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
28 مئی 1983
البرٹ آئن اسٹین (Albert Einstein) نے کہا کہ بہت کم لوگ ہیں جو یہ صلاحیت رکھتے ہوں کہ وہ ایسے موضوع پر سلامت طبع کے ساتھ اظہار خیال کرسکیں جو ان کے سماجی ماحول کے تعصبات سے ٹکراتا ہو :
other sourceWords of another person or source
Few people are capable of expressing with equanimity opinions which differ from the prejudices of their social environment.
بیشتر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے قریبی حالات اور اپنے ماحول کی روایات کے دائرہ میں سوچتے ہیں۔ ماحول کی سوچ ہی ان کی اپنی سوچ بھی بن جاتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی ایسی بات کہنا ان کے لئے مشکل ہو جا تا ہے جو ان کے ماحول کی سوچ سے الگ ہو ۔ مگر اس دنیا میں سچائی کو پانے والا صرف وہ شخص ہے جو اپنی قریبی حالات سے اوپر اٹھ کر سوچ سکے۔
29 مئی 1983
اس زمانہ کی بات ہے جب کہ بادبان کے ذریعہ کشتیاں چلا کرتی تھیں ۔ ایک بار کچھ لوگ کشتی پر سوار ہو کر جارہے تھے۔ ہواکسی قدر مخالف تھی جس کی وجہ سے کشتی کو آگے بڑھانے میں سخت مشکل پیش آرہی تھی۔ ایک مسافر نے شکایت کی ۔ دوسرے شخص نے کہا :
تجرى الرياح بما لا تشتهي السفن
( ہوائیں ایسے رخ پر چلتی ہیں جس کو کشتیاں نہیں چاہتیں) یعنی ہوا کا ہمارے موافق ہونا ضروری نہیں ۔ وہ کبھی ہمارے موافق ہوگی اور کبھی ہمارے مخالف ۔ ہماری کامیابی یہ ہے کہ ہم اس کے باوجود اپنا سفر جاری رکھ سکیں ۔ قدیم شاعر نے جو بات باد بانی کشتی کے دور میں جان لی تھی ، موجودہ زمانہ کے مسلمان اس کومشینی کشتی کے دور میں بھی نہ جان سکے ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
30 مئی 1983
پانچو گون زیلز (Pancho Gonzales) ٹینس کا مشہور کھلاڑی ہے۔ وہ 9مئی 1928 کو لاس اینجلس میں پیدا ہوا۔ اس نے اپنے کھیل میں بہت سے انعامات جیتے اور بڑی بڑی کامیابیاں حاصل کیں۔ مگر وہ کہتا ہے کہ میں سب سے زیادہ جس واقعہ سے محظوظ ہوا ، وہ کامیابی کا واقعہ نہ تھا۔ یہ وہ واقعہ تھاجب کہ آرتھر آشے نے اس کو ھرایا :
Pancho Gonzales said that the greatest tennis set in his experience was one in which Arthur Ashe defeated him.
other sourceWords of another person or source
اسی کا نام اسپورٹس مین اسپرٹ ہے. سچا سپورٹس مین ہار جیت کو نہیں دیکھتا بلکہ کھیل کو دیکھتا ہے۔ ایک شخص اگر اچھے کھیل کا مظاہرہ کرے تو وہ اس سے اتنا زیادہ محظوظ ہوتا ہے کہ وہ بھول جاتا ہے کہ اس شخص نے خود مجھ کو شکست دے دی ہے۔ وہ اپنی ذات کے بجائے فن کو دیکھنے لگتا ہے۔ اس کے حریف نے اگر اس کو کسی اعلی فن کاری کے تحت اسے ہرایا ہے تو وہ اس فن کاری میں اتنا محو ہو جاتا ہے کہ اپنی ذات اس کو یاد نہیں رہتی ۔
31 مئی 1983
ایک مشکل ہے جو اکثر زبانوں میں کسی نہ کسی شکل میں پایا جاتا ہے ۔۔۔ جو لوگ شیشے کے مکان میں رہتے ہوں ، انھیں دوسروں کے اوپر پتھر نہیں پھینکنا چاہئے :
People who live in glass houses shouldn't throw stones.
اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ کسی وجہ سے کمزور پوزیشن میں ہوں انھیں اپنے طاقت ور سے جنگ نہیں چھیڑنا چاہئے۔ کیوں کہ ایسی جنگ کا نیتجہ خود ان کے اپنے خلاف برآمد ہوگا۔ مگرموجودہ زمانہ کے مسلمان تقریبا بلا استثناء یہی کر رہے ہیں۔ وہ ایک طاقت ور کے خلاف نہایت احمقانہ طور پر جنگ چھیڑ دیں گے اور اس کے بعد جب اس کا قدرتی خمیازہ بھگتنا ہو گا تو فریق ثانی کو ظالم قرار دے کر اس کے خلاف شکایت اور احتجاج کی لفظی مہم شروع کر دیں گے۔
کوئی شخص یا گروہ جب دوسرے کے مقابلہ میں کمزور پوزیشن میں ہو توعمل کا آغاز ٹکراو سے نہیں کیا جائے بلکہ داخلی تیاری اور اندرونی استحکام سے کیا جاتا ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان اس سادہ سی بات کو اب تک سمجھ نہ سکے