Maulana Wahiduddin Khan
36 min left
0:00

← Diary 1983-1984
Diary 1983-1984

April 1983

English · 36 min read

یکم اپریل 1983

علماءکی ایک تعداد کے نزدیک قرآن کو غیر مسلم کے ہاتھ میں دینا ناجائز ہے۔ اس کے بعد قرآنی تبلیغ کی ایک صورت یہ ہو سکتی تھی کہ قرآن کا صرف ترجمہ چھاپا جائے اور اس کو غیرمسلموں تک پہنچایا جائے۔ مگرعملا وہ بھی ممکن نہیں۔ کیوں کہ ان علماء کے فتوے کے مطابق، قرآن کو متن کے بغیرچھاپنا جائز نہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس استدلال کی بنیاد قرآن کی اس آیت پر ہے کہ : لا يمسه الا المطهرون (الواقعہ) مگر یہ استدلال صحیح نہیں ۔ اس آیت کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ اس کو نہیں چھوتے ہیں مگر پاک لوگ۔ گویا کہ یہ ایک خبر ہے نہ کہ حکم۔ چناچہ اہل تفسیر کی اکثریت نے ” مطھرون" سے فرشتوں کو مراد لیا ہے ۔ ابن کثیر لکھتے ہیں :

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قال ابن زيد زعمت کفارقریش ان ھذا القرآن تنزلت به الشياطين فاخبر الله تعالى انه لا يمسه الا المطهرون،كما قال تعالى رومـاتنـزاتبهالشياطينوماينبغيلهمومايستطيعونانهمعنالسمعلمعـزولون) وهـذا القول قول جيد الفسير ابن كثير ، الجزء الرابع ، صفحه ۲۹۸)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ابن زید نے کہا کہ کفار قریش کا گمان تھا کہ قرآن کوشیا طین اتارتے ہیں۔ اللہ تعالی نے بتایا کہ قرآن کو صرف پاک لوگ فرشتے ، چھوتے ہیں۔ جیسا کہ دوسری جگہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ اس کو شیطان نہیں اتارتے اور ان کے لئے سزاوا رہی ہے اور نہ وہ ایسا کر سکتے ہیں۔ وہ آسمانی باتوں کو سننے سے روک دئے گئے ہیں ۔ ابن کثیر اس کو نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں کہ یہ بہترین قول ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قتادہ تابعی کا قول ہے کہ قرآن کو اللہ کے پاس صرف پاک لوگ (فرشتے) چھوتے ہیں۔ باقی دنیا میں تو یہاں اس کو مجوسی اور نجس اور منافق بھی چھوتے ہیں۔ لا يمسه عند الله الا الطهرون فاما في الدنيا فانه يمسه المجوسي والنجس والمنافق ، احكام القرآن للجصاص ،جلد 3 ، صفحه 511)

other sourceWords of another person or source

ابراہیم نخعی اپنے استاد علقمہ بن قیس (م 62 ) کے متعلق کہتے ہیں کہ ان کو جب مصحف کی ضرورت ہوتی تھی تو وہ ایک نصرانی سے کہتے تھے ، اور وہ ان کے لئے مصحف لکھ دیتا تھا (انه كان اذا اراد ان يتخذ مصحفا امرنصرانيأ فنسخه، المعلى لابن حزم،جلد1،ص84)

other sourceWords of another person or source

اسی طرح بیان میں کہا گیا ہےکہ حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلی کے لئے حیرہ کے ایک نصرانی نے ایک مصحف 70 درہم میں لکھا تھا ( ان عبدالرحمن بن ابى ليلى كتب له نصراني من اهل الحيرة مصحفا بسبعين درهما ، مصنف عبدالرزاق ، باب بيع المصحف ، جلد 8،صفحہ 144 )

other sourceWords of another person or source

پانچویں صدی ہجری کے ظاہری مسلم ابن حزم اندلسی (م 656ء) کی قید اور شرط کے بغیرعلی الاطلاق مس قرآن کے عمومی جواز کے قائل ہیں ۔

other sourceWords of another person or source

جو لوگ مس قرآن کے عمومی جواز کے قائل ہیں ، ان کے استدلال کی ایک بنیاد یہ ہے کہ صلح حدیبیہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہنشاہ ہرقل کے نام جو مکتوب روانہ کیا تھا، اس میں قرآن کی آیت بھی درج تھی۔ یہ مکتوب نبوی صحیح بخاری ، کتاب بدء الوحی میں مکمل طور پر نقل ہوا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ہندستان کے مشہور عالم مفتی کفایت اللہ صاحب نے غیر مسلم کو ترجمہ قرآن دینا جائز بتایا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ قرآن کریم کا ترجمہ ہر مسلمانوں کے حق میں قرآن کا حکم رکھتا ہے ، اور غیر مسلموں کو تبلیغ کے لئے دینا جائز ہے ۔ ( کفایت المفتی، جلد اول)

other sourceWords of another person or source

2 اپریل 1983

عہد حاضر کے ہندو فلسفی جے کرشنا مورتی (1983-1895) نے کہا کہ عقلمند لوگوں کے پاس اقتدار نہیں، اور جن کے پاس اقتدار ہے وہ عقلمند نہیں ۔

other sourceWords of another person or source

The wise wield no authority, and those in authority are not wise.

یہ قول غلط فہمی پیدا کرنے والا ہے ۔ اس کا مطلب بظاہر یہ ہے کہ غیر عقلمند لوگ اقتدار کے مناصب پر قابض ہیں۔ مگر یہ بات صحیح نہیں۔ جو لوگ اقتدار پر قبضہ حاصل کرتے ہیں وہ دوسروں سے کچھ زیادہ ہی ہوشیار ہوتے ہیں۔ اگر ایسا نہ ہو تو وہ اقتدار کے منصب تک پہنچ ہی نہ سکیں ۔

زیادہ صحیح بات وہ ہے جو لارڈ ایکٹن (1902-1834) نے کہی۔ اس نے کہا تھا کہ اقتدار بگاڑتا ہے، اور کامل اقتدار تو بالکل بگاڑ دیتا ہے:

other sourceWords of another person or source

Power corrupts, and absolute power corrupts absolutely.

حقیقت یہ ہے کہ ارباب اقتدار کی غلط کاری کا تعلق خود اقتدارسے ہے نہ کہ ذہنی صلاحیت ہے۔ اقتدار ایک ایسا نشہ ہے جو آدمی کو بگاڑے بغیر نہیں رہتا۔ اقتدار کے باوجود بگاڑ سے صرف وہ شخص بچ سکتا ہے جو یا تو بہت زیادہ سنجیدہ ہو یا بہت زیا دہ متقی ۔ سنجیدگی آدمی کو حقیقت پسند بناتی ہے اور خدا کا خوف آدمی کو (Man cut to size) بنادیتا ہے۔

3 اپریل 1983

کام دو قسم کے ہوتے ہیں : خدا کو دکھانے کے لئے ، اور انسان کو دکھانے کے لئے۔ بظاہر دونوں میں صرف ایک معمولی لفظی فرق ہے ۔ مگر دونوں ایک دوسرے سے اتنا زیادہ مختلف ہیں کہ ایک اگر اس دنیا کا سب سے زیادہ باقیمت عمل ہے ، تو دوسرا سب سے زیادہ بے قیمت عمل۔

ایک صورت یہ ہے کہ آدمی نے قرآن و حدیث میں غور کیا ۔ اس کے دل میں خدا کی یاد جاگ اٹھی اور آخرت کی باز پرس کا احساس پیدا ہوا۔ اس احساس اور اس شعور کے تحت اس کے اندر عمل کی تڑپ پیدا ہوئی۔ وہ کانپتے ہوئے دل اور بہتے ہوۓ آنسوؤں کے ساتھ اس کو کرنے کے لئے اٹھ کھڑا ہوا ۔ یہ خدا کے لئے کرنا ہے۔ یہی وہ کام ہے جو مومن سے اس دنیا میں مطلوب ہے ، اور یہی وہ چیز ہے جو آخرت کی دنیا میں باقیمت قرار پائے گی۔

دوسری صورت یہ ہے کہ آدمی یہ سوچے کہ لوگوں کے اندر مقبولیت حاصل کرنے کے لئے کونسا اشو کھڑا کرنا زیادہ کار آمد ہے ۔ کون سے الفاظ بولے جائیں تو عوام کی بھیڑ کو اپنا ہم نوا بنایا جا سکتا ہے۔ وہ کون سا موضوع ہے جس کولے کر اٹھیں تو ارباب دولت فورا ہماری طرف متوجہ ہوجائیں گے ۔۔۔ یہ سب انسان کے لئے یا انسان کو دکھانے والے کام ہیں ۔ جو لوگ اس قسم کے کاموں میں مصروف ہوں، وہ خدا کے نزدیک لعنت زدہ ہیں ، خواہ وہ انسانوں کے درمیان بظاہر باعزت بنے ہوۓ ہوں ۔

4 اپریل 1983

قسم معاوية مرة قطعاً ناعطى شيفا من اهل دمشق عطية لم تعجبہ فغضب الرجل و حلف ليضربن بها رأس معاوية۔ فاستدعاه الخليفة وكشف له عن رأسه وقال : أوف بيمينك وليرأف الشيخ بالشيخ –

امیر معاویہ نے ایک بار لوگوں کو تحفے تقسیم کئے۔ چنانچہ انھوں نے دمشق کے ایک بزرگ کو عطیہ دیا جو ان کو پسند نہیں آیا۔ وہ شخص غصہ ہوا۔ اس نے قسم کھا کر کہا کہ میں اس کو معاویہ کے سر پر ماروں گا۔ امیرمعاویہ نے ان کو بلایا اور اپنا سر کھول کر کہا کہ اپنی قسم پوری کرو ۔ البتہ ایک بوڑھے کو دوسرے بوڑھے کے ساتھ نرمی کرنا چاہئے ۔

امیر معاویہ اپنے وقت کی عظیم ترین سلطنت کے حکمراں تھے ۔ ان کے لئے یہ بھی ممکن تھا کہ وہ اس آدمی کو بلائیں۔ اور اس سے کہیں کہ بادشاہ وقت کی شان میں ایسی گستاخی کرنے کی جرات تم کو کیسے ہوئی ۔ اس کے بعد جلاد کوحکم دیں کہ اس کی گردن مار دو ۔ مگرامیر معاویہ نے اس کے بالکل بر عکس عمل کیا۔ انھوں نے مذکورہ آدمی کی " گستاخی کونظرانداز کرتے ہوئے حکمت کا طریقہ اختیار کیا۔ اس طرح ایک ایسا معاملہ جوقتل وخون اور مسلمانوں کے درمیان باہمی نفرت کا ذریعہ بنتا ، وہ صرف ایک جملہ میں ختم ہوگیا۔

5 اپریل 1983

جینے کی دوقسمیں ہیں۔ ایک ہے دوسروں کی دنیا میں جینا۔ دوسرا ہے اپنی دنیا میں جینا۔ دوسروں کی دنیا میں جینے کا مطلب ہے تاجربن کرجینا ، عہد یدار بن کر جینا ،عوامی لیڈر بن کر جینا۔ وغیره –

جینے کی اس قسم میں آدمی کو دوسروں کی مرضی کا لحاظ کرنا پڑتا ہے۔ اس کو وہ کرنا پڑتا ہے جس کو دوسرے لوگ چاہتے ہوں۔ آدمی دوسروں سے مصالحت کرکے ہی دوسروں کے درمیان جینے کے مواقع پا سکتا ہے۔

مگر ایک زندہ انسان کے لئے جینے کی یہ صورت ذہنی عذاب سے کم نہیں ۔ کیوں کہ عوام سے مصالحت کرانے کے لئے آدمی کو سطحی بننا پڑتا ہے اور سطحیت کسی زندہ انسان کے لئے موت ہے ۔

اپنی دنیا میں جینا ہی دراصل جینا ہے۔ مگر جینے کی یہ قسم صرف اس شخص کے حصہ میں آتی ہے جس نے خود کوئی نئی چیز دریافت کی ہو ، جو اپنی ذاتی ڈسکوری کی بنیاد پر کھڑا ہو سکے۔

میرے ساتھ اللہ تعالی کا یہ احسان ہے کہ اس نے مجھے " دریافت “ کی نعمت عطافرمائی ۔ خدا کے فضل سے میرا یہ حال ہے کہ اگر ساری دنیا میرا ساتھ چھوڑ دے تب بھی میرے پاس تمام چیزوں سے زیادہ قیمتی چیز باقی رہے گی ، اور وہ میری اپنی دریافت ہے ۔ اگر میری کوئی اپنی دریافت نہ ہوتی تو میں اپنی دنیا میں ہرگز نہیں جی سکتا تھا۔ اور دوسروں کی دنیا میں جینے کی صورت میں زندگی میرے لئے ایک ایسا عذاب بن جاتی جس کا تحمل میرے لئے تقریبا ناممکن تھا۔

6 اپریل 1983

جارج سارٹن (1884 1956) تاریخ سائنس کا مشہور عالم تھا ۔ اس نے مسلم سائنس دانوں کی کتابوں کو براہ راست پڑھنے کے لئے عربی زبان سیکھی۔ اس سلسلہ میں اس نے شام ،مصر، تیونس الجیریا اور مراکش کے سفر کئے۔ اس نے بہت کھل کر مسلم سائنسدانوں کے کام اعتراف کیا ہے ۔ ایک جگہ وہ لکھتا ہے :

" انسانیت کا مشن مسلمانوں ہی کے ذریعہ مکمل ہوا۔ سب سے بڑا فلسفی الفارابی اور سب سے بڑا ریاضی دان ابوالکامل اور ابراہیم ابن سینا مسلمان تھے۔ سب سے بڑا جغرافیہ داں اور قاموس نگار المسعودی مسلمان تھا ، اور سب سے بڑا مورخ الطبری بھی مسلمان تھا۔ راجر ہیکن ،گر برٹ ، آری لیک اور تھامسن برن نے انھیں اداروں میں تعلیم حاصل کی۔ اور ریمنڈر نے یہیں سے فارغ ہوکر 1140ء میں فرانسیسی بندرگاہ مارسیلز میں سیاروں کی گردش کے بارہ میں نقشے اور جدولیں تیار کیں۔

George A. L. Sarton, Heritage of Islam, p. 313

اس قسم کی باتیں موجودہ زمانہ کے بہت سے مغربی محققین نے لکھی ہیں ، اور مسلمان ان کونقل کرکے خوش ہوتے ہیں۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ ان بیانات میں اصل بات حذف ہوگئی ہے۔ اصل یہ ہے کہ یہ تمام ترقیاں جو اسلامی انقلاب کے بعد پیدا ہوئیں ، وہ سب توحید کے خانہ میں جاتی ہیں۔ اسلامی انقلاب نے جب شرک کوختم کر کے نیچر کو معبودیت کے مقام سے ہٹایا اسی وقت نیچر پر غوروفکر کا دروازہ کھلا اور بالآخر تمام موجودہ ترقیاں ظہور میں آئیں ۔ مسلم سائنس اور مغربی سائنس دونوں ، باعتبار حقیقت غیرمشرکانہ نقطۂ نظر کا کارنامہ ہیں نہ کہ محض کوئی قومی کارنامہ۔ اور انسانی تاریخ میں سب سے پہلے جس نے غیر مشرکانہ طرز فکر پیدا کیا وہ اسلام کے ذریعہ آنے والاموحدانہ انقلاب تھا۔

7 اپریل 1983

واعظین اکثر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت میں یہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ سب سے پہلے اللہ نے میرے نور کو پیدا کیا ) اول ما خلق الله نوری ) اس روایت کا کوئی حوالہ یاسند نہیں بیان کی جاتی ۔ اس بنا پر یہ بجائے خود مخدوش ہے۔ دوسری طرف ترمذی، کتاب القدر میں ایک روایت ہے جس کے الفاظ یہ ہیں : اول ما خلق الله القلم ( سب سے پہلے اللہ نے قلم کو پیدا کیا)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ظاہر ہے کہ دونوں باتیں بیک وقت صحیح نہیں ہوسکتیں۔ اور چوں کہ دوسری روایت زیادہ قوی ہے، اس لئے یہی مانا جائے گا کہ صحیح بات یہ ہے کہ اللہ تعالی نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا۔ تاہم یہ واضح ہو کہ یہاں " قلم" کا لفظ اپنے معنوی مفہوم میں ہے نہ کہ محض ظاہری مفہوم میں ۔ یعنی اس کا مطلب یہ نہیں کہ مروجہ قلم کو اس کی موجودہ صورت میں پیدا کیا گیا۔ بلکہ قلم کی جوحقیقت ہے ، اس کے اعتبار سے اس کی پیدائش عمل میں آئی ۔

ایک روایت عبدالرزاق بن الہمام (م 211 ) کی مصنف میں ان الفاظ میں آئی ہے : یاجابر اول ما خلق الله نورنبيك من نورہ (اے جابر،سب سے پہلےاللہ نےتمہارے نبی کو اپنے نور سے پیدا کیا) اس سلسلہ میں پہلی بات یہ کہ عبدالرزاق بن ہمام محدثین کے یہاں معتبر نہیں ۔ وہ شیعہ ہیں اور فضائل اہل بیت کے سلسلہ میں موضوع اور جھوٹی روایتیں بے تکلف نقل کرتے ہیں ۔ ان کی دس جلدوں کی کتاب میں صحیح کے ساتھ ضعیف ،مرسل، منقطع ، منکر اور موضوع ہرقسم کی روایتیں موجود ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

رو ایت کے اعتبار سے یہ روایت سخت قابل اعتراض ہے۔ اس کے مطابق اللہ کی ذات کا ایک جزء علیحدہ ہوکر ذات محمدی کی صورت میں مجسم ہوا۔ یہ بالکل لغو بات ہے۔ اللہ کی ہستی ایک کامل بستی ہے۔ ذات الہی کا ایک جزء اگر علیحدہ ہو تو ذات الہی میں نقص لازم آجائے گا، اور یہ بلاشبہ ناقابل تصور ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

8 اپریل 1983

اکثر مجھ پر یہ تجربہ گزرتا ہے کہ موت کی قربت کا احساس میرے اوپر اتنی شدت کے ساتھ طاری ہوتا ہے کہ ایسا محسوس ہونے لگتا ہے گویا اگلے ہی لمحہ میری زندگی کا خاتمہ ہونے والا ہے ۔ اس وقت میں عجلت کر کے کلمہ شہادت ادا کرتا ہوں اور یہ دعا پڑھنے لگتا ہوں :

رب اغفر لي خطيتي يوم الدين

دعا اورکلمہ شہادت کی ادائگی میں جلدی اس لئے کرتا ہوں کہ ڈر ہوتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کو ادا کرنے سے پہلے میری موت آجائے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مجھے بخش دے۔ اس کی بخشش کے کسی اور چیز کا کوئی سہار انہیں۔

9 اپریل 1983

حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لا تختلفوا فتختلف قلوبكم (اختلاف نہ کرو ، ورنہ تمہارے دل با ہم مختلف ہو جائیں گے) دوسری روایت یہ ہے کہ (اختلاف امتی رحمة) (میری امت کا اختلاف رحمت ہے)

hadithQuotes a hadith

اہل علم کی ایک تعداد نے دوسری روایت کو موضوع یا کم از کم غیر معتبر بتایا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اس کی اسناد کمزور ہیں۔ نیز یہ کہ ان میں تضاد ہے۔ ابن حزم رکھتے ہیں کہ اگر ہم یہ مان لیں کہ اختلاف رحمت ہے تو یہ بھی ماننا ہوگا کہ اتفاق زحمت ہے (لوكان الاختلاف رحمة لكان الاتفاق سخطا)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مگر ابن حزم اور دوسرے حضرات کی یہ تنقید صحیح نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دونوں روایتوں میں اختلاف دو الگ الگ معنوں میں ہے ۔ پہلی روایت میں اختلاف کا لفظ اپنے آخری معنی کے اعتبار سے استعمال ہوا ہے اور دوسری روایت میں صرف ابتدائی معنی میں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ پہلی روایت میں اختلاف کا لفظ اختلاف میں اصرار کی حد تک جانے کے معنی میں ہے اور دوسری روایت میں مجرد اظہار اختلاف کے معنی میں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

جس معاشرہ میں اظہار رائے کی آزادی ہو ، اس کے ساتھ لوگ یہ بھی جانتے ہوں کہ اختلاف کے باوجود انھیں ہرحال میں جماعت کے ساتھ متحد رہنا ہے، ایسے ماحول میں اختلاف راست بن جاتا ہے۔ مگر یہاں ہر آدمی اپنی رائے پر اصرار کرنے لگے ، اختلاف کے بعد وہ کسی طرح متحد ہونے کے لئے تیار نہ ہو تو ایسے ماحول میں اختلاف صرف بربادی تک پہنچانے کا سبب بنتا ہے۔ پہلے اختلاف کی ایک حد ہے ۔ اور وہ حد یہ ہے کہ جب تک وہ رحمت کا باعث ہے ، اس وقت تک اختلاف، اس کے بعد اختلاف نہیں۔ اس کے برعکس دوسرا اختلاف کسی حد کو نہیں جانتا۔ وہ شروع ہونے کے بعد برابر جاری رہتا ہے ، خواہ اس کے بعد مسلمان ٹکڑے ٹکڑے ہوکر آپس میں لڑنے لگیں ۔

10 اپریل 1983

سید ابو الاعلی مودودی (1903ــ1979) ایک طرف یہ دعویٰ کرتے رہے کہ پاکستان میں ان کی کوششوں سے اسلامی انقلاب آچکا ہے ۔ حتی کہ ان کی جماعت کے ایک شخص نے ان کے بارہ میں ایک کتاب شائع کی ہے جس کا نام ہے ” سید مودودی کا عہد" ایک طرف ان حضرات کا یہ دعوی ہے ۔ دوسری طرف یہ حال ہے کہ قیام پاکستان کے بعد خود "عہد ساز" ابوالاعلی مودودی کی زندگی میں جماعت اسلامی پاکستان نے چار بار ایلکشن میں حصہ لیا اور ہر بار اس کو زبر دست شکست ہوئی ۔

جارج کینان نے کہا تھا کہ یہ ممکن ہے کہ ایک طاقت ور ملک ایک چھوٹی ریاست کو فوجی طور پر شکست دے دے مگر ایک انقلاب کوشکست دینا سخت مشکل ہے :

other sourceWords of another person or source

It is easy for a mighty country to defeat a small state

militarily but it is difficult to defeat a revolution.

George F. Kennan

پاکستان میں اگر مسلم لیگ کی تحریک یا خود جماعت اسلامی کی تحریک سے اسلامی فکری انقلاب آ گیا ہوتا تو ناممکن تھا کہ کوئی بھی" ایوب" یا کوئی بھی " بھٹو " اسلام پسندوں کو الیکشن میں شکست دے سکے ۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے اسلام پسند قائدین یا تو نادانوں کی اس قسم سے تعلق رکھتے تھے جن کے پاس حالات کا اندازہ کرنے کے لئے خوش فہمیوں کے سوا اور کوئی سرمایہ نہیں ہوتا یا وہ ان شاطر لیڈروں میں سے تھے جو اپنی لیڈری کے لئے سیاسی جھوٹ بولنے کو جائز سمجھتے ہیں۔

11 اپریل 1983

قال ملحد لاحد المومنين الست تقول لن يصيبك الا ما كتب الله عليك . قال بلىٰ۔ قال فارم بنفسك من ذروة هذا لجبل ،فاذا قدر الله لك السلامة تسلم ۔ فقال له يا هذا ،ان الله تعالى يختبرعباده وليس لعبد ان يختبر ريبه ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ایک ملحد نے ایک مومن سے کہا کیا تم یہ نہیں کہتے کہ تمہارے اوپر صرف وہ مصیبت آئے گی جو اللہ نے تمہارے اوپر لکھ دی ہو۔ اس نے کہا کہ ہاں۔ ملحد نے کہا کہ پھرتم اپنے آپ کو اس پہاڑ کی چوٹی سے گرا دو ۔اگر اللہ نے تمہارے لئے بچنا مقدر کیا ہوگا تو تم بچ جاؤ گے۔ مومن نے اس سے کہا کہ اے شخص ، اللہ تعالی اپنے بندوں کو آزماتا ہے ، بندہ کے لئے جائز نہیں کہ وہ اپنے رب کو آ زمائے ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ نہایت حکیمانہ جواب ہے۔ اس قسم کا گہرا جواب دینا کسی کو کتابی علم کے ذریعہ نہیں آتا ۔ یہ صلاحیت صرف اس ربانی علم سے پیدا ہوتی ہے جس کوخشیت الٰہی کہا گیا ہے۔

12 اپریل 1983

مولاناعلی میاں کے والد مولاناسید عبدالحیی(م 1923 ) ندوۃ العلماء کے ناظم تھے۔ ان کی ایک عربی کتاب کا نام ہے" جنة المشرق ومطلع النور المشرق" اصل کتاب غالبا ابھی تک مخطوطہ کی حالت میں ہے۔ البتہ اس کا اردو ترجمہ " ہندستان اسلامی عہد میں “ کے نام سے 1972 میں ندوہ سے شائع کیا گیا ہے۔

اس کتاب کے باب (ہندستان کی درس گاہیں ) کے تحت دہلی کے ایک قدیم مدرسہ بازار دریبہ کا ذکر ہے۔ اس کے تحت حسب ذیل سطریں درج ہیں :

یہ مدرسہ دہلی کے بازار دریبہ میں تھا۔ اسے نواب روشن الدولہ نے محمد شاہ کے عہد میں سنہری مسجد کے قریب 1134ھ میں بنوایا تھا۔ یہ مغلیہ حکومت کے اخیر تک باقی تھا۔ 1857ء میں اسے انگریزوں نے کوتوالی بنا دیا ، صفحہ 165)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ وسیع مدرسہ جو برطانی دور میں کوتوالی بنایا گیا تھا، اب وہ چاندنی چوک کے گوردوارہ کا ایک حصہ ہے۔ 1857 میں مسلمانوں نے جو مسلح تصادم یا انگریزوں کے الفاظ میں" غدر" کیا تھا ، وہ میرے نزدیک محض ایک احمقانہ فعل تھا۔ اس کے بے شمار نقصانات مسلمانوں کو پہنچے۔ انھیں میں سے ایک نسبتاً چھوٹا نقصان وہ ہے جس کی مثال اوپر کے واقعہ میں نظر آتی ہے۔

13 اپریل 1983

ایک صاحب نے کچھ لوگوں کے اخلاق کی تعریف کی ، اور کچھ دوسرے لوگوں کو بے اخلاق بتایا۔ میں نے کہا کہ آپ کے نزدیک لوگوں کے درمیان تقسیم یہ ہے کہ کچھ لوگ با اخلاق ہیں اور کچھ لوگ بے اخلاق ۔ مگر مجھے اس سے اتفاق نہیں۔ میرے نزدیک اصل تقسیم با اخلاق اور بے اخلاق کی نہیں، بلکہ ہوشیار مفاد پرست اور بیوقوف مفاد پرست کی ہے۔ ان دونوں کا کیس یکساں طور پر مفاد پرستی کا کیس ہے ۔ مگر کچھ لوگ اسی ذاتی مقصد کو ہوشیاری کے ساتھ حاصل کر رہے ہیں جس کو دوسرے لوگ بیوقوفی کے ذریعہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میں نے کہا کہ میرا یہ تاثر تجربات کی روشنی میں بنا ہے ۔ جن حضرات کو لوگ با اخلاق بتاتے ہیں ، ان کا میں نے ذاتی تجربہ کیا۔ میں نے پایا کہ وہ لوگ اپنے سلوک میں دہرا معیار اختیار کئے ہوئے ہیں ۔ وہ اپنے لوگوں کے لئے خوش اخلاق ہیں ۔ مگر جن لوگوں کو وہ اپنا نہ سمجھیں ان کے ساتھ وہ خوش اخلاقی برتنے کی ضرورت نہیں سمجھتے۔

مثلا ایک شخص ان کا استقبال کرے یا وہ ان کا مدح خواں ہو تو اس کے ساتھ ان کا سلوک نہایت عمدہ ہوتا ہے۔ مگر جو شخص ان پر تنقید کر دے یا جس سے انہیں اکرام اور اعزاز ملنے کی امید نہ ہو اس کے لئے وہ عام انسانوں کی طرح بد اخلاق بن جاتے ہیں۔ یہ فرق ثابت کرتا ہے کہ ان کا اخلاق اصول کی بنیاد پر نہیں ہے بلکہ ذاتی مفاد کی بنیاد پر ہے۔ وہ اصول کی بنیاد پر با اخلاق ہوتے تو وہ دونوں قسم کے لوگوں کے ساتھ اخلاق برتتے۔ مگر جس شخص کا اخلاق ذاتی مفاد کے تابع ہو وہ یہی کرے گا کہ جہاں اس کو ذاتی فائدہ نظرآئے گا وہاں وہ بااخلاق بن جائے گا ، اور جہاں ذاتی فائدہ نہ ہوگا وہاں وہ بے اخلاق بنا رہے گا۔

14 اپریل 1983

ایک صاحب نے پرجوش طور پر ایک شاعر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے قوم کو اتحاد و ترقی کا سبق دیا تھا۔ اس کے ثبوت میں انھوں نے مذکورہ شاعر کا یہ شعر پیش کیا:

زرد ہے پھولوں کی رنگت اڑ گیا کلیوں کا روپ آؤ مل کر اہتمام زینت بستاں کریں

اگر یہ دعویٰ صحیح ہواورشاعرنے واقعۃ قوم کو اتحاد و ترقی کا پیغام دینا چاہا ہو، تب بھی اس کو شاعری کہا جائے گا نہ کہ کوئی حقیقی تعمیری پیغام ۔ کوئی رقاصہ اگر رقص کی زبان میں عبادت کی تبلیغ کرے تو رقاصہ کی نیت خواہ جو بھی ہو مگر وہ ایک رقص کا مظاہرہ ہو گا نہ کہ عبادت الہی ٰکی تبلیغ ۔ اسی طرح اتحاد و ترقی کا جو پیغام شعروشاعری کی زبان میں دیا جائے وہ عملاً صرف شاعری بن کر رہ جائے گا ، وہ لوگوں کے درمیان اتحاد و ترقی کے پیغام کا درجہ حاصل نہیں کرسکتا۔

15 اپریل 1983

ابن السماک قدیم بغداد کے ایک واعظ تھے۔ ایک بار انھوں نے عباسی خلیفہ ہارون الرشید (193 – 148ھ) کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ لاتحرق وجهک في النار و( ایسا نہ کرو کہ تمہارا چہرہ آگ میں جلے) یہ سن کر ہارون الرشید رونے لگا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ابن السماک کے یہاں ایک ذہین خادمہ تھی ۔ انھوں نے ایک بار خادمہ سے پوچھا کہ میرا وغط کیسا ہوتا ہے۔ اس نے جواب دیا کہ آپ کا وعظ تو بہت اچھا ہوتا ہے۔ مگر آپ ایک بات کو بار بار کہتے ہیں، اس طرح آپ کا وعظ بہت لمبا ہو جاتا ہے ۔ ابن السماک نے کہا کہ میری مجلس میں خواص بھی ہوتے ہیں اور عوام بھی۔ میں بات کی تفصیل اس لئے زیادہ کرتا ہوں کہ جوعوام ہیں وہ بھی میری بات کو سمجھ جائیں ۔ خادمہ نے جواب دیا : جب تک عوام سمجھیں گے اس وقت تک خواص اکتا چکے ہوں گے ۔

other sourceWords of another person or source

اس معاملہ میں زیادہ بہتر یہ ہے کہ آدمی اپنے لئے کسی ایک گروہ کا انتخاب کرلے ۔ وہ یا تو خواص کو اپنا مخاطب بنائے یا عوام کو۔ اگر اس نے دونوں کو اپنا مخاطب بنانے کی کوشش کی، تو ایک گروہ کے تقاضے پورے کرنے کی کوشش میں وہ دوسرے گروہ کے مزاج کی رعایت نہ کرسکے گا۔

16 اپریل 1983

احادیث کی جمع و تدوین کا کام کئی مرحلوں میں ہوا ہے ۔ اس کا پہلا دور پہلی صدی ہجری کے آخر میں شروع ہوا اور دوسری صدی ہجری کے نصف اول میں ختم ہوگیا۔ بصرہ کے ربیع بن صبیح (م 160ھ )مکہ کے ابن جریح (م 150ھ) اور کوفہ کے سفیان ثوری (م 161ء) وغیرہ اسی پہلے دور سے تعلق رکھتے ہیں ۔

احادیث کی جمع و تدوین کا دوسرا دور دوسری صدی ہجری کے نصف آخر میں شروع ہوا ۔ اور اس کے خاتمہ تک جاری رہا۔ مدینہ کے امام مالک (م 179) وغیرہ اسی دور ثانی سے تعلق رکھتے ہیں۔ امام مالک کی موطا بہت مشہور ہے۔ کہا جا تا ہے کہ ابتدا موطا میں چار ہزار سے زیادہ حد یثیں تھیں ۔ مگر امام مالک مسلسل تنقیح کرتے رہتے تھے۔ چنانچہ ان کے انتقال کے وقت اس میں ایک ہزار سے کچھ زیادہ حدیثیں رہ گئیں۔ یہی وجہ ہے کہ موطا امام مالک کے بہت سے نسخے پائے جاتے ہیں ، اور وہ ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ان مختلف نسخوں کی تعداد 20 سے 30 تک بتائی گئی ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مذکورہ دونوں دوروں میں تدوین حدیث کا کام زیادہ تر فقہ کے زیر اثر ہوا۔ چنانچہ ان دونوں دوروں کی حدیث کی کتابیں فقہی ابواب وفصول پر مرتب کی گئی ہیں ۔

تدوین حدیث کا تیسرا دور تیسری صدی ہجری کی ابتداء میں ہوا ۔ سب سے پہلے مسند اسد بن موسی اموی (م 212 )مسند نعیم بن حماد خزاعی (م 229) وغیرہ لکھی گئیں ۔ اس دور میں محدثین نے کثرت سے مسانید جمع کیں ۔ ان میں مسند امام احمد بن حنبل (م 241ھ) سب سے زیادہ جامع اور ضخیم سمجھی جاتی ہے۔ بعض لوگوں نے اس کو "خاتمۃ المسانید" لکھا ہے ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میں ذاتی طور پر " مسند" والی ترتیب کو زیادہ سائنٹفک سمجھتا ہوں۔ کیوں کہ اس میں حدیث اپنی اصل صورت میں قاری کے سامنے آجاتی ہے۔ اس کے بر عکس فقہی ترتیب میں دو واضح کمیاں ہیں۔ ایک یہ کہ اکثر اپنے فقہی ڈھانچہ میں لانے کے لئے محدث حدیث کی تقطیع کر دیتا ہے ۔ وہ حدیث کا ایک حصہ ایک باب میں درج کرتا ہے اور دوسرا حصہ دوسرے باب میں ۔

دوسرا مسئلہ " ترجمہ باب " کا ہے۔ محدث بطورخود حدیث کا ایک فقہی مفہوم مقررکر کے اس کو ایک خاص باب کے تحت درج کر دیتا ہے ۔ حالانکہ میں نے ذاتی تجربہ میں بار بار پایا ہے کہ حدیث کا اصل مفہوم محدث کے " ترجمہ باب “ سے کہیں زیادہ وسیع اور بامعنی ہو تا ہے ۔

17 اپریل 1983

قرآن میں کہا گیا ہے کہ واسجد واقترب (العلق)، یعنی سجدہ کر اور خدا سے قریب ہوجا۔ حدیث میں اس کی تشریح ان الفاظ میں ملتی ہے : اقرب ما يكون العبد من ربہ وهوساجد (بندہ اپنے رب سے سب سےزیادہ اس وقت قریب ہوتا ہے جب کہ وہ سجدہ میں ہوتا ہے) صحیح مسلم

quoted sourceQuoted from another author or source

اس آیت اور اس حدیث پر غور کرتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ سجدہ خدا اور بندہ کے درمیان مقام اتصال Meting Point) ) ہے۔ سجدہ اظہار عجز کی آخری اور انتہائی صورت ہے۔ اور عجز ہی واحد چیز ہے جس کے ذریعہ بندہ اپنے خدا سے قریب ہوسکتا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس معاملہ کی ایک مادی تمثیل مقناطیس کی صورت میں پائی جاتی ہے۔ مقناطیس کے ہر ٹکرے میں ایک نگیٹو سائڈ (منفی رخ ) ہوتا ہے اور ایک پازیٹو سائڈ( مثبت رخ ) ۔ ایک کو نارتھ پول، اور دوسرے کو ساؤ تھ پول کہا جا تا ہے ۔ اگر آپ مقناطیس کے دوٹکروں کولیں اور دونوں کے پازیٹوں سائڈ کو آمنے سامنے کریں تو وہ کبھی نہیں ملے گا۔ مگرجب آپ ایک کا پازیٹوسائڈ اور دوسرے کا نگینو سائڈ آمنے سامنے کریں تو دونوں فورا جڑ جاتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ عظیم وکبیرہے۔ کبریائی تمام تر اسی کو سزاوار ہے۔ اب انسان اگر بڑائی کے احساس کے لئے ہوئے خدا کی طرف متوجہ ہو تو یہ بڑائی کو بڑائی سے ملانا ہوگا ، یہ ایسا ہی ہوگا جیسے مقناطیس کے پازیٹو سائڈ کر پازیٹو سائڈ سے ملایا جائے ۔ ایسی حالت میں دونوں ایک دوسرے سے جڑ نہیں سکتے۔ اس کے برعکس جب انسان اپنے اندر سے بڑائی کے احساس کو خالی کرتا ہے اور خالص عجز کے ساتھ اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو یہ گویا ایک مقناطیس کے پازیٹو سائڈ کو دوسرے مقناطیس کے نگیٹو سائڈ سے ملانا ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں دونوں فورا ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں۔

غیر ساجد کبر کا سرمایہ لے کر خدائے کبیر سے ملنا چاہتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ وہ کبھی مل نہیں پاتا۔ ساجد عجز کا سرمایہ لے کر خدائے کبیر سے ملتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ فوراً دونوں کے درمیان اتصال قائم ہو جاتا ہے۔

18 اپریل 1983

میں نے ایک عرب عالم کا مضمون پڑھا۔ ان کی یہ بات مجھے پسند آئی کہ اختلاف برا نہیں ۔ البتہ خلاف برا ہے۔ اختلاف ایک طبیعی امر ہے اور وہ اسلام کے دور اول میں ہی موجود تھا ، مگر وہ خلاف تک نہیں پہنچا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب صحابہ کو بنو قریظہ کی بستیوں کی طرف روانہ کیا تو بتاکید فرمایا کہ تم لوگ بنو قریظہ میں پہنچ کر ہی عصر کی نماز پڑھنا( لا يصلين احد الا فی بني قريظة) صحابہ میں سے کچھ لوگوں نے اس حکم کے الفاظ کو لیا اور بنو قریظہ میں پہنچ کر تاخیر کے ساتھ نماز پڑھی۔ کچھ لوگوں نے اس کو معنی پر محمول کیا اور اس کو تیز قدمی( الاسراع لبلوغ الهدف) کے معنی میں لیتے ہوئے راستہ میں نماز پڑھ لی ۔ اور رسول اللہ نے دونوں کی تصدیق فرمائی ۔

یہ واقعہ ( اور اس طرح کے دوسرے واقعات) اس کا کھلا ہوا ثبوت تھے کہ بعض امور میں تنوع ایک فطری امر ہے ، اس لئے ان میں توحید پیدا کرنے کی کوشش نہیں کرنا چاہئے۔ مگر بعد کے زمانہ میں لوگ ( خاص طور پر فقہا ) اس حقیقت کو ملحوظ نہ رکھ سکے ، اور امت میں بے شمار خرابیاں پیدا ہوگئیں۔

صحابہ اور تابعین تک یہی صورت حال قائم رہی۔ میرے علم کے مطابق عمر بن عبدالعزیز اس امت میں آخری قابل ذکر شخص تھے جو اس راز کو جانتے تھے ۔ ق

قد ذكر ابن القيم في اعلام الموقعين ان سيدنا عمر وابن مسعود اختلفا في 100 مسئلة وعدد مؤلفر ۔ كتاب تاريخ التشريع الاسلامي والساليسروالسبكي والبربري) عشرين مسئلة اختلف فيها الصحابة. لم يستنكر احد هذا لخلاف۔ إنما اعتبره الجميع امرا طبعيا لايقطع ودأ ولا يفرق صفا. ولهذا ايده عمربن عبد العزيز فيما يذكر الشاطبي في الاعتصام، وقال مااحب ان اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يختلفون لانه لوكان قولا واحد لكان المنام في ضيق وانهم ائمۃ يقتدى بهم. فلو اخذ رجل بقول احدهم لكان سنة ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ابن قیم نے اعلام الموقعین میں لکھا ہے کہ حضرت عمر اورحضرت عبداللہ بن مسعود کے درمیان ایک سو مسائل میں باہم اختلاف تھا ۔ تاریخ تشریع اسلامی کے مصنفین سے 20 مسائل شمار کئے ہیں جن میں صحابہ ایک دوسرے سے مختلف رائے رکھتے تھے ۔ اس اختلاف کو کسی نے بھی برا نہیں مانا ۔ تمام لوگوں نے اس کو طبعی معاملہ سمجھا جس سے نہ باہمی محبت ختم ہوئی اور نہ جماعتی انتشار پیدا ہوتا۔اسی لئے حضرت عمر بن عبد العزیز نے اس کی تائید فرمائی ہے۔ جیسا کہ شاطبی نے لکھا۔ ، انھوں نے کہا : مجھے یہ پسند نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب اختلاف نہ کرتے ۔ اس لئے کہ اگر صرف ایک ہی قول ہوتا تو لوگ تنگی میں پڑ جاتے۔ اور صحابہ ہی وہ رہنما لوگ ہیں جن کی پیروی کی جاتی ہے ۔ ان کے اختلاف کی وجہ سے یہ ہے کہ آدمی ان کے جس قول کو بھی لے لے وہ سنت ہوگا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ بہت بڑی غلطی ہے کہ فرق کو اختلاف کے معنی میں لے لیا جائے ۔

19 اپریل 1983

عربی کا ایک مقولہ ہے: من تان أدرك ما تمنیٰ ( جس نے خوب غوروفکر کیا اس نے اپنی آرزو کو پالیا ) مطلب یہ ہے کہ جوشخص کوئی کام اس طرح کرے کہ اس کے لئے سوچنے سمجھنے کا حق اس نے پوری طرح ادا کر دیا ہو تو وہ ضرور اپنے مطلوبہ مقصد میں کامیاب رہے گا ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

موجودہ دنیا میں اقدام کے دو طریقے ہیں۔ ایک ، عاجلانہ اقدام۔ دوسرے منصوبہ بند اقدام ۔ عاجلانہ اقدام وہ ہے جو بس وقتی جذبہ کے تحت شروع کر دیا گیا ہو۔ ایسا اقدام ہمیشہ ناکامی پرختم ہوتا ہے۔ منصوبہ بند اقدام وہ ہے جو اس طرح کیا جائے کہ اس سے پہلے آدمی نے اس کے تمام پہلوؤں پر غور کیا ہو ۔ وہ اس معاملہ میں واقف کاروں سے مشورہ کرے۔ اس طرح بخوبی طور پر سمجھ کر اور اس کے لئے ضروری تیاری کر کے اقدام کیا جائے۔ ایسا اقدام ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے، خواہ اس کی کامیابی جلد ظاہرہو یا دیر میں ۔

20 اپریل 1983

ایک عام آدمی جب غصہ ہوتا ہے تو وہ اپنے غصہ کوشدید ترین لفظ میں ظاہر کرنا چاہتا ہے۔ وہ اپنی لغت کا آخری لفظ استعمال کرنے سے کم کسی چیز پر راضی نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر غصہ کے وقت ایک ہندستانی ایک عرب اور ایک یوروپین حسب ذیل الفاظ بولتا ہے:

ہندستانی : حرامی نمبر ایک

عرب : حرامی رقم واحد

یوروپین Bastard No. One

اس قسم کے تجربات بتاتے ہیں کہ ان الفاظ کا کوئی مشترک مثنی ہر آدمی کے ذہن میں موجود ہے۔ ان الفاظ کو اپنے ذہنی مثنی سے جوڑ کر آدمی سمجھھتا ہے کہ وہ جس جذبہ کا اظہار کرنا چاہتا تھا اس کا اظہار اس نے کر دیا۔ اگر ایسا نہ ہو تو غصہ میں بھرا ہوا انسان اپنے اندرونی احساس کی تسکین ان الفاظ میں نہ پا سکے۔

قرآن میں علم اشیاء کی تعلیم (البقرہ ) کا جو ذکر ہے، اس کا ایک مطلب شاید یہ بھی ہو۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتاہے کہ تمام چیزیں ، خواہ وہ صوری ہوں یا معنوی ، ان کی معرفت انسان کے ذہن میں پیشگی طور پر موجود ہے۔ اسی کو غالبا قرآن میں چیزوں کے نام کہا گیا ہے۔ ان ناموں کو کوئی ایک زبان کے لفظ کے ساتھ ہمرشتہ کر کے بولتا ہے اور کوئی دوسری زبان کے لفظ کے ساتھ ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

21 اپریل 1983

ایک مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے اپنے مقام کے مسلمانوں کے بارہ میں شکایت کی کہ ان کی اکثریت بے نمازی ہے۔ اپنے بارہ میں انھوں نے بار بار " الحمد للہ" کہتے ہوئے بتایا کہ میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے، پابندی کے ساتھ نماز ادا کرتا ہوں ۔ ان کے لہجہ میں اپنے نمازی ہونے پر فخر اور بڑائی کا انداز تھا اور دوسروں کے بے نمازی ہونے کا ذکر وہ اس طرح کر رہے تھے جیسے کہ وہ ان کو بالکل حقیر اور کمتر سمجھتے ہوں۔

میں خاموشی سے ان کی تقریر سنتا رہا۔ آخر میں میں نے کہا ۔ سب سے زیادہ ہے نمازی ہونا یہ ہے کہ آدمی کو اپنے نمازی ہونے پر فخر ہو ۔

22 اپریل 1983

1947 میں جب پاکستان بنا تو وہ دوحصوں میں تھا ۔ مغربی پاکستان اورمشرقی پاکستان ۔ اس کے بعد دونوں کے درمیان اختلافات شروع ہوئے۔ یہاں تک کہا 1971 میں مشرقی پاکستان ٹوٹ کر الگ ملک بن گیا اور اس کا نام بنگلہ دیش، قرار پایا۔ بنگلہ دیش بننے کے بعد ہندستان میں اس پر بہت سی کتابیں چھپیں۔ مثلا :

1. Pakistan Divided

2. Partition After Partition 4. Emergence of Bagladesh 3. Dismemberment of Pakistan,

اس ذیل میں ایک کتاب چھپی ۔ یہ کتاب خود تو زیادہ اچھی نہ تھی۔ البتہ اس کا نام بہت با معنی تھا۔ مصنف نے اس کتاب کا نام رکھا تھا: (Pakistan cut to size)

انگریزی زبان میں size کا لفظ قد، قامت کے معنی میں آتا ہے ۔ اس سے اس کے مختلف معانی بنے ہیں۔ مثلا کہا جاتا ہے (this is about the size of it) یعنی یہ صحیح واقعہ ہے ، یہ بیان وافقہ کے مطابق ہے ۔ اسی سے (cut to size) کا استعمال ہے۔ یعنی مصنوعی اضافہ کو گھٹا کر کسی چیز کو اس کے واقعی قامت کے بقدر کر دینا۔ پاکستان کی دو بار تقسیم کے لئے یہ نام( پاکستان کٹ ٹوسائز) صحیح ترین نام ہے۔ کیوں کہ یہ سراسر مصنوعی تھا کہ ایسا ملک بنایا جائے جس کا ایک حصہ مشرق میں ہو اور دوسرا مغرب میں ، اور دونوں کے درمیان ایک ہزارمیل کا فاصلہ ہو ۔ پاکستان کی دوبارہ تقسیم نے اس کو اس کے واقعی حجم پر پہنچا دیا ۔

مومن، ایک سچے انسان کو بتانے کے لئے یہ بہترین لفظ ہے۔ مومن یا سچا ربانی انسان .(man cut to size) ہوتا ہے۔ یعنی وہ انسان جو اپنے مصنوعی اضافوں کوختم کر کے اپنی واقعی حیثیت پر آجائے۔ میں سمجھتا ہوں کہ احتساب خویش واحد چیز ہے جو اس قسم کے سچے انسان کو وجود میں لاتا ہے۔

آدمی جب اپنا محاسب بنتا ہے تو بار بار اس کو یہ احساس ستانے لگتا ہے کہ " میں نے غلطی کی " ۔ اسی احساس سے آدمی کے اندر قطع حجم کا عمل جاری ہوتا ہے ۔ ہر بار جب آدمی کے اوپر احساس خطا طاری ہوتا ہے تو گویا " پیاز" کا ایک چھلکا اس کے اوپر سے اتر جاتا ہے ۔ اس طرح گھٹتے گھٹتے وہ اپنی آخری حد پر آ جاتا ہے ۔ اس سے پہلے اگر وہ" خدا" بنا ہوا تھا تو اب وہ خالص بنده بن جاتا ہے۔

23 اپریل 1983

" انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اپنے اخلاق وعمل کے اعتبار سے ایک پرفکٹ (معیاری) انسان بنے ۔ مگر موجودہ امتحان کی دنیا میں کسی انسان کے لئے پرفکٹ انسان بننا ممکن نہیں " ۔ میں اس سوال پر غور کر رہا تھا کہ میری زبان سے نکلا ، موجودہ دنیا میں کبھی کوئی شخص پرفکٹ انسان نہیں بن سکتا۔ پرفکٹ صرف وہ ہے جو اپنے امپرفکٹ ہونے کو جان لے۔

24 اپریل 1983

حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ : من نوقش فقد ھلک ( جس کی جانچ کی گئی وہ ہلاک ہوا) یہ بات موجودہ زمانہ میں " پاسپورٹ “ اور ”کسٹم“ کی مثال سے بخوبی سمجھ میں آتی ہے۔ پاسپورٹ کی حیثیت ایمان کی ہے ، اور کسٹم کی حیثیت آخرت کے حساب و کتاب کی۔ ہم کو ایمان کو حاصل ہے ، مگر نجات کے لئے ضروری ہے کہ آدمی حساب کے مرحلہ میں کامیاب ہوسکے۔ گویا پاسپورٹ تو ہمارے پاس ہے ۔ مگر کسٹم کا مرحلہ ابھی باقی ہے۔ کسٹم پر اگر خدا نے کہہ دیا کہ تم گرین چینل سے نکل جاؤ ، تب تو بچ جائیں گے۔ لیکن اگر سامان کھول کر دیکھا گیا تو اس کے بعد پھر بچنے کی کوئی صورت نہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

25 اپریل 1983

اسلام ، موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا فخر ہے، وہ ان کا ہدایت نامہ نہیں ۔ اسی ایک فقرہ میں موجودہ مسلمانوں کی پوری کہانی چھپی ہوئی ہے۔

میں ایک سوال کے بارہ میں برسوں تک سوچتا رہا ہوں۔ وہ یہ کہ موجودہ زمان کے مسلمان جس قسم کی باتوں پرمشتعل ہو کر دوسری قوموں سے لڑ جاتے ہیں ، اس قسم کی باتیں مزید شدت کے ساتھ دور اول میں بار بار پیش آئیں۔ مگر کبھی ایسا نہیں ہوا کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب مشتعل ہو کر دوسروں سے لڑنے لگیں۔ اس فرق کا سبب کیا ہے۔ آخر کارجس بات پر میرا دل مطمئن ہوا وہ یہ تھا کہ اس فرق کا سبب دونوں کے ذہنوں کا فرق ہے۔ رسول اللہ اور آپ کے اصحاب کے لئے اسلام کی حیثیت خدا کی ہدایت اور رہنمائی کی تھی ، اس کے بر عکس موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے لئے اسلام قومی فخر کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ یہی وہ خاص فرق ہے جس نے دونوں کے عمل میں فرق پیدا کیا ہے۔

فخر کی نفسیات ہو تو اسلام آدمی کے لئے پر سٹیج کا عنوان بن جائے گا۔ وہ اسلام کو اس نظر سے دیکھے گا کہ دوسرے لوگ اس کی ناموس پر حملہ نہ کریں۔ اس کے برعکس ہدایت نامہ سمجھنے کی نفسیات ہو تو آدمی اسلام کو رہنمائی کی چیز سمجھے گا ۔ اول الذکر حالت میں اسلام کے عدم احترام پر آدمی کے جذ بات بھڑکیں گے ، اور ثانی الذکر حالت میں اسلام کی عدم اطاعت پر۔

26 اپریل 1983

کسی شخس کا قول ہے کہ جو لوگ تاریخ کو بھلا دیں، وہ دوبارہ اس کے اعادہ کی غلطی کرتے ہیں :

other sourceWords of another person or source

Those who forget history are condemned to repeat it.

اپنے ماضی کا تنقیدی جائزہ لینا انتہائی ضروری ہے۔ ماضی کا نقیدی جائزہ نہ لینا ہمیشہ اس قیمت پر ہوتا ہے کہ آدمی اپنی غلطیوں کو دہراتا رہے ، وہ بھی اپنی غلطیوں سے باہر نہ آسکے۔

27 اپریل 1983

قال زياد بن ابي سفيان : ليس العاقل الذى اذا وقع في الامر احتال له ،ولكن العاقل يحتال للامرحتى لا يقع فيه ( زیاد بن ابی سفیان نے کہا: عقلمند آدمی وہ نہیں ہے جو کسی معاملہ میں مبتلا ہو جائے تو اس کی تد بیرکرے۔ بلکہ عقلمند آدمی وہ ہے جو معاملہ کی تدبیر کرے تاکہ وہ اس میں مبتلا نہ ہو )

other sourceWords of another person or source

28 اپریل 1983

تربیت کا سب سے اہم ذریعہ یہ ہے کہ آدمی واقعات میں آیات کو دیکھنے لگے ۔ یہ بات مختلف شکلوں میں پورے قرآن میں موجود ہے ، اور سورہ آل عمران کے آخری رکوع میں نہایت واضح طور پر بتائی گئی ہے ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

29 اپریل 1983

جاش بلنگ (Josh Billing) نے کہا کہ تجربہ ہماری عقل کو بڑھاتا ہے ، مگر وہ ہماری غلطیوں کو کم نہیں کرتا :

other sourceWords of another person or source

Experience increases our wisdom, but doesn't reduce our follies.

30 اپریل 1983

غالبا میرتقی میر کا شعر ہے :

صبح گزری شام ہونے آئی میر تو نہ چیتا اور بہت دن کم رہا

یہ شعر بظاہر بہت آسان ہے ، اس میں کوئی مشکل لفظ نہیں ۔ مگر اس کو سمجھنے کے لئے صرف ان الفاظ کے معانی جانتا کافی نہیں جوشعر کے اندر موجود ہیں۔ اس کے ساتھ کچھ اور باتیں جاننا بھی لازمی طور پر ضروری ہیں ۔ اگر آدمی ان دوسری باتوں کو نہ جانے تو تمام تر سادگی کے با وجود وہ شعر کو سمجھ نہ سکے گا۔

پہلی بات یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ تمثیل ہے۔ یعنی اس میں سادہ طور پر صرف صبح وشام کا قصہ نہیں بیان کیا گیا ہے بلکہ صبح وشام کی مثال میں انسانی زندگی کی حقیقت بیان کی گئی ہے۔ دوسری بات یہ جاننا ضروری ہے کہ زندگی کو کسی اعلی تر مقصد میں صرف کرنا چاہئے ۔ اگر آدمی نے ایسا نہیں کیا تو عمر کا مختصر حصہ بہت جلد تمام ہو جائے گا اور آدمی کے پاس افسوس کے سوا کچھ اور رہے گا۔

یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایک بات کو سمجھنے کے لئے کچھ اور باتوں کا جاننا ہمیشہ ضروری ہوتا ہے۔ آدمی کا ذہن اگر ان مزید معلومات سے خالی ہو تو وہ کسی بات کو نہیں سمجھ سکتا ،خواہ وہ کتنے ہی آسان الفاظ میں کہی گئی ہو۔

5 اپریل 1983

اصول برتنے کی دو قسمیں ہیں ۔

1۔ اصول کے لئے اصول برتنا۔

2۔ مفاد کے لئے اصول برتنا۔

ظاہری طور پر دیکھنے میں دونوں بچیاں ہیں گزرا ہری مشابہت کے سوا دونوں کے درمیان کوئی مشابہت نہیں۔ اصول کے لئے اصول برتنے والا ہی در اصل اصول پرست ہے۔ مفاد کے لئے اصول برتنے والا صرف مفاد پرست ہے ، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں ۔ با اصول رمدگی قربانی کی زندگی ہے۔ جو شخص مفاد کے لئے اصول برتے وہ گو یا پیتربانی کی قیمت اس دنیا میں وصول کر لینا چاہتا ہے . اس کے بیس جوشخص اصول کے لئے اصول برتتا ہے اگر اس کا محرک مضاۓ الہی ہو ، تو وہی وہ شخص ہے جو اپنی قربانی کی قیمت میں آخرت پائے گا۔

Highlights
Reading

The realization of God is the essence of religion. Without maarifah, religion is reduced to a spiritless form.

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceother sourceWords of another person or sourceother sourceWords of another person or sourceother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceother sourceWords of another person or sourceother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside ithadithQuotes a hadithoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itquoted sourceQuoted from another author or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or source