Maulana Wahiduddin Khan
37 min left
0:00

← Diary 1983-1984
Diary 1983-1984

March 1983

English · 37 min read

یکم مارچ 1983

عورت تاریخ کے ہر دور میں مرد کے تابع رہی ہے ۔ موجودہ زمانہ میں ترقی یافتہ ملکوں میں عورت اور مرد کو مساوی بنانے کی کوشش کی گئی۔ مگرعملا یہ فرق ختم نہ ہوسکا۔ عورت کو مغربی سماج میں آج بھی وہی دوسرا درجہ حاصل ہے جو قدیم زمانہ میں اس کو حاصل تھا۔

جدید تحقیقات نے بتایا کہ دونوں صنفوں کے درمیان اس فرق کا سبب حیاتیات میں ہے۔ یعنی دونوں کی حیاتی بناوٹ میں فرق ہے۔ اس لئے معاشرہ کے اندر بھی دونوں کے درجہ میں فرق ہو جا تا ہے۔ اب مساوات مرد وزن کے حامی ”ڈارونزم" کے تحت اس کی توجیہ کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ عورت ارتقائی عمل میں زیادہ ابتدائی درجہ میں رہ گئی جب کہ ڈارون نے خود کہا ہے کہ " مرد بالآخر عورت کے مقابلہ میں بہتر ہوگیا۔"

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

Women remained at a more primitive stage of evolution. As Darwin himself put it, "Man has ultimately become superior to women."

quoted sourceQuoted from another author or source

2 مارچ 1983

مسلمانوں کے ایک شاعر نے دور ماضی میں کہا تھا : ۔

ہرکہ شمشیرزند سکه به نامق خوانند

موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا حال دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آج بھی وہ اسی تخیل کو اپنے سینہ سے لگائے ہوئے ہیں۔ حالاں کہ یہ شعرجس زمانہ میں کہا گیا تھا وہ زمانہ بدل گیا۔ قدیم زمانہ میں اگر شمشیرزنی کرنے والوں کے نام سے سکہ ڈھالا جاتا تھا تو اب علم میں مہارت دکھانے والوں کا سکہ دنیا میں رواں ہوتا ہے ۔ زمانہ کے اس فرق کو نہ سمجھنے کی وجہ سے مسلمانوں نے اپنے "حال" کو کھو دیا ہے۔ اگر وہ اب بھی اس حقیقت کو نہ سمجھیں تو وہ اپنا "مستقبل" بھی کھو دیں گے۔ اس بے دانشی کے ساتھ مسلمانوں کے لئے بربادی کے سواکوئی دوسری چیز اس عالم اسباب میں مقدر نہیں۔

3 مارچ 1983

ابوبکر بن عباس خوارزمی 383 – 323 ھ ذہانت و حافظہ میں ضرب المثل تھے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ ارجان میں صاحب بن عباد وزیر سے ملنے گئے ۔ دروازہ پر پہنچے تودر بان اندر گیا اور صاحب سے جا کر کہا کہ دروازہ پر ایک ادیب آپ سے ملنے کی اجازت چاہتے ہیں۔ وزیر نے کہاکہ ان سے کہو میں نے طے کر لیا ہے کہ میرے پاس کوئی ادیب اس وقت تک نہیں آئے گا جب تک اسے عرب کے 20 ہزار اشعار زبانی یاد نہ ہوں؛ خوارزمی نے یہ بات سنی تو در بان سے کہا جاؤ ان سے دریافت کرو کہ20 ہزار مردوں کے یا عورتوں کے ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ سن کر وزیر ٹھنڈا پڑ گیا۔ اس نے کہا کہ یہ ابو بکر خوارزمی معلوم ہوتے ہیں۔ اور فورا ان کو اندر بلالیا ۔ بعض کلام ایسے ہوتے ہیں کہ صرف الفاظ ہی آدمی کو مسخر کرنے کے لئے کافی ہوجاتے ہیں۔

4 مارچ 1983

"گیتان جلی“ رابندرناتھ ٹیگور کی مشہور کتاب ہے۔ اس کتاب کے انگریزی ترجمہ پران کو نوبیل انعام ملا تھا۔ یہ کتاب اصلا بنگلہ زبان میں لکھی گئی تھی ۔ اس کے بعد اس کا ترجمہ مختلف زبانوں میں ہوا۔ اس کی ایک نظم کا دو مصرعہ یہ ہے:

میں تجھ کو چاہتا ہوں، صرف تجھ کواورکسی کونہیں

میرے دل کو اس آرزو کی تکرار بے نہایت کرنے دے

کسی چیز سے جب آدمی کا تعلق دلچسپی اور محبت کے درجہ کا ہو جائے تو وہاں تکرار کا تصور ختم ہو جاتا ہے۔ پھر اس کی ہر تکرار آدمی کو نیا لطف دیتی ہے۔ اس کی تکرار سے آدمی کبھی نہیں اکتاتا۔ اس کی ایک عام مثال سگرٹ ہے ۔ آدمی اس ایک سگرٹ کو بار بار پیتا ہے اور روزانہ پیتا رہتا ہے۔ مگر اس کو کبھی یہ خیال نہیں آتا کہ وہ ایک چیز کی تکرار کر رہا ہے ۔ حالاں کہ اس شخص کو اگر کوئی غیرمرغوب چیز دی جاۓ تو دو چار بار کے استعمال کے بعد وہ اس سے اکتا جائے گا اور اس کو تکرار کہہ کر چھوڑ دے گا۔

میں نے کئی بار ایسے نوجوان دیکھے ہیں جنھوں نے ابھی کوئی پکچر دیکھی تھی ۔ اگرچہ ان میں سے ہر ایک اس پکچر کو دیکھے ہوئے تھا مگر وہ اس کی کہانی اور اس کے مکالمے اس طرح ایک دوسرے کو سنا رہے تھے جیسے وہ کوئی نئی بات کہہ رہے ہوں۔ پکچر کے ساتھ ان کی بڑھی ہوئی دلچسپی نے ان کے لئے تکرار کا تصور حذف کر دیا تھا۔

جب کسی کے سامنے کوئی بات کہی جائے اور وہ اس کو "تکرار" کہہ کر بے لطف ہونے لگے تو سمجھ لیجئے کہ یہ بات اس کی زندگی میں دل چسپی بن کر داخل نہیں ہوئی ہے ۔ اگر وہ اس کے لئے حقیقی دل چسپی کی چیز ہوتی تو اس کی ہر تکرار اس کو نیا لطف دیتی نہ یہ کہ وہ اس کو بے لطف بنادے۔

5 مارچ 1983

اندرملہوترا ٹائمس آف انڈیا کے مغربی نمائندہ ہیں ۔ انھوں نے مسٹر ہرمن کی کتاب (جنگ کی ہوائیں) کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ پچھلے پورے سال یہ کتاب اٹلانٹک کے دونوں کناروں پر سب سے زیادہ بکنے والی کتابوں میں تقریبا سرفہرست رہی :

All through the last year, Mr. Herman's work The Winds of Warremained close to the top of the weekly list of best-sellers on both sides of the Atlantic.

اٹلانٹک کے دونوں کناروں سے مراد یورپ اور امریکہ ہیں۔ یہ ایک خوب صورت ادبی اسلوب ہے ۔ مگر یہ ادبی اسلوب واقعہ کی بنیاد پر بنا ہے ۔ اس کے بالمقابل خیالی ادب وہ ہے جس کے لئے واقعہ سے مطابقت ضروری نہیں ۔ مثلا شبنم ایک مادی واقعہ ہے۔ اس کا ایک معلوم طبیعی مفہوم ہے۔ مگرشاعرجب اپنے خیالات کی دنیا میں ایک تصویر بناتا ہے تو اس کو اس سے بحث نہیں ہوتی کہ شبنم فی الواقع کس چیز کا نام ہے ۔ اگر وہ اپنے فرضی محبوب سے ملاقات کا ذکر کر رہا ہو تو وہ کہے گا:

صبا نے وہ تگ دو کی ہے اعلان مسرت میں

کہ ٹپکا ہے پسینہ جا بجا شبنم کی صورت میں

اس کے برعکس اگر شاعر کے فرضی محبوب کا انتقال ہو جائے تو یہی شبنم "گریہ شبنم" میں ڈھل جائے گی ۔ اس وقت شاعر کو دکھائی دے گا گویا شبنم کے قطرے آسمان کے آنسو ہیں جو شدت غم کی وجہ سے اس کی آنکھوں سے نکل پڑے ہیں ۔

امریکی خلا بازمسٹر نیل آرم اسٹرانگ نے 1969 میں جب پہلی بار چاند پرقدم رکھا تو ان کی زبان سے نکلا۔ یہ ایک آدمی کے لئے ایک چھوٹا قدم ہے مگر انسانیت کے لئے وہ ایک عظیم تھلانگ ہے :

That's one small step for a man, one giant leap for mankind.

یہ جملہ ایک عظیم سفر کے بعد نکلا ۔ حقیقت یہ ہے کہ عظیم حالات ہی عظیم ادب کی تخلیق کرتے ہیں۔ جس آدمی نے بے شمار مراحل سے گزر کر ایسا قدم اٹھایا ہو جو فی الواقع انسانیت کے لئے ایک چھلانگ بننے والا ہو وہی وہ شخص ہوتا ہے جس کے احساسات ان الفاظ میں ڈھل جائیں جس کا ایک نمونہ مسٹر نیل آرم اسٹرانگ کے جملہ میں نظر آتا ہے۔

فرضی تخیل سے فرضی ادب پیدا ہوتا ہے اور حقیقی عمل سے حقیقی ادب ۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ فرضی ادب سے فرضی زندگی بنتی ہے اورحقیقی ادب سے حقیقی زندگی ۔

6 مارچ 1983

سید بال الدین افغانی( 1897 - 1838 ) نے کہا تھا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں نے اس پر اتفاق کرلیا ہے کہ وہ کبھی اتفاق نہیں کریں گے ( اتفقو أن لا يتفقو)

other sourceWords of another person or source

اس قول کا مطلب بظاہر یہ ہے کہ سید جمال الدین افغانی خود ایک اتفاق پسند آدمی تھے۔مگر حقیقت یہ ہے کہ جمال الدین افغانی جیسے لوگ ہی مسلمانوں کی بے اتفاقی کے اصل ذمہ دا رہیں۔ موجودہ زمانہ میں بے اتفاقی کی سب سے بڑی وجہ سیاست ہے۔ سیاسی طریق عمل اختیار کرنے کی وجہ سے جمال الدین افغانی جیسے لوگوں کا کام اول دن سے عدم اتفاق سے شروع ہوا۔ ان کے نظریہ کے مطابق اصلاح کا کام حکمرانوں کی تبدیلی سے شروع ہوتا تھا۔ چنانچہ اپنی تحریک کے آغاز ہی میں وہ اپنے ملک کے مسلم حکمرانوں سے ٹکراگئے۔

اس کا نتیجہ یہ ہو کہ جمال الدین افغانی جس ملک میں گئے ، یا ان کے جیسے لوگوں نے جس ملک میں کام شروع کیا وہاں عملا مسلمان دو طبقوں میں بٹ گئے۔ ایک حکمراں طبقہ اور اس کے موافقین، دوسرے انقلاب پسند طبقہ اور اس کے موافقین ۔ اس طرح ہر ملک میں مسلمان دو طبقوں میں بٹ کر ایک دوسرے سے لڑنے لگے اور آج تک لڑ رہے ہیں۔ جمال الدین افغا نی جیسے لوگ اگر یہ کہتے تو زیادہ صحیح تھا کہ ــــــــ ہم نے اتفاق کر لیا ہے کہ ہم عدم اتفاق والی پالیسی پر چلیں گے۔

7 مارچ 1983

موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں انسان آزاد ہے کہ جو چاہے بولے اور جس قسم کے الفاظ چاہے اپنے منہ سے نکالے۔ مگر آخرت میں ایسا نہ ہو سکے گا۔ آخرت میں آدمی کی یہ آزادی اس سے چھین لی جائے گی ۔ آخرت میں صرف وہی باتیں الفاظ کی صورت میں ڈھل سکیں گی جو صحیح ہوں، غلط باتوں کے لئے وہاں کسی کو الفاظ ہی نہیں ملیں گے ۔

کس قدر عجیب ہو گی وہ دنیا جہاں آدمی کو صرف موقف حق کے لئے الفاظ ملیں ، اور موقف غیر حق کے لئے الفاظ پانا کسی کے لئے ناممکن ہو جائے ۔ یہ بے بسی کی سخت ترین قسم ہے ۔ مگر دنیا میں چوں کہ آدمی اس کا تجربہ نہیں کرتا اس لئے وہ اس کی سنگینی کو سمجھ نہیں پاتا ۔

8 مارچ 1983

ایران کے شاہ محمد رضا پهلوی (1980 – 1919) کو اپنے اقتدار پراتنا اعتماد تھا کہ انھوں نے اپنے لئے “ شہنشاہ “ کا لقب اختیار کیا۔ انھوں نے ابتدائی دو بیویوں کو صرف اس لئے طلاق دے دی کہ وہ ان کے لئے وارث سلطنت پیدا نہ کرسکیں ۔ آخر میں انھوں نے تیسری بیوی فرح دیبا سے اکتوبر 1960 میں شادی کی ۔ ان کے بطن سے ولی عہد رضا پیدا ہوئے۔ مگر اس کے بعد خود شاہ کو سلطنت چھوڑ کر جلا وطن ہو جانا پڑا۔

مختلف اسباب کے تحت ایران میں خمینی انقلاب آیا - 16جنوری 1979 کو شاہ محمد رضا پہلوی ایران سے باہر جانے کے لئے اپنے خصوصی ہوائی جہاز میں داخل ہوۓ تو وہ زار و قطار رو رہے تھے ۔ اس کے بعد وہ مختلف ملکوں میں پھرتے رہے ۔ یہاں تک کہ 27 جولائی 1980 کو قاہرہ کے ایک اسپتال میں ان کا انتقال ہوگیا۔ موت کے وقت شاہ کی جو دولت بیرونی بینکوں میں جمع تھی وہ دس ہزار ملین پونڈ سے بھی زیادہ تھی (ہندستان ٹائمس 31 جولائی 1980)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

شاہ رضا اگر اس طرح سوچتے کہ سلطنت کھونے کے باوجود ابھی میرے پاس ۱۰ ہزار ملین پونڈ “ موجود ہیں اور ان کے ذریعہ میں دوبارہ ایک نئی زندگی شروع کرسکتا ہوں تو وہ نئے عزم کے ساتھ ایک کامیاب زندگی حاصل کرسکتے تھے۔ مگر سلطنت کو کھونے کا غم ان پر اتنا زیادہ طاری ہوا کہ وہ عظیم خزانہ کا مالک ہونے کے باوجود بے ہمت ہو گئے اور بالآخر سخت مایوسی کے عالم میں مرگئے ۔ انسان کے لئے طاقت کا اصل سرچشمہ اس کی نفسیات ہے نہ کہ مادی وسائل۔

9 مارچ 1983

اسلام دین رحمت ہے ۔ وہ آدمی کی روحانی ترقی کا ذریعہ ہے۔ وہ آدمی کو اخلاقی اورانسانی اعتبار سے اوپر اٹھاتا ہے۔

اسی کے ساتھ اسلام کی دی ہوئی ایک اور عظیم رحمت وہ ہے جس کو اسلام کی تاریخ کہا جاتا ہے ۔ یعنی پیغمبر اسلام اور آپ کے صحابہ کرام کی تا ریخ جو کامل طور پر محفوظ حالت میں موجود ہے۔ اسلام کی یہ تاریخ اپنی زندہ مثالوں کے ذریعہ آدمی کو یہ حوصلہ دیتی ہے کہ وہ اعلی اخلاقی بلندیوں تک پہنچنے کی پراعتماد کوشش کر سکے ۔ اسلام اگر صرف اعلی اصول پیش کرتا اور اس کے پاس اعلی تاریخ نہ ہوتی تو اس کی تلقین بہت کم افراد کومتاثر کرسکتی تھی۔

10 مارچ 1983

پچھلے پانچ ہزار سال کے اندر دنیا میں بے شمار اعلی درجہ کے آرٹسٹ پیدا ہوئے ہیں ۔ انھوں نے حقیقی اور فرضی انسانوں کی نہایت کامیاب تصویریں بنائیں مگر کوئی آرٹسٹ انسان کے لئے موجودہ ماڈل کے سوا کوئی دوسرا ماڈل پیشں نہ کر سکا۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کا موجودہ ڈھانچہ آخری پر فکٹ ڈھانچہ ہے۔ انسان کے لئے اس کے سوا کوئی اور ڈھانچہ ذہن میں لانا ممکن نہیں۔

یہی حال کائنات کی تمام چیزوں کا ہے۔ سمندر ہو یا پہاڑ ، درخت ہو یا جانور یاکوئی اور چیز ، ہرچیز کی تشکیل اپنے آخری کامل نمونہ پر ہوئی ہے۔ گھاس کا جو ماڈل ہے وہ اتنا مکمل ہے کہ اس کے سوا گھاس کا کوئی دوسرا ماڈل تجویزنہیں کیا جاسکتا۔ اسی طرح شیر کا موجودہ ماڈل اپنی جگہ اتنا مکمل ہے کسی دوسرے ماڈل کا شیر تصور میں نہیں آتا۔

حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا کی ہر چیز اپنے آخری پر فکٹ ماڈل پر ہے ۔ دنیا کی چیزوں کے لئے کوئی دوسرا ماڈل تجویز کرنا ممکن نہیں ، خواہ وہ کوئی چھوٹی چیز ہو یا بڑی چیز۔

میں نے غور کیا کہ انسان اپنے ارادہ سے جو چیزیں وجود میں لاتا ہے کیا ان میں سے کوئی ایسی چیز ہے جو اس کائناتی نمونہ کے ہم سطح ہو ، جو اپنے آخری پرفکٹ نمونہ پہ ہو ، جس کے آگے کوئی اور نمونہ ممکن نہ ہو ۔ کافی غور کرنے کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ انسان کی تخلیقات میں صرف ایک چیز ایسی ہے جو کائناتی اشیا کی مذکورہ خصوصیت کے ہم پلہ ہو ، اور یہ سجدہ ہے۔

ایک انسان جب اپنے آپ کو سجدہ کی حالت میں لے جا تا ہے اور اپنے پورے وجود کو جھکاۓ ہوۓ اپنا سرزمین پر رکھ دیتا ہے کہ یہ اظہارعبدیت کا ایسا نمونہ ہوتا ہے جس کے آگے اس کا کوئی اور نمونہ ممکن نہیں ۔ انسان کا سجدہ عبدیت کی آخری پرفکٹ تصویر ہے۔ سجدہ کی یہ صورت اگر چہ خدا کی بتائی ہوئی ہے اگر وہ انسانی ارا دہ سے عمل کی صورت اختیار کرتی ہے ۔

اس اعتبارسے وہ انسانی و اقعہ بن جاتی ہے ۔ اسی لئے قرآن میں ہے : واسجد واقترب اور اسی لئے حدیث میں آیا ہے:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اقرب ما يكون العبد من ربه وهوساجد (بندہ سجدہ کےوقت اپنے رب سےزیادہ قریب ہوتا ہے ، اسی مفہوم میں ایک قول یہ ہے ؛ الصلاة معراج المومنین۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

11 مارچ 1983

اسلام میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ اللہ کی مخلوق میں غور وفکر کرو ، اللہ کی ذات میں غوروفکر نہ کرو ورنہ ہلاک ہو جاؤ گے (تفكروا في خلق الله ولا تفكروا في ذات الله فتهلکوا)

hadithQuotes a hadith

اللہ کی مخلوق ہمارے معلوم دائرہ کی چیز ہے جب کہ اللہ کی ذات ہمارے معلوم دائرہ سے باہر کی چیز ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی مخلوق میں غور وفکر کرنے سے معرفت کی روشنی حاصل ہوتی ہے ۔ آدمی کے یقین میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے برعکس جو لوگ اللہ کی ذات میں خوض کرنے لگتے ہیں۔ ان کا خوض انھیں صرف تشکیک اور انتشار ذہنی تک پہنچاتا ہے۔

عقلمند شخص وہ ہے جو اپنی سوچ کو معلوم دائرہ تک محدود رکھے ، اور نادان وہ ہے جو معلوم دائرہ اور نامعلوم دائرہ کے فرق کونہ سمجھے اور پہلے دائرہ میں چلتے ہوئے دوسرے دائرہ میں داخل ہو جائے ۔ ایسا شخص اپنے آپ کو فکری تباہی سے نہیں بچا پاتا۔

12 مارچ 1983

حدیث میں زبان کے محتاط استعمال پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے اور زبان سے غلط لفظ نکالنے پر سخت وعید بتائی گئی ہے۔ اس بنا پر اسلامی لٹریچر میں کثرت سے اس کا تذکرہ ملتاہے۔ نظم اور نثر دونوں میں اس کے بارہ میں کافی مواد موجود ہیں ۔ یہاں میں صرف ایک عربی شعر نقل کرتا ہوں :۔

اِحفَظ لِسانَكَ أَيُّها الإِنسانُ

لا يَلدَغَنَّكَ إِنَّهُ ثُعبانُ

اےانسان،اپنی زبان کی حفاظت کرے ، وہ اژدہا ہے کہیں تم کو ڈس نہ لے۔

مگر مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بہت کم لوگ ہیں جو واقعی معنوں میں سمجھتے ہوں کہ حفاظت زبان کے کیا معنی ہیں۔ بیشتر لوگ بس روایتی طور پر اس قسم کے ناصحانہ الفاظ بول دیتے ہیں ، بغیر یہ جانے ہوئے کہ اس تعلیم کے حقیقی عملی تقاضے کیا ہیں۔

مثلا ایک شخص کو اس کے عزیز کے بارہ میں ایک لغو خبر دی جائے تو اس کا ذہن اس کی تحقیق میں لگ جائے گا ، وہ تحقیق کے بغیر بھی اس کو ماننے پر راضی نہ ہو گا۔ مگر اس آدمی کو اس کے مبغوض شخص کے بارہ میں کوئی لغوخبربتائی جائے تو اس کا ذہن بلا تحقیق اس کو قبول کرلے گا ۔ چونکہ وہ مذکورہ شخص کو غلط سمجھتا ہے اس لئے اس کے بارہ میں جب وہ کوئی بری خبرسنتا ہے تو اس کا ذہن شعوری یا غیرشعوری طور پر مان لیتا ہے کہ خبر صحیح ہوگی۔

اس معاملہ میں مجھے اکابر تک کے تجربے ہوئے ہیں ، مگرکسی کو میں نے اس کے بارہ میں محتاط نہیں پایا۔

13 مارچ 1983

1913 میں کانپور میں ایک سٹرک کی توسیع کے سلسلہ میں محلہ مچھلی بازار کی مسجد کا غسل خانہ توڑ دیا گیا تھا۔ اس پر مسلمانوں نے زبر دست ہنگامہ کیا۔ حکومت نے گولی چلائی اور کئی مسلمان ہلاک ہو گئے۔ بعد کو لا رڈ ہارڈنگ نے اس قضیہ کا فیصلہ کیا۔

مولانا سید سلیمان ندوی نے لکھا ہے کہ امرتسر کے اجلاس کانگریس (1919 )کے بعد گاندھی جی کے مشورہ پرمسلمانوں کا ایک وفد وائسرائے لارڈ ہارڈنگ سے ملا ۔ مولانا حسرت موہانی بھی اس وفد میں شریک تھے۔ مگر عرض معروض اور جواب کے بعد جب وائسرائے سے ہاتھ ملانے کا اعزازی لمحہ آیا تو حسرت چپکے سے اٹھ کر بے ہا تھ ملائے کترا کر اس طرح نکل گئے کہ کسی نے دیکھا بھی نہیں۔

other sourceWords of another person or source

مسلمان اپنے رہنماؤں کی اس طرح کی باتوں پر فخر کرتے ہیں، مگر مجھے تو یہ باتیں باعث شرم معلوم ہوتی ہیں۔ انگریز مسلمانوں کے لئے مدعو کی حیثیت رکھتے تھے۔ مسلمانوں نے ان کو صرف حریف اور رقیب، یا ظالم اور غاصب کی نظر سے دیکھا۔ اگر وہ ان کو مدعو سمجھتے تو وہ مسلم لیڈروں کے لئے محبت کا موضوع بنتے۔ مگرجب انھوں نے دوسری نظر سے دیکھا تو وہ ان کے لئے صرف نفرت کا موضوع بن کر رہ گئے۔

14 مارچ 1983

مکان کی پائداری کی ضمانت پختہ اینٹیں ہوتی ہیں ، اسی طرح قوم کی ترقی کی ضمانت یہ ہے کہ اس کے افراد جاندار ہوں۔ بے جان افرا د کے اوپر کسی زندہ قوم کی تعمیر نہیں کی جاسکتی۔

میرے نزدیک مسلمان کا اصل مسئلہ وہ "خارجی سازشیں" نہیں ہیں جس کو لوگ نہایت اہتمام کے ساتھ بیان کرتے ہیں ، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ مسلمان آج بالکل بے جان ہوگئے ہیں ۔ وہ اس قابل نہیں رہے کہ ان کی بنیاد پر کوئی مستحکم تعمیر قائم کی جاسکے۔

15 مارچ 1983

مدینہ کے منافقین بظاہر عام مسلمانوں کی طرح رہتے تھے ، اس لئے ظاہری حالات کے اعتبار سے ان کو پہچاننامشکل تھا۔ تاہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ایک منافق کا حال نام بنام معلوم تھا۔ مگر آپ نے ان کی بابت کسی کو نہیں بتایا صرف ایک صحابی حذیفہ بن الیمان کو آپ نے ان منافقین سے باخبر کر دیا تھا۔ اسی لئے وہ" امین سر رسول اللہ " کہے جاتے تھے۔

روایات میں آتا ہے کہ خلیفہ ثانی حضرت عمرفاروقی رضی الہ عنہ کو اپنے بارے میں اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ ان میں سے نہ ہوں۔ چنانچہ آپ حذیفہ کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ میں تم کو خدا کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام منافقین میں شمار کیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ نہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حضرت عمر کا یہ واقعہ ان کے کمال ایمان کی دلیل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عبدیت کے احساس اور عظمت خداوندی کے ادراک کا آخری درجہ ہے ،جس سے آگے کوئی اور ایمانی درجہ نہیں ۔

16 مارچ 1983

عربی میں گھوڑے کو فرس کہتے ہیں ۔ گھوڑے کی سواری میں مہارت کو فردسیہ کہا جاتا ہے۔ ایک عربی کتاب میں حسب ذیل عبارت نظر سے گزری :

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

للفروسية اربعة انواع. ركوب الخيل والكروالفروركوبالخيل

بالقـوس. وركوب الخيل المـطـاعــةبـالـريـاح . وركوبالخيلوالمبارزةبالسيف

یعنی خالی گھوڑا دوڑانا ۔ گھوڑے پر سوار ہو کر تیراندازی کرنا ۔ گھوڑے پر سوار ہوکر نیزہ مارنا۔ گھوڑے پر سوار ہوکر تلوار چلانا۔

کہا جاتا ہے کہ خالد بن الولید اور ابوبکر صدیق اور حمزہ بن عبدالمطلب ان چاروں اقسام کے ماہر تھے۔

other sourceWords of another person or source

قدیم زمانہ میں فروسیہ کی بڑی اہمیت تھی۔ اسی بنا پر قرآن میں کہا گیا کہ : واعد والهم ما استطعتم من قوة ومن رباط الخيل (الانفال) لیکن آج اگر کوئی شخص اس کو لفظی معنی میں لے کر فروسیہ کی تبلیغ کرنے لگے تو یہ شریعت اسلامیہ کی روح سے ناواقفیت کی دلیل ہوگی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

17 مارچ 1983

مجھے اسلامی تاریخ کے چند لمحات بہت ہی نادر معلوم ہوتے ہیں ۔ ان لمحات میں جو کلمات کہے گئے ، اس سطح کے کلمات دوبارہ تاریخ میں کہے نہ جاسکے ۔

پہلا لمحہ خود پیغمبر اسلام کی ذات سے متعلق ہے ۔ ہجرت کے وقت جب آپ غار ثور میں چھپے ہوئے تھے ۔ آپ کے دشمن وہاں بھی تلوار لئے ہوئے پہنچ گئے۔ ابوبکرصدیق نے اندیشہ ناک لہجہ میں کہا کہ وہ تو یہاں بھی آگئے۔ آپ نے فرمایا:

يا أبا بكرٍ ما ظَنُّك باثْنينِ اللهُ ثالثُهُما ــــ یہ نصرت خداوندی پر کامل یقین کا کلمہ ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

دوسرا لمحہ وہ ہے جب کہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم کی وفات ہو گئی ۔ تمام لوگ سراسیمہ تھے۔ اس وقت ابو بکرصدیق آتے ہیں ۔ آپ کے اوپر سے چادر اٹھا کر دیکھتے ہیں اور پھر مسجد نبوی میں جا کر کہتے ہیں : من كان يعبد محمد فان محمد قد مات و من کان یعبد اللہ فان اللہ حیی لا یموت ـــــ یہ خدا اور بندہ کو فرق کر کے دیکھنے کا کلمہ ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

تیسرا لمحہ وہ ہے جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت عمرفاروق سخت جذ بہ میں آجاتے ہیں۔ وہ اس کو ماننے سے انکار کر دیتے ہیں کہ رسول اللہ کی وفات ہوگئی ہے ۔ وہ مسجد نبوی میں تلوار لئے ہوئے کھڑے ہیں کہ ابوبکر صدیق مسجد کے اندر داخل ہوتے ہیں ۔ وہ عمر کو منع کرتے ہیں مگر جب وہ نہیں مانتے ہیں تو الگ ہٹ کر تقریر شروع کر دیتے ہیں اور اس میں قرآن کی آیت ، پڑھتے ہیں۔ اس آیت کو سنتے ہی عمر فاروق بالکل ڈھ پڑتے ہیں ۔ انھوں نے خود اپنا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا : وقعت على الارض وما تحملني رجلای ــــ ـ يہ حق کےاعتراف کا کلمہ ہےخواہ وہ اپنی مرضی کے خلاف کیوں نہ ہو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

چوتھا لمحہ وہ ہے جس کا تعلق پانچویں خلیفہ راشد عمر بن عبد العزیز سے ہے۔ ان کے ایک عامل جراح بن عبد اللہ نے کہا کہ اسلام قبول کرنے والوں کی حوصلہ افزائی نہ کرنا چاہئے۔ کیوں کہ بہت بڑی تعداد میں لوگ مسلمان ہو گئے تو جزیہ کی رقم کم ہو جائے گی اور سرکاری مالیات پر زبر دست اثر پڑے گا۔ عمر بن عبدالعزیز نے جواب دیا:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ويحك ان محمد ا بعث هاديا ولم يبعث جاہیا ۔۔۔۔ یہ دعوتی شعور اور پیغمبرانہ مشن کی معرفت کا کلمہ ہے۔

18 مارچ 1983

عن أم سلمة رضي الله عنها أن النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا خرج من بيته قال: بسم الله توكلت على الله ، اللهم اني اعوذبك أن أضل اوأضل اواظلم اوأظلم،اواجهل او يجھل علی

hadithQuotes a hadith

حضرت ام سلمہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے گھر سے نکلتے تھے تو اس طرح فرماتے تھے۔ شروع اللہ کے نام سے ، میں نے اللہ پر بھروسہ کیا۔ اے اللہ میں تجھ سے پناہ چاہتا ہوں کہ میں گمراہ کروں یا گمراہ کیا جاؤں۔ میں کسی پر ظلم کروں یا مجھ پر ظلم کیا جائے۔میں جہالت کروں یا مجھ پر جہالت کی جائے (ابو داؤد، ابن ماجه ،مشكوة جزہ ثانی، صفحہ 755

یہ محض ایک لفظی دعا نہیں ہے۔ یہ الفاظ یہ بتاتے ہیں کہ آپ جب گھرسے باہر نکلتے تھے توکن احساسات اور کیفیات کے ساتھ نکلتے تھے۔ یہ الفاظ در اصل اس ذہنی حالت کا خارجی اظہار ہیں جواس وقت آپ کے اوپرچھائی ہوئی ہوتی تھی ۔ اور آپ کے سینہ میں امنڈ رہی ہوتی تھی۔

19 مارچ 1983

فتح مکہ کے بعد مختلف قبائل عرب کے وفود مدینہ آئے، انھیں میں سے ایک وفد قبید ثقیف کا تھا۔ یہ لوگ اس وقت مشرک اور کافر تھے۔ جب وہ مدینہ آئے تو رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے ان کو مسجد نبوی میں اتارا اور مسجد کے اندر ہی ان کا خیمہ لگایا گیا یا کہ وہ قرآن کوسنیں اور لوگوں کونماز پڑھتے ہوۓ دیکھیں (وانزل رسول الله صلىاللهعليهوسلمويندثقيففيالمسجدوبنىلهـمخيامالكىيسمعواالقرآنويروالناسالاصتوا،زارالسارلابنتير،الجزءالثالث،مفروم )

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ اس وقت کی بات ہے جب کہ اسلام کی دعوتی روح پوری طرح زندہ تھی۔ اب موجودہ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ مسجد میں غیر مسلموں کا داخلہ پسند نہیں کرتے۔ اور اگر کوئی غیرمسلم اتفاق سے مسجد کے اندر آجائے تو نماز کے وقت اس کو باہر کر دیتے ہیں ۔ کتنا فرق ہے کل میں اور آج میں۔

بعد کا اضانہ

نومبر 1987 میں ہندستانی وزیراعظم راجیوگاندھی کٹھمنڈو )نیپال( گئے ۔ ان کی اہلیہ سونیا بھی ان کے ساتھ تھیں۔ کٹھمنڈو میں قیام کے دوران دونوں نے وہاں کے ایک ہندو مندر میں جانے کی خواہش ظاہر کی ۔ مندر کے پجاریوں نے مسزسونیا کو اس لئے مندر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی کہ وہ عیسائی ہیں ، اور مذکورہ مندر میں کسی غیر ہندو کو داخلہ کی اجازت نہیں۔ اس مندر کا نام پشپاوتی مندر ہے۔ حکومت نیپال کے افسروں نے اس سلسلہ میں مذکور مندر کے ذمہ داروں سے رابطہ قائم کیا۔ مگر وہ آمادہ نہیں ہوئے ۔ انھوں نے کہا کہ راجیو اکیلے مندر میں آسکتے ہیں۔ مگر مسز سونیا کو داخلہ کی اجازت نہیں، کیوں کہ وہ بنیادی طورغیر ہندو ہیں۔

اس سے پہلے اڑیسہ کے ایک مشہور مندر میں مسزاندراگاندھی کو اس بنا پر داخلہ کی اجازت نہیں ملی تھی کہ انھوں نے ایک غیر ہندو سے شادی کی ہے۔ (نئی دنیا 30 نومبر 1987)

other sourceWords of another person or source

اسی ہندو روایت کے زیراثر ہندستان کے مسلمانوں میں یہ مزاج پیدا ہوگیا ہے کہ وہ غیر مسلموں کا داخلہ مسجد کے اندر پسند نہیں کرتے ۔ حالانکہ ہندستان اور پاکستان کے علاوہ دوسرے مسلم ممالک میں کہیں بھی اس قسم کا مزاج نہیں ہے ۔ ہندستان کے مسلمان ہندستان کو تو اپنے دین سے متاثرنہ کر سکے ، البتہ وہ خود ہندستان کے دین سے متاثر ہو کر رہ گئے۔

20 مارچ 1983

موجودہ زمانہ میں مسلمانوں نے جو کتابیں لکھی ہیں وہ زیادہ تر فخر کی نفسیات کے تحت لکھی گئی ہیں۔ وہ داعیانہ نفسیات کے تحت نہیں لکھی گئی ہیں۔

فخر کی نفسیات میں تمام چیزوں کی تعبیر تسکین خویش کی بنیاد پر کی جاتی ہے ، اور داعیانہ نفسیات میں تمام چیزوں کی تعبیر مخاطب کی رعایت کی بنیاد پر۔ یہی وہ فرق ہے جس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی لکھی ہوئی کتابیں خود ان کے اپنے لئے تو کشش رکھتی ہیں ، مگر غیر مسلموں کے لئے ان کتابوں میں کوئی کشش نہیں ۔

21 مارچ 1983

ابوجعفر محمد بن جریر الطبری طبرستان میں 224ھ مطابق 839ء میں پیدا ہوۓ ۔ اور بغداد میں 310 ھ ( مطابق 922ء) وفات پائی۔ موصوف کی دو کتابیں بہت مشہور ہیں ۔ ایک ، جامع البيان في تفسير القرآن ، دوسرے ، تاریخ الامم والملوک۔

امام ابن جریر طبری ابتداء فقہ شافعی کے مقلد تھے ۔ ان کی اپنی بھی ایک فقہ تھی جس کے پیرو ان کے والد کے نام کی نسبت سے" جریریہ “ کہلاۓ ۔ تاہم یہ فقہی مذہب زیادہ پھیل نہ سکا۔ امام احمد بن حنبل سے وہ کئی امور میں سخت اختلاف کرتے تھے۔ وہ احمد بن حنبل کو مجتہد نہیں مانتے ، وہ ان کو صرف محدث تسلیم کرتے تھے۔

اس زمانہ میں بغداد میں امام ابن حنبل کے پیروؤں کی اکثریت ہوگئی تھی ۔ یہ لوگ علامہ طبری کے سخت دشمن ہوگئے۔ حتی کہ ایک بار ایسا ہوا کہ ایک ہجوم نے ان کے مکان کو گھیر لیا اور تشدد پر آمادہ ہوگئے۔ تاہم بغداد کے صاحب الشرطہ کی مداخلت سے یہ ہنگامہ فرو ہوگیا۔ ان کے مخالفین جب تشدد کی کارروائی میں ناکام رہے تو انھوں نے علامہ ابن جریر پر کفر کا فتوی لگا دیا۔

ابن جریر آج اپنی بے مثال کتابوں کی وجہ سے تمام مسلمانوں کے درمیان عزت کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں ۔ مگر اپنی زندگی میں ان کا وہ حال ہوا تھا جس کا اوپر ذکر ہوا۔ اکثر بڑی شخصیتوں کے ساتھ ایسا ہی کچھ پیش آیا ہے ۔ اپنے زمانہ میں وہ لوگوں کے عتاب کا شکاررہے ، اور بعد کے زمانہ میں "اکابر" کی فہرست میں شامل ہو کر معزز اور مقدس بن گئے۔

22 مارچ 1983

طرابلس یونیورسٹی کے ایک صاحب (پروفیسر مولانا) نے قرآن کی بعض آیتوں کے بارہ میں سوال کیا جن کا تعلق امور غیب سے تھا ۔ اس سلسلہ میں گفتگو کرتے ہوئے میں نے قرآن فہمی کے بارہ میں ایک اصولی بات کہی۔ میں نے کہا کہ انسان کے دائرہ فہم کے اعتبار سے علم کی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ جس کی نمائندگی سائنس کرتی ہے ۔ دوسرا وہ جس کا نمونہ ہم کو فلسفہ کی صورت میں نظر آتا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میں نے کہا کہ آپ دیکھئے ، سائنس کے لوگوں کے یہاں ذہنی انتشار نہیں پایا جاتا۔ جب کہ فلسفیوں میں شاید ہی کوئی شخص ہوجس کے یہاں ذہنی انتشار نہ پایا جا تا ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سائنس نے علم کی دوقسمیں کر دی ہیں ۔ قابل دریافت اور نا قابل دریافت ۔ وہ اپنی تحقیق کو صرف قابل دریافت دائره میں محدود رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سائنس داں ذہنی انتشار میں مبتلا ہوئے بغیر اپنی تحقیق کو جاری رکھنے میں کامیاب رہتا ہے۔ اس کے برعکس فلسفی قابل دریافت اور ناقابل دریافت کے فرق کو نہیں مانتا ۔ وہ دونوں دائروں میں یکساں طور پر داخل ہونا چاہتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ وہ ساری کوشش کرنے کے بعد بھی پوری دریافت نہیں کر پاتا اور حالت تشکیک میں مرجاتا ہے۔

قرآن ایک ایسی کتاب ہے جوعلم کے دونوں دائرہ میں کلام کرتی ہے۔ تاہم اس نے پہلی بار ایک ایسی قابل عمل حد بندی قائم کر دی ہے جو فلسفہ قائم نہیں کر سکا۔ وہ یہ ہے کہ تعمق کا طریقہ صرف ان امور میں اختیار کیا جاۓ جو قابل دریافت دائرہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ اور وہ امور جن کا تعلق ناقابل دریافت دائرہ سے ہے ان میں مجمل ایمان پر قناعت کی جائے ۔ یہی دوسرا دائرہ ہے جس کے بارہ میں کہا گیا ہے کہ ابھمو ما ابھمہ اللہ (جس چیز کو اللہ نے مبہم رکھا ہے اس کو تم بھی مبہم رکھو) یعنی جتنا بتایا گیا ہے اس کو مجمل طور یہ مان کر آگے بڑھ جاؤ۔ ایک حدیث میں یہی بات ان الفاظ میں بتائی گئی ہے: وسكت عن اشياء من غير نسیان فلا تبحثوا عنها (الله نےکچھ چیزوں کے بارہ میں سکوت اختیار فرمایا ہے اس کے بغیر کہ وہ بھولا ہو تو تم ان باتوں میں خوض نہ کرو ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

23 مارچ 1983

پروفیسر ٹی ڈبلیو آرنلڈ کی کتاب پر یچنگ آف اسلام (The Preaching of Islam) پہلی بار 1896ء میں شائع ہوئی تھی۔ اشاعت اسلام کے موضوع پر اگرچہ یہ کوئی مکمل کتاب نہیں۔ تاہم ابھی تک اس خاص موضوع پر اس کے آگے کوئی کتاب بھی نہ لکھی جاسکی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس کتاب میں جنوبی ہند میں اسلام کی اشاعت کی تاریخ بتاتے ہوئے (صفحہ 272) مصنف نے ایک مشنری رپورٹ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کے مغربی ساحل پر موپلا میں اسلام اتنی تیزی سے پھیل رہا ہے کہ چند سال کے اندر مغربی ساحل میں ادنی نسل کے تمام ہندوؤں کا مسلمان ہو جانا عین ممکن نظر آ تا ہے :

other sourceWords of another person or source

In fact the Mopillas on the west coast are said to be increasing so considerably through accessions from the lower classes of Hindus, as to render it possible that in a few years the whole of the lower races of the west coast may become Muhammadans. Report of the Second Decennial Missionary Conference held at Calcutta 1882-83, pp. 228, 233, 248, Caiculta 1883.

other sourceWords of another person or source

سو برس پہلے کے دور میں "مغربی ساحل" پر ہونے والے جس عمل کا ذکر یہاں کیا گیا ہے ۔ وہی عمل کم و بیش پورے ملک میں جاری تھا۔ مگر بعد کو سیاسی اور قومی لڑائیوں سے جو ماحول پیدا ہوا، اس نے اس قیمتی عمل کا خاتمہ کر دیا۔ موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں نے امکانی مواقع کو استعمال نہیں کیا ، البتہ انھوں نے ممکن مواقع کو برباد کرنے کا شاندار کارنامہ ضرور انجام دیا ہے ۔

24 مارچ 1983

مولانا قاضی اطہر مبارک پوری کی ایک کتاب ہے جس کا نام ہے " ہندستان میں عربوں کی حکومتیں" یہ کتاب پہلی بار ندوۃ المصنفین دہلی سے 1967 میں شائع ہوئی ۔ عنوان کے مطابق اس کتاب میں ان عرب مسلمانوں کے کارناموں کا ذکر ہے جو انھوں نے قدیم ہندستان میں انجام دئے ۔ 340 صفحات کی اس کتاب کا خاتمہ ان الفاظ پر ہوتا ہے :

" اب ہمارا یہ تاریخی ، علمی، دینی اور ثقافتی سفرختم ہوتا ہے ۔ اور پھر ہم ایک ہزار سال پیچھے آ رہے ہیں، اور جو کچھ دیکھا ہے اس کو اس ملک میں اپنے شاندار ماضی کا ورثہ سمجھ کر سینے سے لگاتے ہیں کہ اس کی گرمی سے ہماری ملی زندگی میں حرارت پیدا ہوگی۔"

پچھلے سو سال کے اندر برصغیر ہند میں جو کچھ لکھا گیا ہے وہ اسی ذہن کے تحت لکھا گیا ہے ۔ ہمارے تمام شعرا ، خطباء اور مصنفین اسی انداز پر کام کرتے رہے ہیں۔ مگرنتیجہ بتاتا ہے کہ یہ سراسرغلط خوراک تھی جو ہمارے رہنماؤں نے موجودہ مسلمانوں کے لئے تجویز کی۔ وہ اس راز کو نہ سمجھ سکے کہ "شاندار ماضی" کی کہانیاں سنانے سے صرف جھوٹا فخر پیدا ہو گا نہ کہ حقیقی جذبئہ عمل ۔

موجودہ زمانہ میں کرنے کا اصل کام یہ تھا کہ مسلمانوں کے اندر حال کا شعور پیدا کیا جاتا۔ انھیں بتایا جا تا کہ زمانہ میں کیا تبدیلیاں آئی ہیں اور ان تبدیلیوں کو نہ سمجھنے کی وجہ سے وہ دوسری قوموں سے کتنا زیادہ پچھڑ گئے ہیں۔ مسلمان عملا دور جدید کی ایک پس ماندہ قوم بن چکے تھے ۔ مگر شاندار ماضی کے قصے سنا کر فرضی طور پر ان کے اندر یہ نفسیات بنائی گئی کہ تم دوسروں سے بہت آگے ہو۔ کہنے والوں نے جو کچھ کہا وہ اگرچہ یہ تھا کہ "ہم دوسروں سے آگے تھے" مگر مسلمانوں کے ذہن میں یہ بیٹھ گیا کہ ” ہم دوسروں سے آگے ہیں" ۔ اس قسم کی نفسیات سے صرف جھوٹا احساس برتری پیدا ہوسکتا تھا اور صرف وہی پیدا ہوا ۔ اور حقائق کی موجودہ دنیا میں جھوٹے احساس برتری سے زیادہ مہلک چیز اور کوئی نہیں۔

25 مارچ 1983

ایک مسلمان شاعر (ہمدم) نے ایک اردو اخبار میں اپنا ایک " تازہ قطعہ " لکھ کر روانہ کیا ۔ یہ پوسٹ کارڈ غلطی سے ہمارے یہاں آ گیا۔ میں نے اس کا پتہ صحیح کرکے دوبارہ اس کولیٹر بکس میں ڈلوا دیا۔ مذکورہ قطعہ یہ تھا :

ہم کو نہ ستاۓ اب کہدو یہ زمانے سے ہم ڈرتے نہیں لوگو سراپنا کٹانے سے

دنیا سے مسلماں کو کیا کوئی مٹائے گا یہ قوم ہے وہ ہمدم بڑھتی ہے گھٹانے سے

اس قطعہ میں جو نفسیات نظر آرہی ہے یہی موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی عام نفسیات ہے۔ اور یہی موجودہ زمانہ میں ان کی بربادی کی سب سے بڑی وجہ ہے ۔

26 مارچ 1983

عن ابن عباس ، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال يوم الفتح : لاهجرة بعدالفتح ولكن جهاد ونية (اخرجه الجماعة الا الموطا)

hadithQuotes a hadith

حضرت عبد اللہ بن عباس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا : فتح کے بعد ہجرت نہیں ، البتہ جہاد اور نیت ہے۔

hadithQuotes a hadith

اس حدیث کے مطابق بظاہر ہجرت کا حکم صرف فتح مکہ تک تھا۔ مکہ فتح ہو جانے کے بعد اب ہجرت کا حکم باقی نہیں رہا۔ مگر دوسری طرف کتب حدیث میں ایک اور روایت موجود ہے جو ان الفاظ میں آئی ہے:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

عن معاوية قال قال رسول الله صلى الله عليه وسـلم : لاتنقطعالهجرةحتىتنقطع التوبة ولاتنقطع التوبة حتى تطلع الشمس من مغ ررواہ احمد وابوداؤد والدارمی)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

بظاہران دونوں روایتوں میں تضاد ہے ۔ اس کی تطبیق میں شارحین کو بڑی مشکلیں پیش آئی ہیں ، حتی کہ کچھ لوگوں نے دوسری روایت کی صحت سے انکار کر دیا ہے۔ مگر دونوں روایتوں میں کوئی واقعی ٹکراؤ نہیں۔

اصل یہ ہے کہ احادیث میں کچھ حدیثیں وہ ہیں جو وقت یا مخاطب کی نسبت سے صورت معاملہ کی وضاحت کرتی ہیں۔ اور کچھ حدیثیں وہ ہیں جومطلق طور پر ایک اسلامی حکم کوبیان کر رہی ہیں۔ اول الذکر نوعیت کی احادیث کو خطابی اور ثانی الذکر کو اطلاقی کہا جا سکتا ہے ۔

اس تقسیم کی روشنی میں دیکھئے تو مذکورہ دونوں حدیثوں کا ٹکراؤ ختم ہو جاتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ ایک ہجرت وہ ہے جو بطور اصولی حکم کے مطلوب ہے۔ دوسری ہجرت وہ ہے جو مکہ کی 13 سالہ تبلیغ کے بعد اہل ایمان پر فرض ہوئی تھی ۔ مکہ کی ہجرت وقتی حالات کے اعتبارسے فرض تھی ۔ بعد کوجب مکہ فتح ہوا اور وہاں سے شرک کا خاتمہ کر دیا گیا تو اب مکہ سے ہجرت کی ضرورت باقی نہ رہی۔البتہ ہجرت ، ایک اصولی حکم کی حثیت سے، بدستور باقی ہے ۔ جب بھی کسی مقام پروہ حالات پیدا ہوں جو اسلام کی ابتدائی تاریخ میں مکہ اور مدینہ میں پیدا ہوئے تھے تو دوبارہ ہجرت مسلمانوں کے اوپر فرض ہو جائے گی۔ اس اعتبار سے ہجرت کا حکم قیامت تک کے لئے باقی ہے۔

27 مارچ 1983

سورہ واقعہ میں ارشاد ہواہے: لایمسه الا المطهرون (قرآن کو نہیں چھوتے مگرصرف پاک لوگ) اس کا مطلب افراد نے یہ بتایا ہے کہ قرآن کا ذائقہ اور اس کا فائدہ صرف وہ لوگ پاتے ہیں جو اس کے مومن ہوں (لايجد طمعه ونفعه الامن آمن به ،تفسیر ابن کثیر، الجزء الرابع ، صفحه 298)

quoted sourceQuoted from another author or source

یہ اس آیت کی ایک شاذ تفسیر ہے۔ اس لئے ہوسکتا ہے کہ کچھ لوگ اس کو مذکورہ آیت کی تفسیر نہ مانیں ۔ تاہم الگ سے وہ ایک بالکل صحیح بات ہے۔ اور اس کا تعلق قرآن ہی سے نہیں ہے بلکہ ہر اس کتاب سے ہے جس میں کوئی فکر اور نظریہ پیش کیا گیا ہو۔

ایک فکری کتاب کو اگر کوئی شخص معاندانہ ذہن سے پڑھے تو وہ اس کے مطالب کوصحیح طور پر اخذ نہیں کر سکتا۔ فکری کتاب کو سمجھنے اور اس سے حظ حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ آ دمی سنجیدہ ہو ، اور اس سے استفادہ کے جذبہ سے اس کو پڑھے ۔ یہ بات جس طرح دوسری فکری اور نظریاتی کتابوں کے لئے صحیح ہے ،اسی طرح وہ قرآن کے لئے بھی صحیح ہے ۔

قاضی ابوبکر بن العربي ، مالکی نے مذکورہ آیت کے بارہ میں لکھا ہے کہ یہ قول صحیح ہے کہ قرآن کی لذت وہی لوگ پاسکتے ہیں جو گناہوں سے پاک اور تائب اور عا بد ہوں ، امام بخاری نے اس کو مختار بتایا ہے ( ابن العربي ، احکام القرآن ، جلد 2 ، صفحه 231)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

28 مارچ 1983

دار العلوم دیوبند اب عربی اور دینی علوم کی مشہور ترین درس گاہ ہے۔ اس میں ہزاروں طلبہ پڑھتے ہیں اور اس کا بجٹ ایک کروڑ روپیہ تک پہنچ گیا ہے ۔ مگر آغاز میں وہ ایک معمولی مدرسہ سے بھی کم تھا۔

15 محرم 1383ھ ( 30 مئی 1867ء) کو دیوبند کی چھتہ مسجد میں یہ تعلیمی ادارہ شروع ہوا۔

اس وقت اس میں صرف دو آدمی تھے ۔ ایک استاد او رایک طالب علم اس کے پہلے استاد کا نام ملا محمود تھا ، اور اس کا پہلا طالب علم وہ نوجوان تھا جس نے بعد کو مولانا محمود (شیخ الہند) کے نام سے شہرت پائی۔

یہ استقلال کا کرشمہ ہے ، کوئی کام اگر شروع کیا جائے اور شروع کر نے کے بعد اس کو برابر جاری رکھا جائے تو طویل مدت گزرنے کے بعد بالآخر وہ اس طرح کامیاب ہوتا ہے جس طرح دیوبند کا تعلیمی ادارہ کامیاب ہوا۔

29 مارچ 1983

قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : استعينوا على قضاء حوائجكم بالکتمان (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اپنی حاجتوں کو پورا کرنے میں رازداری سے مدد لو)

hadithQuotes a hadith

یہ ایک نہایت اہم نصیحت ہے۔ اس کا تعلق فرد کے معاملات سے بھی ہے اور قوم کے معاملات سے بھی۔ اس دنیا میں ہمیشہ حسد اور عداوت پائی گئی ہے اور آئندہ بھی یہ چیزیں موجود رہیں گی۔ ایسی حالت میں حاسدوں اور دشمنوں کے فتنہ سے بچنے کا راز یہ ہے کہ اپنے معاملات کو مخفی رکھا جائے تاکہ انھیں ہمارے نازک معاملات کی اطلاع نہ ہو سکے۔

رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم غزوات کے سفر میں ہمیشہ راز داری سے کام لیتے تھے ۔ مثال کے طور پر جس زمانہ میں آپ مکہ کی طرف مارچ کا پروگرام بنا رہے تھے تو آپ نے حضرت عائشہ اور حضرت ابوبکر تک کو اس سے پیشگی طور پر باخبر نہیں کیا۔

hadithQuotes a hadith

30 مارچ 1983

اس دنیا میں انسان کی معراج یہ ہے کہ و ہ عجز کا تجربہ کر سکے۔ وہ خدا کی الوہیت کے مقابلہ میں اپنی عبدیت کو جان لے۔ تمام پیغمبروں اور ان کے اصحاب کو اس عجز کا تجربہ ہوا۔

اس تجربہ کی اعلیٰ صورت یہ ہے کہ قوت کی سطح پر اس کا تجربہ ہو ۔ یعنی آدمی" اولوالایدی والابصار" پیدا ہو ، وہ بظاہر قوت و طاقت کا مالک ہو ۔ مگر اس ظاہری حالت کے پیچھے وہ باطنی حقیقت کو دیکھ لے۔ وہ بظاہر قوت رکھتے ہوئے اپنے ارادہ سے اپنے آپ کو عجز کے مقام پر بٹھالے۔

میرا احساس ہے کہ میں بہت کمزور ہوں ۔ بلکہ شاید تمام نسل انسانی میں سب سے زیادہ ضعیف انسان ہوں۔ میں سوچ رہا تھا کہ اللہ تعالی نے مجھ کو اتنا زیادہ کمزور کیوں پیدا کیا۔ خیال آیا کہ موجودہ زمانہ میں اللہ تعالی نے مسلمانوں میں نہایت طاقت ور شخصیت کے لوگ پیدا کئے ۔ مگروہ اپنی طاقت ور حیثیت میں کھو گئے۔ وہ ابوبکر و عمر جیسے نہ بن سکے جو انتہائی طاقت ور شخصیت کے مالک تھے ، اس کے باوجود انھوں نے عجز کی حقیقت کو دریافت کیا۔

اس کے بعد اللہ تعالی نے مجھ جیسے کمزور انسان کو پیدا کیا تاکہ وہ عجز کی حقیقت کا ادراک کر سکے ۔ قوت کی سطح پر عجز کا تجربہ لوگوں کے لئے مشکل ہو گیا تھا ،اس لئے ایک عاجز انسان کو پیدا کیا گیا تا کہ عجز کی سطح پر عجز کا تجربہ کرایا جائے حقیقت یہ ہے کہ عجز کامل کے تجربہ کے بغیردین کامل کی نمائندگی اس دنیا میں ممکن نہیں۔

31 مارچ 1983

پیغمبراسلام کی بعثت کے بعد جو لوگ آپ کی نبوت کا اعتراف نہ کر سکے ، ان کو قرآن نے "اندھا “ بتایا ہے۔

Qur'anQuotes the Qur'an

یہ اندھے کون تھے۔ یہ مکہ کے منکرین تھے جو کہ ابراہیم و اسماعیل کی عظمت کو مانتے تھے۔ ان میں یہود اور عیسائی تھے جو موسیٰ اور عیسیٰ کی عظمتوں کا اقرار کر رہے تھے۔ پھر انہیں اندھا کیوں کہا گیا۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ ابراہیم واسماعیل اور موسیٰ و عیسیٰ زمانہ ماضی کے پیغمبر تھے۔ سیکڑوں سال کے تاریخی عمل کے نتیجہ میں ان کی شخصیتیں تسلیم شدہ شخصیتیں بن گئی تھیں اور ان کی عظمتیں لوگوں کے ذہنوں میں قائم ہوچکی تھیں۔ جب کہ پیغمبر عربی لوگوں کی نظر میں ابھی صرف محمد بن عبداللہ تھے ۔ ان کی شخصیت ابھی تسلیم شدہ شخصیت نہیں بنی تھی۔ وہ بڑے بڑے واقعات ابھی پیش نہیں آئے تھے جنھوں نے بعد کو آپ کی عظمت کو تاریخ کا ایک مسلمہ بنا دیا تھا۔

اس سے معلوم ہوا کہ جوشخص غیر قائم شدہ عظمت کو نہ دیکھ سکے وہ اندھا ہے، خواہ وہ قائم شدہ عظمتوں کو دیکھنے کے معاملہ میں اپنے آپ کو کتنا ہی زیادہ بینا ثابت کر رہا ہو۔

Highlights
Reading

The realization of God is the essence of religion. Without maarifah, religion is reduced to a spiritless form.

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itquoted sourceQuoted from another author or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside ithadithQuotes a hadithother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside ithadithQuotes a hadithoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceother sourceWords of another person or sourcehadithQuotes a hadithhadithQuotes a hadithoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itquoted sourceQuoted from another author or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside ithadithQuotes a hadithhadithQuotes a hadithQur'anQuotes the Qur'an