← Diary 1983-1984Diary 1983-1984
February 1983
English · 30 min read
یکم فروری 1983
میراشروع سے ہی طریقہ رہا ہے کہ جب میرے ذہن میں کوئی نیا خیال آتا ہے تو میں چاہتا ہوں کہ کوئی ہو جس سے میں اس کے بارہ میں بات کروں ۔ اس طرح کی گفتگو سے اپنے خیال کو مزید واضح کرنے میں مدد ملتی ہے ۔ اسی طرح جب میں کوئی مضمون حتی کہ کوئی خط لکھتا ہوں تب بھی میں چاہتا ہوں کہ کوئی ہو جس کو اسے دکھاؤں اور اس کے بارہ میں اس کا رد عمل معلوم کروں۔ اس معاملہ میں میرا طریقہ وہی ہے جس کا ذکر نصف شب کی آزادی (Freedom at Midnight) کے مصنفین نے کیا ہے ۔ وہ اپنی کتاب کے ہر باب کو لکھ کر ایک خاتون کو دکھاتے تھے اور اس کے بارہ میں اس کارد عمل معلوم کرتے تھے ۔ اس طرح تبادلہ اور تنقیح کرتے ہوئے انھوں نے اپنی پوری کتاب مرتب کی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ کام میں اپنی پوری علمی اور تقریری زندگی میں کرتا رہا ہوں مثال کے طور پر "تعبیر کی غلطی" اور " مذہب اور جدید چیلنج “ کا مسودہ میں نے پیشگی طور پر کئی لوگوں کو پڑھا یا۔ اس کے بعد ان کو شائع کیا ۔
1967 میں جب میں دہلی آ یا تو جلد ہی میرے بچے بھی دہلی آگئے ۔ اس کے بعد سے اس نوعیت کا کام میں سب سے زیادہ اپنی لڑکی فریدہ خانم سے لیتا رہا ہوں۔ اس کو ایک عام قاری فرض کرتے ہوئے میں اپنی اکثر تحریریں پیشگی طور پر اس کو دکھاتا ہوں ۔ اس سے خطوط کے جواب لکھواتا ہوں نئے خیالات پر اس سے گفتگو کرتا ہوں ۔ اس طرح ایک طرف سے ایک " عام قاری" کے رد عمل کا پیشگی اندازہ ہوتا رہتا ہے ۔ اور دوسری بات یہ ہوتی ہے کہ اس عمل کے دوران خود فریدہ خانم کی ذہنی تربیت ہوتی رہتی ہے ۔ چنانچہ اب میرا خیال ہے کہ میرے مشن کو جتنا زیادہ فریدہ خانم نے سمجھا ہے غالبا کسی اور نے نہیں سمجھا ہے۔نہ کسی مرد نے اور کسی عورت نے ۔
2 فروری 1983
عربی کا ایک مقولہ ہے :
لاتجادل احمق فيصعب على الآخرین تمييز ايكما الاحمق
بے وقوف سے جھگڑا نہ کرو کہ دوسروں کو یہ پہچاننا مشکل ہو جائے کہ دونوں میں سے کون بے وقوف ہے ۔
ایک آدمی جھگڑے کی بات کرے اور دوسرا آدمی بر داشت کر کے جھگڑے سے الگ ہوجائے۔ تو دونوں میں فرق نظر آئے گا۔ ایک جھگڑ نے والا ہو گا اور دوسرا چپ رہنے والا۔ یہ فرق دونوں کے اخلاقی فرق کو لوگوں کے سامنے نمایاں کر دےگا۔ لوگ اپنے آپ پہچان لیں گے کہ کون شریف ہے اور کون غیرشریف۔
اس کے برعکس اگر ایسا ہو کہ ایک شخص جھگڑا شروع کرے اور پھر دوسرا شخص بھی اس سے جھگڑنے لگے تو دونوں کی حالت برابر ہو جائے گی۔ ایسی حالت میں قدرتی طور پر ایسا ہو گا کہ لوگ دونوں کو یکساں سمجھنے لگیں گے۔
3 فروری 1983
اگر کوئی شخص کہے کہ میں پانی کے بجائے پٹرول پیوں گا ، یا یہ کہ میں دریا میں کشتی کے بغیر چلوں گا تو عقلمند آدمی ایسے شخص کو فورا منع کرے گا ۔ کیوں کہ یہ اس قانون کے خلاف ہے جو قدرت نے اس دنیا کے لئے مقرر کیا ہے۔ قدرت کا مقرر کیا ہوا طریقہ یہ ہے کہ ہم پانی سے اپنی پیاس بجھائیں اور کشتی کے ذریعہ دریا کو پارکریں۔ اس دنیا میں ہر آدمی کو صد فی صد اسی قانون قدرت کی پیروی کر نی ہے جو شخص اس کے خلاف چلے گا اس کے لئے ناکامی کے سوا کوئی اور انجام مقدر نہیں۔
یہی معاملہ انسانی زندگی کا ہے ۔ اس دنیا میں انسان کے لئے کامیابی حاصل کرنے کا ایک مقررہ طریقہ ہے ۔ یہ طریقہ کا ئناتی سطح پرقائم ہے۔انسان کو بھی اس کی پیروی کرنی ہے ۔ یہ طریقہ ایک لفظ میں( (Conversion ہے۔
اس دنیا میں ہر چیز کنورزن کے اصول پر ترقی کرتی ہے ۔ یعنی ادنیٰ کو اعلیٰ میں کنورٹ کرنا۔ سورج کیا ہے ، سورج غیر روشن مادہ کو روشن مادہ میں کنورٹ کرنے کا دوسرا نام ہے ۔ ایک درخت کب سرسبز درخت بنتا ہے۔ اس وقت جب کہ وہ اس صلاحیت کا ثبوت دے کہ وہ پانی اورمٹی اور معدنیات جیسی غیرنباتی چیزوں کو نباتی چیز میں کنورٹ کرسکے۔ وہ مٹی کو پتی اور پھول پھل جیسی چیزوںمیں تبدیل کر سکے ۔ یہی حال جانوروں کا ہے ۔ گائے گھاس کھاتی ہے اور گھاس کو دودھ میں کنورٹ کرتی ہے ۔
انسان کا معاملہ بھی ٹھیک یہی ہے ۔ ہرانسان جسمانی سطح پر اسی قانون قدرت کے تحت عمل کرتا ہے۔ وہ اپنے اندرغلہ اورسبزی داخل کرتا ہے اور اس کو گوشت اور خون میں کنورٹ کرتا ہے ۔ کوئی آدمی اسی وقت زندہ رہتا ہے جب تک وہ اس صلاحیت کا ثبوت دے۔ جس دن وہ اپنے اندر سے اس صلاحیت کو کھو دے اسی دن اس کی موت واقع ہو جائے گی۔
سماجی زندگی میں بھی آدمی کو اسی استعداد کا ثبوت دیناہے ۔ اس کو مشکلات میں آسانی کا راز دریافت کرنا ہے۔ اس کو اپنے ڈس ایڈوانٹج کو ایڈوانج میں تبدیل کرنا ہے۔ اس کو اپنے نہیں کو ہے بنانا ہے ۔ یہی زندگی کا واحد راز ہے۔جولوگ ایسا نہ کرسکیں ان کے حصہ میں بے فائدہ شکایت اور احتجاج کے سوا کچھ اور آنے والا نہیں ۔
4 فروری 1983
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: استعينوا على قضاء حوائجكم بالکتمان فان كل ذي نعمة محسود
hadithQuotes a hadith
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اپنی ضرورتیں پوری کرنے میں اخفاء سے مدد لو ۔ کیوں کہ ہر شخص جس کو نعمت ملے اس سے لوگ حسد کرنے لگتے ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
حسداس دنیا کا سب سے زیادہ عام مرض ہے۔ حسد کو لوگوں کے اندر سے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ لوگوں کے حسد سے بچنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ اپنے کاموں میں حتی الامکان اخفاء اور راز داری کا طریقہ اختیار کیا جائے ۔
5 فروری1983
حضرت عمرفاروق اپنی خلافت کے زمانہ میں حج کے لئے گئے۔ انھوں نے حاجیوں کی کثرت کی دیکھ کر کہا: الوفد كثيروالحج قلیل (لوگ بہت ہیں مگر حج کم ہے) ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
حضرت عمر کو یہ بات اس زمانہ میں محسوس ہوئی جو کہ نبوت سے قریب کا زمانہ تھا۔ آج اگرحضرت عمرآئیں اور موجودہ حاجیوں کا حال دیکھیں تو ان کا تاثر کیا ہوگا ۔ حضرت عمر کے اس قول سے معلوم ہوتا ہے کہ دین میں اصل اہمیت کی چیز کیفیت ہے نہ کہ کمیت
6 فروری 1983
عراق نے ستمبر1980 میں ایران (خوزستان) پر حملہ کیا تھا۔ اس کے بعد ایرانی لیڈر آیات اللہ روح اللہ خمینی نے اپنی ایک تقریر میں کہا :
جرم ما این است که اسلام رامی خواہیم
ہمارا جرم یہ ہے کہ ہم اسلام کو چاہتے ہیں۔
مگر واقعات اس کی تردید کرتے ہیں۔ امام خمینی کو جب ایران پر غلبہ حاصل ہوا تو پہلا کام انھوں نے یہ کیا کہ اپنے مخالفین کو پکڑ کرقتل کرنا شروع کر دیا۔ حالاں کہ یہ اسلامی طریقہ کے سراسر خلاف ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب مکہ پرغلبہ حاصل ہوا تو وہاں آپ کے سخت ترین دشمن اور مخالف موجود تھے ۔ مگر آپ نے انھیں قتل کرنے کے بجائے انہیں معاف کر دیا۔ اس اسوہ رسول کے مطابق امام خمینی کوعمومی معافی کا اعلان کرنا چاہئے تھا نہ کہ عمومی قتل کا ۔
امام خمینی کے ساتھی یہ کہتے ہیں کہ انقلاب کے بعد ایران میں جن لوگوں کو قتل کیا گیا وہ سب منافق تھے، یہ اور زیاد لغو بات ہے ۔ کیوں کہ قرآن اور حدیث میں کہیں بھی یہ حکم نہیں ہے کہ منافق کوقتل کر دو قتل کا حکم مرتد کے لئے ہے نہ کہ منافق کے لئے ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اگر یہ کہا جائے کہ امام خمینی نے جن لوگوں کو قتل کرایا وہ سب مرتد تھے تو یہ بھی سراسر لغو بات ہے۔ کیوں کہ مرتد وہ نہیں ہے جس کو کوئی مفتی مرتد کہے ، مرتد وہ ہے جوخود اپنے ارتداد کا اعلان کرے۔ اور یقینی ہے کہ ان لوگوں نے اپنے ارتداد کا اعلان نہیں کیا تھا ۔
7 فروری 1983
ایک صحابی اصحاب رسول کی روش کے بارہ میں بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب ہم لوگ سفر میں ہوتے تھے اور کسی منزل پر پڑاؤ کے لئے اپنی سواریوں سے اترتے تھے تو ہم اس وقت تک عبادت میں مشغول نہیں ہوتے تھے جب تک ہم اپنے اونٹوں کے کجا وے کھول نہ لیتے تھے۔ (لا نستج حتى نحل الرحال ،، ابوداؤد ، آداب السفر)
hadithQuotes a hadith
اس چھوٹے سے واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ مومن کا مزاج کیا ہے۔ یہ مومومنانہ مزاج نہیں ہے کہ آدمی گھوڑے یا اونٹ پر سفر کر رہا ہو اور کہیں ٹھہرے تو فورا وضو کر کے نماز کے لئے کھڑا ہو جائے اور جانور کو اسی حالت میں چھوڑ دے ۔ اس کو چاہئے کہ پہلے وہ جانور کو ہلکا کرے۔ اس کو سایہ اور چارہ دے اور اس کی راحت کا انتظام کرے ۔ پھر عبادت الہی میں مشغول ہو ۔
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مومن دوسروں کے بارہ میں کتنا زیادہ حساس ہوتا ہے ، حتی کہ جانوروں کے بارہ میں بھی۔
8 فروری1983
پلوٹارک ( (Plutarchایک یونانی مصنف ہے۔ وہ حضرت مسیح کا ہم عصر تھا ۔ کیسی عجیب بات ہے کہ آج تاریخی طور پر پلو ٹارک کے بارہ میں ہم کو اس سے زیادہ معلومات حاصل ہیں جتنا حضرت مسیح کے بارہ میں حاصل ہیں۔ اس کی یونانی زبان میں لکھی ہوئی کتاب( (BioiParalleloiکا اصل نسخہ ابھی تک موجود ہے۔ یہ نسخہ اپنی اصل زبان میں 1571 میں شائع ہو ا۔ تقریبا تمام قابل ذکر زبانوں میں اس کے ترجمے شائع ہو چکے ہیں۔ انگریزی زبان میں پہلی بارسر ٹامس نارتھ نے اس کا ترجمہ شائع کیا۔ یہ ترجمہ 1579 میں (Parallel Lives) کے نام سے چھپا۔
پلوٹارک نے اپنی اس کتاب میں یونانی اور رومی ہیرؤوں کے واقعات بیان کئے ہیں۔ یہ واقعات بڑے عجیب ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ یونانیوں اور رومیوں میں کون سے اعلی اخلاقی اوصاف تھے جنھوں نے ان کو ایک زمانہ میں تمام دنیا میں سب سے اونچا مقام دے دیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مثلا اس میں ایک رومی جنرل کا واقعہ لکھا ہے کہ وہ ایک ملک میں فتوحات کرتے ہوۓ اس کے قلعہ تک پہنچا۔ قلعہ بہت بڑا تھا اور اس میں ضرورت کا تمام سامان موجود تھا۔ چنانچہ وہ لوگ قلعہ کا پھاٹک بند کر کے بیٹھ گئے ۔ رومی جنرل کی فوج قلعہ کے با ہرگھیرا ڈالے پڑی ہوئی تھی مگر اسے فتح نہیں کر پائی تھی ۔
اس درمیان میں ایک واقعہ ہوا ۔ قلعہ کے اندر ایک اسکول تھا جس میں بڑے بڑے سرداروں کے لڑکے پڑھتے تھے۔ اسکول کے استاد کے ذہن میں آیا کہ اس نازک موقع پر اگر میں رومی فوج کی مدد کروں تو قلعہ فتح کرنے کے بعد وہ مجھے بہت انعام دیں گے اور میرا رتبہ بڑھائیں گے ۔ چنانچہ اس نے خاموشی کے ساتھ ایک روز بچوں کو ساتھ لیا اور ان کو پھراتے ہوئے قلعہ کے پوشیدہ راستے پر لے گیا۔ وہ اس راستے سے گزر کر بچوں سمیت باہر گیا ۔ اب وہ رومی جنرل سے ملا۔ اس نے کہا کہ یہ بڑے بڑے سرداروں کےبچے ہیں ، ان کو آپ بندھک رکھ لیجئے اور پھر آپ کو موقع مل جائے گا کہ آپ دباؤ ڈال کر قلعہ والوں کو اپنی شرائط ماننے پر مجبور کر سکیں۔
پلوٹارک کا بیان ہے کہ رومی جنرل یہ سن کر خوش نہیں ہوا۔ اس نے مذکورہ استاد کو بری طرح ڈانٹا اور کہا کہ ہمارا یہ طریقہ نہیں کہ ہم کمینہ پن کے ساتھ قلعہ کو فتح کریں۔ ہم جو کچھ کریں گے بہادری کے ساتھ کریں گے ۔ تم فورا ان بچوں کو واپس لے جاو اور ہم کو تم قلعہ کا پوشیدہ راستہ بھی مت بتاو ۔ استاد جب بچوں کو لے کر قلعہ کے اندر واپس آیا اور پوری کہانی بتائی تو اہل قلعہ بہت متاثر ہوئے ۔ انھوں نے کہا کہ ایسے شریف لوگوں سے ہمیں جنگ نہیں کرنی ہے۔ چنانچہ انھوں نے خود اپنی طرف سے قلعہ کے دروازے کھول دے ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
شرافت اور بلند اخلاقی اس دنیا میں سب سے بڑی طاقت ہیں۔ اگرچہ نادان آدمی تشدد اور ہتھیار کوسب سے بڑی طاقت سمجھ لیتا ہے۔
9 فروری1983
ہندستان کا چھٹا عام الکشن مارچ 1977 میں ہوا ۔ اس الکشن میں جامع مسجد دہلی کے شاہی امام سید عبد اللہ بخاری نے کانگریس کے مقابلہ میں جنتا پارٹی کا ساتھ دیا۔ الکشن کے دوران وہ کانگریس کی مخالفت اور جنتا پارٹی کی حمایت میں دھواں دھار تقریریں کرتے رہے۔ ایمرجنسی کے نفاذ کی وجہ سے ہندستانی عوام اندرا گاندھی اور کانگریس کے خلاف ہو گئے تھے۔ چنانچہ الکشن ہوا توجنتا پارٹی جیت گئی اور کانگریس کو بری طرح شکست ہوئی۔
24 مارچ کو اس جیت کی خوشی میں رام لیلا گراؤنڈ( دہلی) میں جلسہ ہوا۔ اس میں جنتا پارٹی کے تمام لیڈر موجود تھے۔ سیدعبداللہ بخاری نے اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے کہا " آج سارے ہندستان کے ہندو اور مسلمان ایک ہیں۔ عربوں کا جہاں خون گرے گا وہاں ہندستان کا بھی خون گرے گا": ڈائس پر بیٹھے ہوئے ایک ہندو لیڈر نے کہا" نہیں ، جہاں عربوں کا پسینہ گرے گا وہاں ہماراخون گرے گا ۔ اور پھر تالیوں سے جلسہ گاہ گونج اٹھی ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
25 مارچ 1977 کو جمعہ تھا۔ جامع مسجد میں روندر پرتاپ سنگھ (سنجے گاندھی کو ہرانے والے جنتا امیدوار) کا استقبال ہوا۔ اس موقع پر امام بخاری اور رویندر پرتاپ دونوں نے تقریریں کیں ۔
مسلم حاضرین اس قدر جوش میں تھے گویا کہ انھوں نے دوبارہ ہندستان فتح کر لیا ہے۔ مولوی بشیر، ارشد امینی ( میواتی) میرے قریب بیٹھے تھے ۔ وہ جذبات سے بے قابو ہو کر کھڑے ہوگئے اور چلا چلا کر کہنے لگے : شاہی امام زندہ باد، شاہی امام زندہ باد۔ یہ تو وہاں کے مسلمانوں کا حال تھا اور میرا حال یہ تھا کہ میں مسلسل رو رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ کیا اس قسم کی جذباتی قوم دنیا میں اپنے لئے کوئی جگہ پاسکتی ہے۔
26 مارچ 1977 کو پرانی دہلی کی دیواروں پر بڑے بڑے اردو پوسٹر نظر آۓ ۔ ان پر جلی حرفوں میں لکھا ہو اتھا ۔
62 کروڑ عوام کے بے تاج بادشاہ مولانا سید عبداللہ بخاری
یہ سیرت کے ایک جلسہ کا پوسٹر تھا جس میں امام بخاری شرکت کرنے والے تھے اور اس میں ان کا نام مذکورہ شاندار الفاظ میں درج کیا گیا تھا۔
دور اول میں سلمانوں کو سچی فتوحات حاصل ہوئیں تب بھی انھوں نے اس قسم کی خوشیاں نہیں منائیں اور نہ کسی نے ان کی زبان سے اس قسم کے بڑے بڑے الفاظ سنے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمان اپنی مزعومہ فتوحات پر اس طرح خوشیاں مناتے ہیں جیسے کہ انھوں نے ساری دنیا فتح کر لیا ہو ۔ حالانکہ بار بار کے و اقعات یہ بتاتے رہے ہیں کہ ان کی یہ فتوحات بھی جھوٹی تھیں اور خوشیاں بھی جھوٹی ۔
10 فروری 1983
لوئی ہیتھ لیبر (Louise Heath Leber) نے کہا ہے کہ ارتقاء کی گنجائش ہمیشہ رہتی ہے۔
other sourceWords of another person or source
یہ گھر کا سب سے بڑاکرہ ہے :
There's always room for improvement. It's the biggest room in the house.
تاہم یہ بات صرف انسانی مصنوعات کے لئے صحیح ہے ، خدائی مصنوعات کے لئے یہ بات صحیح نہیں ۔ مکان نئے نئے قسم کے بنتے ہیں ۔ کار کے ماڈل میں ترقی ہوتی رہتی ہے ۔ ٹائپ رائٹر ایک کے بعد دوسرا آتا ہے جو پہلے سے بہتر ہوتا ہے اور زیادہ پسند کیا جاتا ہے ۔ مگر قدرت نے جو چیزیں بنائی ہیں ، ان میں سے ہر چیز اپنے آخری ماڈل پر بنی ہے ۔ ہر چیز گویا آخری معیاری نمونہ ہے جس میں کوئی مزید ترقی کم از کم انسان کے لئے ممکن نہیں۔
انسان کا ماڈل آخری ماڈل ہے ۔ کوئی آرٹسٹ آج تک " انسان" کے لئے دوسرا اس سے بہتر ماڈل تجویزنہ کرسکا ، اسی طرح شیر بلی ، درخت ، گھاس، غرض ہر چیز چھوٹی بڑی چیز کی صورت اپنی آخری حد پر ہے ۔ وہ جس ماڈل پر بنی ہے ، اس کے لئے اس سے بہتر کوئی اور ماڈل تصور میں لانا ممکن نہیں ۔
یہ ایک واضح ثبوت ہے کہ اس کائنات کی تخلیق کے پیچھے ایک کامل خدا کا ہاتھ ہے۔ کائنات اگر محض اندھے ارتقائی عمل کے ذریعہ وجود میں آتی تو یہ ناممکن تھا کہ اس میں کاملیت کی یہ صفت پائی جائے ۔
11 فروری 1983
(حدیث)
سہل بن معاذ اپنےباپ سےروایت کرتے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ کیا ۔ راستہ میں پڑاؤ ہوا تو لوگوں نے خیمے قریب قریب لگائے اور راستہ تنگ کر دیا۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منادی کو بھیج کر لوگوں کے درمیان اعلان کرا یا کہ جو شخص راستہ میں تنگی پیدا کرے گا یا راستہ کو کاٹے گا تو اس کا جہاد جہاد نہیں۔
hadithQuotes a hadith
اس واقعہ سے اسلام کی اسپرٹ معلوم ہوتی ہے۔ جہاد کا ثواب قرآن و حدیث میں بہت زیادہ بتایا گیا ہے ۔ مگر انسانی حقوق کے بارہ میں معمولی لا پروائی بھی اتنی سنگین ہوسکتی ہے کہ وہ آدمی کے جہاد کوغیر مقبول بنا دے۔
12 فروری 1983
وہ لوگ دنیا سے ختم ہوتے جا رہے ہیں جن کو دلیل کے ذریعہ قائل کیا جاسکے ۔ آدمی وہیں مانتا ہے جہاں اس کے لئے ماننے کے سوا کوئی اور چارہ نہ ہو ۔ جب تک ماننا اس کی مجبوری نہ بن جاۓ ، وہ ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔
موجودہ دنیا دلیل سے چپ ہونے کی جگہ ہے اور آخرت طاقت سے چپ ہونے کی جگہ ۔ خدا جب آخری طور پر دیکھ لے گا کہ دلیل کے زور پر چپ ہونے والے لوگ دنیا سے ختم ہو چکے ہیں تو وہ قیامت برپا کئے جانے کا اعلان کر دے گا تاکہ لوگوں کو طاقت کے زور پر چپ ہونے کے لئے مجبور کیا جاسکے۔
مگر دلیل کے ذریعہ چپ ہونا عزت کا چپ ہونا ہے اور طاقت کے ذریعہ چپ ہونا ذلت کا چپ ہونا ۔
13 فروری 1983
"کیلنڈر کہانت کی قسم تو نہیں"۔ ایک صاحب نے کہا ۔ کہانت کا مطلب ہے مستقبل کی خبر دینا۔ اور کیلنڈر میں بھی مستقبل کی خبر ہوتی ہے۔ اس لئے بظاہر وہ بھی کہانت کی تعریف میں آتا ہے۔ ایسی حالت میں کیلنڈر بنانا ، چھاپنا ،استعمال کرنا اور اس کی خرید و فروخت کرنا سب نا جائز ہونا چاہئے ۔ کیوں کہ کہانت اسلام میں ناجائز ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ایک صاحب نے یہ باتیں کہیں ۔ اس کو سن کر میں نے کہا : کیلینڈرتو نا جائز نہیں، البتہ آپ کا طرز فکر یقینا ناجائز ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو قرآن و حدیث میں غلو اسلام کہا گیا ہے اور غلواسلام میں جائز نہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
14 فروری 1983
آخرت کے بارہ میں میری حساسیت اتنی بڑھی ہوئی ہے کہ وقت کا سائرن بجتا ہے تو اچانک مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دنیا کے خاتمہ کا اعلان کیا جا رہا ہے ۔ کسی طرف سے دھماکہ کی آواز آتی ہے تو شبہہ ہونے لگتا ہے کہ قیامت کا دھماکہ نہ ہو اور اب وہ وقت نہ آ گیا ہو جب کہ تمام انسان اپنے رب کے سامنے حساب کتاب کے لئے پیش کر دیے جائیں گے۔
15 فروری 1983
جہاں تک" کرنے" کا سوال ہے ، مسلمان کرنے کے معاملہ میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں ۔ مگران کا کرنا ہمیشہ رد عمل کے طور پر ہوتا ہے نہ کہ ایجابی طور پر۔ کسی سے ان کو زک پہنچ جائے تو وہ فورا بھڑک اٹھتے ہیں اور " کرنے" کے لئے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ خود اپنی طرف سے مثبت انداز میں اپنا منصوبہ بتا کر کام کرنا ان کو نہیں آتا۔ مگرکرنا حقیقتہ وہی ہے جو ایجابی نفسیات کے تحت منصوبہ بندی کے ذریعہ ہو۔ ردعمل کی نفسیات کے تحت کیا جانے والا کام بھی کوئی حقیقی نتیجہ پیدا نہیں کرسکتا۔ ایسا کرنا بھی ویسا ہی ہے جیسا نہ کرنا ۔
16 فروری 1983
گرو نانک کاجو کلام موجود ہے، اس میں سے دوشعر یہ ہیں :
برے نال سب برا کریندے معاف کچھ سیانے
برے نال پھر بھلا کرنا ایہہ گرو نانک جانے
یعنی عام لوگ برائی کے بدلے میں برائی کرتے ہیں۔ مگر جو ہوشیار ہیں وہ برائی کو معاف کر دیتے ہیں۔ اور اس سے بھی اونچی بات یہ ہے کہ جب کوئی شخص تمہارے ساتھ برائی کرے تو تم اس کے ساتھ بھلائی کرو ۔
برائی کو نظرانداز کرنا یا برائی کے بدلے میں بھلائی کرنا یہ بزدلانہ فعل نہیں۔ یہ انتہائی دانش مندی کی باتیں ہیں۔ اگر چہ سطحی انسان اس راز کو نہیں جانتا۔
17 فروری 1983
اکتوبر 1975 میں یہ خبر آئی تھی کہ فیروزرستم جی دارو والا نے اپنا ایک گردہ حمید دلوائی کو دے دیا تاکہ ان کی صحت کو بچایا جاسکے ۔ 33 ساله دارو والا جو ابھی غیرشادی شدہ تھے، 31 دسمبر 1975 کوانھیں پراودا جیل میں پھانسی دے دی گئی ۔ جولوگ حمید دلوائی سے اختلاف رکھتے ہیں، وہ شاید یہ سمجھیں کہ ایک "دشمن اسلام" کی مدد کرنے کے نتیجہ میں دارو والا کو یہ سزا ملی، مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ دارو والا پر یہ الزام تھا کہ انھوں نے 2 فروری 1971 کو ایک پارسی خاندان کے چار افراد کوقتل کر دیا ہے ۔ 22 دسمبر 1971 کو مقدمہ کا فیصلہ ہوا اور دارو والا مجرم قرار دئے گئے۔ یہ واقعہ جو "گردہ دان " سے چار سال پہلے واقع ہوا تھا ، اس کے جرم میں دارو والا کو پھانسی دی گئی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اکثر خارق عادت واقعات اس قسم کے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہمیشہ تاریخ ، مقام اشخاص وغیرہ کے تعینات کے بغیر مجہول شکل میں بیان کئے جاتے ہیں۔ اگر ان کو تعین کے ساتھ بیان کیا جائے تو تحقیق کے بعد فورا ان کی حقیقت کھل جائے گی۔ متعین تحقیق بتائے گی کہ اس" کرامت " کا راز یہ تھا کہ کہیں کی بات کہیں جوڑ دی گئی ۔ اس دنیا میں ہربات تحقیق کے بعد ماننا چاہئے۔ یہی سنجیدگی اور ذمہ داری کا تقاضا ہے ۔
18 فروری 1983
اسلام کا ماخذ بنیادی طور پر قرآن ہے ۔ اس کے بعد حدیث اور سیرت۔ مگر حدیث اور سیرت کے سلسلہ میں ایک دقت یہ ہے کہ اس کی ترتیب قرآن کی ترتیب پرقائم نہ ہو گی ۔ حدیث کی تدوین کا کام زیادہ تر فقہ کے رد عمل میں ہوا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ حدیث کی ترتیب میں فقہ کا پیٹرن رائج ہوگیا۔ فقہ کے ابواب مسائل کی بنیاد پر قائم کئے گئے تھے ، اسی طرح حدیث کے ابواب بھی مسائل کی بنیاد پر قائم کردے گئے۔ میں ذاتی طور پر مسانید کی ترتیب کو زیادہ سائنٹفک سمجھتا ہوں۔
سیرت نگاری کا کام اس زمانہ کی تاریخ نگاری سے متاثر ہوا۔ اس زمانہ میں تاریخ جنگوں اور فتوحات کا نام تھی۔ چنانچہ اس کے زیراثر سیرت کو بھی" کتاب المغازی" بنا دیا گیا ۔ حتیٰ کہ ہمارے سیرت نگار حدیبیہ کا واقعہ لکھتے ہیں تو اس پر یہ عنوان قائم کرتے ہیں : غزوۃ الحدیبیہ ۔ حالانکہ حدیبیہ کے سفر کا غزوہ سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ صرف عمرہ کا سفر تھا نہ کہ غزوہ کا سفر۔
بعد کوسیرت پر جو کتا بیں لکھی گئیں وہ بھی اسی ابتدائی پیٹرن پر لکھی گئیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ سیرت رسول عملا غزوات کی کتاب ہو کر رہ گئی۔ ضرورت ہے کہ احادیث کا ازسرنو جائزہ لے کر صحیح نبوی پیٹرن پر سیرت کی کتاب لکھی جائے ۔
19 فروری1983
ایک دلچسپ لطیفہ نظر سے گزرا :
If Christopher Columbus had a wife at home, could he have discovered America?
"You're going where? With whom? To find whom? Coming back when? And I suppose she's giving you those three ships for nothing!"
- Quoted in Writewell Company Catalogue
اگر کرسٹوفرکولمبس کی ایک بیوی ہوتی تو کیا وہ امریکہ دریافت کرسکتا تھا۔ وہ کہتی کہ تم کہاں جارہے ہو۔ کس کے ساتھ جا رہے ہو۔ کیا مقصد ہے تمہارے جانے گا۔ کب واپس آؤ گے ۔ اور کیا میں یہ سمجھ لوں کہ وہ عورت تم کو بلا سبب تین جہاز دے رہی ہے۔
کولمبس ایک تجربہ کار ملاح تھا۔ اس کو نئے نئے علاقے دریافت کرنے کا شوق تھا۔ مگر اس کے پاس وسائل نہیں تھے ۔ اس نے ملکہ اسپین سے درخواست کی ۔ چنانچہ ملکہ نے 1492 ء میں اس کو تین جہاز دئے ۔ انہیں جہازوں کے ذریعہ اس نے اٹلانٹک پار کر کے امریکہ کو دریافت کیا۔
مذکورہ لطیفہ دلچسپ انداز میں یہ بتا رہا ہے کہ عورتوں کی فکر محدود ہوتی ہے ۔ وہ ہمیشہ گھریلو دائرہ میں سوچتی ہیں۔ گھر سے با ہر کے دائرے میں سوچنا عام طور پر ان کے لئے ممکن نہیں ہوتا۔
عورت کا یہ مزاج بذات خود نہایت صحیح اور مفید ہے ۔ عورت کو گھر کے انتظام کے لئے بنایا گیا ہے۔ اس لئے اس کی فکر بھی پیدائشی طور پر داخلی فکر ہوتی ہے ۔ غلطی در اصل وہاں سے شروع ہوتی ہے جب کہ عورت کو گھر کے دائرہ سے نکال کر مصنوعی طور پر باہر کے دائرہ میں کھڑا کر دیا جائے۔
20 فروری 1983
جارج ہربرٹ George Herbert) نے کہا کہ بڑے بڑے محل پتھروں کے جنگل ہیں:
other sourceWords of another person or source
Castles are forests of stones.
یہ ایک حقیقت ہے کہ بڑے بڑے محل اعلیٰ انسانی احساسات کا قبرستان ہوتے ہیں۔ مگر لوگ قدروں سے زیادہ پتھروں کو اہمیت دیتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ محلوں کو رشک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔ اگر لوگ چیزوں کو اعلی قدروں کی بنیاد پر جانچ سکیں تو انھیں اونچے اونچے محلوں سے وحشت ہونے لگے۔
21 فروری1983
دعوت مسلمانوں کا تعلق دوسری قوموں سے محبت کی بنیاد پرقائم کرتی ہے ، اور قومیت مسلمانوں کا تعلق دوسری قوموں سے نفرت کی بنیاد پر۔۔۔۔۔۔ یہی ایک لفظ میں مسلمانوں کے ماضی اور حال کا خلاصہ ہے۔
دور اول کے مسلمان دعوت کی بنیاد پر اٹھے تھے ، اس لئے ان کے دل دوسروں کے لئے محبت اور خیر خواہی سے بھرے ہوئے تھے۔ وہ جہاں گئے ہر جگہ ان کا استقبال کیا گیا۔ اس کے برعکس موجودہ زمانہ کے مسلمان قومیت کی بنیاد پر کھڑے ہوئے ہیں، اس لئے ان کے دل دوسروں کی نفرت سے بھرے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دوسروں کے پاس بھی ان کے لئے نفرت کے سوا اورکچھ نہیں ۔ آج کی دنیا میں کوئی علاقہ نہیں جہاں مسلمانوں کو عزت اور محبت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہو۔
مسلمانوں کا کام صرف اتنا ہے کہ وہ دوسری قوموں کو اپنے دل میں جگہ دیں، اس کے بعد دوسری قومیں انھیں وسیع زمین پر جگہ دینے کے لئے تیار ہو جائیں گی ۔
22 فروری 1983
الور (راجستھان) میں ایک میوزیم ہے۔ یہ کافی بڑا ہے اور اس میں قدیم زمانہ کی بہت سی نادر چیزیں رکھی ہوئی ہیں۔ اس کے ایک حصہ میں راجاؤں اور بادشاہوں کی تلواریں ہیں۔ انہیں میں سے ایک تلوار وہ ہے جو ۱۵۳۰ء میں بنائی گئی تھی۔ اس پر صانع کو بتانے کے لئے " عمل محمد صادق کابلی " لکھا ہوا ہے۔ یہ مغل شہنشاہ اکبر کی تلوار تھی۔ اس پرفارسی کا یہ شعر درج ہے :
بہر جا کہ شمشیر من کار کرد یک را دو کرد و دور اچارکرد
(میری تلوار جہاں بھی چلی ، اس نے ایک کو دو ٹکڑے کر دیا اور دو کو چار ٹکڑے کر دیا) ۔
ساڑھے چار سو سال پہلے تلوار پر لکھا ہوا یہ شعر ہر ایک کو مکمل طور پر بامعنی معلوم ہوتا ہوگا۔ مگر آج وہ مکمل طور پر بے معنی ہے ۔ آج اگرکسی شخص کو یہ تلوار حاصل ہوجائے تو وہ ان کارناموں میں سے کوئی بھی کارنامہ انجام نہیں دے سکتا جو اس تلوار نے چارسوسال پہلے کے دور میں انجام دیا ۔
یہ زمانہ کا فرق ہے ۔ مگر مسلمان آج بھی دنیا میں اس طرح جی رہے ہیں جیسے کہ انھیں زمانہ کے فرق کی بابت کچھ خبر نہیں۔
23 فروری 1983
امام اوزاعی اسلام کی تاریخ میں بہت بڑے عالم گزرے ہیں۔ انھوں نے ایک بارعباسی خلیفہ المنصور کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ بادشاہ چارقسم کے ہوتے ہیں۔ بادشاہ کی چوتھی قسم جو انھوں نے بتائی وہ ایسا بادشاہ تھاجو خود تو بد عنوانی کرتا ہو اور اپنے ماتحتوں کو بدعنوانی سے بچنے کی تاکید کرے ۔ امام اوزاعی نے اس چوتھی قسم کے بادشاہ کے بارہ میں کہا کہ یہ بہت برا ہوشیار ہے ۔ (فذاك شر الالياس)
موجودہ زمانہ کے ہندستانی حکمران اسی چوتھی قسم میں آتے ہیں۔ وہ خود ہر قسم کی سیاسی اور مالی بدعنوانی کر رہے ہیں ۔ اور اس کے بعد سرکاری ملازموں کے نام سرکلر جاری کرتے ہیں کہ انتظامیہ کو کرپشن اور بدعنوانی سے پاک کیا جائے ۔ اس قسم کی باتیں مسخرہ پن کے سوا اور کچھ نہیں۔
24 فروری 1983
یحییٰ بن یعمر ایک تابعی عالم تھے۔ حجاج بن یوسف نے ایک بار ان سے پوچھا کہ میں لحن یعنی اعراب میں غلطی تو نہیں کرتا۔ یحییٰ بن یعمر نے جواب دیا : (ترفع ما يخفض وتخفض ما یرفع ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
حجاج کےسوال کےمطابق اس جملہ کاایک مطلب یہ تھا کہ تم کسرہ (زیر) کی جگہ رفع (پیش) کہتے ہو ۔ اور رفع کی جگہ کسرہ کہتے ہو۔ اسی کے ساتھ اس کا دوسرا مطلب یہ بھی نکلتا تھا کہ تم بے انصاف ہوا اور جوشخص پستی کا مستحق ہے اس کو بلند کرتے ہو ، اور جوشخص بلندی کے قابل ہے اس کو پست کرتے ہو۔ حجاج بن یوسف اس عالمانہ جواب پر بہت خوش ہوا اور یحییٰ بن یعمر کوخراسان کا قاضی مقرر کر دیا۔ (ابن خلکان )
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یحییٰ بن یعمر کا جواب ایک اعتبارسے تنقیدی تھا۔ دوسرے اعتبارسے وہ مجیب کی ذہانت اور قابلیت کو بتا رہا تھا۔ حجاج بن یوسف کو جواب کے دوسرے پہلونے اتنا متاثر کیا کہ پہلا پہلو اس کی نظر میں غیر اہم بن گیا ۔ اگر وہ صرف پہلے پہلو کو دیکھتا تو وہ یحییٰ بن یعمر کوسزا دیتا۔ مگر دوسرے پہلو کی قدر دانی کرتے ہوئے ان کو اس نے ایک اعلی عہدہ پر مقرر کر دیا ۔ انسانوں کی یہی وہ قسم ہے جس کو صاحب ذوق انسان (Man of Taste) کہا جاتا ہے ۔
25 فروری1983
امام احمد بن حنبل نے کہا تھا ، تین چیزوں کی کوئی اصل نہیں ۔ تفسیر اور ملاحم اور مغازی ۔ حافظ عراقی کا ایک شعر ہے :
other sourceWords of another person or source
وليعلم الطالب السير تجمع ما قد صح وما قد انكر
طالب علم کو جاننا چاہئے کہ سیرت کی کتابوں میں صحیح روایتیں بھی جمع کی جاتی ہیں اورغیر صحیح روایتیں بھی۔
مثلا طبرانی وغیرہ میں یہ روایت نقل کی گئی ہے کہ ابوامامہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت عائشہ سے یہ کہتے ہوئے سنا کہ اللہ نے جنت میں مریم بنت عمران ، موسیٰ کی بہن کلثم اور فرعون کی عورت آسیہ کو میری بیوی بنایا ہے (عن ابى امامة قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول لعـالثـةالشعـرتأناللهتزوجنيفيالجنةمريمبنتعمرانوكلتُماختمـرشىوامـرأةفـرعـونمذہبی
quoted sourceQuoted from another author or source
داستان گوئی قدیم زمانہ سے لوگوں کا ذوق رہا ہے۔ اس قسم کے لوگوں نے بے شمار بے بنیاد قسم کے قصے کہانیاں گڑھے اور ان کو سیرت کے نام پر پھیلا دیا۔ یہ بے بنیاد قصے اسلامی کتابوں میں شامل ہوگئے اور واعظوں نے ان کو بیان کرنا شروع کر دیا۔ یہاں تک کہ وہ اتنا زیادہ شائع ہو گئے کہ ان کو ختم کرنا ہی ممکن نہ رہا۔
محقق علماء نے موضوعات حدیث کے بارہ میں نہایت قیمتی کتابیں لکھی ہیں۔ قدیم کتابوں کے علاوہ موجودہ زمانہ میں لکھی جانے والی کتابوں میں سلسلة الاحاديث الضعيفة والموضوعة للالبالی نہایت مفید کتاب ہے ۔ مگر جو باتیں عوامی سطح پر پھیل جائیں ان کوعلمی کتابوں کے ذریعہ ختم کرنا ممکن نہیں۔
کتنے ظالم تھے وہ لوگ جنھوں نے دین میں اس قسم کے لغو اضافے کئے ۔
26 فروری 1983
اورنگ زیب عالمگیر ایک متنازعہ شخصیت بنا ہوا ہے ۔ ہندو کہتے ہیں کہ اورنگ زیب ہندو دشمن تھا ۔ اس نے مندروں کو ڈھایا۔ مسلمان کہتے ہیں کہ یہ غلط ہے۔ کیوں کہ ہندستان میں ایسے مندر ہیں جہاں اب بھی اورنگ زیب کے شاہی فرمان موجود ہیں جو اس کی تردید کرتے ہیں۔ مثلا اترپردیش کے قصبہ چتر کوٹ میں ایک مندر ہے ۔ یہاں شہنشاہ اورنگ زیب کا ایک شاہی فرمان موجود ہے۔ یہ فرمان اورنگ زیب کی تخت نشینی کے 35 ویں سال 16 جون 1691 کو لکھا گیا تھا۔ اس شاہی فرمان میں بالک داس کو دی جانے والی زمین کی حدود متعین کرنے کا حکم ہے اور یہ بھی درج ہے کہ اس زمین پر مالگذاری یا دوسرے ٹیکس نہیں لگیں گے ۔ اس میں ان آٹھ گاؤں کا ذکر کیا گیا ہے جن کی آمدنی مہنت کی ملتی۔ اس دستاویز پر اورنگ زیب کے وزیر مالیات سعادت خاں کی مہر ہے اور وہ بہرمند خاں کاتب کی لکھی ہوئی ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ بات بجائے خود صحیح ہے۔ مگر یہی کل بات نہیں ہے ۔ تصویر کا ایک رخ اور بھی ہے ۔ اس سلسلہ میں ہم یہاں ایک اقتباس نقل کرتے ہیں:
" مآثر عالمگیری کا مصنف بڑے فخرسے لکھتا ہے کہ غیر مسلم افراد حتی الوسع عہدہ ہاۓ جلیلہ پر فائز نہیں کئے جاتے تھے اور تمام ممالک محروسہ میں غیر اسلامی معابد اور پرستش گاہوں کا ایسا خاتمہ ہوا اور ان کی جگہ اس قدر کثرت سے مساجد تعمیر کرائی گئیں کہ ان کے شمار اعداد کو قبول کرنے سے عقل حیران رہ جاتی ہے"۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مسلمانوں کا عروج وزوال ،ازمولاناسید احمد ایم اے ،مطبوعہ ندوۃ المصنفین دہلی 1947 ،صفحہ 317
other sourceWords of another person or source
اگر اورنگ زیب نے کچھ مندروں کو عطیات دئے ۔ اور دوسرے کو مندروں کو ڈھایا تو پہلے عمل سے دوسرا عمل صحیح ثابت نہیں ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ اورنگ زیب کا دوسرا عمل یقینی طور پر غلط تھا، خواہ اس نے اس کے سوا کتنے ہی صیح عمل کئے ہوں ۔
دہلی کی عظیم الشان جامع مسجد بھی آثار قدیمہ کے تحت ہے اور صفدرجنگ کی چھوٹی مسجد بھی آثار قدیمہ کے تحت ہے۔ ہندستان کی موجودہ حکومت نے صفدر جنگ کی مسجد پر تالا ڈال رکھا ہے ۔ دوسری طرف اسی حکومت نے جامع مسجد کو پوری طرح مسلمانوں کے لئے کھول دیا ہے۔ مزید یہ کہ اس نے مسجد کے چاروں طرف صفائی کرا کر ایک وسیع رقبہ مسجد میں شامل کر دیا ہے جہاں اس سے پہلے مختلف قسم کی ذاتی تعمیرات کھڑی ہوئی تھیں۔
مگر مسلمان ایسا نہیں کرتے کہ وہ صفدر جنگ کی مسجد کے واقعہ کو نظرانداز کریں اور جامع مسجد کے واقعہ کو بیان کر کے حکومت کی تعریف کریں پھر مسلمان کیوں یہ امید رکھتے ہیں کہ ہندو لوگ اور نگ زیب کے چتر کوٹ مندر کے واقعہ کو یاد رکھیں گے اور دوسرے مندروں کے ساتھ اس کے سلوک کو بالکل بھلا دیں گے۔
27 فروری 1983
نئی دہلی کی ایک کالونی کا واقعہ ہے۔ سڑک پر صفائی کرنے والی ایک ہریجن عورت ایک "کوٹھی" والی عورت سے لڑ گئی ۔ دیر تک دونوں میں تیز کلامی ہوتی رہی۔ آخر میں ہریجن عورت نے کہا:
" تم اپنی امیری میں مست ہو ، ہم اپنی غریبی میں مست ہیں"۔
یہ موجودہ زمانہ کے انسان کی بہترین تصویر ہے۔ آج کے انسان کا واحد مشترک ذہن بد دماغی ہے۔ ہرآدمی بد دماغی میں مبتلا ہے ، خواہ وہ امیر ہو یا غریب ، اور خواہ وہ جاہل ہو یا پڑھا لکھا ہو ۔
ایسی حالت میں واحد لائحہ عمل اعراض ہے۔ دوسروں کی طرف سے ناخوشگواری پیشں آئے تو اس سے اعراض کر کے آدمی اپنے کام میں مشغول ہو جائے ۔ اگر اس نے فریق ثانی سے الجھنے کی کوشش کی تو اس کے حصے میں نقصان کے سوا کچھ اور آنے والا نہیں۔
28 فروری1983
1981 میں تین سائنس دانوں کو میڈیسن میں مشترک نوبیل انعام دیا گیا تھا۔ ان کے نام
یہ ہیں :
(California) (Harvard) ( Harvard )
Roger Sperry
David Hubel Torsten Wiesel
ان سائنس دانوں نے 30 سال تک انسانی دماغ (Brain) پر ریسرچ کیا ہے اور تحقیقی مقالات لکھے ہیں۔ ان کا مشترکہ بیان ہے کہ ؛
The human brain is a whole universe
انسانی دماغ ایک مکمل کائنات ہے ( ٹائم 19 اکتوبر 1981)
ایک اور سائنس داں نے انسانی دماغ کے کمالات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اگر ایک ایسا سپر کمپیوٹر بنایا جائے جس کا سازوسامان infrastructure) سات منزلہ عمارت میں پھیلا ہوا ہو تو وہ انسانی دماغ کا صرف ایک سادہ خاکہ (rough sketch) ہوگا ۔
other sourceWords of another person or source
انسانی دماغ بلاشبہ تخلیق کاشاہکا رہے۔ اس عطیہ خداوندی پرانسان کوشکرکے جذبہ سے خدا کے سامنے ڈھ پڑنا چاہئے تھا ۔ مگرانسان اس کے بجائے سرکشی کرتا ہے۔ کیسی عجیب ہے یہ نادانی جو دانا انسان سے ظاہر ہوتی ہے ۔