Maulana Wahiduddin Khan
28 min left
0:00

← Diary 1983-1984
Diary 1983-1984

July 1983

English · 28 min read

یکم جولائی1983

کسی شخص کا قول ہے کہ کامیابی کبھی آخری نہیں ہوتی اور ناکامی کبھی قطی نہیں ہوتی۔ یہ دراصل حوصلہ ہے جو اہمیت رکھتا ہے :

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

Success is never final and failure never fatal. It's courage that counts.

اس دنیا میں کامیابی پرمگن ہونا بھی اتنا ہی بے معنی ہے جتنا ناکامی پر بے حوصلہ ہونا کیونکہ یہاں کامیابی بھی وقتی ہے اور ناکامی بھی وقتی ۔ آدمی اپنی نادانی سے کامیابی کو ناکامی میں تبدیل کر سکتا ہے اور اسی طرح اپنی بے ہمتی سے ایک ناکامی کو آخری ناکامی بنا سکتا ہے۔ حالاں کہ اگر وہ ہمت سے کام لیتا تو اس کے بعد بھی اس کے لئے ایک نئی عظیم تر کامیابی کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔

2جولائی1983

زمانہ نبوت کا واقعہ ہے۔ عرب کے ایک بدو نے قرآن کی یہ آیت سنی : فاصدع بما تؤمر... وہ اسی وقت سجدہ میں گر پڑا۔ اس سے پوچھا گیا کہ کیا تم نے ایمان قبول کر لیا۔ اس نے جواب دیا کہ نہیں، بلکہ میں نے اس آیت کی ادبی بلاغت کی وجہ سے سجدہ کیا ہے ( ان بد ويا سمع قول الله فاصدع بما تؤمر... فسجد في الحال فقيل له هـل آمنت فرد قائلا بل سجدت لبلاغة هذه الآية)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قدیم صحرائی دور میں عرب میں جونسل تیار ہوئی تھی ، اس کے اندر اعتراف کا مادہ بہت زیادہ تھا۔ وہ کسی حقیقت کو جان لینے کے بعد اس کا اعتراف کیے بغیر نہیں رہ سکتے تھے۔ ان کی یہی خصوصیت تھی جس نے ان کے اندر مومنین کاملین کا وہ گروہ پیدا کیا جو ہمیشہ کے لئے اسلام کانمونہ قرار پائے ۔

3 جولائی 1983

ترکی کے سعید النورسی ( 1960 - 1873) ترکی کے حسن البنا تھے۔ وہ کمال اتا ترک کے سیکولرزم کے مخالف تھے۔ انھوں نے اپنے مشہور رسائل النور کے ذریعہ ترکی کے نوجوانوں میں اسلامی جذبہ بیدار کرنے کی کوشش کی۔ وہ کہتے تھے کہ اے مغرب ، تو نے انسان کے جسم کو جنت میں پہنچا دیا اور اس کی روح کو جہنم میں ڈال دیا۔ ایھـا المغرب، وضعت جثة البشرية في الجنة ووضعت روح البشرية في جهنم )

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ بات بذات خود غلط نہیں۔ مگرمیں سمجھتا ہوں کہ یہ سائنٹفک انداز نہیں ہے بلکہ جذباتی اور خطابی انداز ہے ۔ خطابی انداز کچھ لوگوں میں وقتی جوش تو پیدا کر سکتا ہے ، مگر وہ گہری شعوری تبدیلی لانے کے لئے کارآمد نہیں۔

4 جولائی 1983

البرٹ ہبرڈ کا قول ہے کہ ناکام شخص دراصل وہ ہے جس نے غلطی کی مگر وہ اس قابل نہیں کہ اپنی غلطی سے تجربہ حاصل کر سکے :

other sourceWords of another person or source

A failure is a man who has blundered but is not able to cash in one the experience.

غلطی سے اگر آدمی سبق لے سکے تو وہ غلطی غلطی نہیں ۔ غلطی دراصل وہ ہے جو آدمی کوسبق تک نہ پہنچائے ، جو اس کے شعور میں اضافہ کا ذریعہ ثابت نہ ہو۔

5 جولائی 1983

حضرت عمر فاروق اور حضرت عبد اللہ بن مسعود کے درمیان دو سو سے زیادہ مسائل میں اختلاف رائے تھا۔ دونوں اپنی اپنی رائے پر مصر بھی تھے۔ اس کے باوجود دونوں کے تعلق میں کوئی فرق نہیں آیا ۔ حضرت عمر فرماتے تھے کہ "ابن مسعودعلم وفقہ کا خزانہ ہیں " اور جب حضرت عمر شہید ہوئے توحضرت عبد اللہ بن مسعود نے کہا: عمر اسلام کا مضبوط قلعہ تھے۔ جو اس میں داخل ہوتا وہ باہر نہ جاتا ۔ جب وہ نہ رہے تو اسلام کے قلعہ میں دراڑ پڑ گئی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

6 جولائی 1983

امام احمد بن حنبل خون نکلنے کو ناقض وضو سجھتے تھے۔ دوسری طرف امام مالک اور سعید بن مسیب کا مسلک تھا کہ ایک شخص وضو کرے اور کسی وجہ سے اس کے بعد اس کے جسم سے خون نکل آئے تو وضو نہیں ٹوٹے گا، وہ اسی سابقہ وضو سے نماز پڑھ سکتا ہے۔ اس اختلاف کی روشنی میں امام احمد بن حنبل سے پوچھا گیا کہ " اگر وضو کے بعد امام کے جسم سے خون نکل آئے اور وہ دوبارہ وضو کے بغیر نماز پڑھائے تو کیا اس کے پیچھے نماز ادا کی جاسکتی ہے۔" امام احمد بن حنبل نے جواب دیا : میں مالک بن انس اور سعید بن المسیب کی اقتداء میں کیسے نمازادا نہ کروں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اسی طرح امام ابو یوسف خون نکلنے کی صورت میں وضو کے جاتے رہنے کے قائل تھے۔ ان کی موجودگی میں ہارون رشید نے نماز پڑھائی جب کہ اس نے وضو کے بعد پچھنا لگوایا تھا۔ مگر امام ابویوسف نے اعتراض نہیں کیا۔ انھوں نے ہارون رشید کے پیچھے نماز ادا کر لی اور پھر اس کو نہیں دہرایا۔

اس سے اجتماعیت کا حکم معلوم ہوتا ہے۔ اسلام میں اجتماعیت کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ " امام " سے اگر ایسا فعل صادر ہو جو مقتدی کے نزدیک نماز کوفاسد کر دینے والاہو، تب بھی مقتدیوں کو اپنی نیت کے مطابق اس کے پیچھے نماز ادا کرنا چاہئے ۔ حتی کہ بعد کو اپنی نماز کو دہرانا بھی نہیں چاہئے۔ کیوں کہ نماز کا دہرانا بھی غیرضروری خلفشار کا باعث ہوسکتا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

7 جولائی 1983

مولانا محمود حسن دیوبندی (1920 - 1851) کا ایک واقعہ مولانا اشرف علی تھانوی(1943۔ 1863) نے لکھا ہے۔ یہ واقعہ انھیں کے الفاظ میں حسب ذیل ہے :

other sourceWords of another person or source

" مولانا ایک مرتبہ مراد آباد تشریف لے گئے تو وہاں کے لوگوں نے وعظ کہنے کے لئے اصرار کیا۔ مولانا نے عذر فرمایا کہ مجھے عادت نہیں ہے ۔ مگر لوگ نہ مانے تو اصرار پر وعظ کے لئے کھڑے ہو گئے۔ اور حدیث فقيه واحد اشد على الشيطان من الف عابد پڑھی ، اور اس کا ترجمہ یہ کیا کہ: ایک عالم شیطان پر ہزار عابد سے زیادہ بھاری ہے۔ مجمع میں ایک مشہور عالم موجود تھے۔ انھوں نے کہا کہ یہ ترجمہ غلط ہے اور جس آدمی کو ترجمہ بھی صحیح نہ کرنا آوے اس کو وعظ کہنا جائز نہیں ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ترجمہ صحیح تھا، اور ان صاحب کا انداز بیان توہین آمیز ہی نہیں اشتعال انگیز بھی تھا۔ لیکن شیخ الہند یہ کہتے ہوئے بیٹھ گئے کہ ـــــــ میں تو پہلے ہی کہتا تھا کہ مجھے وعظ کی لیاقت نہیں۔ مگر ان لوگوں نے نہیں مانا ۔ خیر اب میرے پاس عذر کی دلیل بھی ہو گئی یعنی آپ کی شہادت۔

وعظ تو پہلے ہی مرحلہ میں ختم فرما دیا۔ اس کے بعد ان عالم صاحب سے بطرز استفاده دریافت کیا کہ غلطی کیا ہے ؟ ۔ کہ آئندہ بچوں۔ انھوں نے فرمایا کہ اشد کا ترجمہ اثقل (زیادہ بھاری) نہیں بلکہ اضر (زیادہ نقصان دہ) آتا ہے ۔ شیخ الہند نے فرمایا کہ حدیث وحی میں ہے ياتيني مثل صلصلة الجرس و ھو اشد علی (کبھی مجھ پروحی گھنٹیوں کی آواز کی طرح آتی ہے اور وہ مجھ پر سب سے زیادہ بھاری ہوتی ہے) کیا یہاں بھی اضر کے معنی ہیں۔ اس پر وہ صاحب دم بخود رہ گئے ۔ (ارواح ثلثہ، صفحہ 286)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

8 جولائی 1983

مغل سرائے، شمالی ہند کا ایک بڑا ریلوے اسٹیشن ہے۔ یہاں دو انگریز پلیٹ فارم پر چل رہے تھے۔ پیچھے والے کے ہاتھ میں ایک ٹرنک تھا۔ اس نے تیز چلتے ہوئے آگے بڑھنا چاہا تو اس کا ٹرنک اگلے انگریز سے ٹکرا گیا اور وہ گر پڑا۔ اس کے بعد جو واقعہ ہوا وہ صرف یہ کہ کہ پیچھے والے مسافر نے کہا ساری (sorry) آگے والے مسافر نے کہا اوکے (.O.K) ، اور پھر دونوں بدستور اپنے سفر پر روانہ ہو گئے۔

غلطی کا اعتراف کر لینے سے معاملہ فورا ختم ہو جا تا ہے ، اور غلطی کا اعتراف نہ کرنے سے بڑھتا رہتا ہے، یہاں تک کہ فساد کا سبب بن جاتا ہے۔

9 جولائی 1983

میں گھر کے اندر داخل ہوا تو میں نے دیکھا کہ چار پائی بچھی ہوئی ہے۔ بیٹی اس پہ لیٹی ہے ، اور ماں ایک طرف بیٹھی ہوئی ہے۔ یہ منظر دیکھ کر میں نے کہا کہ ہندستان میں ہندووں اور مسلمانوں کا جومسئلہ ہے اس کی حقیقت بس اتنی ہی ہے جو اس واقعہ میں نظر آتی ہے۔

چار پائی پر بیٹی لیٹی ہوئی ہے اور ماں بیٹھی ہے تو اس سے کوئی بگاڑ پیدا نہیں ہوا۔ لیکن اگر لیٹنے والی بہو ہو اور بیٹھنے والی ساس ہو تو گھر میں طوفان برپا ہو جائے گا۔ ہندستان کے مسلمانوں نے اپنے اور ہندوؤں کے درمیان ساس اور بہو والا رشتہ قائم کیا۔ اسی بنا پر سارے جھگڑ ے ہیں۔ مسلمان اگر اپنے اور ہندوؤں کے درمیان ماں اور بیٹی والا رشتہ قائم کرتے توکوئی جھگڑا نہ ہوتا اور سارا معاملہ بالکل درست رہتا۔

10 جولائی 1983

غالبا 1965 کی بات ہے میں لکھنؤ میں حضرت گنج کے قریب ایک سڑک پر چل رہا تھا۔ میں ایک موڑ پر پہنچا تو دیکھا کہ ایک نوجوان تیزی سے سائیکل دوڑاتا ہوا آیا اور عین موڑ پر ایک راہگیرسے ٹکرا گیا۔ سائیکل رک گئی اور راہگیر بھی سڑک پر گر پڑا ۔ اس کے بعد دونوں میں جو گفتگو ہوئی وہ یہ تھی :

گھنٹی کیوں نہیں بجائی ۔ راہگیر نے کہا۔

گھنٹی نہ ہو تو " نوجوان نے جواب دیا۔

" بر یک کیوں نہیں لگایا “

" بریک نہ ہو تو ”

جب تمہارے پاس گھنٹی نہیں ، تمہارے پاس بریک نہیں تو پھر تیز کیوں دوڑاتے ہو ؟ کیا تم سے پوچھ کر دوڑاؤں؟

آدمی اگرماننا نہ چاہے تو کوئی دلیل اس کو چپ نہیں کر سکتی ، خواه وه دلیل بذات خود کتنی ہی معقول اور مدلل کیوں نہ ہو۔

11 جولائی 1983

1956 میں رامپور جانے سے پہلے تک میں اپنے بڑے بھائی عبدالعزیز خان کے ساتھ رہتا تھا ۔ میں بیوی بچوں والا ہوچکا تھا مگر اب تک میں نے کوئی معاشی کام نہیں کیا تھا۔ چنانچہ میرے بارہ میں عجیب عجیب تبصرے کئے جاتے تھے۔

ہمارے گھر پر یہ طریقہ تھا کہ گیہوں کا آٹا چھان کر اس کی بھوسی نکالی جاتی تھی اور پھرمیدے کی روٹی پکتی تھی۔ میں اس کا مخالف تھا۔ میں کہتا تھا کہ گیہوں کو چھانے بغیر اس کی روٹی پکائی جائے ۔ جب گھر والے اس پرعمل نہ کرتے تو میں چوکر کی روٹی پکوا کر اس کو کھاتا تھا۔ اقبال احمد سہیل مرحوم کے زراعتی منیجر مبھارت ( وفات ) سے میری والدہ نے اس کا ذکر کیا تو انھوں نے کہا " بھوسی چوکر کھا کر کمانے سے چھٹی نہیں ملے گی " ۔ ان کے نزدیک میرا یہ طریقہ نہ کمانے کی تلافی کے لئے تھا ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو مجھے " پاگل " کہتے تھے ۔ ڈاکٹر مقبول احمد ( ایف آرسی ایس) نے میرے حالات سنے تو کہا کہ ان کی اپنی زندگی تو بھائی کے ساتھ گزر جائے گی ، مگر اس کے بعد ان کے بچوں کا کیا ہوگا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

غالبا 1953 کی بات ہے ۔ اس وقت میں اعظم گڈھ (باقی منزل) میں اپنے بڑے بھائی عبدالعزیز خان کے ساتھ رہتا تھا۔ شاہ فیضان احمد وکیل کی بہن رضیہ خاتون ( ) میری بیوی سے ملنے کے لئے کبھی کبھی آتی تھیں ۔ ایک روز انھوں نے بیوی سے میرے بارہ میں کہا کہ وہ کچھ کام نہیں کرتے پھر آپ کا اور بچوں کا کیا ہوگا۔ میری بیوی نے مجھ سے ذکر کیا تو میں نے کہا کہ رضیہ خاتون کو میری طرف سے یہ جواب دے دو کہ --- یہ کشتی اپنے تمام سواروں سمیت بس اللہ کے حوالے ہے۔

12جولائی 1983

انگریزی کا ایک مقولہ ہے کہ سیاست ممکن کا فن ہے:

Politics is the art of possible.

یعنی سیاست ناممکن چیزوں کے پیچھے دوڑنے کا نام نہیں ۔ حقیقی سیاست یہ ہے کہ جو چیز فی الواقع ممکن اور قابل حصول ہو ، اس کو نشانہ بنا کر اس کے لئے جدوجہد کی جائے۔ یہ بات بظاہر بہت سادہ ہے مگر وہ نہایت اہم ہے۔ اس دنیا میں اکثر اقدامات کی ناکامی کا سبب یہی ہوتا ہے کہ جوش اور اولوالعزمی کے تحت لوگ ایک نعرہ کے پیچھے دوڑ پڑے مگر جب ان کی دور اپنے آخری انجام پر پہنچی تومعلوم ہوا کہ جس چیز کونشانہ بنا کر وہ دوڑ رے تھے، وہ اسباب کی اس دنیا میں ان کے لئے قابل حصول ہی نہ تھی۔

13 جولائی 1983

1956 میں جماعت اسلامی ضلع اعظم گڑھ وجونپور کے متفقہ فیصلہ کے تحت مجھ کو اعظم گڑھ اورجونپور کا ناظم منتخب کیا گیا تھا۔ میں نے دونوں ضلعوں میں کام کو ازسرنومنظم کرنے کا ایک منصوبہ بنایا۔ اس میں دوسری چیزوں کے ساتھ یہ بھی شامل تھا کہ نظامت کے لئے ایک جیپ خریدی جائے اور اس کے ذریعہ دونوں ضلعوں میں کام کو آگے بڑھایا جائے۔ جب میں نے اجتماع میں یہ تجویز پیش کی تو وہی لوگ اس تجویز کے مخالف ہو گئے جنہوں نے متفقہ رائے سے مجھے ناظم بنایا تھا ۔ میں نے کہا کہ آپ صرف تجویز کو منظور کر دیں۔ میں آپ لوگوں سے اس کے لئے کوئی رقم نہیں مانگوں گا۔ آپ لوگوں پر کسی قسم کا مالیاتی بوجھ ڈالے بغیر انشاء اللہ میں اس کو حاصل کر لوں گا۔ اور اس تجویز کو زیر عمل لاؤں گا۔ مگر لوگ بدستور اس تجویز کے مخالف بنے رہے۔

یہ میری زندگی کا پہلا واقعہ تھا جب مجھے احساس ہوا کہ میرے جیسے آدمی کے لئے جمہوری ڈھانچے میں کام کرنا سخت مشکل ہے۔ اس کے بعد مزید کئی تجربے ہوئے۔ شعبہ تصنیف جماعت اسلامی ہند، رام پور . مجلس تحقیقات ونشریات اسلام لکھنؤ ، الجمیعۃ ویکلی دہلی سے تعلق کے دوران یہ رائے مزید پختہ ہوگئی اور مجھ پر آخری طور پر یہ بات واضح ہوگئی کہ کوئی زندہ آدمی جمہوری ڈھانچہ میں رہ کر دیانت دارانہ طور پر کام نہیں کرسکتا۔

اسی تجربہ کا یہ نتیجہ تھا کہ جب بھوپال میں اسلامی مرکز کا اجتماع (ا پریل1982) ہوا اور وہاں ڈاکٹر محسن عثمانی نے اسلامی مرکز کو جمہوری انداز میں تشکیل دینے کی تجویز پیش کی تو اگرچہ اس وقت میں اسپتال سے اٹھ کر گیا تھا اور الکٹرک برن کی وجہ سے گویا میں قبر کے کنارے کھڑا ہوا تھا۔ میں نے کہا کہ اسلامی مرکز کو جمہوری انداز میں نہیں چلایا جاسکتا۔ اسلامی مرکز کا نظام تبلیغی جماعت کے انداز پر ہوگا جو تمام تر شخصی اعتماد کی بنیاد پرچلائی جا رہی ہے ۔ جو لوگ جمہوریت چاہتے ہوں انھیں اپنے بارے میں خود فیصلہ کرنا چاہئے نہ کہ وہ ہم سے جمہوری طریقہ اختیار کرنے کا مطالبہ کریں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

14 جولائی 1983

ایک مغربی مفکر کا قول ہے کہ کسی زنجیر کی مضبوطی اس کی کمزور ترین کڑی کے ذریعہ جانچی جاتی ہے :

other sourceWords of another person or source

The strength of the chain is tested through its weakest link.

کسی زنجیر کی تمام کڑیاں مضبوط ہوں اس کی صرف ایک کڑی کمزور ہو تو زنجیر وہیں سے ٹوٹ جائے گی۔ اور پھر اس کا وہی انجام ہوگا جو تمام کڑیوں کی کمزوری کی صورت میں ہوتا۔ اس مثال پر اجتماعی اقدام کے معاملہ کو سمجھا جاسکتا ہے۔ اجتماعی اقدام میں جماعت کے تمام افراد کو دیکھنا ضروری ہے۔ کیونکہ ایک شخص بھی اگر کمزوری دکھائے تو اس کے نتیجہ میں پوری جماعت برباد ہوکر رہ جاتی ہے۔

15 جولائی 1983

جمعہ کی نماز پڑھ کر میں واپس ہورہا تھا۔ مسجد کے صحن میں پہنچا تھا کہ ایک لڑکے نے روک کر پوچھا : جمعہ کی نماز چودہ رکعت ہوتی ہے"۔ میں نے سوچا کہ موجودہ زمانہ میں " مسائل “ والی شریعت کا اتنا غلبہ ہوا ہے کہ لوگ رکعتوں کی تعداد پوری کرنے کو نماز سمجھتے ہیں۔ حالاں کہ نماز میں اصل چیزیاد خداوندی ہے نہ کہ رکعتوں کی تعداد ۔

16 جولائی 1983

بخاری ومسلم میں حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میں اپنی امت کے لئے مشقت نہ سمجھتا تو ان کے لئے فرض قرار دے دیتا کہ وہ ہر نماز کے وقت مسواک کیا کریں ( لولا ان أشق على امتى لامرتهم بالسواك مع كل صلوة) ایک اور روایت حضرت عائشہ سے نسائی نے نقل کیا ہے کہ مسواک کرنا منھ کے لئے صفائی ہے اور رب کو راضی کرنا ہے (السواك مطهرة للفم ، مرضاة للرب)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام نے دنیا اور آخرت دونوں کو ایک دوسرے سے جوڑ دیا ہے ۔ آدمی جب مسواک کرتا ہے تو اس سے اس کے منھ اور دانت کی صفائی ہوتی ہے۔ وہ دانت کی بیماریوں سے بچ جاتا ہے۔ اس کے ساتھ اس کی مومنانہ نفسیات کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ جب وہ مسواک سے اپنا دانت صاف کر رہا ہوتا ہے تو طرح طرح سے اس کو اللہ کے انعامات اور اس کی حکمتوں کی یاد آتی رہتی ہے۔ یہ چیز اس کے مسواک کے عمل کو رضاء الٰہی کا ذریعہ بنا دیتی ہے۔

17 جولائی 1983

موجودہ مسلمانوں کے بارہ میں میرا تجربہ یہ ہے کہ وہ ایک زوال یافتہ قوم ہیں۔ ان سےایک شخص کو "موت" کا تجربہ ہوتا ہے ، مگر ان سے "زندگی" کا تجربہ نہیں ہوتا۔

موجودہ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ اگر انھیں کسی کے خلاف جھوٹا الزام لگانا ہو تو ان کو اتنے زیادہ الفاظ مل جائیں گے جیسے وہ لفظوں کے بادشاہ ہیں۔ مگر جب ان کی بات کو دلیل سے غلط ثابت کر دیا جائے اور وہ وقت آجائے جب کہ انھیں کھلے طور پر اپنی غلطی کا اعتراف کر لینا چاہئے تو وہ ایسے ہو جائیں گے جیسے کہ ان کے پاس الفاظ ہی نہیں ، جیسے کہ وہ اچانک گونگے ہوگئے ہیں اور اس کے ساتھ بہرے بھی ۔

18 جولائی 1983

عربی کا ایک مثل ہے کہ الغنم بالغرم (غنیمت تاوان پر ہے) یعنی اس دنیا میں پہلے نقصان اٹھانا پڑتا ہے، پھر فائدہ ملتا ہے۔ حتی کہ اس میں بالکل برابری کا اصول ہے ۔ کوئی شخص جتنا نقصان اٹھائے گا ، اسی کے بقدر اس کے لئے فائدہ کا استحقاق پیدا ہو گا ۔

قدیم انسان کو دو ہزار سال پہلے زندگی کے تجربات نے زندگی کی یہ حقیقت بتا دی تھی۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ نہ دوسروں کی تاریخ انھیں یہ بات بتانے والی ثابت ہوئی اور نہ خود اپنے حالات سے وہ اس کو جان سکے ۔

19 جولائی1983

حدیث میں آیا ہے کہ اگر قیامت برپا ہو جائے اور تم میں سے کسی شخص کے ہاتھ میں ایک پودا ہو تو چاہئے کہ وہ زمین میں اس پودے کو لگادے ( ان قامت القيامة وبيد أحدكم فسيلة فليقرنها)

hadithQuotes a hadith

اس حدیث کو اگر کوئی شخص بالکل لفظی مفہوم میں لے لے تو حدیث اس کے لئے بے معنی ہو جائے گی۔ کیونکہ وہ اس کو قیامت سے تعلق سمجھے گا۔ اور قیامت کا معاملہ یہ ہے کہ جب وہ آئے گی تو کسی کو یہ ہوش ہی نہیں رہے گا کہ وہ زمین میں گڑھا کھو دے اور وہاں ایک پودا لگاۓ۔

حقیقت یہ ہے کہ اس حدیث میں ان قامت القیامۃ کا لفظ تاکید کے لئے ہے۔ اس میں تعلیم دی گئی ہے کہ تم دوسروں کے لئے نفع بخش بنو، حتیٰ کہ تمہارے پاس اگر زندگی کا آخری لمحہ ہو تو اس وقت بھی یہ کوشش کرو کہ تم ایک ایسا درخت لگا دو جو تمہارے بعد لوگوں کو پھل اور سایہ دیتا رہے ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

20 جولائی 1983

اسلام کی ابتدائی تاریخ میں 9ھ کوعام الوفود (وفد کا سال) کہا جا تا ہے ۔ رمضان 8ھ میں مکہ فتح ہوا تھا۔ اس کے بعد 9ھ میں عرب قبائل کے وفود کثرت سے اسلام قبول کرنے کے لئے مدینہ آۓ۔ اس بنا پر اس سال کو عام الوفود کہا جانے لگا۔ ابن سعد کے بیان کے مطابق ان وفود کی تعداد 72 تھی ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

فتح مکہ کے بعد عرب کے قبیلے کیوں اتنی کثرت سے اسلام میں داخل ہو گئے ، اس کی وجہ عمرو بن سلمہ کی ایک روایت میں ان الفاظ میں ملتی ہے:

كانت العرب تقوم باسـلامهمالم۔۔۔۔۔۔۔( عربی عبارت)

عرب فتح کےانتظارکی بنا پر اپنے اسلام میں دیر کررہےتھے۔ وہ کہتےتھےکہ محمد کو اور ان کی قوم کو چھوڑ دو۔ اگر محمد ان پر غلبہ حاصل کرلیں تو وہ سچے پیغمبر ہیں۔ چنانچہ جب مکہ فتح ہوگیا تو ہر قبیلہ اسلام قبول کرنے کے لئے دوڑ پڑا۔ اور میرا قبیلہ بھی تیزی سے اسلام داخل ہوگیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

(بخاری ، کتاب المغازی)

یہ عرب کے مشرک قبائل کا حال تھا۔ مگر اسی ملک میں یہودی قبائل تھے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فتح کو دیکھنے کے باوجود آپ کی رسالت پر ایمان لانے کے لئے تیار نہیں ہوۓ ۔ ایک طرف عرب قبائل فتح کو دیکھ کر آپ پر ایمان لانے کے لئے دوڑ رہے تھے ، دوسری طرف اسی ملک کے یہود اور منافقین یہ سازش کر رہے تھے کہ آپ کی فتح کو بے قیمت کر کے دوبارہ آپ کو شکست اور ناکامی سے دوچار کر دیں۔ یہ جاندار اور بے جان انسان کافرق ہے۔ جاندار انسان بھی حق کی مخالفت کرتا ہے اور بے جان انسان بھی۔ مگر دونوں میں فرق یہ ہے کہ جاندار انسان کی مخالفت کی حد آجاتی ہے مگر بے جان انسان کی کبھی نہیں آتی۔ بے جان انسان اپنی مخالفت پر بدستور قائم رہتا ہے۔ اس کی مخالفت اور اس کے عناد کو موت کے فرشتہ کے سوا کوئی او ختم کرنے پر قادر نہیں۔

21 جولائی 1983

لوئی فشر نے لکھا ہے کہ انتہا پسند ہندو (مدن لال ، گوڈ سے) اور ان کے ساتھی جنھوں نے مہاتما گاندھی کو قتل کیا ، وہ امید رکھتے تھے کہ گاندھی کی موت ہندستان کے دوبارہ متشددانہ اتحاد کی طرف پہلا قدم ہو سکتی ہے ۔ انھوں نے چاہا تھا کہ ان کو راستہ سے ہٹا کر مسلمانوں کو بے یار و مددگار بنا دیں۔ مگر وہ اس بات کو سمجھ نہ سکے کہ گاندھی کا قتل الٹا نتیجہ برآمد کرے گا ، کیوں کہ اس سے ملک پر یہ ظاہر ہو جائے گا کہ انتہا پسند اینٹی مسلم کس قدر زیادہ خطرناک اور قابو سے باہر لوگ ہیں ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

They seemed to hope that the death of Gandhi might be the first step toward the violent reunification of India. They wished, by removing him, to make the Moslems defenseless, little realizing that his assassination would have the opposite effect by showing the country how dangerous and undisciplined extreme anti-Moslems could be.

Louis Fischer, The Life of Mahatma Gandhi New York, 1983, p. 504-505

other sourceWords of another person or source

انتہا پسندانہ اقدام ہمیشہ الٹا نتیجہ پیدا کرتا ہے ، اور اس الٹے نتیجہ کے شکارسب سے زیادہ وہی لوگ ہوتے ہیں جنہوں نے جھوٹی خوش فہمیوں کے تحت اپنا انتہا پسندانہ اقدام کیا تھا ۔

22 جولائی 1983

اقبال کا ایک مشہور شعر ہے جس کو اکثر مسلمان اصاغر واکا بر دہراتے ہیں۔ اس میں مرد مومن کی پہچان یہ بتائی گئی ہے کہ جب اس کی موت کا وقت آتا ہے تو اس کے چہرے پرمسکراہٹ کھیلنے لگتی ہے:

نشان مرد مومن با تو گویم چوں مرگ آید تبسم برلب اوست

یہ بلاشبہ ایک شاعرانہ تخیل ہے ، اس کا ایمان و اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ مرد مومن کا حقیقی نمونہ پیغمبر اور اصحاب پیغمبرتھے۔ رسول صلی اللہ صل االہ علیہ وسلم اورکسی پیغمبر کے بارہ میں یہ ثابت نہیں کہ ان کی موت کا لمحہ آیا تو وہ ہنسنے لگے ۔ اسی طرح اصحاب کرام میں سے کسی کے بارہ میں اس قسم کی روایت مستند کتابوں میں موجود نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ موت کا لمحہ مومن کے لئے فکرمندی کا لمحہ ہے نہ کہ ہنسی مسکراہٹ کا لمحہ۔

موجودہ مسلمانوں کا ذہن بگاڑنے میں سب سے زیادہ جن لوگوں کا دخل ہے وہ شاعر اور خطیب اور انشاء پرداز قسم کے " مفکرین" ہیں جو موجودہ زمانہ میں کثرت سے پیدا ہوئے ۔ ان لوگوں کے کرنے کا اصل کام یہ تھا کہ وہ قرآن وسنت کے مطابق مسلمانوں کی ذہنی تعمیر کریں ، مگر انھوں نے نہایت "مخلصانہ" طور پر صرف مسلمانوں کی ذہنی تخریب کا کام انجام دیا ہے۔

24 جولائی 1983

ابن تیمیہ نے اپنی کتاب منہاج السنہ( جلد اول صفحہ 44) میں لکھا ہے کہ صوفیاء ومشائخ کی اکثریت کہتی ہے کہ ولی محفوظ ہوتا ہے اور پیغمبر معصوم ہوتا ہے ۔ ان میں سے بہت سے لوگ اگرچہ زبان سے ایسا نہیں کہتے مگر ان کی حالت عملا انھیں لوگوں جیسی ہے جن کا خیال ہے کہ شیخ یا ولی نہ غلطی کرتے اور نہ گناہ کرتے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ر والغالبية في المشائخ متـديـقولونانالولىمحفوظوالنبىمعصوموكشيرمنـهـمانلمليلةالكبلسانهفعـالهحـالمنيرىان الستين والول لايفـطولايذنب)

opposing viewA view stated in order to be argued against

دوسرا گروہ جس کا ذکر ابن تیمیہ نے کیا ہے ، وہ پہلے گروہ سے بھی زیادہ وسیع ہے۔ کم از کم موجودہ زمانہ میں تو یہ حال ہے کہ 99 فی صد سے بھی زیادہ لوگ اس گروہ میں شامل ہیں۔ اور اس کی پہچان یہ ہے کہ ان میں سے کسی کے خلاف اگر تنقید کر دی جائے تو تنقید خواہ کتنی ہی زیادہ علمی کیوں نہ ہو ، زیر تنقید بزرگ اور ان کے معتقدین کا پورا حلقہ ناقد کا ازلی دشمن بن جائے گا۔

میرا پنا تجربہ ان لوگوں کے بارہ میں یہی ہے ۔ میں نے جب بھی ان بزرگوں میں سے کسی بزرگ پر تنقید کی توکبھی ایسا نہیں ہوا کہ میری تنقید کو خالص دلائل کے اعتبار سے دیکھا جائے۔ ہمیشہ اس کو اس نظر سے دیکھا گیا ہے کہ اس میں ہمارے بڑوں پر تنقید ہے ۔ موجودہ زمانہ میں کسی شخص کا سب سے بڑا جرم مسلمانوں کی نظر میں یہ ہے کہ وہ ان کے بڑوں پر تنقید کر دے ۔ یہ لوگ زبان سے اپنے بڑوں کو محفوظ یا معصوم نہیں کہتے ۔ مگر ان کا عمل یہی بتاتا ہے کہ وہ ان کو محفوظ اور معصوم قرار دیئے ہوئے ہیں۔

25 جولائی 1983

محمد بن سعید بوصیری ( 697۔ 608 ) مصر کے ایک صوفی بزرگ تھے۔ ان کے عربی اشعار کا دیوان چھپا ہے جو پورا کا پورا نعتیہ کلام پر مشتمل ہے ۔ ان کی ایک نعتیہ نظم " قصیدہ بردہ “ کو اتنی شہرت حاصل ہوئی کے مختلف زبانوں میں اس کے ترجمے کئے گئے اور 20 سے زیادہ اس کی شرحیں لکھی گئیں۔ قصیدہ بردہ کے بارہ میں بہت سی طلسماتی کہانیاں مشہور ہیں جنھوں نے اس کی مقبولیت میں مدد دی ہے۔ بہت سے لوگ اس کو ورد کے طور پر پڑھتے ہیں اور برکت کے لئے اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔

اس کی مقبولیت کے باعث بہت سے لوگوں نے قصیدہ بردہ کے انداز میں قصیدے لکھے اور بہت سے لوگوں نے اس کی تضمین کی۔ محمد مصری نے "تسبیع" کے انداز میں ایک نظم لکھی ہے (تسبیع کا مطلب ہے پانچ مصرعے بڑھا کہ ہر بند کوسات مصرعے کا بند بنانا) اس کا ایک شعر یہ ہے :

محمد جاء بالآت والحكم مبشراً ونذيرا لجملة الامم

محمد نشانیاں اور حکمتیں لے کر آئے ، خوش خبری دینے والے اور تمام قوموں کو ڈرانے والے ۔

اس شعر میں جو بات کہی گئی ہے وہ نہایت صحیح ہے ۔ اس کے باوجو موجودہ زمانہ کے مسلمان انذار و تبشیر کے دعوتی عمل سے اتنا دور ہیں کہ ان کے اکابر تک اس کی اہمیت سے واقف نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مذکورہ قسم کی بات کو مسلمان محض بطور فخر کہتے ہیں۔ اور جو بات بطور فخر کہی جائے ، اس سے لوگوں کو فخر کی غذا تو مل سکتی ہے ، مگر اس سے ان کے اندر عمل کی تحریک نہیں ہوسکتی۔

26 جولائی 1983

برٹرینڈ رسل( Bertrand Russell) نے کہا ہے کہ خوشی کو پانے کی ناگریز شرط یہ ہے کہ آپ جو کچھ چاہتے ہیں ، ان میں سے کچھ چیزوں کے بغیر آپ رہنے پر راضی ہو جائیں ۔

other sourceWords of another person or source

To be without some of the things you want is an indispensable part of happiness.

یہ وہی بات ہے جس کو مذہب میں قناعت کہا گیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اس دنیا میں خوشی اور ذہنی سکون کو پانے کا واحد راز یہ ہے کہ آدمی پائی ہوئی چیز پر راضی ہو جائے اور جو چیز اس کو نہیں ملی ، اس کو فراموشی کے خانہ میں ڈال دے۔

27 جولائی 1983

حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : رب قال يتلوا القرآن والقرآن یلعنه (بہت سے قرآن کی تلاوت کرنے والے ایسے ہیں کہ وہ قرآن کی تلاوت کرتے ہیں حالاں کہ قرآن ان پر لعنت کر رہا ہوتا ہے)

hadithQuotes a hadith

یہ کون لوگ ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو قرآن کو کتاب تلاوت تو بناتے ہیں مگر وہ اس کو اپنے لئے کتاب ہدایت نہیں بناتے۔ جو دوسروں کو زیر کرنے کے لئے تو قرآنی آیتوں کے حوالے دیتے ہیں مگر خود اپنے آپ کو قرآنی احکام کے آگے نہیں جھکاتے۔ جو قرآن کے نام پر اعزاز حاصل کرنے کے لئے تو دوڑتے ہیں مگر قرآن کی خاطر چھوٹا بننے کے لئے تیار نہیں ہوتے جو قرآن کو دوسروں کے اوپر لیڈری حاصل کرنے کا ذریعہ تور بناتے ہیں مگر خود اپنے آپ کو قرآن کا پیرو بنانے کے لئے آمادہ نہیں ہوتے۔ جو انسانوں کے سامنے تو قرآن والا بننے کا کریڈٹ لیتے ہیں مگر فرشتوں کے سامنے قرآن والا بننے کی توفیق انھیں حاصل نہیں ہوتی ۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے قرآن کو پڑھا ، مگر انھوں نے قرآن کو نہیں پایا۔

28 جولائی 1983

ڈاکٹر حمید اللہ (مقیم پیرس) نے لکھا ہے کہ یورپ کے مستشرقین نے 42 ہزار قرآنی نسخے جمع کئے اور ان کے فوٹو لے کر شروع سے آخر تک ان کا تقابل کیا۔ ان نسخوں میں چھپے ہوئے نسخے بھی تھے اور ہاتھ سے لکھے ہوئے نسخے بھی۔ اور وہ دنیا کے مختلف علاقوں سے حاصل کئے گئے تھے ۔ مگر تقابل میں بعض معمولی سہو کتابت کے سوا نفس روایت میں کوئی اختلاف یا فرق نہیں ملا ۔

other sourceWords of another person or source

تاشقند کے میوزیم میں قرآن کا ایک قدیم نسخہ ہے جو پتلی جھلی پر کوفی خط میں لکھا ہوا ہے ۔ اس نسخہ کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ حضرت عثمان ( جامع القرآن) کے زمانہ کا ہے۔ اس نسخہ میں آیت فسيكفيكهم الله پر خون کے دھبے ہیں جو حسب روایت حضرت عثمان کی شہادت کے وقت اس پر پڑے تھے۔ یہ ممکن ہے کہ مذکورہ نسخہ عین وہی نسخہ نہ ہو جو حضرت عثمان کے زیر تلاوت تھا اورکسی اور شخص نے اپنے نسخہ میں تیمنا مذکورہ آیت پر اصل کے مطابق دھبے ڈال دئے ہوں۔ تا ہم روسی سائنسدانوں نے ریڈیو کاربن کے کیمیائی طریقہ کو استعمال کرکے اس نسخہ کا زمانہ معلوم کرنے کی کوشش کی ہے ، ان کا بیان ہے کہ سائنسی تجربہ کے مطابق اس قرآنی نسخہ کی قدامت خلیفہ سوم حضرت عثمان کے زمانہ تک پہنچتی ہے۔ تاشقند کے اس نسخہ کا تقابل موجودہ قرآنی نسخوں سے کیا گیا۔ مگر دونوں میں کوئی فرق نہیں ملا ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن دور پریس سے ہزار سال پہلے اترا۔ مگر آج تک اس میں کوئی ادنیٰ فرق بھی پیدا نہ ہوسکا۔ یہ ایسا نادر استثناء ہے جو قدیم کتابوں میں سے کسی بھی دوسری کتاب کو حاصل نہیں۔

29 جولائی 1983

دانش مند وہ ہے جو ایک چیز اور دوسری چیز میں فرق کو جانے۔ یہی کامیابی کا راز ہے۔ اس دنیا میں وہی شخص کامیاب ہوتا ہے جو حقیقی مسئلہ اور غیر حقیقی مسئلہ میں فرق کرے۔ وہ حقیقی مسئلہ پر پوری توجہ دیتے ہوئے غیر حقیقی مسئلہ کو نظر انداز کر دے۔

30 جولائی 1983

محمد بن اسحاق تابعی (85-150ھ) قدیم ترین سیرت نگار ہیں۔ ان کی اصل کتاب اگرچہ اب موجود نہیں، مگر ابن ہشام کی موجودہ سیرت میں ان کی پوری کتاب شامل ہے۔

ابن اسحاق علم الانساب کے بہت بڑے ماہر تھے۔ وہ امام مالک کے ہم عصر تھے۔ انہوں نے اپنی معلومات کے مطابق امام مالک کے بارے میں یہ کہہ دیا کہ وہ قبیلہ ذی اصبح کے آزاد کردہ غلاموں میں سے ہیں۔ مگر خود امام مالک اپنے آپ کو حمیر کی شاخ اصبح میں سے خیال کرتے تھے۔ اس اختلاف کی بنا پر دونوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہو گئی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

امام مالک نے جب حدیث کی کتاب موطا تیار کی تو کہا جاتا ہے کہ محمد بن اسحاق نے کہا کہ اس کو میرے پاس لے آؤ، اس کا معالج میں ہوں (ایتونی بہ فانا بیطارہ)۔ یہ بات امام مالک تک پہنچی تو وہ سخت برہم ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ دجالوں میں سے ایک دجال ہے، یہود سے روایتیں نقل کرتا ہے (ھذا دجال من دجالۃ یروی عن الہھود)۔ ابن حبان نے کتاب الثقات میں لکھا ہے کہ محدثین کو محمد بن اسحاق پر یہ اعتراض تھا کہ خیبر، قریظہ، نضیر کی جنگوں کے حالات وہ ان یہودیوں کی اولاد سے لے کر کتاب میں درج کرتے تھے، جن کے آباء و اجداد مسلمان ہو گئے تھے۔ اور چونکہ یہ باتیں انہوں نے یہود سے سنی ہوں گی ، اس لیے ان پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

امام مالک نے ابن اسحاق کی تردید میں جو الفاظ کہے، وہ تنقید سے بھی آگے کے ہیں۔ مگر اتنی سخت تنقید کے باوجود کسی نے اس کو برا نہیں سمجھا۔ دور اول میں جب مسلمان زندہ تھے تو اس قسم کا اختلاف رائے یا تنقیدیں عام تھیں۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان تنقید کو برداشت نہیں کر پاتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہ بالکل مردہ ہو چکے ہیں، ان کے اندر زندگی کی قسم کی کوئی چیز باقی نہیں۔

31 جولائی 1983

کچھ لوگ ملاقات کے لیے آئے تھے۔ میں اپنے کمرہ میں ان سے گفتگو کر رہا تھا۔ درمیان میں کسی ضرورت کے تحت کمرہ سے باہر آیا تو میں نے دیکھا کہ میری لڑکی فریدہ خانم دروازہ کے پیچھے زمین میں بیٹھی ہوئی گفتگو کو سن رہی ہے۔ معلوم ہوا کہ وہ اکثر ایسا ہی کرتی ہے۔جب لوگ مجھ سے ملنے کے لیے آتے ہیں اور میں ان سے گفتگو کرتا ہوں تو وہ دروازے کے پیچھے بیٹھ کر پوری گفتگو کو انہاک کے ساتھ سنتی ہے ۔

میری باتوں کو اتنا زیادہ شوق اور دلچسپی کے ساتھ سننے اور سمجھنے والا میں نے اپنے تمام جاننے والوں میں صرف فریدہ خانم کو پایا ہے ۔ اس کو میرے مشن سے انتہائی قلبی تعلق ہے۔ میری باتوں کو بے حد توجہ سے سنتی ہے اور لفظ لفظ کو پکڑنے کی کوشش کرتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اس نے میرے مشن کو نہایت گہرائی کے ساتھ سمجھا ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اس کو جانچنے کے لئے میں اس سے کوئی سوال کرتا ہوں۔ بیشتر حالات میں ایسا ہوتا ہے کہ وہ اس سوال کا عین وہی جواب دیتی ہے جو میرے ذہن میں ہوتا ہے۔ مشن سے گہرے تعلق کی بنا پر اس کے اندر یہ فکری ہم آہنگی پیدا ہوگئی ہے۔

Highlights
Reading

The realization of God is the essence of religion. Without maarifah, religion is reduced to a spiritless form.

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside ithadithQuotes a hadithoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itopposing viewA view stated in order to be argued againstother sourceWords of another person or sourcehadithQuotes a hadithother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it