Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Deeni Taleem
Deeni Taleem

Banda aur khuda ka muamala.

Urdu · 2 min

بندہ اور خدا کا معاملہ: قرآن میں ارشاد ہوا ہے، "اور جب میرے بندے میرے متعلق پوچھیں تو کہہ دو کہ میں قریب ہوں، پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔ " پس چاہیے کہ وہ میری پکار کا جواب دیں اور میرے اوپر یقین رکھیں تاکہ وہ فلاح حاصل کریں۔ اس سے معلوم ہوا کہ خدا اور بندے کا معاملہ دو طرفہ معاملہ ہے: بندہ وہ چیز دیتا ہے جو اس کے پاس ہے، اس کے بعد خدا اس کو وہ چیز دیتا ہے جو خدا کے پاس ہے۔ بندہ اپنے خدا کو معرفت اور تقویٰ اور شکر کا تحفہ پیش کرتا ہے، اس کے جواب میں خدا اس کے لیے رشد یعنی فلاح کا فیصلہ کرتا ہے۔

سورہ بقرہ آدمی کے سامنے ایک معاملہ آتا ہے جس میں بیک وقت دو امکانات ہوتے ہیں: ایک شریعت اور اخلاق کے مطابق، دوسرا شریعت اور اخلاق کے خلاف۔ ایسے موقع پر خدا کی پکار کا جواب دینا یہ ہے کہ آدمی خدا کے دیے ہوئے علم کے مطابق صحیح کو پکڑ لے، خواہ وہ بظاہر مشکل ہو، اور غلط کو چھوڑ دے، خواہ وہ بظاہر آسان ہو۔ آدمی کے سامنے بار بار ایسے مواقع آتے ہیں جبکہ وہ ایسے مقام پر کھڑا ہوتا ہے کہ وہ یا تو ظلم اور بے انصافی کرے یا حق اور انصاف سے کام لے۔ ایسے موقع پر خدا کی پکار کا جواب دینا یہ ہے کہ آدمی ظلم اور ناانصافی سے بچے اور اپنے کو حق اور انصاف کے طریقے پر قائم رکھے۔

دنیا میں آدمی کو اپنے وجود کے اندر اور وجود کے باہر جو کچھ ملا ہے، اس کو وہ اتفاق کا نتیجہ یا اپنے دست و بازو کی کمائی بھی سمجھ سکتا ہے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ حقیقتِ واقعے کا اعتراف کرتے ہوئے ہر چیز کو خدا کی چیز سمجھے۔ اس لیے جب آدمی کو کوئی چیز ملے تو خدا کی پکار کا جواب دینا یہ ہے کہ اس وقت آدمی کہہ اٹھے کہ خدایا تو ہی دینے والا ہے اور تو ہی نے سب کچھ دیا ہے۔ بندہ جب اس طرح اپنے دماغ اور دل کا نذرانہ خدا کے سامنے پیش کر دے تو خدا اس کے لیے رشد کا فیصلہ کر دیتا ہے، جس کا مطلب ہے دنیا میں صالح زندگی اور آخرت میں ابدی جنت۔

کتاب دینی تعلیم، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 47۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.