اسلام اور کفر: اسلام کا مطلب ہے ماننا، اور کفر کا مطلب ہے انکار کرنا۔ انسان بظاہر دنیا میں آزاد ہے کہ جو چاہے بولے اور جو چاہے کرے، مگر حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی ہر چیز خدا کی ہے۔ کسی کے پاس جو کچھ ہے، سب اسی کا دیا ہوا ہے۔ یہاں خدا کے سوا کسی کو کوئی طاقت حاصل نہیں۔
خدا ہر وقت انسان کو پکڑنے اور اس کو سزا دینے کا اختیار رکھتا ہے۔ اسلام یہ ہے کہ آدمی اس حقیقتِ واقعہ کو مان لے اور اپنی زندگی اس کے مطابق گزارے۔ اس کے مقابلے میں کفر یہ ہے کہ آدمی اس حقیقتِ واقعہ کو نہ مانے اور اپنی زندگی کو اس کے مطابق بنانے کے لیے تیار نہ ہو۔ آگ جل رہی ہو تو آدمی یہ اختیار رکھتا ہے کہ اس کے اندر اپنا ہاتھ ڈال دے، مگر اختیار کے باوجود وہ آگ کے اندر اپنا ہاتھ نہیں ڈالتا۔
یہی حقیقتِ واقعہ کا اعتراف ہے۔ دنیا میں اگرچہ بظاہر آدمی کو پوری آزادی حاصل ہے، مگر یہ آزادی صرف جانچ کے لیے ہے۔ خدا انسان کو آزادی دے کر یہ جانچنا چاہتا ہے کہ وہ آزادی پا کر سرکشی کرتا ہے یا حقیقتِ واقعہ کا اعتراف کر کے خدا کے آگے جھک جاتا ہے۔ جو شخص خدا کی خدائی کو تسلیم کر کے اپنی زندگی کو حقیقت کے مطابق بنائے، اس نے اسلام قبول کیا۔
ایسے شخص کے لیے خدا کے ابدی انعامات ہیں۔ اس کے برعکس جو شخص اس حقیقت کو نہ مانے اور خدا کو اپنا آقا اور اپنے آپ کو اس کا بندہ بنانے پر راضی نہ ہو، اس نے کفر کیا۔ ایسے شخص کو خدا فیصلے کے دن سخت سزا دے گا۔ جو شخص اسلام کا طریقہ اختیار کرے، اس کی پوری زندگی بدل جاتی ہے۔
اس کی سوچ صحیح ترین سوچ ہوتی ہے، کیونکہ وہ حقیقتِ واقعہ پر مبنی ہوتی ہے۔ اس کا عمل صحیح ترین عمل ہوتا ہے، کیونکہ وہ حقیقتِ واقعہ کے مطابق ہوتا ہے۔ دوسروں کے ساتھ اس کا سلوک صحیح ترین سلوک ہوتا ہے، کیونکہ وہ حقیقتِ واقعہ کو سامنے رکھ کر قائم ہوتا ہے۔ اس کے برعکس کافر ہر معاملے میں حقیقتِ واقعہ کے خلاف چلتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اس کا انجام کامل بربادی کے سوا اور کچھ نہیں۔ کتاب دینی تعلیم، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 46۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.