مسجد۔ ایک سیاح نے لکھا ہے کہ میں نے دنیا کے مختلف حصوں کا سفر کرنے کے بعد جو چیزیں نوٹ کیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ دیگر قوموں کے یہاں کثرت سے پرانے قلعے ہر جگہ کھڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔ مگر مسلم ممالک میں حیرت انگیز طور پر فوجی قلعے بہت کم ہیں، البتہ مسلم بستیاں مسجد کے اونچے اونچے میناروں سے بھری ہوئی ہیں۔ یہ واقعہ مسلمان اور غیر مسلمان کے مزاجی فرق کو بتاتا ہے: غیر مسلم کا اعتماد تمام تر اپنی تدبیروں پر ہوتا ہے، اور مسلمان کا اعتماد تمام تر اللہ پر۔
یہی وجہ ہے کہ غیر مسلم قوموں نے اپنے تحفظ اور استحکام کے لیے اونچی دیواروں والے قلعے کھڑے کیے۔ اس کے برعکس مسلمانوں کو جہاں جہاں غلبہ حاصل ہوا، انہوں نے خدا کے گھر تعمیر کیے۔ بلند و بالا قلعے اگر بزبان حال یہ کہہ رہے تھے کہ "میں بڑا ہوں"، تو مسجدوں کے اوپر کھڑے ہو کر انہوں نے اپنی نسلوں اور دنیا کی آبادیوں کو یہ پیغام سنایا کہ اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے۔ مسجد کی حیثیت کسی مقام کے مسلمانوں کے لیے وہی ہے جو کعبے کی حیثیت ساری دنیا کے مسلمانوں کے لیے۔
کعبہ اہل اسلام کا عالمی دینی مرکز ہے، اور مسجد اہل اسلام کا مقامی دینی مرکز۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں جہاں ایک طرف کعبے کو "قبلہ" (سورہ بقرہ آیت 144) کہا گیا ہے، وہیں مقامی مساجد کے لیے بھی یہی لفظ "وجعلوا بیوتکم قبلة" (سورہ یونس) استعمال کیا گیا ہے۔ نماز مومنانہ زندگی کی علامت ہے، خدا کا گھر اسی علامت کو قائم کرنے کے لیے ہے۔ مقامی طور پر ہر بستی میں، اور بین الاقوامی طور پر مرکز اسلام حجاز میں۔
مسجد میں مسلمان روزانہ 5 وقت باجماعت نماز ادا کرنے کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ مسجد فطری طور پر مسلمانوں کا دینی مرکز ہے، اسی لیے حدیث میں آیا ہے کہ مسجد کو مسلم آبادی کے درمیان میں بنایا جائے، "وَأَن تُبْنَ فِي الدُّوَرِ"۔ مسجد اپنے ماحول اور اپنی سرگرمیوں کے اعتبار سے اس بات کا پیغام ہے کہ خدا کے بندو، عبادت ایک اللہ کے لیے ہے، سب مل کر اسی ایک اللہ کے عبادت گزار بن جاؤ۔ کتاب "دینی تعلیم"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 45۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.