Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Deeni Taleem
Deeni Taleem

Taleem.

Urdu · 2 min

تعلیم علم کی دو قسمیں ہیں: ایک علم وہ ہے جو قرآن و حدیث کی صورت میں مرتب ہو کر ہمارے پاس موجود ہے، دوسرا علم وہ ہے جس کو انسان اپنی تلاش اور محنت سے بناتا ہے۔ پہلا علم آدمی کو اس کے خدا کی پہچان کراتا ہے، اور یہ بتاتا ہے کہ مرنے کے بعد جب آدمی آخرت کی مستقل دنیا میں پہنچے گا تو وہاں اس کو کس قسم کے معاملات سے سابقہ پیش آئے گا، اور ان معاملات کے اعتبار سے اس کو اپنی موجودہ زندگی میں کس قسم کی تیاری کرنا چاہیے۔ دوسرا علم یہ بتاتا ہے کہ دنیا میں ہمارے جو مادی اور معاشی مسائل ہیں، ان کو کس طرح حل کیا جائے۔ مسلمان کو یہ دونوں علم سیکھنا ہیں۔

اس کو علم دین بھی جاننا چاہیے اور علم دنیا بھی، البتہ دونوں کا درجہ الگ الگ ہے۔ قرآن و حدیث کا علم حاصل کرنا مسلمان کی زندگی کا مقصد ہے، اور دوسرے علوم کو سیکھنا مسلمان کی دنیاوی ضرورت ہے۔ قرآن و حدیث کی باتوں کو جانے بغیر کوئی شخص صحیح معنوں میں مسلمان نہیں ہو سکتا۔ وہ اس سے باخبر نہیں ہو سکتا کہ آخرت کی کامیابی کے لیے اس کو موجودہ زندگی میں کیا کرنا چاہیے۔

مگر دنیاوی علوم کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ وہ دنیا میں پیش آنے والے مادی معاملات میں ہماری رہنمائی کرتے ہیں۔ مثلاً کھیتوں سے اچھی فصل کس طرح اگائی جائے، کارخانوں سے ضروریاتِ زندگی کے سامان کس طرح بنائے جائیں، شہروں کی تعمیر میں کن قواعد کا لحاظ کیا جائے، وغیرہ۔ قرآن و حدیث کا علم آدمی کو آخرت کی ابدی زندگی کی تعمیر کی راہ بتاتا ہے، اور دوسرے علوم دنیا کی موجودہ زندگی کی تعمیر کی راہوں سے باخبر کرتے ہیں۔

مختلف قسم کے علوم کو سیکھنا مسلمان کے لیے بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا غیر مسلمان کے لیے۔ البتہ مسلمان مقصد اور ضرورت میں فرق کرتا ہے۔ قرآن و حدیث کا علم حاصل کرنے میں اس کا جذبہ دوسرا ہوتا ہے، اور دوسرے دنیاوی علوم کو حاصل کرنے میں دوسرا۔ کتاب "دینی تعلیم" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 44۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.