Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Deeni Taleem
Deeni Taleem

Maaash ka masala.

Urdu · 2 min

معاش کا مسئلہ معاش مومن کی زندگی کا مقصد نہیں، اس کی زندگی کی ضرورت ہے۔ مقصد کے درجے میں مومن کے سامنے آخرت ہوتی ہے، اور ضرورت کے درجے میں دنیا۔ معاش کے سلسلے میں غیر مومن کا ذہن یہ ہوتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ حاصل کرو۔ اس کے برعکس مومن کا ذہن یہ ہوتا ہے کہ جو کچھ حاصل کرو، جائز طریقے سے حاصل کرو۔

غیر مومن کے لیے معاش اس کے حوصلوں اور تمناؤں کی تکمیل کے لیے ہوتی ہے، اور مومن کے لیے خودکفیل زندگی کے لیے۔ غیر مومن دنیا میں جیتا ہے اور دنیا ہی میں اپنی پوری قیمت حاصل کر لینا چاہتا ہے۔ مگر مومن آخرت میں جیتا ہے، اور آخرت میں لینا چاہتا ہے جو کچھ لینا چاہتا ہے۔ دنیا اس کے لیے عمر کی مدت پوری کرنے کی جگہ ہوتی ہے، اور آخرت اس کے لیے اپنی تمناؤں کو پانے کی جگہ۔

معاش ہر آدمی کی ایک لازمی ضرورت ہے۔ کوئی شخص معاش کی جدوجہد سے خالی نہیں ہو سکتا۔ مگر اسلام اس کو ضرورت کے درجے میں رکھتا ہے، نہ کہ مقصد کے درجے میں۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ معاش کا حصول بذاتِ خود آدمی کا مطلوب و مقصود نہ بن جائے۔

معاشی سرگرمیوں کے درمیان بھی اس کا دل اللہ میں اٹکا ہوا ہو۔ اس وقت بھی اللہ ہی اس کی یادوں کا سرمایہ بنا ہوا ہو۔ غیر مومن کے پاس دولت آتی ہے تو وہ اس سے اپنے معیارِ زندگی کو بڑھاتا ہے۔ مومن کے پاس دولت آتی ہے تو وہ ضرورت کے بقدر اس میں سے لے کر بقیہ کو خدا کے کام میں دے دیتا ہے۔

غیر مومن کے پاس دولت کا مصرف یہ ہے کہ وہ اپنی دنیا کے مستقبل کو بنائے، اور مومن کے پاس دولت کا مصرف یہ ہے کہ وہ اس کو اپنی آخرت کی تعمیر میں خرچ کرے۔ معاش کا حصول ہر ایک کے لیے ضروری ہے، مگر مومن جائز طریقے سے حاصل کرتا ہے، اور جو کچھ ملتا ہے اس پر قناعت کرتا ہے۔ مگر غیر مومن بے قید طور پر حاصل کرتا ہے، اور کبھی حرص سے خالی نہیں ہوتا۔ کتاب "دینی تعلیم" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 43۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.