مومن کی دولت؟ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "جو لوگ سونا اور چاندی جمع کر کے رکھتے ہیں اور اس کو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، ان کو خوشخبری دے دو کہ ایک دن آئے گا کہ اس مال پر جہنم کی آگ دہکائی جائے گی۔ " پھر اس سے ان لوگوں کی پیشانیوں اور پہلوؤں اور پیٹھوں کو داغا جائے گا۔ سورۃ توبہ، آیت 35۔
یہ آیت اتری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے کہا: "اب ہم کون سا مال جمع کریں؟ " حضرت عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس کی بابت سوال کیا۔ آپ نے فرمایا: لِيَتَّخِذَ أَحَدُكُمْ قَلْبًا شَاكِرًا وَلِسَانًا ذَاكِرًا وَزَوْجَةً مُؤْمِنَةً تُعِينُ أَحَادَكُمْ عَلَى أَمْرِ الْآخِرَةِ ابن ماجہ۔ تم میں سے ہر شخص شکر کرنے والا دل اور یاد کرنے والی زبان کو اپنائے، اور مومن بیوی کو جو آخرت کے معاملے میں اس کی مدد کرے۔
دولت وہی ہے جو زندگی کے مسائل میں کام آئے۔ مومن کے لیے سب سے بڑا مسئلہ آخرت کا مسئلہ ہوتا ہے، اس لیے وہ اسی چیز کو دولت سمجھتا ہے جو آخرت میں کام آنے والی ہو۔ آخرت میں جو چیز آدمی کے کام آئے گی وہ یہ کہ دنیا میں وہ اس طرح رہے کہ ہر حال میں وہ اللہ کا شکر کرنے والا ہو۔ اس کا دل اس طرح اللہ میں اٹکا ہوا ہو کہ ہر وقت اس کو اللہ کی یاد آتی رہے۔
جو شخص اپنے لیے آخرت والی زندگی پسند کرے، وہ اپنی زندگی کا ساتھی بھی کسی آخرت پسند کو بنائے گا۔ ایسے آدمی کے لیے ایسی ایک بیوی بہت بڑی دولت ہے جو دنیا کے بجائے آخرت کو چاہتی ہو۔ جو اس کو دنیا کی وقتی چیزوں کی طرف کھینچ کر نہ لے جائے، بلکہ اس کو آخرت کی طرف چلنے میں مدد دے۔ لوگ سونا چاندی کو دولت سمجھتے ہیں، مگر مومن کی دولت خدا ہے۔
وہ ان چیزوں کو سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہے جو اس کو خدا سے قریب کرنے والی ہوں، جو بعد کو آنے والی دنیا میں اس کو خدا کی رحمتوں کا مستحق بنائیں۔ کتاب دینی تعلیم، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 42۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.