Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Deeni Taleem
Deeni Taleem

Apni ghalati ko janiye.

Urdu · 2 min

اپنی غلطی کو جانیے۔ کچھ لوگ گویا کے عجیب ہوتے ہیں۔ ایک شخص نے کہا: "گویا کہ ان کا ایک تکیہ کلام بن جاتا ہے"۔ گویا کہ وہ اس کو گویا کے بار بار دہراتے رہتے ہیں، گویا کہ- مذکورہ بزرگ اسی طرح اپنی گفتگو میں "گویا کہ" کا لفظ بار بار دہراتے رہے، جو ان کا اپنا تکیہ کلام تھا۔

وہ نہایت اطمینان کے ساتھ دوسروں پر یہ تنقید کر رہے تھے کہ وہ اپنا ایک تکیہ کلام بنا لیتے ہیں اور اس کو بے موقع دہراتے رہتے ہیں۔ مگر خود اپنے بارے میں ان کو ذرا بھی یہ احساس نہ تھا کہ انہوں نے بھی اپنا ایک تکیہ کلام بنا رکھا ہے، جس کو وہ اپنی گفتگو میں بلا ضرورت بار بار دہراتے رہتے ہیں۔ ان کو دوسروں کی غلطی کی خبر تھی، مگر اپنی غلطی سے وہ بالکل ناواقف تھے۔ یہ انسان کی عام کمزوری ہے۔

وہ دوسروں کی غلطیوں کو انتہائی باریک بینی کے ساتھ جانتا ہے۔ دوسروں کا معاملہ ہو تو وہ ان کی کوتاہیوں کے چھپے ہوئے گوشوں تک کو پا لیتا ہے۔ مگر جب معاملہ اپنا اور اپنے متعلقین کا ہو تو وہ ایسا بے خبر ہو جاتا ہے جیسے وہ کچھ جانتا ہی نہیں۔ مگر خدا کے یہاں جو چیز کام آئے گی، وہ اپنی غلطیوں کو جاننا ہے، نہ کہ دوسروں کی غلطیوں کا ماہر بننا۔

جو شخص دوسروں کی غلطیوں کو جانے مگر اپنی غلطیوں کو نہ جانے، وہ صرف اللہ کے سامنے یہ حجت قائم کر رہا ہے کہ اس کو اتنی سمجھ تھی کہ وہ اپنی غلطیوں کو جان لے، مگر اس کی سرکشی نے اس کو اندھا بہرا بنا دیا۔ آنکھ رکھتے ہوئے اس نے نہ دیکھا، اور کان رکھتے ہوئے اس نے نہ سنا۔ ایسے آدمی کے لیے خدا کے یہاں سخت سزا کے سوا اور کچھ نہیں۔ انسان کے اندر اللہ نے برائی اور بھلائی کی پہچان رکھی ہے، تاکہ وہ جہنم کے راستے سے بچے اور جنت کے راستے کا مسافر بنے۔

مگر جس آدمی کا یہ حال ہو کہ وہ خود خلافِ حق باتوں میں مبتلا ہو اور دوسروں کو حق کی تلقین کرے، اس نے اپنی پہچان کو صرف اپنے جہنمی سفر کو تیز کرنے میں استعمال کیا۔ کیونکہ اس قسم کی تلقین صرف ایک جرم ہے، نہ کہ کوئی حقیقی عمل۔ کتاب: دینی تعلیم، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 41۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.