Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Deeni Taleem
Deeni Taleem

Oopar uthkar sochna.

Urdu · 2 min

اوپر اٹھ کر سوچنا۔ جب تیز ہواؤں کا طوفان آتا ہے تو کمزور بازوں والی چھوٹی چڑیاں اس کے اندر گھر کر رہ جاتی ہیں۔ مگر جو بڑی چڑیاں ہوتی ہیں، وہ اپنے مضبوط بازوؤں کے ساتھ اڑ کر اوپر چلی جاتی ہیں، اور اس طرح وہ طوفان کی زد سے باہر نکل جاتی ہیں۔ اسی واقعے کی روشنی میں انگریزی مثل ہے "The big bird of the storm" یعنی طوفان کی بڑی چڑیا۔

یہ مثل اس وقت بولی جاتی ہے جبکہ کوئی شخص حالات کے گھیراؤ کو توڑ کر باہر نکل جانے میں کامیاب ہو گیا ہو۔ اسی طرح سوچنے کی بھی دو سطحیں ہوتی ہیں: کچھ لوگوں کی سوچ ان کے قریبی حالات کے زیرِ اثر بنتی ہے، جن معاملات میں وہ گھرے ہوئے ہیں، ان سے الگ ہو کر وہ سوچ نہیں پاتے۔ دوسرے لوگ وہ ہیں جو طوفان کی بڑی چڑیا کی طرح اپنے قریب کے حالات سے اوپر اٹھ جاتے ہیں۔ وہ حالات سے متاثر ہو کر نہیں سوچتے، بلکہ حالات سے بلند ہو کر اپنی رائے قائم کرتے ہیں۔

مومن کی سوچ بڑی چڑیا کے انداز کی سوچ، یعنی بگ برڈ تھنکنگ ہوتی ہے۔ وہ حالات سے اوپر اٹھ کر جیتا ہے۔ وہ تکلیفوں میں بھی اللہ کا شکر ادا کرتا ہے۔ وہ مشکل حالات میں بھی دین پر جمنے والا ہوتا ہے۔

وہ شکایتوں کے باوجود لوگوں سے خیرخواہی اور انصاف کا معاملہ کرتا ہے۔ وہ حالات کی پیداوار نہیں ہوتا، بلکہ حالات سے الگ اپنی شخصیت بناتا ہے۔ وہ طوفان سے باہر زندگی گزارتا ہے، نہ کہ ان کے اندر۔ غیر مومن ردِعمل کی نفسیات میں جیتا ہے، اور مومن مثبت نفسیات میں۔

غیر مومن دوسروں کی تخریب میں اپنی تعمیر کا راز سمجھتا ہے، اور مومن خود اپنے امکانات کو بروئے کار لانے میں۔ غیر مومن دنیا کا غم لیے ہوئے ہوتا ہے، اور مومن آخرت کا غم۔ غیر مومن کا دل انسانوں میں اٹکا ہوا ہوتا ہے، اور مومن کا دل صرف اللہ میں۔ کتاب دینی تعلیم، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 40۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.