غلطی کر کے پلٹنا۔ ایک مسافر کو کلکتہ جانا ہے، وہ ایک ٹرین میں سوار ہوتا ہے، مگر روانگی کے بعد اس کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ جس گاڑی میں بیٹھا ہوا ہے وہ امرتسر جانے والی گاڑی ہے۔ ایسے مسافر کا حال کیا ہوگا؟ وہ اپنی غلطی پر تڑپ اٹھے گا۔
جس سیٹ پر وہ اطمینان کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، وہ اس کو کاٹنے لگے گی۔ اگلے اسٹیشن پر جیسے ہی گاڑی رکے گی، وہ فوراً اتر پڑے گا تاکہ واپس جا کر اپنی مطلوبہ گاڑی پکڑ سکے۔ ٹرین کا ایک مسافر جس طرح فوراً اپنی غلطی کو مان کر پلٹ پڑتا ہے، وہی حال مومن کا آخرت کے معاملے میں ہوتا ہے۔ اس سے جب کوئی ایسی غلطی ہو جاتی ہے جو آخرت کے رخ سے بے رخ کرنے والی ہو، جو اس کو اگلی زندگی میں نقصان پہنچانے والی ہو، تو وہ بے حد شرمندہ ہوتا ہے۔
اس کو اپنی غلطی ماننے میں دیر نہیں لگتی۔ وہ غلط سمت سے لوٹ کر فوراً صحیح سمت میں چلنے لگتا ہے۔ مومن وہی ہے جو غلطی کر کے پلٹ آئے۔ جو غصہ ہونے کے بعد معاف کر دے۔
عزت کا سوال جس کو اعتراف سے روکنے والا ثابت نہ ہو۔ اس کے برعکس جس کا حال یہ ہو کہ وہ اپنی غلطیوں میں لپٹا رہے، کسی سے ایک بار رنجش ہو جائے تو اس کو معاف کرنے کے لیے تیار نہ ہو۔ جو کسی حال میں اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کا اقرار نہ کرے، ایسا شخص اللہ کی نظر میں مومن نہیں ہے، خواہ وہ اپنے کو کتنا ہی بڑا مسلمان سمجھتا ہو، خواہ اس نے ایمان و اسلام کے کتنے ہی تمغے اپنے اوپر لگا رکھے ہوں۔ موجودہ دنیا میں آدمی اپنی غلطی کو ماننا نہ چاہے تو اس کو اپنی غلطی کی تاویل کے لیے بہت سے الفاظ مل جاتے ہیں۔
کسی کے لیے اس کی دنیاوی شان و شوکت اس کی برائیوں کا پردہ بن جاتی ہے۔ مگر آخرت میں کوئی چیز کسی کے کام نہ آئے گی۔ وہاں حقیقتیں اس طرح کھل جائیں گی کہ اندھے بھی ان کو دیکھنے لگیں۔ کتاب دینی تعلیم، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 39۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.