مومن اللہ میں جیتا ہے۔ ایک چھوٹے بچے کے لیے سب کچھ اس کے ماں باپ ہوتے ہیں، وہ اپنے والدین میں جیتا ہے۔ مومن وہ ہے جو اللہ میں جینے لگے، اس کی یادوں میں اللہ بسا ہوا ہو۔ اس کو ڈر لگتا ہو تو اللہ کا ڈر لگتا ہو۔
اس کے اندر محبت کے جذبات امڈتے ہوں تو اللہ کے لیے امڈتے ہوں۔ وہ جو کچھ کرتا ہو، اللہ کے لیے کرتا ہو۔ وہ اللہ کو اپنے اوپر نگراں بنائے ہوئے ہو۔ لوگ عام طور پر دوسری دوسری چیزوں میں جیتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ان کو کبھی چین حاصل نہیں ہوتا۔
کوئی کسی انسانی شخصیت میں جی رہا ہے، کوئی دنیا کے رونقوں میں جی رہا ہے، کوئی اپنے بیوی بچوں میں جی رہا ہے، کوئی دولت اور عزت کی طلب میں جی رہا ہے۔ اسی طرح کوئی ہے جو کسی کی دشمنی میں جی رہا ہے، کوئی کسی کو اکھاڑنے اور برباد کرنے کی سازشوں میں جی رہا ہے، کوئی کسی کو بے عزت کرنے کے منصوبوں میں جی رہا ہے۔ یہ سب جینے کے باطل طریقے ہیں۔ یہ بے حقیقت چیزوں میں جینا ہے۔
یہ ایسی چیزوں میں جینا ہے جو فانی بھی ہیں اور خدا کی کائنات میں بے جوڑ بھی۔ اس لیے ایسی چیزیں آدمی کو نہ سچا سکون دے سکتی ہیں اور نہ یہی ممکن ہے کہ وہ آدمی کو اس خدائی راستے پر چلا سکیں جو کسی کے لیے منزل تک پہنچنے کا واحد راستہ ہے۔ ایک ایسی دنیا جہاں تمام چیزیں خدا میں جی رہی ہوں، کوئی شخص اپنے لیے جینے کا دوسرا سہارا تلاش کرے تو وہ ایسا جھوٹا سہارا ہوگا جو اس کے کسی کام آنے والا نہیں۔ جب آدمی خدا میں جینے لگے تو اس کے اندر ایک نیا انسان ابھرتا ہے۔
اب اس کو بولنے سے زیادہ چپ رہنا اچھا معلوم ہوتا ہے۔ اس کو سرکشی کے بجائے اعتراف میں لذت ملتی ہے۔ اس کو شکایت کے موقع پر معاف کر دینے میں سکون ملتا ہے۔ اس کو اپنے بھائی کی پردہ پوشی کر کے راحت حاصل ہوتی ہے۔
امتیاز کے مقام پر بیٹھنے سے زیادہ خوشی اس کو اس وقت ہوتی ہے جب کہ وہ اپنے کو عجز کے مقام پر بیٹھا ہوا دیکھے۔ کتاب دینی تعلیم، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 38۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.