کمینہ پن نہیں۔ مومن غلطی کر سکتا ہے، مگر وہ کمینہ پن نہیں کر سکتا۔ غلطی وہ ہے جو جذبات سے مغلوب ہو کر وقتی طور پر ہو جائے، پھر جب جذبہ ٹھنڈا پڑے تو آدمی کو اپنی غلطی کا احساس ہو۔ وہ شرمندہ ہو کہ مجھ سے ایسا کیوں ہو گیا۔
جس کے ساتھ غلطی ہو گئی ہے، اس سے مل کر معافی مانگے۔ وہ اپنی غلطی کی تلافی کرے، اور اگر عملی تلافی کی صورت نہ ہو تو وہ اس کے لیے دعا کرے۔ وہ اللہ سے کہے کہ خدایا تو میری غلطی کو معاف فرما، اور میری طرف سے اس کے حق میں دعا یا خیر لکھ دے۔ اس کو اپنی غلطی کا اتنا شدید احساس ہو کہ اس کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑیں۔
کمینہ پن اس سے الگ چیز ہے۔ کمینہ پن محض وقتی جذبے کے تحت نہیں ہوتا، وہ مستقل ذہن کے تحت ہوتا ہے۔ کمینہ آدمی کو اپنے کیے پر شرمندگی نہیں ہوتی، اس کے ذہن میں یہ نہیں آتا کہ وہ اپنی غلطی کی تلافی کرے، بلکہ وہ مقابل کے آدمی کو اور زیادہ تکلیف پہنچا کر خوش ہونا چاہتا ہے۔ کمینہ آدمی کو جب کسی سے شکایت ہو جاتی ہے تو وہ صرف اس سے بے تعلق ہو جانے کو کافی نہیں سمجھتا، بلکہ اس پر جھوٹے الزام لگاتا ہے۔
وہ اس کے خلاف سازشیں کرتا ہے، اس کے اوپر جھوٹے مقدمے چلاتا ہے، اس کو اکھاڑنے اور اس کو برباد کرنے کے منصوبے بناتا ہے۔ وہ صرف اس کی غلطیوں کو غلطی کہنے پر قانع نہیں ہوتا، بلکہ اس کی ہر چیز کو غلط ثابت کرنے میں لگ جاتا ہے۔ وہ لوگوں کو اس کی طرف سے بدگمان کرتا ہے۔ وہ اس کے بنتے ہوئے کام کو بگاڑنا چاہتا ہے، اور اس کے ملتے ہوئے فائدے کو بھنگ کرنے کے لیے دوڑ دھوپ کرتا ہے۔
یہ سب کمینہ پن کی صورتیں ہیں، اور کمینہ پن اور خدا کا دین دونوں ایک ساتھ کسی شخص کے اندر جمع نہیں ہو سکتے۔ کمینہ پن یہ ہے کہ آدمی اعتراف نہ کرے۔ ایک ہی قسم کی صورت میں وہ اپنے لوگوں سے کچھ معاملہ کرے اور دوسرے لوگوں سے کچھ۔ وہ حسد اور انتقام سے اوپر اٹھ کر نہ سوچ سکے۔
ایسا آدمی خدا سے دور ہوتا ہے اور شیطان سے قریب۔ کتاب "دینی تعلیم" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 37۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.