اللہ والے ہر آدمی کسی نہ کسی چیز کے لیے جیتا ہے۔ کوئی اپنے بیوی بچوں کے لیے جیتا ہے، کوئی مال و دولت کے لیے، اور کوئی عزت و اقتدار کے لیے۔ مگر اس قسم کی زندگی مومنانہ زندگی نہیں۔ مومنانہ زندگی وہ ہے جب آدمی اللہ کے لیے جینے لگے، اس کی سرگرمیاں خدا کے گرد گھومنے لگیں، اس کی سوچ اور خواہش پر خدا کا غلبہ ہو جائے۔
وہ زبان کھولے تو یہ سوچ کر کھولے کہ خدا کو کیا پسند ہے اور کیا ناپسند۔ وہ اپنے ہاتھ اور پاؤں کو حرکت دے تو انہی حدود میں حرکت دے جو خدا کی طرف سے اس کے لیے مقرر ہیں۔ آدمی کے سامنے کسی کی طرف سے ایک بات آتی ہے، اس کا نفس اس کے جواب کے لیے فوراً کچھ الفاظ سجھاتا ہے۔ مگر جو اللہ میں جینے والے ہیں، وہ نفس کے دیے ہوئے الفاظ کو نہیں دہراتے، بلکہ خدا سے الفاظ لے کر بولتے ہیں۔
وہ سوچنے لگتے ہیں کہ کل جب میں خدا کے سامنے کھڑا ہوں گا تو وہاں کون سے الفاظ مانے جائیں گے، اور کون سے الفاظ رد کر دیے جائیں گے۔ جن الفاظ کے متعلق اس کا ضمیر کہتا ہے کہ وہ خدا کے یہاں رد ہو جائیں گے، ان کو وہ اسی دنیا میں رد کر دیتا ہے، اور صرف ان الفاظ کو اپنی زبان پر لاتا ہے جو خدا کے یہاں قبول کیے جانے والے ہوں۔ اسی طرح آدمی کے سامنے ایک معاملہ آتا ہے، اس کا نفس فوراً اس کو ایک طریقے کی ترغیب دیتا ہے۔ مگر اللہ میں جینے والا آدمی نفس کے بتائے ہوئے طریقے پر نہیں دوڑ پڑتا، بلکہ یہ سوچتا ہے کہ کون سا طریقہ خدا کی ترازو میں انصاف کا طریقہ ثابت ہوگا اور کون سا بے انصافی کا۔
وہ بے انصافی کے طریقے کو چھوڑ دیتا ہے، خواہ اس میں اس کو عزت اور دولت ملتی ہو، اور انصاف والے طریقے کو پکڑ لیتا ہے، خواہ بظاہر اس میں سبکی ہوتی ہو اور دنیا کا نقصان ہوتا ہوا نظر آتا ہو۔ وہ ہر بات کو خدا کے لحاظ سے دیکھتا ہے، نہ کہ کسی اور لحاظ سے۔ کتاب دینی تعلیم مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 36۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.