انتخاب ہو رہا ہے۔ ہماری قریبی کہکشاں میں تقریباً 200 ارب بہت بڑے بڑے ستارے ہیں۔ اس قسم کی بے شمار کہکشائیں خلا میں پھیلی ہوئی ہیں۔ کائنات ناقابلِ قیاس حد تک وسیع ہے، تاہم ساری معلوم کائنات میں نظامِ شمسی صرف ایک ہے۔
اسی نظامِ شمسی میں زمین ہے۔ زمین جیسا کرہ ساری کائنات میں کوئی دوسرا نہیں۔ پھر زمین کے اوپر انسان جیسی انوکھی مخلوق ہے۔ انسان کے اندر زندگی ہے۔
وہ چلتا ہے اور بولتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے اور سنتا ہے۔ وہ سوچتا ہے اور جانتا ہے۔ وہ ذاتی ارادے کے تحت عمل کرتا ہے۔
یہ انسان ایسی انوکھی چیز ہے جس کے انوکھے پن کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ اتنا انوکھا انسان اللہ نے کیوں بنایا؟ جواب یہ ہے کہ ایک اور زیادہ انوکھی اور معیاری دنیا کے باسیوں کا انتخاب کرنے کے لیے، جس کا نام جنت ہے۔ موجودہ دنیا ان مخلوقات کی دنیا ہے جو مجبورانہ اطاعت کر رہی ہیں، جو پابند ہو کر اللہ کی تابع ہیں۔
اب اللہ کو ایک ایسی مخلوق درکار ہے جو ارادی اطاعت کرنے والی ہو، جو پابند نہ ہو کر اس کی تابع ہو جائے۔ یہاں ایسے ہی افراد کا چناؤ ہو رہا ہے۔ اللہ کو ایسے لوگ مطلوب ہیں جو اختیار رکھتے ہوئے بے اختیار ہو جائیں، جو اللہ کو نہ دیکھتے ہوئے اس کو دیکھنے لگیں۔ جو دنیا میں گھرے رہ کر آخرت والے بن جائیں۔
جو انکار اور سرکشی کا موقع رکھتے ہوئے اعتراف اور اطاعت کا طریقہ اختیار کر لیں۔ یہاں جو افراد اس صلاحیت کا ثبوت دیں گے، وہ اگلی زندگی میں جنتی دنیا میں بسائے جائیں گے۔ جنت انتہائی معیاری انسانوں کی انتہائی معیاری بستی ہوگی۔ وہ اتنی حسین اور لذیذ ہوگی کہ آدمی کبھی اس سے نہ اکتائے گا۔
وہاں نہ کوئی دکھ ہوگا اور نہ کوئی اندیشہ۔ وہاں انسان کے لیے وہ سب کچھ موجود ہوگا جو وہ چاہے۔ کتاب دینی تعلیم مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 35۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.