Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Deeni Taleem
Deeni Taleem

Dua kyun qubul nahi hoti.

Urdu · 3 min

دعا کیوں قبول نہیں ہوتی؟ لوگوں نے ایک بزرگ سے پوچھا، کیا وجہ ہے کہ ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں اور ہماری دعا قبول نہیں ہوتی؟ بزرگ نے جواب دیا، اس لیے کہ آپ لوگ خدا سے وہ چیز مانگتے ہیں جو آپ دوسرے انسانوں کو دینے کے لیے تیار نہیں۔ آپ خدا سے مانگتے ہیں کہ وہ آپ کو ظالموں کے ظلم سے بچائے، مگر آپ میں سے ایک شخص کو جب کسی کے اوپر غلبہ حاصل ہوتا ہے تو وہ اس کو اپنے ظلم کا مزہ چکھانے سے باز نہیں رہتا۔

آپ خدا سے جان و مال کی امان مانگتے ہیں، مگر آپ میں سے ایک شخص کو جب موقع ملتا ہے تو وہ اپنے بھائی کے جان و مال کو اپنے لیے جائز کر لیتا ہے۔ آپ خدا سے باعزت زندگی مانگتے ہیں، مگر آپ میں سے ایک شخص اگر کسی کے اوپر قابو پا لے تو وہ اس کو بےعزت کر کے خوش ہوتا ہے۔ آپ خدا سے مانگتے ہیں کہ وہ آپ کو دشمن قوموں کی سازش سے بچائے، مگر آپ میں سے ایک شخص کو اگر کسی سے اختلاف ہو جائے تو اس کو اکھاڑنے کے لیے وہ ہر قسم کی سازشیں کرنا شروع کر دیتا ہے۔ دعا کی قبولیت کی لازمی شرط یہ ہے کہ آدمی دعا مانگنے میں سنجیدہ ہو۔

اس کی دعا اس کی پوری ہستی کی پکار ہو، نہ کہ محض زبان کی حرکت سے نکلے ہوئے الفاظ۔ جب آدمی سنجیدہ ہو تو اس کی زندگی تضاد سے خالی ہو جاتی ہے۔ اس کی دعا میں اور اس کے عمل میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔ اگر ایک شخص فی الواقع ظلم کو ناپسند کرتا ہے اور دوسرے آدمی کے ظلم کو قابلِ شکایت سمجھ رہا ہے، تو ناممکن ہے کہ وہ خود اپنے دائرے میں ظالم بن جائے۔

اپنے دائرہ اختیار میں ظلم کرنا اور دوسرے کے ظلم پر احتجاج کرنا ایسا تضاد ہے جو ثابت کرتا ہے کہ آدمی اپنے کہنے میں سنجیدہ نہیں ہے۔ وہ قول بلا فعل، یعنی سورہ صف کی سطح پر ہے، اور جو شخص قول بلا فعل کی سطح پر ہو، اس کی دعا اس کے منہ پر مار دی جاتی ہے، نہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے یہاں قبولیت کا شرف حاصل کرے۔ ایک شخص لوگوں کو باہم لڑاتا پھرتا ہو اور خدا سے دعا کرے کہ خدایا لوگوں کو متحد کر دے، تو یہ اللہ کی نظر میں دعا نہیں ہے بلکہ ایک مذاق ہے جو دعا کرنے والے کو صرف سزا کا مستحق بناتی ہے۔ دعا کی قبولیت کے لیے ضروری ہے کہ آدمی بندوں کو وہی دے رہا ہو جو وہ خدا سے اپنے لیے مانگ رہا ہے۔

اس سے دوسروں کو وہی رحمت و عنایت ملے جس رحمت و عنایت کی درخواست وہ خدا سے اپنے لیے کر رہا ہے۔ اس کے بغیر دعا ایک جرم ہے، نہ کہ حقیقتاً اللہ کے سامنے پیش کی جانے والی درخواست۔ کتاب دینی تعلیم، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 48۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.