Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Deeni Taleem
Deeni Taleem

Jancha jaraha hai.

Urdu · 2 min

جانچا جا رہا ہے: موجودہ دنیا میں ارادے کی حد تک انسان کو مکمل آزادی حاصل ہے، مگر واقعات برپا کرنے کا اختیار کسی کو نہیں۔ دنیا میں جتنے واقعات ہوتے ہیں، سب خدا کی طرف سے ہوتے ہیں، اور ان کی مصلحت یہ ہوتی ہے کہ مختلف حالات میں ڈال کر افراد کا امتحان لیا جائے۔ کوئی واقعہ اس لیے ہوتا ہے کہ ایک شخص کو صبر، انصاف اور حق پرستی کا کریڈٹ دیا جائے، اور دوسرے شخص کو بے صبری، ظلم اور حق سے بے پروائی کا مجرم ٹھہرایا جائے۔ کوئی واقعہ اس لیے پیش آتا ہے کہ ایک شخص کو کسی بندہ خدا کے خلاف سازش، بد معاملتگی اور زیادتی کا موقع دے کر اس کے جھوٹے دعویٰ اسلام کو باطل ثابت کیا جائے۔

دوسری طرف اس بندہ خدا کی خصوصی تائید کر کے لوگوں کو بتایا جائے کہ وہ سچائی پر ہے، اور اس کی مدد پر خدا کھڑا ہوا ہے۔ ایک شخص حق پر ہوتا ہے، اس کے باوجود اس کو بے بسی اور بے کسی کی حالت میں ڈال دیا جاتا ہے۔ دوسرا شخص ناحق پر ہوتا ہے، اس کے باوجود اس کے گرد دنیا کی رونقیں جمع کر دی جاتی ہیں۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے تاکہ یہ معلوم ہو جائے کہ کون ہے جو ظاہر سے گزر کر حق کو پا لیتا ہے اور حق کا ساتھ دینے والا قرار پاتا ہے، اور کون ہے جو ظاہری چیزوں میں اٹک جاتا ہے اور اس کا مستحق ٹھہرتا ہے کہ خدا کے یہاں اس کو حق کو نظرانداز کرنے والوں میں اٹھایا جائے۔

موجودہ دنیا میں ہر چیز امتحان کے لیے ہے۔ یہاں طاقتور ہونا بھی امتحان کے لیے ہے، اور کمزور ہونا بھی امتحان کے لیے۔ یہاں کسی کو امیر بنا کر جانچا جا رہا ہے، اور کسی کو غریب بنا کر۔ موجودہ دنیا میں نہ کسی کامیاب شخص کے لیے خوش ہونے کا موقع ہے، اور نہ کسی ناکام شخص کے لیے غمگین ہونے کا۔

کیونکہ دونوں یکساں طور پر امتحان کے میدان میں کھڑے ہوئے ہیں۔ خدا مختلف قسم کے واقعات برپا کر کے یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ کون اپنے حالات میں کس قسم کے ردعمل کا اظہار کرتا ہے۔ اسی ردعمل پر کسی کے لیے جنت کا فیصلہ ہوتا ہے، اور کسی کے لیے جہنم کا۔ کتاب دینی تعلیم، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 32۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.