Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Deeni Taleem
Deeni Taleem

Admi ka imtehaan.

Urdu · 2 min

آدمی کا امتحان زندگی کا سارا معاملہ امتحان کا معاملہ ہے۔ کوئی شخص بظاہر اچھے حالات میں ہے اور کوئی بظاہر برے حالات میں، مگر اس اعتبار سے دونوں یکساں ہیں کہ دونوں امتحان کے ترازو میں کھڑے ہوئے ہیں۔ یہاں ہر آدمی کا امتحان لیا جا رہا ہے؛ کسی کا امتحان ایک قسم کے حالات میں ہے اور کسی کا دوسرے قسم کے حالات میں۔ اللہ ہر آدمی کو مختلف قسم کے حالات میں ڈال کر یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ کون اپنے حالات میں کس قسم کا ردعمل ظاہر کرتا ہے۔

اسی ردعمل پر آدمی کے آخرت کے انجام کا فیصلہ ہونا ہے۔ اللہ ایسے حالات پیدا کرتا ہے جس میں ایک شخص حق پر ہوتے ہوئے کمزور پڑ جائے، اور دوسرا شخص ناحق پر ہوتے ہوئے مضبوط حیثیت حاصل کر لے۔ اب جس شخص نے دوسرے سے معاملہ کرنے میں حق کا لحاظ کیا، وہ جنتی ٹھہرا، اور جس شخص نے دوسرے سے معاملہ کرنے میں موقع پرستی کا طریقہ اختیار کیا، وہ جہنم کا سزاوار ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ ایسے مواقع پیدا کرتا ہے جس میں ایک کو دوسرے سے تکلیف پہنچے۔

اب جس شخص نے ایسے موقع پر تواضع کا طریقہ اختیار کیا، وہ جنتی قرار پایا، اور جس نے گھمنڈ کا مظاہرہ کیا، وہ جہنمی بن گیا۔ اللہ تعالیٰ کسی کو کمزور بناتا ہے اور کسی کو طاقتور۔ اب جس شخص نے انصاف کے پہلو کو اہمیت دیتے ہوئے اس کے مطابق لوگوں کے ساتھ معاملہ کیا، وہ جنت کا مستحق ٹھہرا، اور جو شخص طاقتور کے آگے جھکے اور کمزور کو ذلیل کرے، وہ جہنم کا مستحق ہو گیا۔ اسی طرح آدمی کی زندگی میں روزانہ جو معاملات پیش آتے ہیں، وہ اس کے لیے خدا کی طرف سے امتحان کے پرچے ہیں۔

ہر روز آدمی اپنے رویے سے یا تو اپنے کو جنت کی طرف لے جاتا ہے یا جہنم کی طرف۔ آدمی کی زندگی میں ہر روز دو راستے کھلتے ہیں: آدمی ایک رخ پر جا کر اپنے کو جنت میں داخل کر دیتا ہے، اور دوسرے رخ پر جا کر اپنے کو جہنم میں گرا لیتا ہے۔ کتاب دینی تعلیم، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 31۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.