Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Deeni Taleem
Deeni Taleem

Khuda ki khatir beikhtiyar honewale.

Urdu · 2 min

خدا کی خاطر بے اختیار ہونے والے، اس دنیا میں سارا اختیار صرف خدا کا ہے۔ اس کے سوا کسی کو کوئی اختیار حاصل نہیں۔ مگر امتحان کی غرض سے خدا نے انسان کو آزادی دے دی ہے۔ ایک مکمل طور پر بے اختیار دنیا میں انسان کو مکمل طور پر اختیار دیا گیا ہے، اور اب خدا یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ وہ اختیار کو پا کر کیا کرتا ہے۔

وہ حقیقت پسندی کا طریقہ اختیار کر کے اللہ کے آگے جھک جاتا ہے، یا ظاہری اختیار کی وجہ سے دھوکے میں پڑ کر سرکشی کرتا ہے۔ جنت ان لوگوں کے لیے ہے جو اختیار رکھتے ہوئے اللہ کی خاطر اپنے کو بے اختیار کر لیں، جو بے خوفی کا موقع ہوتے ہوئے اللہ سے ڈریں، بظاہر خود سب کچھ ہوتے ہوئے اللہ کو اپنا سب کچھ بنا لیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو اسباب کے پردے میں رزق دیا گیا، مگر اس کو انہوں نے براہِ راست اللہ کی طرف سے آیا ہوا رزق سمجھا۔ ان کو اللہ نے ظلم کی قدرت دی، مگر انہوں نے اللہ کے خوف سے اپنے ہاتھوں کو ظلم کرنے سے روک لیا۔

اللہ نے ان کو غصہ، نفرت، انتقام کے مواقع دیے، مگر اللہ کی خاطر انہوں نے غصے کے موقع پر صبر کیا، اور نفرت اور انتقام کے موقع پر درگزر کرنے کا طریقہ اپنایا۔ اللہ نے ان کی تعریف میں لوگوں کی زبانیں کھلوائیں، مگر ان کو عجز و تواضع میں لذت ملی۔ اللہ نے ان کو دولت دی، مگر دولت کو اپنے ذاتی عیش میں خرچ کرنے کے بجائے انہیں اس میں تسکین ملی کہ وہ اپنی دولت کو اللہ کی راہ میں لٹائیں۔ وہ اپنی مرضی پر چلنے کے بجائے اللہ کی مرضی پر چلے۔

وہ اپنے لیے جینے کے بجائے صرف اللہ کے لیے جیے۔ جنت کی نفیس دنیا ان لوگوں کے لیے ہے جنہوں نے اپنے آزاد ارادے سے اپنے کو خدا کا محکوم بنایا۔ جنہوں نے پابند نہ ہو کر بھی خدائی پابندی کے رویے کو اپنے لیے پسند کر لیا۔ جو پوری طرح آزاد ہونے کے باوجود پوری طرح خدا کے تابعدار بن گئے۔

کتاب دینی تعلیم، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 30۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.