ہر معاملے میں احتیاط۔ غیر مومن ایک بے حس انسان ہوتا ہے، اور مومن ایک حساس انسان۔ مومن کی حساسیت صرف خدا یا اس کی مقدس چیزوں ہی میں ظاہر نہیں ہوتی، بلکہ خدا کی تمام مخلوقات کے معاملے میں ظاہر ہوتی ہے۔ مومن کا سابقہ جب کسی انسان سے پیش آتا ہے، خواہ وہ کمزور ہو یا طاقتور، تو وہ ایک محتاط قلب کے ساتھ اس کے وہ تمام حقوق ادا کرتا ہے جو خدا نے ایک انسان کے لیے دوسرے انسان کے اوپر مقرر کیے ہیں۔
وہ جب کسی جانور کو اپنے استعمال میں لاتا ہے تو اس وقت بھی وہ مہربانی کے تمام آداب کا لحاظ رکھتا ہے، حتیٰ کہ موزی جانوروں کو مارنا پڑے تو اس وقت بھی وہ ان کو بے رحمی کے ساتھ تکلیف دے دے کر مارنا اپنے لیے جائز نہیں سمجھتا۔ اس کی حساسیت اس میں بھی رکاوٹ بن جاتی ہے کہ وہ کسی درخت کو خواہ مخواہ کاٹے، اور کسی پھول کو بے ضرر مسلے۔ پانی سے کام لیتے ہوئے بھی وہ اس کا خیال رکھتا ہے کہ بے فائدہ پانی نہ بہائے، اور غیر ضروری طور پر خدا کی نعمت کو خرچ نہ کرے۔ ایمان آدمی کے اندر جو احتیاط اور حساسیت پیدا کرتا ہے، وہ اس کا عمومی مزاج بن جاتا ہے اور اس کی تمام کارروائیوں میں ظاہر ہوتی رہتی ہے۔
اس کا بولنا، اس کا چلنا پھرنا، اس کا معاملہ کرنا، حتیٰ کہ بے جان اور بے زبان چیزوں کو کام میں لانا، سب کچھ اس کے اس عام مزاج کے ماتحت ہو جاتے ہیں۔ جذباتی مواقع پر بھی وہ احتیاط کے پہلو کو نہیں بھولتا۔ قابو یافتہ ہونے کے باوجود کسی کو اس سے بے رحمی اور بے حسی کا تجربہ نہیں ہوتا۔ مومن آدمی وہ ہے جس کو یہ کھٹکا لگا ہوا ہو کہ اس کا خدا اس کو دیکھ رہا ہے، اور وہ اس سے اس کے تمام کھلے اور چھپے کا حساب لے گا۔
ایسا آدمی عین اپنے مزاج کے اعتبار سے ایک محتاط آدمی بن جاتا ہے۔ کتاب دینی تعلیم، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 29۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.