خدا کی آئینک سے: اگر آپ صاف شیشے کی آئینک لگائیں تو ہر چیز آپ کو اپنے اصلی رنگ میں دکھائی دے گی۔ لیکن اگر آپ کی آنکھ پر رنگین شیشے والی عینک ہو تو ہر چیز کا رنگ مصنوعی ہو جائے گا۔ اب ہر چیز آپ کو اس رنگ میں رنگی ہوئی دکھائی دے گی جو کہ آپ کی عینک کا رنگ ہے۔ یہی حال انسانی ذہن کا ہے۔
ہر آدمی جب دوسرے کو دیکھتا ہے تو وہ اس کو اپنے ذہن کی عینک سے دیکھتا ہے۔ اگر اس کی عینک کا شیشہ صاف ہے تو ہر چیز اپنے اصلی رنگ میں دکھائی دے گی، اور اگر اس کی عینک کا شیشہ رنگین ہو تو کوئی چیز خواہ حقیقت میں کیسی ہی ہو، اس کے اپنے دیکھنے میں ویسی ہی دکھائی دے گی جیسا کہ اس کی اپنی عینک کا رنگ ہے۔ آدمی کا ذہن یا تو خدائی ذہن ہوتا ہے یا ذاتی ذہن۔ وہ دوسروں کو یا تو خدا کی آئینک سے دیکھتا ہے یا اپنی ذاتی پسند کی عینک سے۔
یہ دونوں طریقے ایک دوسرے سے بالکل الگ ہیں۔ خدا کی عینک سے دیکھنے والا دوسروں کو حقیقتِ واقعے کی نگاہ سے دیکھتا ہے، نہ کہ اپنی متاثر نگاہ سے۔ وہ ہر آدمی کو ویسا ہی دیکھتا ہے جیسا کہ وہ فی الواقع ہے۔ کیونکہ خدا کے دیکھنے کا طریقہ یہی ہے۔
مگر دوسرے آدمی کا طریقہ اس سے مختلف ہوتا ہے۔ وہ ہر آدمی کو اپنے مفاد اور اپنی عصبیت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ جس آدمی سے اس کی دوستی ہے وہ اس کو اچھی صورت میں دکھائی دیتا ہے، اور جس سے اس کا بگاڑ ہے وہ بری صورت میں۔ جو آدمی اس کے اپنے حلقے کا ہے وہ اگر اس کو سفید نظر آئے تو دوسرے حلقے کا آدمی اس کو کالا نظر آتا ہے۔
مومن وہ ہے جو ہر آدمی کو خدا کی نگاہ سے دیکھے، نہ کہ اپنی ذاتی نگاہ سے۔ جو شخص چیزوں کو خدا کی نظر سے دیکھنے لگے وہ ایک بے پناہ انسان بن جاتا ہے۔ کیونکہ وہ ہر ایک سے وہی معاملہ کرتا ہے جو بااعتبارِ واقعہ اسے کرنا چاہیے۔ وہ دنیا کے لحاظ سے ایک حقیقت پسند انسان بن جاتا ہے، اور آخرت کے لحاظ سے ایک صالح انسان۔
کتاب دینی تعلیم مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 28۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.