انسانوں کی تین قسمیں: ایمان و اسلام کا اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ آدمی اللہ سے ڈرتا ہو، وہ اپنے معاملات میں اللہ کی طرف رجوع کرنے والا ہو، وہ اس طرح زندگی گزارے گویا وہ اپنے آپ پر خدا کی نگرانی قائم کیے ہوئے ہے۔ وہ خدا کو نہ دیکھتے ہوئے بھی تمام دکھائی دینے والی طاقتوں سے زیادہ اس کا اندیشہ رکھتا ہو۔ وہ خدا کے پاس ایسا دل لے کر پہنچے جو دنیا کی زندگی میں ہمیشہ خدا کی طرف متوجہ رہا ہو۔ یہی اللہ کے مطلوب اور محبوب بندے ہیں۔
جب اللہ کی خاطر وہ دنیا کا دکھ اٹھا کر آخرت میں پہنچیں گے تو ان کا رب ان کو نہال کر دے گا۔ وہ ان سے کہے گا کہ ہرے بھرے باغوں والے جنتی مکانات میں داخل ہو جاؤ اور ہمیشہ وہاں رہو۔ یہاں تمہارے لیے وہ سب کچھ ہے جو تم چاہو، اور ہمارے عطا انعامات اس کے علاوہ ہیں۔ سورہ قاف، آیت 31 تا 35۔
دوسرے لوگ وہ ہیں جو اللہ پر ایمان لائے اور عمل صالح کیا، تاہم ان سے کوتاہیاں بھی ہوئیں۔ ان کے ٹھیک کام میں غلط کام بھی شامل ہوتا رہا، مگر اس کمزوری کے باوجود وہ ڈھیٹ نہیں بنے۔ وہ اپنی غلطی کا اعتراف کر کے اللہ سے معافی مانگتے رہے اور بار بار اس کی طرف پلٹنے کی کوشش کرتے رہے۔ امید ہے کہ اللہ ان کو بھی اپنی رحمت کے سائے میں لے لے گا۔
وہ جب خدا کی طرف لوٹے تو خدا بھی ان کی طرف لوٹے گا، کیونکہ وہ بخشنے والا، مہربان ہے۔ سورہ توبہ، آیت 102۔ اس کے بعد تیسرا گروہ وہ ہے جس نے نفس پرستی، دنیا طلبی اور گھمنڈ کو اپنا دین بنایا۔ انہوں نے اپنی زبان اللہ کے لیے بند نہیں کی۔
ان کے قدم اللہ کے لیے نہیں رکے۔ ایسے لوگوں کے لیے آخرت میں جہنم کی آگ کے سوا اور کچھ نہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو خدا کے لیے نہیں جیے، بلکہ اپنے لیے جیے۔ انہوں نے آخرت کی فکر نہیں کی، بلکہ دنیا کی فکر کی۔
ایسی حالت میں کیسے ممکن ہے کہ وہ خدا کی ابدی دنیا میں عزت کا مقام حاصل کر سکیں؟ سورہ ہود، آیت 15 تا 16۔ کتاب دینی تعلیم، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 24۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.