Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Deeni Taleem
Deeni Taleem

Khuda ka inaam.

Urdu · 2 min

خدا کا انعام: آدمی کو چاہیے کہ خدا سے اتنا قریب ہو جائے کہ ہر وقت اس کو خدا کی یاد آتی رہے۔ اللہ کی بڑائی کا احساس اس کے اوپر اتنا چھا جائے کہ اپنا وجود اس کو بے حقیقت نظر آنے لگے۔ جنت اور جہنم کا اس کو اتنا یقین ہو جائے کہ دنیا کے آرام و تکلیف سے زیادہ اس کو آخرت کے آرام و تکلیف کی فکر رہنے لگے۔ وہ اپنے آپ کو اتنا اوپر اٹھائے کہ اپنی غلطیاں اس کو اس طرح دکھائی دینے لگیں جس طرح کسی کو اپنے دشمن کی غلطیاں دکھائی دیتی ہیں۔

وہ اپنے آپ کو نفسیاتی گرہوں سے اتنا آزاد کر لے کہ اختلاف اور شکایت کے باوجود دوسرے کے لیے اس کے دل سے دعائیں نکلنے لگیں۔ حق کا اعتراف نہ کرنا اس کو ایسا معلوم ہو گویا وہ اپنے آپ کو قتل کر رہا ہے۔ دوسرے کا آشیانہ اجاڑنا اس کو ایسا لگے جیسے وہ خود اپنے آشیانے میں آگ لگا رہا ہے۔ یہی خدا پرستی کی زندگی ہے، اور یہی وہ لوگ ہیں جن کو خدا اپنی جنت میں جگہ دے گا۔

جو لوگ اللہ کے سچے بندے بن جائیں، ان کے لیے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ دنیا میں انہیں غالب کرے گا۔ یہ غلبہ ان کی خدا پرستی کا اصل انعام نہیں، بلکہ اصل انعام کی ابتدائی علامت ہے۔ خدا پرستوں کے لیے اللہ نے جو انعام مقدر کر رکھا ہے، وہ یہ ہے کہ قیامت کے بعد آنے والی دنیا میں وہ ان کو غلبہ و سربلندی عطا کرے۔ ان کو ہر قسم کے خوف اور حزن سے پاک کر کے اپنی رحمتیں اور نعمتیں دائمی طور پر ان کی وراثت میں دے دے۔

اسی کا نام جنت والی زندگی ہے، جو آخرت میں مومنین صالحین کو حاصل ہوگی۔ مگر جب اہل ایمان کا کوئی قابلِ لحاظ گروہ بن جاتا ہے تو اللہ اس دنیا میں بھی اس کو علامتی طور پر غالب کر دیتا ہے۔ اس کے مقابلے میں سرکش اور غافل انسانوں کو مغلوب کر کے دکھایا جاتا ہے کہ آخرت کی ابدی دنیا میں کون عزت اور برتری کے مقام پر ہوگا، اور کون ذلت اور پستی کے گڑھے میں ڈال دیا جائے گا۔ کتاب دینی تعلیم، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 25۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.