سچائی کا اعتراف: سچائی دنیا میں خدا کی نمائندہ ہے۔ سچائی کو نہ ماننا خدا کو نہ ماننا ہے۔ خدا کی زمین پر سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ آدمی کے سامنے ایک سچائی آئے اور وہ اس کا اعتراف نہ کرے۔ ہر سچائی خدا کی طرف سے ہوتی ہے۔
اس لیے جس نے سچائی کو نہیں مانا، اس نے خدا کو نہیں مانا۔ سچائی کوئی اجنبی چیز نہیں، وہ آدمی کی فطرت میں گندی ہوئی ہے۔ وہ آدمی کے لیے ایک جانی پہچانی چیز ہے، پھر آدمی اس کا اعتراف کیوں نہیں کرتا؟ اس کی وجہ نفسیاتی رکاوٹیں ہیں۔
کبھی ایسا ہوتا ہے کہ سچائی کو ماننے میں دنیاوی مصلحتوں کا نظام ٹوٹتا ہوا نظر آتا ہے۔ کبھی اعتراف کرنا آدمی سے یہ قیمت مانگتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو اونچے مقام سے اتارنے پر راضی ہو جائے۔ کبھی سچائی کو ماننے میں یہ وجہ معنی ہو جاتی ہے کہ جو شخص سچائی کو پیش کر رہا ہے، وہ ایک معمولی آدمی ہے یا اس سے کوئی ذاتی قدورت پیدا ہو گئی ہے۔ اس قسم کی نفسیاتی رکاوٹیں آدمی کے ذہن پر غلبہ پا لیتی ہیں۔
وہ ایک ایسی چیز کا انکار کر دیتا ہے جس کے بارے میں اگر وہ سنجیدہ ہو کر سوچے تو اس کا دل گواہی دے کہ بلاشبہ وہ حقیقت ہے۔ یہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں خدا خود سامنے نہیں آتا، یہاں وہ سچائی کے روپ میں ظاہر ہوتا ہے۔ دنیا میں آدمی کا امتحان یہ ہے کہ وہ خدا کو سچائی کے لباس میں دیکھ لے اور اس کے آگے گر پڑے۔
ہر بار جب کوئی سچائی ظاہر ہو تو گویا خدا نے اپنا جلوہ دکھایا۔ اس وقت جو شخص عناد اور گھمنڈ اور مصلحت پرستی میں پڑ کر سچائی کو نظر انداز کر دے، اس نے خدا کو نظر انداز کیا۔ اس نے خدا کو نہ پہچانا۔ اس نے اپنے آپ کو خدا سے بڑا سمجھا۔
اس نے اپنے تقاضوں کو خدا کے تقاضے پر ترجیح دی۔ ایسا شخص آخرت میں سب سے زیادہ بے سہارا ہوگا، کیونکہ اس دن خدا اس کو نظر انداز کر دے گا۔ اور جس کو خدا نظر انداز کر دے، اس کے لیے زمین و آسمان میں کوئی ٹھکانہ نہیں۔ کتاب دینی تعلیم، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 23۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.