Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Deeni Taleem
Deeni Taleem

Islami akhlaq.

Urdu · 2 min

اسلامی اخلاق، اسلامی اخلاق، دوسرے لفظوں میں خدائی اخلاق ہے، یعنی بندوں کے ساتھ معاملہ کرنے میں اسی فیاضی اور وسعت کا معاملہ کرنا جو معاملہ ان کا خدا ان کے ساتھ کر رہا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: "اور اگر تم معاف کر دو، اور درگزر کرو، اور بخش دو، تو اللہ بخشنے والا، مہربان ہے۔ " سورۃ تغابن آیت 14۔ یعنی جب کسی سے تلخی یا ان بن ہو جائے تو تم وہ انداز اختیار کرو جو خدا کا انداز ہے۔

خدا آدمی کی غلطی کو معاف کرتا ہے، اور کسی کی غلطی کی وجہ سے اپنی مہربانیاں اس سے اٹھا نہیں لیتا۔ یہی حال تمہارا ہونا چاہیے۔ تمہارے بارے میں کوئی شخص ایسی بات کہہ دے جس سے تم کو تکلیف پہنچ جائے، کوئی ایسا سلوک کرے جو تمہارے لیے شکایت کا باعث ہو، تو محض اس وجہ سے تم اس کی طرف سے اپنے دل کو برا نہ کر لو، بلکہ غلطی کو نظرانداز کر کے اور شکایت کو بھلا کر اس سے معاملہ کرو۔ اسلامی اخلاقیات ایک لفظ میں وسعت ظرف کے اخلاقیات کا نام ہے۔

عام طور پر لوگوں کا اخلاق اس کے تابع ہوتا ہے کہ کسی نے ان کے بارے میں کیا کہا ہے اور کیا کیا ہے۔ مسلمان وہ ہے جو "کسی نے کیا کہا" اور "کسی نے کیا کیا" جیسی باتوں سے اوپر اٹھ کر لوگوں سے معاملہ کرے۔ اس کا اخلاق خدا کے حکم کے تحت بنا ہو، نہ کہ ردعمل کی نفسیات کے تحت۔ اسلامی اخلاق کا اعلیٰ معیار یہ ہے کہ آدمی دوسرے کو نفع پہنچانے والا بنے، وہ دوسروں کے کام آئے۔

اور اگر کوئی شخص یہ طاقت نہیں رکھتا کہ وہ دوسرے کو نفع پہنچائے، تو آخری درجہ یہ ہے کہ وہ دوسروں کو اپنی برائی سے بچائے۔ اس کی زبان اور اس کے ہاتھ پاؤں سے دوسرے لوگ محفوظ رہیں۔ اس کے بعد اسلامی اخلاق کا کوئی درجہ نہیں۔ کتاب دینی تعلیم، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 20۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.