Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Deeni Taleem
Deeni Taleem

Ittehad ki jad tavazo.

Urdu · 2 min

اتحاد کی جڑ تواضع۔ حاجی امداد اللہ صاحب 1817-1899 نے فرمایا: "اتفاق کی جڑ تواضع ہے۔ " اگر ہر شخص کا حال یہ ہو جائے کہ وہ اپنے مقابلے میں دوسرے کو بہتر سمجھنے لگے، تو نااتفاقی کی نوبت ہی نہ آئے۔ کیونکہ نااتفاقی اسی سبب سے پیدا ہوتی ہے کہ ہر شخص اپنے آپ کو دوسرے سے بہتر سمجھتا ہے، اور اپنی ذات کو اور اپنی بات کو ہر حال میں اوپر رکھنا چاہتا ہے۔

جب کوئی اپنے کو بہتر نہ سمجھے، تو اس کے بعد اختلاف کس بات پر ہوگا؟ بہت سے لوگ ایک ساتھ رہتے ہوں تو بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک دوسرے سے رائے یا مفاد کا اختلاف پیدا ہو جاتا ہے۔ ایسے موقع پر ہر آدمی کے اندر اپنی بہتری کا احساس جاگ اٹھتا ہے: میری رائے سب سے اچھی ہے، میرا حق سب سے زیادہ ہے، میرے مفاد کا تحفظ سب سے پہلے ضروری ہے۔ یہ احساسات ہر آدمی کو دوسرے آدمی کا حریف بنا دیتے ہیں، اور آپس کا اختلاف شروع ہو جاتا ہے۔

ایسے موقع پر اگر دونوں فریق اکڑ جائیں تو باہمی اختلاف جنم لیتا ہے۔ اس کے برعکس اگر ایک آدمی تواضع کا انداز اختیار کر لے، وہ اپنی رائے یا اپنے مفاد کو اوپر رکھنے کے بجائے نیچے رکھنے پر راضی ہو جائے، تو اس کے بعد اختلاف خود بخود ختم ہو جائے گا، اور معاشرے میں اتحاد کے سوا کوئی چیز باقی نہ رہے گی۔ اختلاف کے باوجود متحد ہونے کا نام اتحاد ہے، نہ کہ اختلاف کے بغیر متحد ہونے کا۔ یہ ممکن نہیں کہ لوگوں کے درمیان اختلاف اور شکایت پیدا نہ ہو۔

اختلاف اور شکایت کا پیدا ہونا بالکل فطری ہے۔ اس لیے باہمی اتحاد کی صورت صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ لوگ اختلاف سے دل میلا نہ کریں، اختلاف کے باوجود باہم متحد ہو کر رہیں۔ کتاب "دینی تعلیم" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 21۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.