Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Deeni Taleem
Deeni Taleem

Allah ki raah me qarch.

Urdu · 2 min

اللہ کی راہ میں خرچ: آدمی کے پاس جو کچھ ہے وہ خدا کا دیا ہوا ہے۔ آدمی کی زندگی اور اس کا اثاثہ سب کچھ خدا کی بخشش ہے۔ اس بخشش کا شکر یہ ہے کہ اللہ نے جو کچھ آدمی کو دیا ہے وہ اس کو اللہ کے قدموں میں ڈال دے۔ اللہ کی راہ میں اپنا مال خرچ کرنا، اللہ کے لیے اسی حوالگی کی علامت ہے۔

آدمی دنیا میں جو کچھ کماتا ہے، اسی لیے کماتا ہے کہ خدا نے اس کو ہاتھ اور پاؤں دیے ہیں جن سے وہ عمل کرے۔ اس کو آنکھ اور زبان دی ہے جس سے وہ دیکھے اور بولے۔ اس کو دماغ دیا ہے جس سے وہ سوچے اور منصوبہ بنائے۔ اسی کے ساتھ خدا نے آدمی کو ایک ایسی دنیا میں رکھا جو پوری طرح اس کے تابع ہے۔

دنیا کی ہر چیز اس طرح بنائی گئی ہے کہ انسان اس کو جس طرح چاہے اپنے کام میں لائے۔ اگر ایسا نہ ہو تو آدمی جسم و دماغ کی تمام طاقتیں رکھتے ہوئے بھی دنیا سے کوئی فائدہ حاصل نہ کر سکے گا۔ اگر گیہوں کا دانہ فصل کی صورت میں نہ اگے بلکہ پتھر کے ٹکڑے کی طرح زمین میں پڑا رہے، تو انسان کے لیے زمین سے غلہ حاصل کرنا ناممکن ہو جائے۔ فطرت کی طاقتیں اگر اپنا مقررہ عمل ظاہر نہ کریں تو نہ بجلی پیدا ہو اور نہ کوئی سواری حرکت کرے۔

حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں انسان جو کمائی کرتا ہے وہ براہ راست خدا کا احسان ہوتی ہے۔ اس احسان کا بدلہ یہ ہے کہ آدمی اپنی کمائی کو اللہ کے دین کی راہ میں خرچ کرے۔ وہ اس سے اللہ کے کمزور بندوں کی مدد کرے۔ خدا کی دی ہوئی دولت کو وہ خدا کے بتائے ہوئے طریقوں میں لگائے۔

اللہ کی راہ کا خرچ وہ ہے جو صرف اللہ کے لیے ہو، نہ کہ شہرت یا عزت یا بدلہ پانے کے لیے۔ مال کے ذریعے آدمی اپنے آپ کو دنیا کی مصیبتوں سے بچاتا ہے۔ اللہ کی راہ میں دیا ہوا مال وہ ہے جس کو آخرت کی مصیبتوں سے نجات پانے کے لیے دیا جائے۔ کتاب دینی تعلیم، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 19۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.