مومن کے صبح و شام، مسلمان سویرے بستر سے اٹھتا ہے تو اس کی زبان پر یہ دعا ہوتی ہے کہ "خدایا تیرا شکر ہے، تو نے مجھے سلایا اور تو نے مجھے بیدار کیا"۔ وہ پاک صاف ہو کر فجر کی نماز کے لیے مسجد پہنچتا ہے تاکہ اپنے دوسرے بھائیوں کے ساتھ مل کر خدا کی خدائی اور اس کے مقابلے میں اپنی بندگی کا اعتراف کرے۔ وہ قرآن کا ایک حصہ پڑھ کر معلوم کرتا ہے کہ اس کا رب اس سے کیا چاہتا ہے۔ اس کے بعد وہ زندگی کی سرگرمیوں میں لگ جاتا ہے۔
دن کے دوران میں اس پر تین نمازوں کے اوقات آتے ہیں: ظہر، عصر اور مغرب۔ ہر نماز کے وقت وہ اپنا کام چھوڑ کر اپنے اللہ کے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے۔ اس طرح وہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنی زندگی میں پہلی حیثیت خدا کو دیتا ہے، نہ کہ کسی اور کو۔ جب اس کو بھوک لگتی ہے اور وہ کھانا کھاتا ہے اور پانی پیتا ہے تو اس کا بال بال خدا کے شکر میں ڈوب جاتا ہے۔
وہ کہتا ہے کہ "خدایا تو نے کیسا عجیب پانی بنایا جس سے میں اپنی پیاس بجھاؤں" اور "کیسا عجیب رزق اتارا جس سے میں اپنی بھوک مٹاؤں"۔ جب اس کو کوئی کامیابی ہوتی ہے تو وہ اس کو خدا کی طرف سے سمجھ کر شکر ادا کرتا ہے۔ کوئی ناکامی ہوتی ہے تو اپنی غلطی کا نتیجہ سمجھ کر اللہ سے تلافی کی دعا کرتا ہے۔ جب کسی سے اس کا سابقہ پیش آتا ہے تو وہ اس سے یہ سمجھ کر معاملہ کرتا ہے کہ خدا اس کو دیکھ رہا ہے اور ایک روز اس سے پوری زندگی کا حساب لے گا۔
اس طرح رات آ جاتی ہے۔ اب وہ اپنی ضروریات سے فارغ ہو کر دوبارہ اپنے کو پاک صاف کرتا ہے اور رات کی آخری نماز پڑھ کر سو جاتا ہے۔ سوتے ہوئے اس کی زبان پر یہ دعا ہوتی ہے: "خدایا تیرے ہاتھ میں میری زندگی ہے اور تیرے ہاتھ میں میری موت ہے، مجھ کو معاف فرما اور مجھ کو اپنی رحمتوں کے سائے میں داخل فرما"۔ مسلمان اپنی زندگی کا نظام خدا کو سامنے رکھ کر بناتا ہے، نہ کہ خدا سے آزاد ہو کر۔
کتاب دینی تعلیم، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 18۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.