Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Deeni Taleem
Deeni Taleem

Parastish ki qismen.

Urdu · 2 min

پرستش کی قسمیں: پرستش کسی صورت کا نام نہیں، بلکہ پرستش ایک حقیقت کا نام ہے؛ کسی چیز سے سب سے زیادہ لگاؤ، کسی چیز کی برتری کا اتنا غلبہ کہ اس کے مقابلے میں دوسری تمام چیزیں غیر اہم بن جائیں، یہی پرستش ہے۔ اور اس اعتبار سے آدمی جس چیز کو اپنی زندگی میں شامل کرے، وہ اس کی پرستش کر رہا ہے، خواہ وہ زبان سے کسی دوسری چیز کے پرستار ہونے کا اقرار کرتا ہو۔ جب آدمی ایک شخص کو یہ مقام دیتا ہے کہ اس کے آگے اس کی گردن جھک جائے، تو وہ اس کی پرستش کرتا ہے۔ جب آدمی اپنے ایک فائدے کو یہ اہمیت دیتا ہے کہ اس کی خاطر وہ دوسری تمام چیزوں کو نظرانداز کر دے، تو وہ اس کی پرستش کرتا ہے۔

جب آدمی مال کو اس قابل سمجھتا ہے کہ وہ اس سے اپنی امیدیں اور تمنائیں وابستہ کرے، تو وہ اس کی پرستش کرتا ہے۔ اسی طرح جب آدمی ایک رواج کو یہ حیثیت دیتا ہے کہ ہر دوسرے تقاضے سے بے پرواہ ہو کر وہ اس کو پورا کرے، تو وہ رواج کی پرستش کرتا ہے۔ جب آدمی کسی کے خلاف ابھرنے والے نفسانی جذبات سے اتنا مغلوب ہوتا ہے کہ ہر دوسری چیز کو نظرانداز کر کے اس کو اپنے انتقامی جذبات کا نشانہ بناتا ہے، تو وہ اپنے نفس کی پرستش کرتا ہے۔ جب آدمی معیارِ زندگی کے مسئلے سے اتنا مرعوب ہوتا ہے کہ اپنے وقت اور کمائی کو تمام تر اپنے دنیاوی معیار کو بڑھانے میں لگا دیتا ہے، تو وہ معیارِ زندگی کی پرستش کرتا ہے۔

جب آدمی جاہ و مرتبے کا اتنا حریص ہوتا ہے کہ وہ اپنا سب کچھ دے کر اپنے کو اونچا اٹھانا چاہتا ہے، تو وہ جاہ کی پرستش کرتا ہے۔ دنیا میں آدمی کا امتحان یہ ہے کہ ہر اعتبار سے وہ صرف ایک خدا کی پرستش کرے، پرستش میں اس کے ساتھ کسی بھی دوسری چیز کو شریک نہ کرے۔ اس کا لگاؤ، اس کا احترام، اس کی وابستگی، اس کا جھکنا، سب کچھ سب سے زیادہ صرف اللہ کے لیے ہو جائے۔ کتاب "دینی تعلیم" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 17۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.