اللہ کی عبادت، عبادت اپنے ظاہر کے اعتبار سے کچھ خاص آداب بجا لانے کا نام ہے، اور حقیقت کے اعتبار سے یہ ہے کہ کسی چیز کو اپنے جذباتِ شوق اور جذباتِ احتیاج کا مرکز بنا لیا جائے۔ اس اعتبار سے ہر آدمی کسی نہ کسی کی عبادت کر رہا ہے۔ ہر آدمی کی کوئی سب سے بڑی چاہت ہوتی ہے جس کو پانے کے لیے وہ اپنا سب کچھ لگا دیتا ہے۔ ہر آدمی کہیں اپنے کو محتاج محسوس کرتا ہے، اور اس محتاجی کی تلافی کے لیے وہ کسی نہ کسی کی مدد پر بھروسہ کیے ہوئے ہوتا ہے۔
جب آدمی صرف اللہ کی طرف لپکے اور صرف اللہ پر بھروسہ کرے تو یہی اللہ کی عبادت کرنا ہے۔ اور جو شخص اللہ کے سوا کسی اور کو اپنے ان جذبات کا مرکز بنا لے تو وہ اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کر رہا ہے۔ جو شخص اللہ کی عبادت کرے وہ صرف اللہ کو پکارنے لگتا ہے۔ اسی پکار کے ایک روز مرہ طریقے کا نام نماز ہے۔
وہ اپنے رب میں اتنا مشغول ہوتا ہے کہ اس کی اپنی ضرورتیں بھی اس سے کم ہو جاتی ہیں۔ اسی کی ایک متعین صورت کا نام روزہ ہے۔ اس کا شوق اس کو اکساتا ہے کہ وہ اللہ کی طرف دوڑے۔ اسی کے ایک تاریخی عمل کا نام حج ہے۔
اس کا سابقہ جب انسانوں سے پڑتا ہے تو لوگوں کے ساتھ بھی وہ اسی عنایت کا سلوک کرنے لگتا ہے جس عنایت کو وہ اپنے لیے اپنے رب سے مانگ رہا ہے۔ اسی کے ایک مقررہ نظام کا نام زکوۃ ہے۔ جو شخص اللہ کا عابد ہو اس کی پوری زندگی اندر سے باہر تک عبادت بن جاتی ہے۔ وہ اللہ کا ہو جاتا ہے اور اللہ اس کا۔
وہ جھکتا ہے تو اللہ کے لیے جھکتا ہے۔ اس کو اندیشہ ہوتا ہے تو صرف اللہ کا اندیشہ ہوتا ہے۔ اس کے دل میں محبت کے جذبات امڈتے ہیں تو صرف اللہ کے لیے امڈتے ہیں۔ وہ زندگی کے معاملات میں لحاظ کرتا ہے تو صرف اللہ کا لحاظ کرتا ہے۔
وہ اپنے آپ کو پوری طرح اللہ کے حوالے کر دیتا ہے۔ کتاب دینی تعلیم مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 16۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.