اسلام زندگی کا ضمیمہ نہیں۔ پانی کے گلاس میں پتھر کا ایک ٹکڑا ڈالیں تو وہ اس کے اندر اتر کر ایک کنارے بیٹھ جائے گا۔ وہ پانی میں ہوگا مگر پانی سے الگ ہوگا؛ پتھر پتھر رہے گا اور پانی پانی۔ مگر اسی گلاس میں جب آپ رنگ ڈالتے ہیں تو رنگ اور پانی دونوں مل کر ایک ہو جاتے ہیں۔
اب پانی رنگ سے الگ نہیں ہوتا، بلکہ دونوں اس طرح مل جاتے ہیں کہ باہر سے دیکھنے والا ان میں کوئی فرق محسوس نہیں کرتا۔ اسلام کا معاملہ اور آدمی کا معاملہ پتھر اور پانی جیسا معاملہ نہیں ہے، بلکہ وہ رنگ اور پانی جیسا معاملہ ہے۔ مسلمان کی زندگی میں اسلام ایک علیحدہ ضمیمے کی طرح نہیں ہوتا، بلکہ وہ اس کی پوری ہستی میں سما جاتا ہے۔ وہ اس کے جذبات میں شامل ہو کر اس کے دل کی دھڑکن بن جاتا ہے۔
وہ اس کی سوچ میں اس طرح داخل ہوتا ہے کہ اس کا ذہن اسی کے مطابق ڈھل جاتا ہے۔ اسلام اس کی آنکھ بن جاتا ہے جس سے وہ دیکھتا ہے۔ وہ اس کی زبان بن جاتا ہے جس سے وہ بولتا ہے۔ وہ اس کا ہاتھ پاؤں بن جاتا ہے جس کے تحت وہ دنیا میں اپنی تمام کارروائیاں کرتا ہے۔
اسلام وہی ہے جو آدمی کے اوپر اس طرح چھا جائے کہ اس کی کوئی چیز اس سے باہر نہ رہے۔ اس کے ہر بول میں اسلام کی جھلک ہو۔ اس کا ہر عمل اسلام کے رنگ میں رنگا ہوا ہو۔ جو اسلام پانی میں پتھر کی طرح رہے، وہ اسلام نہیں ہے۔
اسلام وہی ہے جو پانی کے اندر رنگ کی طرح گھل جائے۔ آدمی کو کسی سے محبت ہو تو اس کا پورا وجود اس سے محبت کرتا ہے۔ اس کو کسی سے نفرت ہو تو اس کا پورا وجود اس سے نفرت کرنے لگتا ہے۔ اسی طرح جب کوئی شخص اسلام کو حقیقی معنوں میں اپناتا ہے تو وہ اس کے پورے وجود کا مسئلہ بن جاتا ہے۔
وہ کہیں بھی اسلام سے الگ نہیں ہوتا، اور نہ اسلام اس سے۔ کتاب دینی تعلیم، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 15۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.